Shan-e-layyah News

Shan-e-layyah News journalist.publisher. chief editer weekly shan e layyah. District and Burochief Daily Apni bat multan. stamp vending at tehsil office layyah 03008768884

محکمہ موسمیات کی وارننگ12 جنوری سے پندرہ جنوری کی راتیں پاکستان کی 100 سالہ تاریخ کی سرد ترین راتیں اور دن ھو سکتے۔ 15 ا...
12/01/2026

محکمہ موسمیات کی وارننگ
12 جنوری سے پندرہ جنوری کی راتیں پاکستان کی 100 سالہ تاریخ کی سرد ترین راتیں اور دن ھو سکتے۔
15 اور 16 جنوری کو لاھور کا درجہ حرارت صفر ہو سکتا ھے اور دن کا 9 سے 10،،،،
اس دوران سعودی عرب کی طرح دن یا رات کو برفباری بھی ھو سکتی ھے۔
جن علاقوں میں برفباری ھو سکتی ھے وہ وسطی پنجاب کے مندرجہ ذیل اضلاع ہیں۔
گجرات، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، خانیوال، بہاولپور، قصور ، وہاڑی، اوکاڑہ، ساہیوال، حافظ آباد، چکوال، جہلم، میانوالی، بھکر، لیہ، چنیوٹ، سرگودھا، خوشاب، ڈیرہ غازیخان، راجن پور، اور رحیم یار خان شامل ہیں۔
یہ پاکستان بھر میں خصوصا" پنجاب میں تاریخ کی سردی کی شدید ترین لہر ھو گی۔
عوام کو آگاہ کیا جاتا ھے کہ اس دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، شمالی علاقوں کا سفر نہ کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پیئیں۔ قہوہ کا زیادہ استعمال کریں۔ موٹا اونی لباس پہنیں۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کی، ہمسایوں اور نادار لوگوں کی خبر رکھیں،
خصوصا پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھیں

گزشتہ سال ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد روزگار کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے۔بیورو آف امیگریشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے...
12/01/2026

گزشتہ سال ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد روزگار کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے۔

بیورو آف امیگریشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک روزگار کے مواقع تلاش کرنے گئے۔ اس دوران ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کی بڑی تعداد مختلف ممالک میں نوکریوں کے لیے روانہ ہوئی۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2025میں 4لاکھ سے زائد غیر ہنرمند اور 2لاکھ سے زائد ہنرمند پاکستانی بیرون ملک روزگار کیلئے گئے۔ سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب گئے جن کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات 52 ہزار 664، قطر 68 ہزار 376، بحرین 37 ہزار 726، کویت 6 ہزار 590 اور امریکا ایک ہزار 5 پاکستانی روزگار کی خاطر گئے۔

5 ہزار 659 اکاؤنٹنٹ، 10 ہزار 503 باورچی، 3 ہزار 795 ڈاکٹر، 5 ہزار 946 انجینیئر، ایک ہزار 640 نرسیں۔ ایک ہزار 725 اساتذہ، ایک لاکھ 63 ہزار 718 ڈرائیور، 6 ہزار 475 الیکٹریشنز، 4 لاکھ 65 ہزار 138 مزدور۔ 5 ہزار 700 مستری، 12 ہزار 703 ٹیکنیشنز، 11 ہزار 777 منیجرز اور 2 ہزار 306 پلمبر بیرون ملک گئے۔

اسی طرح 2 ہزار 27 ویٹرز، 18 ہزار 352 اعلی تعلیم یافتہ اور 13 ہزار 657 انتہائی ہنر مند افراد نے بھی بیرون ملک روزگار کے مواقع حاصل کیے۔

مجموعی طور پر گزشتہ سال 2 لاکھ 22 ہزار 171 ہنرمند۔ 42 ہزار 257 نیم ہنرمند اور 4 لاکھ 66 ہزار 62 غیر ہنرمند پاکستانی بیرون ملک گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو شکست دینے والے پاکستانی طیاروں کی ڈیمانڈ میں اضافہ، سوڈان سے 1.5 ارب ڈالر کا معاہدہ

یورپی ممالک میں بھی پاکستانی روزگار کی تلاش میں گئے۔ برطانیہ 4 ہزار 355، جرمنی 984، اٹلی 813، رومانیا ایک ہزار 109 پاکستانیوں کو ملازمت ملی۔ ایشیائی ممالک میں چین 2 ہزار 230 اور جاپان 2 ہزار 210

اس وقت معلوم ڈیٹا کے مطابق ساری دنیا کی دولت کا تخمینہ تقریباً 500 ٹریلین ڈالر ہے۔ اسے اگر آٹھ ارب انسانوں پر یکساں تقسی...
10/01/2026

