Shan-e-layyah News

Shan-e-layyah News journalist.publisher. chief editer weekly shan e layyah. District and Burochief Daily Apni bat multan. stamp vending at tehsil office layyah 03008768884

03/04/2026

تھل ہسپتال لیہ ایک جوڑے کو پیڈز او پی ڈی میں تنہائی فراہم کرنے کا انکشاف۔ ، ڈاکٹرز صاحبان نے ڈاکٹر روم کے غیر قانونی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں استعمال ہونے اور قابل اعتراض مواد برامد ہونے کی تصدیق کر دی، ایم ایس تھل ہسپتال کی رپورٹ پر چیف ایگزیکٹو افیسر ہیلتھ لیہ نے ہسپتال تھل میں تعینات چوکیدار کو مبینہ غیر اخلاقی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، درجہ چہارم ملازم محمد اظہار الحق نے ایم ایس تھل ہسپتال لیہ کو رپورٹ دی کہ گزشتہ روز جب وہ اپنی ڈیوٹی پیڈز او پی ڈی پر پہنچا اور کمرہ کھولا تو کمرہ میں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں آفس کا سامان بکھرا ہوا اور غلاظت کے نشان پائے گئے جس پر ڈاکٹر شاہدہ نعیم ڈاکٹر یاسر غفور اور ڈاکٹر اسماعیل واندر نے تصدیق کرتے ہوئے ابتدائی رپورٹ ایم ایس تھل ہسپتال ڈاکٹر محمد نعیم کو کی ڈاکٹرز کی سامنے انے والی رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹر ساجد سہیل کی سربراہی میں ڈاکٹر داور عباس ڈاکٹر راشد عباس عبدالباسط اسسٹنٹ ایڈمن افیسر اور سعد اللہ گیٹ کیپر پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ طلب کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ حالات و واقعات اور سی سی ٹی وی کیمرہ جات کی ریکارڈنگ اور چوکیدار محمد صادق کے اعترافی بیان کہ اس کے ایک عزیز نے اپنی کزن سے ملاقات کے لیے اس سے جگہ مانگی اور اس نے کمرہ کھول دیا پر انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ چوکیدار صادق غیر اخلاقی غیر قانونی سرگرمی اور سرکاری بلڈنگ کو غلط استعمال کرنے میں ملوث پایا گیا ہے جس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر ایم ایس ڈاکٹر محمد نعیم نے مزید قانونی کاروائی کے لیے سارا معاملہ سی او ہیلتھ لیہ کو ارسال کر دیا جس پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (DHA) لیہ ڈاکٹر شاہد ریاض نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کر دیا
نوٹس میں متعلقہ ملازم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر تحریری وضاحت پیش کرے کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ بصورت دیگر، عدم جواب کی صورت میں یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ایم ایس تھل لیہ نے فوجداری کاروائی کے لیے پولیس سے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں۔

تمام احباب کو عیدالفطر مبارک ہو۔
21/03/2026

تمام احباب کو عیدالفطر مبارک ہو۔

11/03/2026

سابق ایم این اے مرحوم ملک نیاز۔ احمد جکھڑ کی 5 دہائیوں پر مشتمل سیاسی زندگی پر ایک نظر

سابق ایم این اے ملک نیاز احمد جکھڑ موجودہ ایم این اے پاکستان تحریک انصاف ملک اویس حیدر جکھڑ کے والد ہیں

ملک نیاز احمد جکھڑ لیہ کے سینئر ترین سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 8 بار الیکشن لڑا

وہ مختلف ادوار میں قومی اسمبلی کے رکن رہے اور کئی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے 4 بار جیتے 4 بار شکست ہوئی

وہ 1988، 1993، 2002 اور 2018 میں الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

وہ چار بار 1990 ، 1997 ، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں مختلف سیاستدانوں سے ہارے

1988 میں پہلی مرتبہ حلقہ این اے 139 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

اسی الیکشن میں انہوں نے ضلع لیہ کی سیاست میں مضبوط جگہ بنائی اور چار بار ایم این اے بنے

1990 میں دوبارہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکے اور پیر سید خورشید شاہ سے ہار گئے

1993 میں دوسری بار پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے ہی حلقہ این اے 139 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

1997 کے عام انتخابات میں حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہو سکے اور ملک غلام حیدر تھند سے ہار گئے

2002 میں تیسری مرتبہ حلقہ این اے 182 سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

2008 کے الیکشن میں حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکے اور پھر سید محمد ثقلین شاہ بخاری سے ہار گئے

2013 کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن قومی اسمبلی کی نشست حاصل نہ کر سکے اور سید ثقلین شاہ بخاری نے شکست دے دی

2018 چوتھی مرتبہ حلقہ این اے 188 میں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

اپنے سیاسی کیریئر میں انہوں نے مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاست کی پاکستان مسلم لیگ ق کا بھی حصہ رہے

