Shan-e-layyah News

Shan-e-layyah News journalist.publisher. chief editer weekly shan e layyah. District and Burochief Daily Apni bat multan. stamp vending at tehsil office layyah 03008768884

02/08/2025

اگر ڈالر 270روپے کا ہو جاتا ہے اور پاکستانی بینک جو اوسط” رقم بینک میں جمع کرانے والوں کو 4فیصد منافع دے رہے ہیں
اگر یہی بینک اپنا سود جو قرض داروں سے لیتے ہیں صرف 2 فیصد کم کر دیں تو
ان دونوں ایکشنز سے یعنی ڈالر 270کا اور سود 11کی جگہ 9فیصد ہوجائے تو حکومتی قرضہ جات پر ریاست کو تقریباً”
3000 ہزار ارب روپے کی بچت ہوگی
یہ بچت حکومت لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے باپ تیار کرنے میں بذریعہ آرمی خرچ کرکے پاکستان کو بیرونی خطرات سے بہت محفوظ کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹر کو اور کسانوں کو کاسٹ آف پروڈکشن میں کمی لاکر ان کی مدد کر سکتی ہے

30/7/25
30/07/2025

30/7/25

28/07/2025

پاکستان میں سیاست ایسی ہو جو دین کی کوکھ سے نکلے جس میں فرد اپنے آپ کو پیش نہیں کرتا
یہاں اسی سالوں سے کون ہے جو عوام کے ووٹ سے آیا ؟
بقول آپ کے ایسٹیبلشمنٹ افراد کو لاتی ہے تو کبھی عملی طور پر جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کو اس کام سے روکا کبھی بھی نہیں
اب اگر بقول آپ کے فوج کو پیچھے دھکیل دیا جائے تو
بجلی چوری
گیس چوری
پولیو کے قطرے پلانا
مردم شماری
امتحانات میں بچوں کو نقل سے روکنا
ٹیکس کے سروے کرانا
فلڈ میں جان پر کھیل کر متاثرین کو بچانا
سرحدوں ہر فی سبیل اللہ جان دینا
جہاں بھی لاء اینڈ آرڈر حالات خراب ہوں پولیس فورا” وہاں سے بھاگ جاتی ہے
پھر وہاں فوج کو ہی بلانا
بھارت کو مئی میں ناکوں چنے چبوانے
نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا
سب کچھ فوج نے کرنا ہے اور سالانہ پندرہ سو ارب روپے بابو اور پولیس ڈکار جاتی ہے
سمجھ نہیں آتی لوگ دیانتدارانہ سوچ سے کیوں بھاگتے ہیں
امریکہ میں پینٹاگان اجازت نہ دے تو صدر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کر سکتا
یہاں فوج قومی خزانے کو لٹیروں ڈاکوؤں بابوؤں چوروں سے محفوظ کرنے کا حق ادا کرتی ہے تو وہ جماعت جو سلیمانی ٹوپی پہن کر فوج سے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی اب فوج نے خود اس جماعت کی کم اھمیت کی وجہ سے دوری اختیار کر لی ہے تو تکلیف کیسی
میرٹ پر بات کریں آئیں ٹی وی پہ بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں سچ نتھر کر سامنے آ جائے گا
عقل کریں اور وہ ادارہ جو پاکستان کی سالمیت کا اپنی جان دے کر ضمانت دیتا ہے اس کے خلاف دلیل کے بغیر رام کہانیاں نہ سنائیں
پاکستان میں سیاست ایسی ہو جو دین کی کوکھ سے نکلے جس میں فرد اپنے آپ کو پیش نہیں کرتا
یہاں اسی سالوں سے کون ہے جو عوام کے ووٹ سے آیا ؟
بقول آپ کے ایسٹیبلشمنٹ افراد کو لاتی ہے تو کبھی عملی طور پر جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کو اس کام سے روکا کبھی بھی نہیں
اب اگر بقول آپ کے فوج کو پیچھے دھکیل دیا جائے تو
بجلی چوری
گیس چوری
پولیو کے قطرے پلانا
مردم شماری
امتحانات میں بچوں کو نقل سے روکنا
ٹیکس کے سروے کرانا
فلڈ میں جان پر کھیل کر متاثرین کو بچانا
سرحدوں ہر فی سبیل اللہ جان دینا
جہاں بھی لاء اینڈ آرڈر حالات خراب ہوں پولیس فورا” وہاں سے بھاگ جاتی ہے
پھر وہاں فوج کو ہی بلانا
بھارت کو مئی میں ناکوں چنے چبوانے
نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا
سب کچھ فوج نے کرنا ہے اور سالانہ پندرہ سو ارب روپے بابو اور پولیس ڈکار جاتی ہے
سمجھ نہیں آتی لوگ دیانتدارانہ سوچ سے کیوں بھاگتے ہیں
امریکہ میں پینٹاگان اجازت نہ دے تو صدر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کر سکتا
یہاں فوج قومی خزانے کو لٹیروں ڈاکوؤں بابوؤں چوروں سے محفوظ کرنے کا حق ادا کرتی ہے تو وہ جماعت جو سلیمانی ٹوپی پہن کر فوج سے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی اب فوج نے خود اس جماعت کی کم اھمیت کی وجہ سے دوری اختیار کر لی ہے تو تکلیف کیسی
میرٹ پر بات کریں آئیں ٹی وی پہ بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں سچ نتھر کر سامنے آ جائے گا
عقل کریں اور وہ ادارہ جو پاکستان کی سالمیت کا اپنی جان دے کر ضمانت دیتا ہے اس کے خلاف دلیل کے بغیر رام کہانیاں نہ سنائیں
چند الزام زدہ جرنیلوں کا نام لے لے کر
اسرائیل اور بھارت کی سوچ والی فوج دشمنی بند کریں
بلکہ معاملات کو حقائق کے آئینے سے دیکھیں