اس وقت معلوم ڈیٹا کے مطابق ساری دنیا کی دولت کا تخمینہ تقریباً 500 ٹریلین ڈالر ہے۔ اسے اگر آٹھ ارب انسانوں پر یکساں تقسیم کر دیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 60 ہزار یو ایس ڈالر یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم آئے گی۔

اسی طرح اس دنیا کی خشکی کے ایریا پر قابل استعمال حصہ زمین تقریبا پچاس فیصد کو مان لیا جائے۔ تو اس کا 33 فیصد انسانی ملکیت ہو سکتا ہے۔ اس ملکیت میں ریاستی اور انفرادی ملکیت دونوں شامل ہیں۔ اس زمین کو اگر پوری انسانی آبادی پر مساوی تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کو 32.5 ملین سکئیر فٹ یعنی 5970 کنال اور ایکڑ میں بات کریں توتقریبا 746 ایکڑ ہر انسان کے حصے میں آئے گی۔

کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ساٹھ ہزار ڈالر تو دور ساٹھ ہزار روپے بھی نہیں ہیں؟

اور پھر کروڑوں نہیں اربوں ایسے ہیں جنکے پاس 746 ایکڑ تو دور 746 سکئیر میٹر یا سکئیر فٹ بھی زمین کی ملکیت نہیں ہے۔

ایسا کوئی نظام کبھی نہیں آئے گا۔ کہ کسی اور کی محنت کا پھل آپ کو مل جائے۔ آپ وقت برباد کرتے رہیں، اور وقت کی قدر کرنے والوں کی محنت آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے۔

آپ کسی گاؤں گلی محلے شہر صوبے ملک خطے تک خود کو محدود کیے رکھیں اور ان ساری قیدوں سے نکل جانے والے آپ کی مدد کو آئیں۔

آپ ان پڑھ اور غیر ہنر مند رہیں، بزدل اور کام چور رہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے، ہنر مند،فرض شناس اور بہادر لوگوں کا حاصل آپ کو دے دیا جائے۔

آپ رات دیر تک جاگ کر صبح دیر تک سوتے رہیں اور سورج سے پہلے بروقت جاگنے والے آپ پر ترس کھا کر آپ کو اپنے برابر لے آئیں۔ کہ جی یہ آپ کا حق ہے۔

آپ کی خالی جھولی، آپ کا خالی جیب، آپ کا خالی دماغ، آپ کا خالی بنک اکاؤنٹ کبھی بھی کوئی نہیں بھرے گا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اسے چند سال میں کر سکتے ہیں۔

ایک آپ جیسا آدمی اسٹور کیپر تھا۔ دو سو ڈالر تنخواہ تھی۔ اسے افریقہ میں وہی جاب چودہ سو ڈالر میں ملی۔ وہ جاب کی تلاش میں رہتا تھا۔ دو سو سے بڑھا کر چار سو ڈالر گھر خرچ کر دیا۔ اور ایک ہزار ڈالر کی ماہانہ سیونگ میں آج پانچ سال بعد اسکے پاس ساٹھ ہزار ڈالر جمع ہو چکا ہے۔

یعنی وہ اس دنیا کی مجموعی دولت میں سے اپنا کم سے کم حصہ حاصل کر چکا ہے۔

اسے یہ حصہ بھیک لاٹری دھوکہ فراڈ سے نہیں ملا۔ اس نے کمایا ہے۔ اپنا دماغ لگایا ہے، گورمے بیکری کے اسٹور سے نکل کر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اسٹور کا محافظ بنا ہے۔ اسکے پاس دو مرلے جگہ نہیں تھی۔ آج جہاں ملازمت ہے وہاں کا باسی بن جائے تو تیس چالیس ایکڑ خرید سکتا ہے۔ جب وطن کی یاد ستائے آتا جاتا رہے۔ کس نے روکا ہے۔

یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ یہ میری آپ کی ، ہم سب کی ہے۔ جہاں ہم پیدا ہوئے وہیں برے حالاتوں میں کئی نسلوں تک جینا اور پھر وہیں مر جانا ہمیں کس نے سکھایا؟

یہ کس نے غلط پروگرام ہمارے ہارڈ وئیر میں انسٹال کر دیا کہ کبھی بھی خود کو خوش حال نہ کرو؟ آج کا کما لیا کل کی کل دیکھیں گے؟ ماہانہ آمدن سے آگے سوچو ہی نہیں، اور ساری عمر کی بدترین غلامی کے بدلے اس بڑھاپے کی چند ہزار پینشن قبول کر لو، وہ بڑھاپا جو شاید سب پر آتا ہی نہیں۔

