Reporting

Reporting views are news

09/07/2026
09/07/2026
23/06/2026

جمہوریت کا انجام
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور ہے بھی ایسا ہی کیونکہ مخالف سے بدلہ لینے کے لئے جمہوریت پر عمل کرنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ بھارت میں مودی سرکار جمہوریت کے لباس میں مسلمانوں سے بدلہ لے رہا ہے اور مغربی ممالک کے جمہوریت رہنما اس لباس میں مظلوم انسانوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔
انسانی جان کی ضیاء کو جس انداز میں جمہوری لوگ نظرانداز کرتے ہیں شاہد ہی کوئی ظالم بادشاہ اپنی رعایا کی موت کا جشن اس انداز میں مناتے ہو ۔
پاکستان میں جمہوریت ریاست کی بندی بنی ہوئی ہے ۔لوگ مسائل میں اضافے سے پریشان ہیں جبکہ جمہوریت استثنا کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہی ہے ۔ جب ایک جمہوری ریاست کا طاقتور صدر اور آرمی چیف کا احتساب ہی ناممکن بنایا جائے تو یہ کہاں کی جمہوریت ہے۔
جمہوری ریاستیں جب اس قسم کے اقدامات کرنے والوں کی پشت پناہی کرتی ہے تو وہ کہاں کے جمہور پسند قومیں بن گئی ۔
لگتا ایسا ہے انسانوں سے شیطان کی وفاداری نہ کرنے کی سزا کے طور پر جمہوریت کو لایا گیا ہے۔
جاری

23/06/2026

بدلتا وقت اور ساکن روخ
مصنوعی ذہانت نے جہاں انسان کو فراہمی دی ہے وہاں ہزاروں ایسے نئے سوالات پیدا کردیئے ہے جس کا جواب مستقبل میں نظر آنا شروع ہونگے ۔ انیسویں صدی کے کارنامے بیسویں صدی مین پرانے ہوگئے ہیں اور کمال دیکھئے کہ انسان کی روخ پھر بھی ساکن ہے ۔
مغربی ممالک تیزی سے نئے رجحانات کو اپنانے میں مصروف ہے تو مشرقی دنیا انکے چھوڑے ہوئے کاموں کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے ۔ دیکھا جائے تو ٹکنالوجی کے میدان میں غلبہ مغربی ممالک کا ہے جبکہ رسمی کاروبار میں مشرقی ممالک دلچسپی لے رہے ہیں ۔جب شیپنگ کا کاروبار مشہور ہوا تو مغربی ممالک نے اس میں پیسہ لگایا اور بڑے بڑے بحری بیڑے کھڑے کر دیئے ۔ رسد کا ایسا نظام تیار گیا گیا کہ مغرب کی اشیاء مشرق اور مشرق کی چیزیں مغرب کی بازاروں میں عام ہوگئی ۔ یہ کاروبار جو آج بھی چل رہا ہے مگر انیسویں صدی کے آخری حصے میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔
اس کاروبار میں ایک فریق کا اضافہ ہوا جس سے ہزاروں تاجر متاثر ہوئے اور اس فریق نے ہزاروں تاجروں کا روزگار ہی ختم کردیا ۔ ایمزون کمپنی جو ملکیتی لحاظ سے دنیا کی بڑی کمپنی ہے اور بڑے بڑے جہاز اس کا سامان دنیا کے ایک حصے سے دوسروے تک پہنچا رہی ہے ۔
اب مغربی ممالک جہازوں کی بجائے اشیاء پر پیسہ لگاتے ہیں اور مشرقی ممالک جہاز چلا کر روزگار کر رہے ہیں۔

مغربی ممالک شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور بجلی سے چلنے والے اشیاء کی طرف بڑھ چکی ہے جبکہ مشرقی ممالک تیل کے نکالنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک مشرق سے پیدا ہونے والے وسائل لے کر نئے تجربات کر رہے ہیں جبکہ مشرقی ممالک ان پیسوں سے گزر بسر کر رہے ہیں۔

جاری ہے ۔۔

19/04/2026

Ray of Hope

Iran went several times to sit with United States and resolve the dispute but Iran blame US take it for granted .

Reports from Iran suggest that US must have to respect its idealogy theology and politics. US can't undo Iran as far it's international relations and geopolitical existence in concerned.

Reports from US indicates that they wanted Iran to surrender it's proxies in the region mostly the pro jihadists. Iran have to give off it's miliary cover to protect the hard core regime .

Reports also suggests that Iran pose not a direct threat to US nor it has an ambition to attack US for the sack of bravery nor Iran is in a mode to surrender.

Negotiation between US and Iran would be so nice if it were sponsored by countries in middle East . Middle East is the stock holder mostly KSA and UAE. Secondly Qatar and Bahrain. They suffered due to unconditional superiority of Iran and attacks of Isreal on Iran.