26/07/2025
26/07/2025

اگر آپ اپنے موبائل فون میں سم لاک استعمال نہیں کر رہے تو سمجھ لیں کہ آپ خود کو ایک غیر ضروری اور خطرناک رسک میں ڈال رہے ہیں اور وہ بھی صرف غفلت کی وجہ سے۔ حیرت کی بات ہے کہ بارہا وارننگز، آگاہی مہمات، اور تلخ تجربات کے باوجود بھی کچھ لوگ یہ آسان سا حفاظتی قدم نہیں اٹھاتے۔

جب موبائل فون چوری ہوتا ہے تو صرف فون کا لاک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ چور سب سے پہلے سم نکالتے ہیں اور اسے کسی دوسرے موبائل میں لگا لیتے ہیں۔ پھر وہ آپ کے نمبر سے آپ کے قریبی لوگوں کو میسج یا کال کر کے دھوکہ دے سکتے ہیں، خود کو آپ ظاہر کر کے ایمرجنسی پیسے منگوا سکتے ہیں۔

اصل خطرہ تب شروع ہوتا ہے جب چور آپ کی سم سے USSD کوڈز استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں USSD کوڈز جیسے کہ *786 #، *777 # وغیرہ کا استعمال ایزی پیسہ، جاز کیش، یو پیسہ اور دیگر موبائل بینکنگ سروسز کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل نمبر سے یہ والٹس منسلک ہیں، اور آپ نے مضبوط پِن کوڈ نہیں لگایا ہوا، تو چور چند سیکنڈز میں آپ کا پورا بیلنس نکال سکتا ہے نہ ایپ کی ضرورت، نہ انٹرنیٹ کی۔

اگر آپ نے سم لاک ایکٹیویٹ کیا ہو تو جیسے ہی چور سم کو کسی اور موبائل میں ڈالے گا یا فون ری اسٹارٹ کرے گا، سم فوراً پِن کوڈ مانگے گی۔ نہ کال ہوگی، نہ میسج، نہ یوایس ایس ڈی' کوڈ کام کرے گا۔ یوں آپ کی شناخت کانٹیکٹس، اور پیسہ سب محفوظ رہیں گے۔