کس نے بتایا کہ امیر اور بااثر ، کمزوروں اور غریبوں کو دبا کر رکھتے ہیں؟ ایسا ہے بھی تو وہ ایک مخصوص لوکیشن میں آپ کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں سے نکل جانے پر کون آپ کو روک سکتا ہے؟ جن پنجروں میں آپ نے خود کو قیدکر رکھا ہے وہ کوئی قید ہے ہی نہیں۔ نہ مفلسی کی، مواقع نہ ملنے کی، آپ کا حق چھینے جانے کی، آپ کو دبانے کی، آپ کا فل پوٹینشل ان لاک نہ ہونے دینے کی اور میرٹ پر آپ کو آپ کی قابلیت کے مطابق مقام نہ ملنے کی۔

نکالو یار خود کو ان خود ساختہ جیلوں سے باہر۔ بھلاؤ اس ساری بوسیدہ لرننگ کو جس نے تمہارا دو وقت کا چولہا جلانا مشکل کر رکھا ہے۔ بہت ہی معمولی اور جائز ضرورتوں کا ہر روز گلا گھوٹتے ہو۔ اور قصور وار ا س سب کا کسے ٹھہراتے ہو؟ حکومت کو؟جرنیلوں کو؟ امیر لوگوں کو؟ اقتدار پر مسلط بومرز کو؟ نہ تو تمہارا جسم قید ہے نہ سوچ، نکالو خود کو اپنے گھونسلے سے باہر وہ انگلش کی ایک کہانی کے کردار سیگل بگلے کی طرح۔ اور اڑو آزاد آسمان میں جہاں تک بھی جا سکتے ہو۔ اب پرواز تمہاری مرضی کی ہوگی اور یاد رکھو یہ آسمان کسی کا بھی نہیں

کاپی

*لیہ کے تھانہ سٹی کی حدود میں تھانے سے چند میٹر کے فاصلے پر ڈکیتی کی بڑی واردات موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں کی صدر بازا...
10/01/2026

*لیہ کے تھانہ سٹی کی حدود میں تھانے سے چند میٹر کے فاصلے پر ڈکیتی کی بڑی واردات موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں کی صدر بازار میں واردات دکاندار کو یرغمال بنا کر 1 کروڑ 25 لاکھ روپے کے گولڈ اور 10 لاکھ روپے سے محروم کر دیا*

لیہ میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر بگڑنے لگی تھانہ سٹی کی حدود صدر بازار میں تھانے سے کچھ فاصلے پر ڈاکوؤں نے سنیارے کو لوٹ لیا ، جیولر شاپ کے مالک محمد عمران کے مطابق 3 موٹر سائیکل سواروں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر اس کو یرغمال بنایا 1 کروڑ 25 لاکھ روپے گولڈ لوٹا 10 لاکھ روپے نقدی بھی چھین لی جمع پونجی سے محروم کر کے باآسانی فرار ہو گئے جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرہ جات کا ڈی وی آر بھی ساتھ لے گئے صدر بازار میں موجود دیگر دکانداروں کا کہنا ہے کہ صدر بازار کے بلکل فرنٹ پر سارا دن اور رات ٹریفک پولیس اور پیرا فورس دکانداروں کو جرمانے کرنے کے لئے موجود رہتی ہے اس کے باوجود ڈکیتی کی اتنی بڑی واردات سمجھ سے بالاتر ہے ڈی پی او حسن جاوید بھٹی نے موقع پر پہنچ کر جائے واردات کا معائنہ کیا اور ملزمان کو جلد گرفتار کر کے مال مسروقہ کی برآمدگی کی یقینی دہانی کرائی

*بریکنگ نیوز* فتحپور کے نواحی علاقے *چکنمبر 108 ایم ایل* میں نمبرداری الیکشن کی ووٹنگ اس وقت خونریز تصادم میں بدل گئی جب...
09/01/2026

*بریکنگ نیوز*
فتحپور کے نواحی علاقے *چکنمبر 108 ایم ایل* میں نمبرداری الیکشن کی ووٹنگ اس وقت خونریز تصادم میں بدل گئی جب دو مخالف گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہو گئیں۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ امن و امان مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گیا۔
واقعے کے دوران متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ اس افسوسناک تصادم کے نتیجے میں *ریٹائرڈ تحصیلدار مشتاق صاحب* جانبر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے

لیہ، کوٹ سلطان کی عوام سے ایک اور وعدہ پورا کوٹ سلطان کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا  ابادی اور موضع جات کا نوٹیفکی...
09/01/2026

لیہ، کوٹ سلطان کی عوام سے ایک اور وعدہ پورا
کوٹ سلطان کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا
ابادی اور موضع جات کا نوٹیفکیشن جاری

05/01/2026

*دلچسپ مطالعہ:*

نیویارک کے میئر … مسلمان
لندن کے میئر … مسلمان
برمنگھم کے میئر … مسلمان
لیڈز کے میئر … مسلمان
بلیک برن کے میئر … مسلمان
شیفیلڈ کے میئر … مسلمان
آکسفورڈ کے میئر … مسلمان
لوٹن کے میئر … مسلمان
اولڈہم کے میئر … مسلمان
روچڈیل کے میئر … مسلمان

برطانیہ کے تمام اسکولوں میں اب صرف حلال گوشت پیش کیا جاتا ہے! یہ سب کچھ صرف 66 ملین آبادی میں سے 4 ملین مسلمانوں نے حاصل کیا!!!

