BannuZai News

BannuZai News On the ground. In the moment. For the people.

28/07/2026

حاجی صمد لالا کی دل۔چیر لینے والی بیان۔

#صمدلالا #پختون #بنوں #بنوگل #

بنوں کے غیور اور باشعور عوام اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اور انتظامیہ، بالخصوص محکمۂ پو-لیس کے درمیان لاکھ ا...
28/07/2026

بنوں کے غیور اور باشعور عوام اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اور انتظامیہ، بالخصوص محکمۂ پو-لیس کے درمیان لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں۔ گلے شکوے اور ماضی کی کوتاہیاں اپنی جگہ، اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کو بعض اوقات مشکلات میں دھکیلنے میں کچھ خامیاں ضرور رہی ہیں۔ لیکن جب بات ہمارے پیارے 'بنوں گل' کے امن، ہماری ماؤں بہنوں کے سکون اور ہماری بقا کی آ جائے، تو ہر خفگی کو پسِ پشت ڈالنا ہی حقیقی دانشمندی ہے۔

موجودہ کٹھن اور حساس حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سب ذاتی رنجشوں اور گلے شکووں سے بالاتر ہو کر امن کمیٹی اور اپنے اداروں کا شانہ بشانہ ساتھ دیں۔ حالیہ دنوں میں بنوں کے بہادر نوجوانوں، پو-لیس اور امن کمیٹی کے جانبازوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ جب عوام یکجان ہو کر اپنے دش-من کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں، تو بدا-منی اور ف-ساد پھیلانے والوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے اس مضبوط اتحاد کی گونج اس قدر توانا ہے کہ علاقے کا امن خراب کرنے والے مس-لح افراد اور شر-پسند عناصر اب خوفزدہ ہو کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ خا-نہ جن-گی اور قت-ل و غارت کسی کے مفاد میں نہیں۔ ہمارا اصل دش-من ہماری صفوں میں موجود دراڑوں کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ آج کا یہ اتحاد اور امن کمیٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارے روشن اور پرامن کل کی ضمانت ہے۔

عوام سے سوال:
اے بنوں کے باضمیر عوام! کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اپنے شہر کو شر-پسندی اور بدا-منی کی آگ سے مستقل بچانے کے لیے ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر ایک سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا؟ اس نازک صورتحال میں آپ کا اپنا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی حقیقت پسندانہ رائے کا اظہار ضرور کریں۔

بنوں کی مٹی ایک بار پھر شدید آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ امن کی فاختہ بار بار ہمارے شہر سے روٹھ جاتی ہے، اور ہمارے عوام...
17/07/2026

بنوں کی مٹی ایک بار پھر شدید آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ امن کی فاختہ بار بار ہمارے شہر سے روٹھ جاتی ہے، اور ہمارے عوام کا سکون ایک بار پھر نامعلوم خوف اور بدا-منی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ حالیہ دلخراش خ-ودکش حم-لے کے بعد بنوں اور اس کے گردونواح کی فضا سوگوار بھی ہے اور انتہائی کشیدہ بھی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، بنوں اور ملحقہ علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران 24 دہش-تگردوں کو ہ-لاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فورسز نے تصدیق کی ہے کہ ان ہ-لاک ہونے والے عناصر کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

​یہ کار-روائیاں خاص طور پر ان عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں جو حالیہ خ-ودکش حم-لے کے ذمہ دار بتائے جاتے ہیں۔ اس انتہائی حساس صورتحال کے پیشِ نظر علاقے میں کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تاحال جاری ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس نے لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطے اور روزمرہ کے کاموں میں شدید کرب اور مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

اے بنوں کے باشعور اور غیور عوام! ہم نے ہمیشہ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور امن کی خواہش کو زندہ رکھا ہے۔ اس کڑے وقت میں جب رابطے منقطع ہیں اور ہر طرف غیر یقینی کی فضا ہے، آپ کے علاقے کی موجودہ زمینی صورتحال کیا ہے اور آپ بنوں میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے کیا قدم ضروری سمجھتے ہیں؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں، کیونکہ آپ کی آواز ہی اس شہر کی اصل طاقت ہے۔

سوشل میڈیا، عوامی بیٹھکوں اور بنوں کے گلی کوچوں میں اس وقت ایک ہی افواہ گردش کر رہی ہے کہ علاقے میں موبائل نیٹ ورک اور ا...
16/07/2026