آپ کی سم صرف ایک چھوٹی سی چپ نہیں، بلکہ آپ کی شناخت، معلومات اور مالی معاملات کا دروازہ ہے۔ اس دروازے پر تالہ نہ لگانا بے وقوفی ہے؟ فوری طور پر سم لاک
ایکٹیویٹ کریں اور اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔
طریقہ درج ذیل ہے
سم لاک لگانے کا طریقہ ہر موبائل میں مختلف ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر فونز میں یہ آپشن "Privacy & Security" یا "Mobile Networks" کی سیٹنگز میں موجود ہوتا ہے۔ بعض موبائلز میں یہ آپشن "Fingerprints, Face Data & Screen Locks" کے تحت بھی آتا ہے۔ سم لاک لگانے کے لیے آپ اپنے موبائل کی Settings میں جائیں اور سرچ بار میں "SIM Lock" یا "Lock SIM card" لکھیں، تو یہ آپشن فوراً سامنے آ جائے گا۔ اس کے بعد آپ اپنی سم کو PIN کوڈ کے ذریعے لاک کر سکتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا آپ کی سم استعمال نہ کر سکے۔ یہ ایک آسان لیکن مؤثر سیکیورٹی فیچر ہے جس سے آپ اپنی سم کو غیر ضروری استعمال سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

منقول

24/07/2025

*پاکستان میں قانونی طور پر صحافی کی کیا پہچان (تعریف) ہے؟*

گزشتہ روز صحافیوں کے تحفظ کے ترمیمی بل کی منظوری کے بعد کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود پروفائلز پر ایک ہی سوال دیکھا کہ "صحافی کی تعریف کیا ہے؟" ان دوستوں کے لیے نوٹ فرما لیں

`پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024:`
صحافی سے مراد وہ کوئی بھی شخص ہے جو پیشہ ورانہ یا باقاعدہ طور پر کسی اخبار، رسالے، نیوز ویب سائٹ یا کسی اور نیوز براڈکاسٹ میڈیا (چاہے وہ آن لائن ہو یا آف لائن) سے منسلک ہو، اور اس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر خبریں یا حالات حاضرہ سے متعلق مواد تیار اور شائع کرتے ہیں، یا وہ افراد جن کا کسی اخبار، رسالے، نیوز ویب سائٹ یا کسی اور نیوز میڈیا ادارے کے ساتھ بطور فری لانسر قابل ذکر اور مستقل کام کا تجربہ ہو

`جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ 2021:`
صحافی سے مراد کوئی بھی ایسا شخص ہے جو صحافت سے وابستہ ہو، اور اس میں رپورٹر، ایڈیٹر، کالم نگار، فوٹو جرنلسٹ، کیمرہ پرسن اور ہر وہ شخص جو الیکٹرانک، پرنٹ یا ڈیجیٹل میڈیا کے کسی بھی شعبے میں کام کرتا ہو شامل ہیں

`نیوز پیپر ایمپلائز ایکٹ 1973:`
ورکنگ جرنلسٹ سے مراد وہ شخص ہے جس کا بنیادی پیشہ صحافت ہو اور جو کسی اخبار یا اخباری ادارے میں فل ٹائم یا پارٹ ٹائم طور پر ملازمت کرتا ہو۔ اس میں ایڈیٹر، لیڈر رائٹر، نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، رپورٹر، نامہ نگار، کاپی ٹیسٹر، فیچر رائٹر، اور فوٹو جرنلسٹ شامل ہیں، لیکن ایسے افراد شامل نہیں ہیں جو بنیادی طور پر انتظامی، مینیجریل یا صرف نگرانی (سپر ویژن) کے کردار میں کام کرتے ہوں۔

