21/02/2026
قرآن کا وہ معجزہ جس نے فرانسیسی ڈاکٹر کو مسلمان کر دیا
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب انسان اپنی اوقات بھول کر خدائی کا دعویٰ کرنے لگتا ہے، تو قدرت کا پہیہ اسے ایسے عبرت ناک مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ آنے والی نسلیں اسے دیکھ کر کانپ اٹھتی ہیں۔ مصر کا بادشاہ "رعمیس دوم" (جسے فرعون کہا جاتا ہے) اپنی طاقت، دولت اور طویل سلطنت کے نشے میں اس قدر چور تھا کہ اس نے سرِ عام اعلان کر دیا: "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں" (نعوذ باللہ)۔
تکبر کی انتہا:
فرعون کے پاس اس وقت کی دنیا کی جدید ترین فوج، بہترین معالج اور عالیشان محلات تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کے پہاڑ توڑتا تھا اور خود کو موت سے بالاتر سمجھتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی ہدایت کے لیے بھیجا، تو اس نے معجزات دیکھنے کے باوجود حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی انا کی خاطر اللہ کے نبی اور ان کے پیروکاروں کا پیچھا کیا۔
وہ فیصلہ کن رات:
پھر وہ وقت آیا جب اللہ کا حکم پہنچا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلے تو سامنے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر (بحیرہ قلزم) تھا اور پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر۔ بظاہر بچنے کی کوئی راہ نہ تھی، لیکن موسیٰ علیہ السلام کا توکل اپنے رب پر تھا۔ اللہ کے حکم سے سمندر کے درمیان بارہ راستے بن گئے اور پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا۔
سمندر کا انتقام:
فرعون نے جب یہ منظر دیکھا تو اپنے گھمنڈ میں لشکر سمیت ان راستوں میں داخل ہو گیا۔ جیسے ہی حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھی دوسرے کنارے پر پہنچے، اللہ کے حکم سے وہ پانی کی دیواریں آپس میں مل گئیں۔ فرعون نے جب دیکھا کہ اب بچنا ناممکن ہے، تو ڈوبتے وقت پکار اٹھا: "میں ایمان لایا اس رب پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے"۔
لیکن قدرت کا جواب آیا: "آج! (ایمان لاتا ہے؟) جبکہ تو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا"۔
لاش کی حفاظت کا معجزہ:
اللہ تعالیٰ نے اسی لمحے فرعون کی موت کا فیصلہ کیا، لیکن اس کی لاش کو رہتی دنیا کے لیے عبرت بنا دیا۔ ارشاد ہوا: "پس آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بن جائے"۔
صدیوں تک یہ لاش ریت تلے دبی رہی اور پھر انیسویں صدی میں دریافت ہوئی۔ 1974ء میں جب اس کا معائنہ کیا گیا تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ڈاکٹر مورس بوکاۓ (Maurice Bucaille) حیران رہ گئے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اس کے جسم میں سمندری نمکیات (Salt) موجود تھے، جو اس بات کی تصدیق تھی کہ اس کی موت ڈوبنے سے ہوئی۔ ڈاکٹر مورس بوکاۓ اس قرآنی حقیقت کو جان کر حیران رہ گئے کہ جو بات قرآن نے 1400 سال پہلے بتائی تھی، جدید سائنس آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
(سورۃ یونس، آیت نمبر 90 تا 92
کتاب: "The Bible, The Qur'an and Science" از ڈاکٹر مورس بوکاۓ)
سبحان اللہ! اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے! ✋
دوستو! فرعون کی لاش آج بھی قاہرہ کے میوزیم میں اس حال میں پڑی ہے کہ نہ اسے زمین نے قبول کیا، نہ سمندر نے، اور نہ ہی وہ مٹی بن سکی۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقت، عہدہ اور مال سب فانی ہے، اصل بقا صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ اگر اس واقعے نے آپ کے ایمان کو تازہ کیا ہے، تو کمنٹ میں "یا اللہ ہمیں ہدایت دے" لکھیں اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے دوسروں کو بھی عبرت دلائیں۔
ایسے مزید ایمان افروز اور تاریخی واقعات کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں! ✅