سوشل میڈیا، عوامی بیٹھکوں اور بنوں کے گلی کوچوں میں اس وقت ایک ہی افواہ گردش کر رہی ہے کہ علاقے میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کی جا رہی ہے۔ یہ محض افواہیں ہیں یا کوئی تلخ حقیقت، اس بے یقینی نے پہلے سے ہی مشکلات کے گرداب میں پھنسے عوام کے اندر شدید بے چینی اور کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

اس صورتحال میں بنوں کے ہر باشعور شہری کا ایک انتہائی جائز اور منطقی موقف سامنے آ رہا ہے۔ جب بھی بدا-منی اور خ-دشات کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلا کلہاڑا عام شہری کی سہولیات پر کیوں چلایا جاتا ہے؟ اگر مقتدر حلقوں کا مقصد واقعی قیامِ امن، دہش-تگردی کی جڑیں کاٹنا اور مس-لح افراد کے مواصلاتی نیٹ ورکس کو توڑنا ہے، تو پھر ان مخصوص اور نشاندہی شدہ علاقوں کے سگنلز کیوں بلیک آؤٹ نہیں کیے جاتے جہاں سے یہ عناصر اپنے مذموم مقاصد کنٹرول کرتے ہیں؟

پورے ضلعے کا انٹرنیٹ اور رابطہ منقطع کر کے طلباء، آئی ٹی پروفیشنلز اور آن لائن روزگار سے وابستہ نوجوانوں کا معاشی ق-تل کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ اگر انٹیلی جنس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ کار-روائی کی جائے اور صرف مطلوبہ جگہوں کے سگنل جام کیے جائیں، تو اس سے نہ صرف عوام اور مقامی پولیس کا ریاستی اداروں پر اعتماد بڑھے گا، بلکہ امن کے حقیقی مقاصد بھی حاصل ہوں گے۔ لیکن اگر اندھا دھند پورے نظام کو مفلوج کیا جاتا ہے، تو پھر عوام کا یہ سوچنا بالکل بجا ہے کہ "دال میں کچھ کالا ہے"۔

محترم بنوزئیوں! آپ کی دور اندیش نگاہوں میں ان حالیہ افواہوں اور انٹرنیٹ کی ممکنہ بندش کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟ کیا پورے ضلع کا نیٹ ورک بند کرنا واقعی امن کی ضمانت ہے یا یہ محض ہمیں اندھیرے میں رکھنے کی کوئی نئی حکمتِ عملی ہے؟ اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں، آپ کی آواز اہمیت رکھتی ہے۔

شکوہ رات کے اندھیرے کا نہیں۔۔۔ دکھ تو سوئے ہوئے سیاسی ضمیر فروشوں کا ہے! جب اپنی مٹی کے لیے جان کی بازی لگانے کا وقت آتا...
15/07/2026

شکوہ رات کے اندھیرے کا نہیں۔۔۔ دکھ تو سوئے ہوئے سیاسی ضمیر فروشوں کا ہے! جب اپنی مٹی کے لیے جان کی بازی لگانے کا وقت آتا ہے تو چند سرپھرے آگے ہوتے ہیں، لیکن جب تصویریں کھنچوانے اور کریڈٹ لینے کی باری آتی ہے تو یہ سیاسی دکاندار سب سے آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔

بنوں کے باشعور عوام ایک بار پھر منافقت کی بدترین تاریخ رقم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ انتہائی دکھ اور تکلیف کا مقام ہے کہ جو بہادر سپوت اپنی قوم کے حقوق اور امن کے لیے بغیر کسی لالچ کے بے پناہ قربانیاں دیتے ہیں، انہیں ریاست کی جانب سے جھوٹے الزا-مات اور مق-دمات کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسری جانب ہمارے وہ سیاسی مشران—جن میں اکرم خان درانی، زاہد اکرم درانی اور مولانا نسیم علی شاہ جیسے نام شامل ہیں—صرف اس وقت میدان میں آتے ہیں جب ملک راحت خان جیسی شخصیات کی قربانیوں کا کریڈٹ لوٹنا ہو۔

