28/07/2026
بنوں کے غیور اور باشعور عوام اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اور انتظامیہ، بالخصوص محکمۂ پو-لیس کے درمیان لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں۔ گلے شکوے اور ماضی کی کوتاہیاں اپنی جگہ، اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کو بعض اوقات مشکلات میں دھکیلنے میں کچھ خامیاں ضرور رہی ہیں۔ لیکن جب بات ہمارے پیارے 'بنوں گل' کے امن، ہماری ماؤں بہنوں کے سکون اور ہماری بقا کی آ جائے، تو ہر خفگی کو پسِ پشت ڈالنا ہی حقیقی دانشمندی ہے۔
موجودہ کٹھن اور حساس حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سب ذاتی رنجشوں اور گلے شکووں سے بالاتر ہو کر امن کمیٹی اور اپنے اداروں کا شانہ بشانہ ساتھ دیں۔ حالیہ دنوں میں بنوں کے بہادر نوجوانوں، پو-لیس اور امن کمیٹی کے جانبازوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ جب عوام یکجان ہو کر اپنے دش-من کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں، تو بدا-منی اور ف-ساد پھیلانے والوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے اس مضبوط اتحاد کی گونج اس قدر توانا ہے کہ علاقے کا امن خراب کرنے والے مس-لح افراد اور شر-پسند عناصر اب خوفزدہ ہو کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ خا-نہ جن-گی اور قت-ل و غارت کسی کے مفاد میں نہیں۔ ہمارا اصل دش-من ہماری صفوں میں موجود دراڑوں کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ آج کا یہ اتحاد اور امن کمیٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارے روشن اور پرامن کل کی ضمانت ہے۔
عوام سے سوال:
اے بنوں کے باضمیر عوام! کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اپنے شہر کو شر-پسندی اور بدا-منی کی آگ سے مستقل بچانے کے لیے ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر ایک سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا؟ اس نازک صورتحال میں آپ کا اپنا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی حقیقت پسندانہ رائے کا اظہار ضرور کریں۔