یہ واقعی آنکھیں کھول دینے والی بات ہے۔ حمزہ یکزئی نے اسلام کے بارے میں کئی مغربی فلاسفروں کے اقوال نقل کیے ہیں:

1۔ لیو ٹالسٹائی (1828–1910)
“اسلام ایک دن دنیا پر حکومت کرے گا، کیونکہ اس میں علم اور حکمت دونوں جمع ہیں۔”

2۔ ایچ جی ویلز (1846–1946)
“کتنی نسلوں کو ظلم اور تباہی جھیلنی پڑے گی یہاں تک کہ اسلام دوبارہ نافذ ہو؟ ایک دن پوری دنیا اس کی طرف متوجہ ہوگی، پھر امن ہوگا اور دنیا دوبارہ آباد ہوگی۔”

3۔ البرٹ آئن اسٹائن (1879–1955)
“میں سمجھتا ہوں کہ جو کام یہودی نہیں کر سکے، مسلمان اپنی ذہانت اور فطری بصیرت سے کرتے ہیں۔ اسلام میں وہ طاقت ہے جو امن کی طرف لے جاتی ہے۔”

4۔ ہیوسٹن اسمتھ (1919)
“اسلام وہ دین ہے جو آج ہمیں متاثر کرتا ہے اور دنیا میں ہم سے بہتر نظر آتا ہے۔ کاش ہم اپنے دل و دماغ اس کے لیے کھول دیں۔”

5۔ مائیکل نوسترادامس (1503–1566)
“اسلام یورپ کا غالب مذہب بنے گا، اور یورپ کا سب سے مشہور شہر اسلامی ریاست کا دارالحکومت بنے گا۔”

6۔ برٹرینڈ رسل (1872–1970)
“میں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور جانا کہ یہ پوری دنیا اور تمام انسانوں کا مذہب ہے۔ اسلام پورے یورپ میں پھیلے گا اور یورپ میں عظیم اسلامی مفکرین پیدا ہوں گے۔ ایک دن اسلام دنیا کے لیے اصل محرک بنے گا۔”

7۔ گستاو لی بان (1841–1931)
“اسلام صرف امن اور مفاہمت کی بات کرتا ہے۔ عیسائیوں کو اصلاحی ایمان کے ساتھ جینے کی دعوت دیتا ہے۔”

8۔ برنارڈ شا (1856–1950)
“ایک دن پوری دنیا اسلام کو قبول کرے گی، اور اگر اصل نام سے قبول نہ بھی کرے تو استعارے کے طور پر ضرور کرے گی۔ مغرب ایک دن اسلام کو قبول کرے گا، اور اسلام اہلِ علم کا مذہب بنے گا۔”

9۔ جوہان ولف گانگ گوئٹے (1749–1832)
“ہم سب کو جلد یا بدیر اسلام قبول کرنا ہوگا۔ یہی سچا دین ہے۔ اگر مجھے مسلمان کہا جائے تو مجھے برا نہیں لگتا، میں اسے درست سمجھتا ہوں۔”

الحمدللہ!!!

براہِ کرم اسے آگے شیئر کریں۔ دنیا کو بتائیں کہ یہ پیغام اُن مسلمانوں کے لیے امید ہے جو ظلم، تکالیف اور نظراندازی کا شکار ہیں۔
بس ایک کام کریں: اگر امتِ مسلمہ متحد اور نیک ہو جائے تو یہی کافی ہے۔ ان شاء اللہ

05/01/2026

*کیا چین اور روس وینزویلا کی عسکری مدد کر سکتے ہیں؟*

*حقیقت کیا ہے؟*

یہ بحث چھڑی رہتی ہے کہ چین یا روس نے وینزویلا کے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کی۔ کچھ لوگ اسے ان ممالک کی "اخلاقی شکست" قرار دیتے ہیں۔
لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

آئیے حقائق پر نظر ڈالتے ہیں:

1. فاصلہ اور فوجی طاقت (Power Projection)
جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ جنوبی امریکہ ان دونوں ممالک کی فوجی پہنچ سے بہت دور ہے:

چین سے وینزویلا:
تقریباً 13,000 کلومیٹر

روس سے وینزویلا: تقریباً 9,000 کلومیٹر۔

اتنے بڑے فاصلے پر جنگی بیڑے بھیجنا اور وہاں اپنی طاقت برقرار رکھنا عملی طور پر ناممکن ہے۔

