03/04/2026
تھل ہسپتال لیہ ایک جوڑے کو پیڈز او پی ڈی میں تنہائی فراہم کرنے کا انکشاف۔ ، ڈاکٹرز صاحبان نے ڈاکٹر روم کے غیر قانونی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں استعمال ہونے اور قابل اعتراض مواد برامد ہونے کی تصدیق کر دی، ایم ایس تھل ہسپتال کی رپورٹ پر چیف ایگزیکٹو افیسر ہیلتھ لیہ نے ہسپتال تھل میں تعینات چوکیدار کو مبینہ غیر اخلاقی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، درجہ چہارم ملازم محمد اظہار الحق نے ایم ایس تھل ہسپتال لیہ کو رپورٹ دی کہ گزشتہ روز جب وہ اپنی ڈیوٹی پیڈز او پی ڈی پر پہنچا اور کمرہ کھولا تو کمرہ میں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں آفس کا سامان بکھرا ہوا اور غلاظت کے نشان پائے گئے جس پر ڈاکٹر شاہدہ نعیم ڈاکٹر یاسر غفور اور ڈاکٹر اسماعیل واندر نے تصدیق کرتے ہوئے ابتدائی رپورٹ ایم ایس تھل ہسپتال ڈاکٹر محمد نعیم کو کی ڈاکٹرز کی سامنے انے والی رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹر ساجد سہیل کی سربراہی میں ڈاکٹر داور عباس ڈاکٹر راشد عباس عبدالباسط اسسٹنٹ ایڈمن افیسر اور سعد اللہ گیٹ کیپر پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ طلب کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ حالات و واقعات اور سی سی ٹی وی کیمرہ جات کی ریکارڈنگ اور چوکیدار محمد صادق کے اعترافی بیان کہ اس کے ایک عزیز نے اپنی کزن سے ملاقات کے لیے اس سے جگہ مانگی اور اس نے کمرہ کھول دیا پر انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ چوکیدار صادق غیر اخلاقی غیر قانونی سرگرمی اور سرکاری بلڈنگ کو غلط استعمال کرنے میں ملوث پایا گیا ہے جس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر ایم ایس ڈاکٹر محمد نعیم نے مزید قانونی کاروائی کے لیے سارا معاملہ سی او ہیلتھ لیہ کو ارسال کر دیا جس پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (DHA) لیہ ڈاکٹر شاہد ریاض نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کر دیا
نوٹس میں متعلقہ ملازم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر تحریری وضاحت پیش کرے کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ بصورت دیگر، عدم جواب کی صورت میں یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ایم ایس تھل لیہ نے فوجداری کاروائی کے لیے پولیس سے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں۔