A Prosperous Middle East would be super power of the world if UAE ,KSA Iran ,Qatar and Bahrain sit and resolve matters for mutual Interests. It has not been a religious regional or traditional war but economical tussle with more possibility to be resolved.

After Isreal attack on Iran it's blunt response to Gulf countries was a big mistake but wisely handled by Arab Leaders mostly by KSA, UAE and Qatar . Iran can fight with Isreal but it can't win against Arab Countries.

Long term possible solution for Iran is to be friend and nice to Arab Countries if it wanted to numbered in the world countries. If Iran had good relations with UAE it would be in a better position to handle the US negotiators.

So Iran require to slow down it's aggression and start steady beginning with Gulf Countries in order to avoid future war with Isreal . Isreal can't attack United middle east .

Even if here is not the ideal field; Role of Pakistan become vital to reunit the shattered Middle east . Pakistan is militarily strong enough to play a part . Pakistan share a long border with Iran and it has faced challenges when a neighbour country Afghanistan was at war.

Pakistan can understand what unstable region behave like because decade of war in Afghanistan has pushed the region back economically. Pakistan suggests Iran to talk with US and resolve matters . It is not the way to settle it down in a day or month but keep the door open for dialogue with brilliance. Pakistan don't want a unstable Iran . Far the reason it has stepped up to support the cause of peace .

Narrowly US and Iran can settle it down . US can push Isreal to hold it's guns and Iran can control it's proxies. US can let Iran to grow militarily because weapon of self defence is international principle. It's not a sin to be strong enough to depend a nation. It's a fundamental right of a UN recognized country to possess weapon of self defence. But how to develop a control policy to use it must be negotiated.

Iran has a leadership loved and supported by Iranians the world must show respect to it. Every human in the world is free to select it's leadership it can't be forced by super powers for a particular selection. World is on the edge of development and destruction history will remember the leaders who developed or destroyed it. One can destroy a civilisation but can't hide the ruins.

Leaders must talk of wisdom Peace and stability instead of wars and destruction. War is not a solution. Let the people live in the religion they support. Leaders must not be mas murders. Future is the hand of today's leaders they can go on either ways.

03/04/2026
28/03/2026

Middle east in the middle of crises

Israel-US attack on Iran has triggered a new normal for middle east where drones fly and missiles are flying over gulf countries. The very first day of the attack it was clear that there would be no boundaries and any one can target any where possible.

According to US data base the country has fired missiles at high intensity. The tomahawk and bomb busters have targeted civilians , historical and military sites causing numerous destruction and deaths .

Iran on the other hand have also targeted US military bases , Israel and it's allies. Iran hitting UAE, Bahrain ,Qatar ,Saudi Arabia and Kuwait with its drones.

The Europe Russia and China who are thought to be indirectly affected from the conflict stood silent while looking to the world economy scribbling.

Divisions

US and Isreal are supported by Muslim countries in the middle east agaisnt Iran . China and Russia are supporting the cause of Iran self defence while Europe is somehow natural. Pakistan is trying to meditate the war supported by Turkey . India is supporting Isreal but also have its hands open for Iran.

Strait of Hormuz

The narrow passage controlled by Iran

27/02/2026

سمجھ سے باہر ہے جو باتیں پہلے پاکستان کی مانی جاتی تھی آج کوئی نہیں مانتا ۔پاکستان اسٹیبلشمنٹ نے افغان طالبان کو روس اور امریکہ کے خلاف مضبوط کیا آج وہی طالبان ان سے لڑ رہے ہیں۔
پہلے پاکستان ان طالبان کی پالیسیوں میں شریک ہوتا تھا آج جا یہ دشمن بن گیا ہے ۔

دو باتیں ہیں یا تو طالبان کو پاکستان کی سچائی معلوم ہوگئی ہے یا پاکستان کو طالبان کی پالیسی کا پتہ چل گیا ہے ۔ ایسا بی ہو سکتا ہے ایک تیسرے فریق نے پاکستان کو طالبان اور طالبان کو پاکستان کے سامنے ننگا کردیا ہو ۔

افغانستان میں بین الاقوامی ممالک کے محدود مفادات ہیں۔ چین کی تجارتی راہداری ، امریکا کے معدنیات اور روس علاقائی سلامتی کے بچاو کے لئے پاکستان لڑھ رہا ہے ۔ پاکستان نے طالبان کو قابض کردیا پھر سفارتی تعلقات کی بحالی میں انکو اکیلا چھوڑ دیا ۔
شکر ہے عرب ممالک اچھے ہیں جو نہ صرف امداد دیتے ہیں بلکے ہلکا سپورٹ بھی کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے مسائل زدہ ممالک کی ساک بنی رہتی ہے ۔