چین اور روس کی جنوبی امریکہ میں کوئی مستقل فوجی موجودگی یا اڈے (Bases) نہیں ہیں،
اس لیے اسے "فوجی ناکامی" کہنا غلط ہے۔

2. امریکہ کے ساتھ طاقت کا فرق

وینزویلا اور امریکہ کی فوجی طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اگر چین وینزویلا کو مسلح کرنا چاہے تو اسے اپنا مکمل "نیٹ ورک سینٹرک کامبیٹ سسٹم"
(ایئر فورس، ایئر ڈیفنس اور ٹیکنالوجی)
وہاں منتقل کرنا پڑے گا، جو کہ ایک ناممکن مشن ہے۔

3. تربیت اور سیاسی خطرات

جدید ترین جنگی نظام سکھانے میں کم از کم ایک دہائی (10 سال) لگ سکتے ہیں۔
اس طویل عرصے میں اگر وینزویلا میں حکومت بدل گئی اور کوئی "امریکہ نواز" صدر آ گیا،
تو چین کی تمام حساس ٹیکنالوجی براہِ راست امریکہ کے ہاتھ لگ جائے گی۔
یہ ایک بہت بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔

نتیجہ:
جیو پولیٹکس
(Geopolitics) جذبات کا نہیں بلکہ زمینی حقائق اور طاقت کے توازن کا نام ہے۔
جو چیز فاصلے اور لاجسٹکس کے لحاظ سے ممکن نہ ہو، اسے "بے بسی" نہیں بلکہ "حکمتِ عملی" کہا جاتا ہے۔

05/01/2026

تعلیم اور ہمارے نمائندے: ایک خاموش مجرمانہ غفلت

میں جب بھی لکھتا ہوں تو اعداد و شمار کا سہارا لیتا ہوں۔ میں کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو کل کو غلط ثابت ہو جائے۔ جذبات اپنی جگہ، لیکن حقائق کے بغیر بات محض شور بن کر رہ جاتی ہے۔
چند دن قبل لیہ کے سرکاری کالجوں کے دسمبر ٹیسٹ کی رپورٹ میرے سامنے آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق فرسٹ ایئر میں 9288 اور سیکنڈ ایئر میں 9134 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، یوں یہ مجموعی تعداد 18422 بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف سرکاری کالجوں کے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ کالجوں کے طلبہ و طالبات بھی ہیں، جن کی درست تعداد کا مجھے علم نہیں۔ اگر پرائیویٹ کالجوں، دیگر تعلیمی اداروں اور ٹیکنیکل کالجوں کے طلبہ و طالبات کو بھی شامل کیا جائے تو محتاط اندازے کے مطابق اس وقت لیہ میں کوئی 40 ہزار کے قریب نوجوان ایف ایس سی، آئی سی ایس، ایف اے یا ان کے مساوی پروگرامز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بظاہر خوشی کا باعث ہیں۔ دل خوش ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم کی طرف آ رہے ہیں، لیکن اصل المیہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
جب یہی طلبہ و طالبات ہائر ایجوکیشن کی طرف بڑھتے ہیں تو ان میں سے صرف 20 فیصد آگے جا پاتے ہیں، جبکہ باقی 80 فیصد وہیں رک جاتے ہیں۔ وجہ صلاحیت کی کمی نہیں، محنت کی کمی نہیں، بلکہ وسائل کی کمی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان اسی فیصد میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو ان بیس فیصد سے زیادہ قابل، زیادہ محنتی اور زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں، مگر غربت، بے روزگاری اور ریاستی بے حسی ان کا راستہ روک لیتی ہے۔ اس کا نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں اور پورے ملک کا ہوتا ہے۔
پھر ہم بڑے فخر سے خواندگی کی شرح کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ان تمام نوجوانوں کو شمار میں شامل کر کے کہا جاتا ہے کہ فلاں ضلع پڑھا لکھا ہے، فلاں صوبہ آگے ہے۔ لیکن کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ وہ نوجوان کہاں گئے جو کالج کی دہلیز سے آگے نہ جا سکے؟ وہ خواب کہاں دفن ہوئے جو یونیورسٹی تک پہنچنے سے پہلے ہی وسائل کی قبر میں اتر گئے؟
آج پاکستان کی 51 فیصد آبادی بیس سال سے کم عمر ہے۔ یہ ملک کا مستقبل ہے، اصل سرمایہ ہے، سب کچھ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان اس مستقبل پر بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ کوئی کہتا ہے خیبر پختونخوا کی حکومت نے یہ کیا، کوئی کہتا ہے پنجاب والے سب بجٹ کھا گئے۔ اسمبلیوں سے لے کر جلسوں تک، ہر جگہ ماضی کا رونا اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں۔ کسی کے پاس یہ بتانے کا وقت نہیں کہ ان لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے آگے کا راستہ کیا ہے۔
ہمارا میڈیا بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں گھنٹوں چیخ و پکار ہوتی ہے، سیاست دانوں کی لڑائیاں دکھائی جاتی ہیں، مگر تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل پر سنجیدہ گفتگو نایاب ہے۔ اینکرز بھی ریٹنگ کی دوڑ میں وہی سوال اٹھاتے ہیں جو تماشہ بنائیں، حل نہیں۔ اس شور میں اصل مسائل دب کر رہ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی حالات مختلف نہیں۔ دو چار ان پڑھ یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر خود تو پیسے کما رہے ہیں، مگر ہماری نوجوان نسل کو غیر سنجیدگی، نفرت اور سطحی سوچ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ نہ علم، نہ تحقیق، نہ ذمہ داری—بس ویوز اور لائکس کا کھیل۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے انہی کو اپنا فکری رہنما بنا لیا ہے۔
جب قوم خود سنجیدہ نہ ہو، اور نمائندے، میڈیا اور سوشل میڈیا سب مل کر تماشہ لگائیں، تو پھر اللہ پاک بھی ہمیں دیکھ کر ہمارے اوپر ایسے ہی حکمران مسلط کر دیتا ہے۔
ہم، پڑھے لکھے اور باشعور نوجوان، یہ واضح پیغام دیتے ہیں:
ہم اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہیں، اپنے خوابوں کے لیے لڑ رہے ہیں، اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس علم، شعور اور صلاحیت ہے۔ ہم اسے صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں اور اس ملک کے لیے استعمال کریں گے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے نمائندے، سیاست دان، میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرورسوخ رکھنے والے افراد ہمارے مستقبل کو نظر انداز نہ کریں۔ ہم اپنے خواب، اپنی محنت اور اپنی قابلیت کے حق میں فیصلہ کرنے کا حق چاہتے ہیں۔ اگر آج ہمیں نظرانداز کیا گیا تو کل ہمارے فیصلے خود کیے جائیں گے، اور اس کا ذمہ دار صرف وہ لوگ ہوں گے جو آج ہمارے حق میں آواز بلند کرنے سے کتراتے ہیں۔
اور یاد رکھیں: ہمیں دبایا جا سکتا ہے، نظرانداز کیا جا سکتا ہے، مگر ہمارے خواب اور ہماری آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج ہم بولتے ہیں، کل ہم فیصلہ کریں گے، اور ہمارے فیصلے تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر لکھے جائیں گے۔