*اقوامِ متحدہ کی وضاحت جس کو پاکستان بھی تسلیم کرتا ہے*
صحافی ایسے افراد ہیں جو معاشرے پر اثر انداز ہونے والے واقعات، بیانات، پالیسیوں یا تجاویز کا مشاہدہ، تجزیہ اور دستاویزی ریکارڈ رکھتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے حقائق و معلومات اکٹھا کرتے ہیں تاکہ انہیں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ یہ تعریف نہ صرف پیشہ ور صحافیوں کو بلکہ فری لانسرز، بلاگرز اور ڈیجیٹل میڈیا کارکنان کو بھی شامل کرتی ہے، اگر وہ عوامی مفاد میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ صحافی کہلانے اور لکھے جانے کے حقدار ہونگے۔

22/07/2025

سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا

پاکستان پیپلز پارٹی 26 سیٹوں کے ساتھ پہلے، پی ٹی آئی 24 نشستوں ساتھ دوسری اور ن لیگ 20 سیٹوں
کے ساتھ تیسرے نمبر پر
جے یو آئی فضل الرحمن 7، آزاد 6، بلوچستان عوامی پارٹی 4، ایم کیو ایم 3، اے ین پی 3، نیشنل پارٹی 1، ق لیگ 1 اور مجلس وحدت المسلمین 1

17/07/2025

72.3K likes, 809 comments. “Paranormal Activity with farruq shah full horror podcast story”

میں نے اپنے علاقے میں محبوب مائنر  چوک لیہ پر نصب جہاز j10c کی پورٹریٹ شیئر کی ہے جسے 2567 لوگوں نے اوور ویو کیا
15/07/2025

میں نے اپنے علاقے میں محبوب مائنر چوک لیہ پر نصب جہاز j10c کی پورٹریٹ شیئر کی ہے جسے 2567 لوگوں نے اوور ویو کیا

15/07/2025

کل کے انگریزی اخبار دی نیوز میں معروف ماہر معاشیات۔۔۔ڈاکٹر فرخ سلیم کا ایک چشم کشا مضمون چھپا ہے۔۔۔۔ جس کا پڑھنا ہر باشعور پاکستانی کیلئے ضروری ہے۔۔۔۔ اپنے قارئین کیلئے اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

ٹیکس پر مبنی حکومتی انتشار — اُردو ترجمہ

پاکستان کی حکومت بجلی خریدنے اور بیچنے کے کاروبار میں مصروف ہے۔ اب تک اس کاروبار میں اسے 2.4 کھرب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کی حکومت گندم کے خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی شامل ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (PASSCO) کو اب تک 900 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان کی حکومت ہوائی جہاز کے ٹکٹ بیچنے کے کاروبار میں بھی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں پی آئی اے کو 830 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومت اسٹیل کی پیداوار اور فروخت کے کاروبار میں بھی رہی ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کو اب تک 600 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے (واضح رہے کہ اسٹیل ملز 2015 سے بند ہے)۔ حکومت پاکستان قدرتی گیس کی پیداوار اور ترسیل کے کاروبار میں بھی ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کو 500 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت پاکستان بندرگاہوں اور شپنگ کے نظام کو بھی سنبھالتی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کو 150 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومت ڈاک اور لاجسٹکس کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان پوسٹ کو 50 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان کی حکومت کپاس کی خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی رہی ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کو اندازاً 200 ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہے۔

حکومت پاکستان کھاد کی تیاری اور فروخت کے کاروبار میں بھی ہے۔ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کو 150 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ حکومت پاکستان نشریاتی ادارے بھی چلا رہی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو مجموعی طور پر 80 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

حکومت پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور ملک بھر میں ایسی ہی دیگر اداروں کو 200 ارب روپے سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں۔

اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی واحد توجہ ٹیکس وصولی پر مرکوز ہے۔ ریکارڈ کے مطابق، 2008 میں پاکستانی عوام نے 1783 ارب روپے بطور ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرائے تھے۔ اب حیران کن طور پر اس سال پاکستانی عوام 17,815 ارب روپے بطور ٹیکس ادا کریں گے — یعنی 899 فیصد اضافہ۔ واہ!