لیکن جب اسی ملک راحت خان ایڈوکیٹ پر کڑا وقت آیا اور ان پر بے بنیاد الزا-مات لگائے گئے، تو یہ تمام نام نہاد سیاسی رہنما میدان چھوڑ کر ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ یہ سیاسی منافقت اور بے حسی کی وہ انتہا ہے جسے بنوں کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

​تاہم، ملک راحت خان نے ان حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور حق کی ج-نگ قانونی محاذ پر لڑنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کی مصدقہ دستاویزات کے مطابق، انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری کے خلاف باقاعدہ رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔

- ​یہ پٹیشن 13 جولائی 2026 کو جمع کرائی گئی ہے۔
- ​اس قانونی کار-روائی کو 14 جولائی 2026 کے لیے پشاور ہائی کورٹ کی کاز لسٹ (W.P 5390/2026) میں شامل کر لیا گیا ہے۔
- ​یہ مقدمہ ان کے وکیل ملک ذیشان خان کی وساطت سے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بنوں کے غیور اور باشعور عوام سے میرا آج ایک سیدھا اور کڑوا سوال ہے: کیا ہم یونہی اپنے حقیقی محسنوں کو کڑے وقت میں تنہا چھوڑ کر ان مفاد پرست سیاستدانوں کے کھوکھلے نعروں کا ایندھن بنتے رہیں گے؟ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم پہچانیں کہ ہمارا حقیقی ہمدرد کون ہے اور ہمارا سودا کرنے والا کون؟ اپنا فیصلہ کمنٹس میں ضرور سنائیں!

Malik Rahat Khan Adv Afridi Ismail Khel Akram Khan Durrani Deputy Commissioner Bannu بنوں پولیس امن کمیٹی جانباز Bannu News

انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔ بنوں کا ایک اور چمکتا ہوا ستارہ، ایک اور لختِ جگر ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔ انتہائی گہرے...
14/07/2026

انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔ بنوں کا ایک اور چمکتا ہوا ستارہ، ایک اور لختِ جگر ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔ انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کے ساتھ یہ لرزہ خیز خبر شیئر کی جا رہی ہے کہ مغاز علی شاہ ولد ریاض علی شاہ ایک ہولناک روڈ ایکسیڈنٹ میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔ اس اچانک موت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حادثات کی بے رحم لہر نے ایک اور ہنستے کھیلتے گھرانے کے چراغ کو گل کر دیا ہے۔ مرحوم مغاز علی شاہ کے پسماندگان پر اس وقت جو قیامت ٹوٹ رہی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بروز منگل، 14 جولائی 2026ء کو صبح ٹھیک 9:00 بجے اخوندان اسماعیل خیل میں ادا کی جائے گی۔ نیاز علی شاہ اور ماسٹر فرمان علی شاہ سمیت تمام سوگواران نے تمام عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ سے نمازِ جنازہ میں شرکت اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغ-فرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ سہنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

عوام سے سوال:
بنوں کے غیور اور باشعور عوام! روز بروز بڑھتے ہوئے یہ خونی روڈ حادثات ہماری نوجوان نسل کو ہم سے چھین رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ان بڑھتے ہوئے حادثات کی اصل وجہ کیا ہے—بے ہنگم ٹریفک، سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت یا ہماری اپنی لاپرواہی؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور مرحوم کے لیے دعائے مغ-فرت ضرور لکھیں۔

کیا ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یا اپنے ہی بچوں کو تکلیف میں دھکیلنے والی؟ بنوں کے حالات دیکھ کر یہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ...
10/07/2026

کیا ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یا اپنے ہی بچوں کو تکلیف میں دھکیلنے والی؟ بنوں کے حالات دیکھ کر یہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔ جہاں اعوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے خود اپنی تحفظ کے لیے اعوام کو ذلیل کر رہے ہیں۔

اداروں کا کام اعوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ سیکیورٹی کے نام پر ان کا جینا محال کرنا۔ بنوں کے مین بازار، پولیس لائن کے پاس مین روڈ، امن کمیٹی سے وعدے کے باوجود، کنسٹرکشن کرکے دکانیں بنائی گئیں اور ایک اور سیکیورٹی لیئر کھڑا کر دیا گیا۔ اب صرف کچھ گھنٹوں کے لیے روڈ کھولا جاتا ہے، جس سے اعوام کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہیں۔