وہ 4 مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے
زیادہ تر کامیابیاں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حاصل کیں

آخری بار 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچے

ضلع لیہ کی سیاست میں چار دہائیوں سے
زیادہ عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے

18/02/2026

*پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، پاکستان بھر میں کل پہلا روزہ ہوگا*

*شان لیہ نیوز کی طرف سے تمام عالمِ اسلام کو ماہِ رمضان کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد*

*اللہ تعالیٰ یہ مقدس مہینہ ہم سب کے لئے رحمت، برکت اور مغفرت کا سبب بنائے، آمین*

18/02/2026

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اب تک 40 شہادتیں موصول ہوچکی ہیں : ذرائع

18/02/2026

پولیس لائن لیہ چونگی نمبر 11 سے ٹیل انڈس روڈ پر تقریبا ایک کلومیٹر سڑک پر شوگر ملز کے کچرا ٹرک گزرنے سے راکھ میٹیرئیل سڑک پر گر چکا ہے جس سے سڑک پر بارش کے باعث پھسلن ہو گئی ہے ، واسا ، ستھرا پنجاب یا ریسکیو کے واٹر کینن سے سڑک کو فلفور دھلایا جائے ، موٹرسائیکل سوار گرر رہے ہیں اس طرف فوری توجہ کی ضرورت

14/02/2026

*قرض اتارنے کا آٸیڈیا*

راولپنڈی پولیس کے ایک نوجوان کی جانب سے پاکستان کا قرضہ اتارنے کے لئے حکومت کو مفید مشورہ اور ایک آئیڈیا دیا ھے۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا قرضہ اتارنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.
لیکن یہ حکمران خود نہیں چاہتے کہ قرضہ اترے.

آسان سی پالیسی ھے تحریر مکمل پڑھیں اور ضرور پڑھیں پھر آپکو پتہ چلے گا
17 گریڈ کے افسران, ججز , وزراء ,مشیر, ڈپٹی کمشنرز, اسسٹنٹ کمشنرز, ڈی پی اوز/سی پی اوز, ڈی ایس پیز, ایس ایچ اوز, ڈسٹرکٹ آفیسرز, سی ای اوز, ڈی ای اوز, کالجز کے پروفیسرز,سکولز کے ہیڈ ماسٹرز, پیف والے پرائیویٹ سکولز مالکان, پراپرٹی ڈیلرز, تحصیلدار, پٹواری, بزنس مین, فوجی افسران, خفیہ اداروں کے افسران, فیکٹریوں کے مالکان, ملز مالکان, بڑے سرمایہ داران, آڑھتی , تاجران, تیس چالیس ایکڑ سے زیادہ اراضی والے زمینداران, سب کو ملا کر تعداد گنی جائے تو دو کروڑ آرام سے بن جائیں گے.
ان سب سے گورنمنٹ کا بیس بیس ہزار بطور قرض لینا معمولی سی بات ہے. جو کہ چار کھرب ماہانہ بنتا ہے.

اسکے بعد
297 پنجاب کے ایم پی ایز
130سندھ کے ایم پی ایز
124کے پی کے ایم پی ایز
65بلوچستان کے ایم پی ایز
336ایم این ایز
کل 965 اقتدار میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن سے صرف پانچ پانچ کروڑ فی کس لیا جانا عام سی بات ہے. اور ان لوگوں کیلئے یہ رقم دینا کوئی بڑی بات بھی نہیں ھے تویہ پچاس ارب بنتا ہے.

اسکے بعد
ایک کروڑ ملک بھر کے سرکاری ملازمین تو ہوں گے جن سے صرف دو ہزارماہانہ بطور قرض لیا جائے تو ماہانہ بیس ارب بنتا ہے.

بیس ہزار سے زائد انکم والے پرائیوٹ ملازمین کم ازکم تو پانچ کروڑ ہونگے جن سے صرف پانچ سو روپے ماہانہ قرض لیا جائے جو کہ پچیس ارب بنتا ہے.
کل تقریبا پانچ کھرب ہو گیا.

اور گورنمنٹ اپنے بجٹ میں سے اپنے ریونیو میں سے ایک کھرب ڈالے کل چھ کھرب روپے .
یعنی کہ تقریباً 34ارب ڈالر بنتا ہے۔⁩⁦

فرض کیا جائے کہ پاکستان پر مجموعی طور پرسو ارب ڈالر قرضہ ہو تو تین ماہ کی قلیل مدت فروری تااپریل میں قرضہ اُن کے منہ پر مارا جاسکتا ہے. اور اسی پالیسی کے تحت اگلے تین ماہ مئی تاجولائی میں ہم آئی ایم ایف کو کہہ سکتے ہیں جتنا تم نے قرضہ دیا تھا اب اتنا ہم سے لے سکتے ہوں. اور اگر یہ ہی مئی تا جولائی کااتنابڑا ریونیو پاکستان اپنے دفاع ریلوے سڑکوں پی آئی اے اور دیگر اداروں پر لگا دے تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے. صرف چھ ماہ میں مہنگائی کا تو نام ونشان ہی مٹ جائے گا انشاء اللہ تعالی