آخر میں پاکستان اور طالبان کی لڑائی ناں سیریس ایشو ہے ۔پاکستان کی فوج اور طالبان ایک سیکے کے دو سائیڈز ہیں۔اگر طالبان اتنہا پسند ہے تو پاکستان کی فوج کون سی امن پسند ہے ۔ یہ تحت پنجاب کی ذاتی لڑائی ہے۔ ایک فوجی جرنیل کی ذاتی خواہش ہیں ورنہ جن لوگوں پر یہ جہاز چھوڑ رہے ہیں اسکے مائی باپ کو پتہ ہونا چاہئے یہ کون لوگ ہیں۔

دوسری طرف طالبان بھی منافق اور احسان فراموش ہیں۔ پاسپورٹ پاکستان کا استعمال کرتے ہیں مانتے بھی نہیں۔ روس کے خلاف پاکستان نے ملا عمر کو پناہ دی سپورٹ کیا ۔ جواب ملے گا پیسوں کے لئے کیا جو غلط ہے اس لئے کیا کیونکہ طالبان کو مسلمان بھائی سمجھا ۔ امریکہ آیا پاکستان نے ایک طرف امریکا کی امداد کی کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی لازم تھی مگر طالبان رہنماؤں کو پاکستان کے مرکز میں پناہ دی ۔لاکھوں شہریوں کو جگہ دی۔ پھر بھی نہیں مانتے ۔

17/02/2026

سیاست اور انتقام
جب اسٹیبلشمنٹ نے بینطیر بھٹو قتل کے بعد یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمی سے ہٹایا تو نواز شریف کورٹ پہن کر عدالت گئے تھے ۔ نواز شریف نے کہا تھا یہ انسانوں کی بستی ہے حیوانوں کی بستی نہیں ہے ۔
جب نواز شریف کو نکالا گیا تو عمران خان عدالت گئے تھے کہ نواز شریف چور ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی ائمہ پر تحریک دار دھرنا دیا گیا ۔
پھر عمران خان کو ہٹانے کے لئے شہباز شریف کو اتارا گیا اور یوں جمہوریت سے اسٹیبلشمنٹ نے انتقال انجام فرمایا۔

یہ تو چند سالوں کی سیاسی تاریخ ہے جو آنکھوں دیکھا حال ہے ۔ لیاقت علی خان ،قائداعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ جو ہوا وہ تو پرانی بات ہوگئی ہے ۔
پاکستان کی عوام نجانے کیوں اسٹیبلشمنٹ کی اس چال کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ اشرافیہ اور یونیفارم والے چاہتے ہی نہیں کہ یہاں عام پاکستانی خوشحال ہو ملک ترقی کرے اور مملکت کا وقار بلند ہو ۔
ابھی جو عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے ۔یعنی تین سو سے زائد کیس بنائے گئے۔ عدالت میں پیشی نہیں ہوتی۔ جیل میں عدالت قائم ہے جو فیصلہ کرتی ہے۔ جج وکیل کا کوئی پتہ نہیں کہاں سے کون کیا فیصلہ کررہا ہے کیا یہ باتیں تاریخ سے مت جانے والی ہے ۔
کیا فوجی سربراہی کرنے والے جرنیل جانتے نہیں کہ اس پر کتابیں لکھی جانی ہے ۔ جیسے آج ضیاء الحق کی قبر مبارک معلوم نہیں اور گھڑی حدا بخش میں سالانہ عرس ہوتا ہے یہ بات فوجی جرنیل کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

عمران خان کے جرائم معافی کے قابل نہیں کیا ایک سابق وزیراعظم کی اتنی تذلیل ملک کے مستقبل کے لئے فائدہ مند ہیں۔
جان تو اللہ کو دینی ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن نا انصافی کا نظام تو اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے نہیں چل سکتا۔

ملک کی فوج کا اگر اقتدار سنبھالنے کا شوق ہے تو سیدھا سیدھا مارشل لاء لگا کر حکمرانی کیوں نہیں کرتی ۔ سیاسی لوگوں کو مارنے اور نظریات کو قتل کرنے سے بہتر ہے ایسا نظام لگایا جائے جہاں یہ خیال ہی نہ ہو کہ عام آدمی بھی اقتدار کرسکتا ہے ۔

اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی عمران خان سے نہیں سیاست سے ہے اور جمہوریت سے انتقال ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ آج شہباز شریف مہرا ہے کل مریم اور بلاول ہونگے آج عمران خان نشانے پر ہیں کل کو آصفہ اور حمزہ ہونگے۔

Address

Al Khawaneej
Hatta
2100

Telephone

+923027563289

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reporting posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share