31/12/2025

امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے۔
چین پر 15 ٹریلین ڈالر۔
جاپان پر 10 ٹریلین ڈالر۔
جرمنی پر 3 ٹریلین ڈالر۔
برطانیہ پر 3 ٹریلین ڈالر۔
فرانس پر 3.5 ٹریلین ڈالر۔

زمین پر تقریباً ہر بڑی ریاست قرض میں ڈوبی ہوئی ہے۔
عالمی قرضہ مجموعی طور پر 317 ٹریلین ڈالر ہے۔
317 ٹریلین ڈالر۔

یہ رقم عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 330 فیصد کے برابر ہے۔
دنیا میں جتنی بھی سالانہ پیداوار ہوتی ہے، وہ کل قرض کے برابر بھی نہیں بنتی۔
اگر پوری دنیا تین سال تک کچھ بھی خرچ نہ کرے تو تب جا کر یہ قرض ادا ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھتا۔
اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟
اگر دنیا پر 317 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو پھر 317 ٹریلین ڈالر کے اثاثے کس کے پاس ہیں؟
جب دنیا کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کی ذمہ داریاں ہیں تو وہ اثاثے کس نے رکھے ہوئے ہیں؟

قرض ایک صفر جمع صفر کا کھیل ہے۔
ہر قرض لینے والے کے مقابلے میں ایک قرض دینے والا ہوتا ہے۔
اگر امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو کسی کے پاس امریکہ کے خلاف 36 ٹریلین ڈالر کے دعوے موجود ہیں۔
اگر عالمی قرض 317 ٹریلین ڈالر ہے تو کسی کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثے ضرور ہیں۔

وہ کون ہے؟

اس سوال کا جواب انسانی تاریخ کے سب سے بڑے دولت کے ارتکاز کے نظام کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نہ جنگ کے ذریعے ہوا، نہ چوری سے،
بلکہ ایک ایسے نظام کے ذریعے جہاں اکثریت قرض لیتی ہے اور اقلیت قرض دیتی ہے،
جہاں سود ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے،
اور جہاں قرض ریاضیاتی طور پر کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا،
لہٰذا وہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور دولت کو اوپر کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔