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت پاکستان اپنے شہریوں کو ٹیکس کے ذریعے نچوڑنے پر اتنی مریضانہ حد تک کیوں تلی ہوئی ہے؟ واضح رہے کہ 2008 میں حکومت کے اخراجات 2,000 ارب روپے تھے۔ اب حیران کن طور پر اس سال حکومت پاکستان 19,000 ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی فضول خرچی کی دوڑ ہے جو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر یہ پیسہ جا کہاں رہا ہے؟

پاکستانی عوام نے حکومت کو حکمرانی کے لیے منتخب کیا تھا — لیکن حکومت پاکستان ایک خسارے کا دیو ہیکل گڑھا بن چکی ہے، جو بجلی سے لے کر ایئرلائنز، اسٹیل سے لے کر کپاس تک، ہر شعبے میں کھربوں کا نقصان کر رہی ہے۔ حکومت ان مالیاتی زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے، ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے میں لگی ہے — 2008 میں 1,783 ارب سے بڑھا کر آج 17,815 ارب روپے تک لے آئی ہے۔ جبکہ اخراجات 19,000 ارب روپے کی سطح کو چھو رہے ہیں، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے: یہ حکمرانی نہیں، بلکہ ایک پاگل پن پر مبنی، ٹیکس سے چلنے والا انتشار ہے — اور اس کا سارا بوجھ پاکستانی عوام کے کندھوں پر ھے سنتا جا شرماتا جا
منقول

سڑکیں بحال - پنجاب خوشحال تحریر۔نثار احمدخانپہیے کی ایجاد نے ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔اگر آپ کے پاس گاڑی اور مکان م...
13/07/2025

