12/06/2026
“بیوی اور بچوں کی شدید خواہش تھی کہ مری کی سیر کی جائے۔ میں نے انہیں سمجھایا بھی کہ مہنگائی کا دور ہے، اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، مگر بچے ضد پر اڑے رہے اور اہلیہ بھی ان کی خواہش کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ اہلیہ نے کہا کہ ہم نے کبھی آپ سے باہر جانے کا مطالبہ نہیں کیا، مگر اب رشتہ دار جا رہے ہیں تو بچوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ مری دیکھ لیں۔”
یہ کہنا ہے جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے رہائشی سید کاشف علی کا، جن کی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچے مری کے قریب وین میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے حا۔د۔ثے میں ج۔اں ب۔حق ہو گئے۔
حا۔د۔ثے میں ج۔اں ب۔حق ہونے والے بچوں میں تین سے پندرہ سال کی عمر کے چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
یہ خاندان ملتان کے محلہ سوتری وٹ سے سیر و تفریح کے لیے تین گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں روانہ ہوا تھا، جن میں قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔ ایک ہائی روف گاڑی کرائے پر حاصل کی گئی تھی جس میں صرف خواتین اور بچے سوار تھے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے مطابق مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے مقام پر ہائی ایس وین موڑ کاٹتے ہوئے سڑک سے پھسل کر نالے میں جا گری، جس کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔
پولیس کے مطابق گاڑی الٹنے کے باعث دروازے جام ہو گئے، جس سے مسافروں کا نکلنا ممکن نہ رہا۔ آگ پر دیر سے قابو پایا گیا، اور اس افسوسناک واقعے میں تقریباً دس افراد ج۔اں ب۔حق ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، جبکہ 13 افراد زخمی بھی ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ اس قدر شدید تھی کہ کئی لا۔شوں کو شناخت کرنا بھی ممکن نہ رہا۔
ملتان میں فروٹ کی دکان چلانے والے سید کاشف علی اس سانحے کے بعد شدید صدمے میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ “مجھے پیسوں کی کمی نہیں تھی، لیکن بچوں کو اتنی دور بھیجنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ پہاڑی راستوں پر وہ محفوظ نہیں رہیں گے، مگر اہلیہ اور بچوں کی ضد کے سامنے مجبور ہو گیا۔”
ان کے مطابق ابتدا میں انہوں نے سختی سے منع کیا، مگر بچوں نے اپنی دادی سے درخواست کی کہ وہ ساتھ چلیں تاکہ والد انہیں روک نہ سکیں۔ بعد ازاں والدہ نے بھی یہی کہا کہ بچوں کی پہلی سیر ہے، انہیں جانے دیا جائے۔