یہاں ہم بتائیں گے کہ اصل میں 317 ٹریلین ڈالر کا عالمی قرض کس کے پاس ہے،
یہ نظام کیسے قرض تو پیدا کرتا ہے مگر اسے ادا کرنے کے لیے پیسہ پیدا نہیں کرتا،
یہ حادثہ نہیں بلکہ دانستہ ڈیزائن کیوں ہے،
کون سے مخصوص ادارے اور افراد دائمی قرض سے فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور یہ نظام آخرکار کیوں لازماً ٹوٹے گا۔

اس کو سمجھنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں ہے،
بلکہ یہ دیکھنے کا معاملہ ہے کہ عالمی قرض کا نظام کس طرح دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹتا ہے،
اور اس ارتکاز کو قدرتی اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے کہ ہم بتائیں کہ قرض کس کے پاس ہے،
آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید نظام میں قرض اصل میں ہوتا کیا ہے۔

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض ذاتی ادھار کی طرح کام کرتا ہے۔
آپ بینک سے 10 ہزار ڈالر لیتے ہیں۔
بینک کے پاس پہلے سے 10 ہزار ڈالر ہوتے ہیں جو وہ آپ کو دے دیتا ہے۔
جب آپ واپس کرتے ہیں تو بینک کو اس کے 10 ہزار ڈالر اور اس پر سود مل جاتا ہے۔

جدید مالی نظام اس طرح کام نہیں کرتا۔

جب کوئی حکومت بینک سے 10 ہزار ڈالر قرض لیتی ہے تو بینک کو اصل رقم اور سود واپس ملتا ہے،
لیکن جب حکومت بانڈ جاری کر کے قرض لیتی ہے تو پیسہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا۔

قرض لینے کا عمل ہی پیسہ پیدا کرتا ہے۔

مرکزی بینک یا کمرشل بینک حکومتی بانڈ خریدتے ہیں
اور یہ رقم محض کھاتوں میں اندراج کے ذریعے، یعنی ہوا سے، پیدا کی جاتی ہے۔

امریکی حکومت کو ایک ٹریلین ڈالر چاہئیں۔
وہ ٹریژری بانڈ جاری کرتی ہے۔
فیڈرل ریزرو اعلان کرتا ہے کہ وہ 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدے گا۔
کمرشل بینک باقی 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کو یہ 500 ارب ڈالر کہاں سے ملتے ہیں؟
یہ اس کے پاس ہوتے ہی نہیں۔
وہ کمپیوٹر میں نمبر ٹائپ کر کے یہ پیسہ بنا لیتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے بیلنس شیٹ میں 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
لیکن صرف اصل رقم پیدا کی جاتی ہے۔
سود پیدا نہیں کیا جاتا۔

اگر حکومت ایک ٹریلین ڈالر 5 فیصد سود پر قرض لیتی ہے
تو اسے ایک ٹریلین کے علاوہ ہر سال 50 ارب ڈالر سود بھی دینا ہوگا۔
لیکن نظام میں صرف ایک ٹریلین ڈالر پیدا ہوئے تھے۔

یہ 50 ارب کہاں سے آئیں گے؟
یا تو مستقبل میں مزید قرض لے کر،
یا پھر موجودہ رقم پر ٹیکس لگا کر۔

یہ ایک ریاضیاتی جال ہے۔
کل قرض ہمیشہ کل رقم سے زیادہ ہوتا ہے
کیونکہ قرض پر سود واجب الادا ہوتا ہے مگر وہ رقم کبھی پیدا ہی نہیں کی جاتی۔

اس نظام کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل نئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے
تاکہ پرانے قرض کا سود ادا ہو سکے۔

یہ خرابی نہیں ہے۔
یہی اس کا ڈیزائن ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ قرض آخرکار کس کے پاس ہے۔

جواب چار بڑی اقسام میں ہے۔

پہلی: مرکزی بینک۔
دوسری: ادارہ جاتی سرمایہ کار۔
تیسری: غیر ملکی حکومتیں۔
چوتھی: انتہائی امیر افراد۔

پہلی قسم: مرکزی بینک۔

فیڈرل ریزرو کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا امریکی حکومتی قرض ہے۔
بینک آف جاپان کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا جاپانی قرض ہے۔
یورپی مرکزی بینک کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا یورپی قرض ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا کے پاس تقریباً 3 ٹریلین ڈالر ہیں۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک مجموعی طور پر تقریباً 25 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتے ہیں۔
یہ کل 317 ٹریلین ڈالر کے قرض کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔

لیکن یہی بنیاد ہے،
کیونکہ مرکزی بینک حکومتوں کو ٹیکس سے زیادہ خرچ کرنے کے قابل بناتے ہیں
بانڈ خرید کر اور پیسہ پیدا کر کے۔