سڑکیں بحال - پنجاب خوشحال

تحریر۔نثار احمدخان

پہیے کی ایجاد نے ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔اگر آپ کے پاس گاڑی اور مکان میں سے کوئی ایک اثاثہ خریدنے کا آپشن ہو تو گاڑی خریدیں کیونکہ پہیہ آپ کو مکان خریدنے میں تگ و دو کرنے میں بھرپور مدد فراہم کرے گا۔ ترقی پزیر ممالک نے سب سے پہلے مواصلات کے نظام پر توجہ دی تاکہ ذرائع آمد و رفت میں آسانی رہے۔ برصغیر میں بنائی جانے والی جرنیلی سڑک آج بھی صوبہ پنجاب کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر رہی ہے۔ کھیت سے منڈی تک، گاو¿ں سے شہر تک وقت کی بچت، آرام دہ سفر اور ترقی کے عمل میں مزید تیزی لانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سڑکیں بحال پنجاب خوشحال پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام سے شہری و دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر فوکس کیا گیا ہے تاکہ پنجاب کے عوام یکساں مستفید ہو سکیں۔ اس پروگرام کے تحت ضلع لیہ میں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وڑن سڑکیں بحال پنجاب خوشحال کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ ضلع بھر میں روڈ سیکٹر کے لئے بڑے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سڑکیں بحال پنجاب خوشحال پروگرام کے تحت ضلع بھر میں فارم ٹو مارکیٹ مجموعی طور پر 22 کلومیٹر طویل میٹل سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جا رہی ہے۔ عوامی خصوصاً کسان اور طلبہ کے مفاد عامہ کے لئے 22 کلومیٹر سے زائد طویل سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی منظوری دی گئی ہے۔ فارم ٹو مارکیٹ میٹل سڑکوں پر 45 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ سکیموں کا ٹینڈر پراس مکمل کر لیا گیا ہے۔ روڈ سیکٹر کی سکیموں کے ورک آرڈر جاری کر دئے گئے ہیں۔ سکیموں پر تیزی سے کام شروع ہے۔ فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں سے عوام، طلبہ اور کسان مشترکہ طور پر مستفید ہوں گے۔ روڈ سیکٹر سکیموں کو کوالٹی کے ساتھ بروقت مکمل کرنے کے لئے کڑی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں میں اڈا پیر سواگ تا لطیف نگر، التقویٰ پلازہ کروڑ روڈ تا کلمہ چوک، 112 ٹی ڈی اے مسافر خانہ انڈس ہیڈ، لطیف نگر تا دورٹہ مائنر، کموں کامل پھاٹک تا جنوبی بازار سڑک شامل ہے۔ سکیموں میں سلپ روڈ ایمپلائز چوک، کوٹ سلطان پیر جگی سڑک تا بستی کھوڑی، لنک روڈ جمن شاہ کھوکھر والا تا پل موچی، بستی بھٹی سرشتہ نشیب، حمید چوک تا چک نمبر 330 ٹی ڈی اے، ٹیل انڈس تا ایگریکلچر آفس، سیال موڑ تا گلنار والا، بستی کھوڑی تا بستی چانڈیہ، 121 ٹی ڈی اے تا مویشی ہسپتال 120 ٹی ڈی اے، بستی قاضی تا بستی گرمانی کنڈا موڑ بستی شہانی، مسجد عطاءمہر تا بستی چانڈیہ اور ہیڈ لال روڈ تا بستی رنگ پوری سکیم شامل ہے۔
سڑکیں نہ صرف سفر کو آسان بناتی ہیں بلکہ تجارتی، تعلیمی اور طبی سہولیات تک بروقت رسائی کو ممکن بناتی ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صوبہ بھر میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے ایک خوش آئند اور قابلِ ستائش قدم ہے۔مریم نواز شریف نے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں کی پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے بھی سڑکوں کے جال بچھانے کا عزم کیا ہے۔مریم نواز شریف نے جب صوبے کی باگ ڈور سنبھالی تو انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ترقی، سہولت، اور خوشحالی ا±ن کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوں گی۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کے زیرِ قیادت صوبے میں جدید سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے وہ راستے جو کبھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے، اب نئے سرے سے تعمیر ہو کر عوام کو سہولت دے رہے ہیںشہری ہی نہیں، دیہی علاقوں کے رہائشی بھی اس تبدیلی سے مستفید ہو رہے ہیں پنجاب کے کئی اضلاع میں سڑکوں کی مرمت، نئی لنک روڈز کی تعمیر، اور گاو¿ں سے شہر کو ملانے والی پگڈنڈیوں کو پختہ سڑکوں میں تبدیل کیا گیا ہے ایک دیہاتی طالبعلم جو کبھی خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتا تھا، اب پکی سڑکوں پر سکون سے سفر کر سکتا ہے۔ ایک کسان جو اپنی فصل منڈی تک پہنچانے میں دشواری محسوس کرتا تھا، اب جدید سڑکوں کے ذریعے وقت پر اپنا مال پہنچا کر بہتر معاوضہ حاصل کر رہا ہے خاص طور پر جنوبی پنجاب کے عوام، جو ماضی میں بنیادی سہولتوں سے محروم تھے، آج بہتر سڑکوں کے باعث خوشحال زندگی کی طرف گامزن ہیںیہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مریم نواز شریف نہ صرف ترقی کے وژن رکھتی ہیں بلکہ عوامی مسائل کو بخوبی سمجھ کر ان کے عملی حل کی طرف قدم بڑھا رہی ہیںان کا یہ وژن پنجاب کو ایک مربوط، جدید اور خوشحال صوبہ بنانے کی جانب پیش قدمی ہے۔
٭٭٭

Address

Dera Azeem Awan 6km Chock Azam Road Near Mian Bahadur More Layyah
Layyah
31200

Telephone

+923008768884

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shan-e-layyah News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shan-e-layyah News:

Share