پھر ان اداروں سے جو ریونیو آئے گا وہ اوپر بیان کردہ جس جس پاکستانی
سے رقوم بطور قرض وصول کی گئی ہونگی انکو واپس لوٹانے کا سلسلہ شروع کیا جائے اور دو تین سال میں آرام سے واپس ہو جائے گا.
اور اگر کوئی حب الوطنی کے تحت دیا گیا قرضہ ملک پر قربان کردے تو یہ تو اور بھی اچھی بات ھوگی
👇
یاد رہے میں کوئی معیشت دان نہیں ایک عام پاکستانی ہوں ۔۔ا

برائے مہربانی اس کو آگے تک اتنا پھیلائیں کہ یہ بات حکمرانوں تک ، اور ماہرین معاشیات تک پہنچے تاکہ وہ ملک کیلئے کچھ اچھا فیصلہ کریں ۔

یہ ملک اور عوام اب باھر کے قرضوں پر نہیں چل سکتا ،
کیونکہ دنیا کے سامنے رسوائی اور ذلت الگ ھے اور ان کی کڑی شرائط اور ڈیمانڈ وہ الگ ھیں جس کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکسز لگانے پڑتے ھیں اور نتیجتاً مہنگائی کا ایک طوفان آتا ھے اور اس ملک کے متوسط اور غریب عوام کو ھی بھگتنا پڑتا ھے۔

اسی لیئے خدارا خدارا :
ایسا راہ حل تلاش کیا جائے کہ عوام پر ایک ھی دفعہ بوجھ ڈالیں اور قرض اتاریں، اور اس ملک کو قرض کے دلدل سے باھر نکالیں
اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط اور خود مختار بنائیں ۔

ھمارا وطن ھماری عوام اب زیادہ قرضوں کا متحمل نہیں ھوسکتے۔

اور اگر آپ کے پاس بھی اس سے بہتر کوئی حل ھے تو اس کو بھی آگے تک پھیلائیں تاکہ عوام ایک آواز ھوکر حکمرانوں سے یہ مطالبہ کریں 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

ضلع لیہ کی سیاست میں 80 کی دہائی سے فعال کردار ادا کرنے والی قد آور شخصیات چوہدری اصغر علی گجر، ملک غلام حیدر تھند، ملک...
13/02/2026

ضلع لیہ کی سیاست میں 80 کی دہائی سے فعال کردار ادا کرنے والی قد آور شخصیات چوہدری اصغر علی گجر، ملک غلام حیدر تھند، ملک نیاز احمد جکھڑ اور غلام فرید خان میرانی ان دنوں بڑھتی ہوئی عمر اور علالت کے باعث غیر فعال زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ وہ رہنما ہیں جنہیں قومی اور پنجاب اسمبلی میں لیہ کی نمائندگی کا اعزاز حاصل رہا اور جن کے نام ضلع کی تعمیروترقی کے بے شمار منصوبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔مذکورہ چاروں سیاسی شخصیات نے اپنے اپنے ادوار میں لیہ کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ تعلیمی اداروں کے قیام، سڑکوں کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری، صحت کے مراکز کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی کاوشیں آج بھی عوامی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان رہنماؤں نے نہ صرف پارلیمانی سطح پر ضلع کا مؤثر مقدمہ لڑا بلکہ مقامی سیاست میں رواداری اور خدمت کی روایت کو بھی فروغ دیا چوہدری اصغر علی گجر اور ملک غلام حیدر تھند ملک نیاز احمد جکھڑ اور غلام فرید خان میرانی عمر رسیدگی کے باعث کمزوری اور بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان کی سیاسی رفاقتوں سے وابستہ کارکنان اور شہری حلقے اپنے محبوب قائدین کی صحت کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں سیاسی زعماؤں سے گہرا تعلق رکھنے والے کارکنان نے میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بیانات میں ان بزرگ رہنماؤں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ یہ شخصیات لیہ کی پہچان اور سیاسی تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی رہنمائی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رہنماؤں کو مکمل صحت عطا فرمائے تاکہ وہ ایک بار پھر اپنے تجربے اور بصیرت سے ضلع لیہ کی فلاح و بہبود کے لیے رہنمائی فراہم کر سکیں۔

لیہ ملک نیاز احمد جکھڑ ،اصغر گجر غلام حیدر تھند ،غلام فرید خان میرانی

05/02/2026
05/02/2026

Address

1km Chowk Azam Road Near Mian Bahadar More Layyah
Layyah
31200

Telephone

+923008768884

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shan-e-layyah News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shan-e-layyah News:

Share