اب سوال یہ ہے کہ مرکزی بینکوں کا مالک کون ہے؟

فیڈرل ریزرو حکومت کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ ایک نجی ادارہ ہے جس کی ملکیت اس کے رکن کمرشل بینکوں کے پاس ہے۔
امریکہ کے 12 علاقائی فیڈرل ریزرو بینک
اپنے رکن بینکوں کو حصص جاری کرتے ہیں۔

جے پی مورگن چیس، بینک آف امریکہ، سٹی بینک،
ویلز فارگو
فیڈرل ریزرو کے ان حصص پر سالانہ 6 فیصد منافع وصول کرتے ہیں۔

جب فیڈرل ریزرو 5 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتا ہے
اور ان پر سود وصول کرتا ہے،
تو یہ سود بالآخر انہی نجی بینکوں تک پہنچتا ہے
جو فیڈرل ریزرو کے مالک ہیں۔

عوام سمجھتی ہے کہ فیڈرل ریزرو حکومت کا حصہ ہے۔
ایسا نہیں ہے۔

یہ 1913 میں بنایا گیا ایک نجی بینکاری نظام ہے
تاکہ نجی بینک حکومتی قرض سے منافع کما سکیں۔

بینک آف انگلینڈ، جو 1694 میں قائم ہوا،

لیہ (عظیم اعوان  ) لیہ پولیس کی معیاری تفتیش کی بدولت  کم سن بچی سے نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کو 14 سال قید با مشقت او...
11/12/2025

لیہ (عظیم اعوان ) لیہ پولیس کی معیاری تفتیش کی بدولت کم سن بچی سے نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کو 14 سال قید با مشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ،تھانہ چوبارہ پولیس نے ملزم کومجرم ثابت کرنے کےلئے مقدمہ کے ٹھوس دلائل عدالت پیش کیے ،ملزم زین نے سکول طالبہ کم سن بچی کو اکیلا پا کر چھیڑ چھاڑ اور نازیبا حرکات کی تھی ،اطلاع پر تھانہ چوبارہ پولیس نے فوری کاروائی عمل میں لائی ،ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے معیاری تفتیش عمل میں لائی ۔

محترمہ ڈپٹی کمشنر ل صاحبہ لیہ       گذارش ہے کہ آج تحصیل آفس لیہ کے اے سی آفس روڈ پر تجاوزات کی بابت آپریشن کیا گیااور ت...
16/10/2025

محترمہ ڈپٹی کمشنر ل صاحبہ لیہ گذارش ہے کہ آج تحصیل آفس لیہ کے اے سی آفس روڈ پر تجاوزات کی بابت آپریشن کیا گیااور تحصیل آفس لیہ میں کام کرنے والے رجسترڈ اسٹام فروشان کی 8سے 10 دوکانات اور تھڑوں کو بھی گرایا گیا حالانکہ اسٹام فروش احاطہ تحصیل آفس لیہ میں کام کرنے کے پابند اور روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے جنریٹ کر کے گورنمنٹ آف پنجاب کے اکاونٹ میں جمع کرتے ہیں اور یہ اسٹام گورنمنٹ دفاتر اور عدلیہ میں کیسوں میں استعمال ہوتے ہیں جناب عالی اگر اسٹام فروش کے پاس جگہ بجلی اور کمپیوٹر پرنٹر رکھنے کی احاطہ تحصیل آفس میں جگہ نہیں ہوگی تو وہ کام کیسے کریں گے۔کیونکہ وہ تو کام باہر نہیں کر سکتے۔ جناب عالیہ سابقہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر نے ان اسٹام فرشوں کو یہ جگہ دی اور محکمہ ریونیو فیلڈ عملہ سے ۔مکمل رپورٹ کرا کے سب کو بٹھایا اور ہمیں پابند کیا کہ بمطابق گورنمنٹ پالیسی آپ اس کا کرایہ ادا کریں اور ہم سے بیان حلفی لیےاور مفصل رپورٹ فائل دفتر مجاز میں موجود ہے اور ہم اس بابت حکم کے منتظر ہیں کہ آج پھر آپ کے حکم پر چیمبر برقی تنصیبات اور انٹرنٹ کنکشن مسمار کر دیے گئے۔ حضور والا ہم گورنمنٹ کا لائسنس لیکر بھی کہاں بیٹھ کر کام کریں تاکہ گورنمنٹ کا ریونیو عوامی خدمت اور بچوں کی روزی کر سکیں مہربانی کرکے اسٹام فرشوں کے لیے جگہ کا تعین کریں ہم اس کا ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عین نوازش ہوگی۔ العارض محمد عظیم خا ن جنرل سیکرٹری اسٹام فروش یونین لیہ و دیگر اسٹام فروشان لیہ 03008768884

Address

Dera Azeem Awan 6km Chock Azam Road Near Mian Bahadur More Layyah
Layyah
31200

Telephone

+923008768884

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shan-e-layyah News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shan-e-layyah News:

Share