مشران کے وعدے کہاں گئے؟:
بنوں کے معزز مشران نے بدامنی اور بند راستوں کے مسائل پر بار بار سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور امن کا مطالبہ کیا۔ ریاست نے انہیں چپ کرانے کے لیے بار بار سڑکیں کھولنے کے وعدے کیے، لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ ایسا لگتا ہے کہ اعوام کو غلام سمجھا جا رہا ہے۔

پولیس کے اپنی تحفظ کے اقدامات سے پوری اعوام کو چوک بازار کی تنگ گلی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ جہاں گھنٹوں رش کی وجہ سے اعوام ذلیل و خوار ہوتی ہے۔ کیا یہی وہ انصاف اور سہولیات ہیں جو ایک اسلامی ریاست اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہے؟

ہم ضلعی انتظامیہ، ڈی سی بنوں، بنوں پولیس امن کمیٹی جانباز ، ڈی پی او اور ڈی آئی جی بنوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لیے اعوام کے ساتھ انصاف کا مظاہرہ کریں اور اس مسئلہ کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔ اعوام نے ہمیشہ ریاست کا پھرپور ساتھ دیا ہے، مہربانی کریں انہیں تکالیف میں نہ دھکیلیں۔

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ بنوں کی یہ سسکتی ہوئی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچ سکے۔ کمنٹ باکس میں اپنی رائے کا اظہار کریں: کیا آپ کو لگتا ہے کہ انتظامیہ بنوں کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے؟

بنوں کے علاقے منڈان سے چند ہفتے قبل اغ-وا ہونے والے نوجوان اسامہ کی بحفاظت واپسی، فیملی اور مشران کے سامنے اب عوامی سوال...
07/07/2026

بنوں کے علاقے منڈان سے چند ہفتے قبل اغ-وا ہونے والے نوجوان اسامہ کی بحفاظت واپسی، فیملی اور مشران کے سامنے اب عوامی سوالات کا پہاڑ!

بنوں کی غیور عوام اور بنوزئی نیوز کے ناظرین! ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کہ منڈان کے رہائشی نوجوان اسامہ، جنہیں کچھ ہفتے قبل نامعلوم افراد نے اغ-وا کر لیا تھا، بحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔ اسامہ کی واپسی پر جہاں ان کے اہلخانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، وہاں اب کچھ اہم اور سنجیدہ سوالات نے بھی جنم لے لیا ہے جن کا جواب ملنا باقی ہے۔

: اسامہ سکنہ منڈان کو چند ہفتے قبل پراسرار طریقے سے اغ-وا کیا گیا تھا، جس کے بعد پورے علاقے میں تشویش پھیل گئی تھی۔

واقعے کے بعد منڈان کے مشران اور عمائدین نے سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور انتظامیہ کو سخت ڈیڈ لائنز دی تھیں۔ مشران نے اس مقدمے کو عوامی احتجاج کی شکل دی تھی، اس لیے اب بنوں کی عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ انہیں حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ اسامہ کو کس نے اغ-وا کیا تھا؟ وہ کون لوگ تھے؟ اغ-وا کے پیچھے کیا وجوہات تھیں؟ اور ان کی رہائی کیسے ممکن ہوئی؟ کیا کوئی ڈیل ہوئی یا قانون حرکت میں آیا؟

منڈان مشران، اسامہ اور ان کے خاندان پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور ان تمام مبہم سوالات پر پریس کانفرنس یا سوشل میڈیا کے ذریعے بنوں کی عوام کو مکمل وضاحت فراہم کریں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا مشران اور اسامہ کے خاندان کو عوام کے سامنے ان حقائق کو کھول کر رکھنا چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔

بنوں کا کڑا امتحان: اقتدار کی سیاست یا عوام کی بے لوث خدمت؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں!آج بنوں کے باشعور عوام کے سامنے دو مختل...
07/07/2026

بنوں کا کڑا امتحان: اقتدار کی سیاست یا عوام کی بے لوث خدمت؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں!

آج بنوں کے باشعور عوام کے سامنے دو مختلف کرداروں کا واضح موازنہ ہے، جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں بنوں کی تاریخ اور عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہماری آزادی صحافت کا اصل مقصد عوام کی حقیقی آواز کو سامنے لانا ہے۔

یہ مقابلہ کسی ذاتی عناد کا نہیں، بلکہ دو مختلف نظریات کا ہے:

سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی: ایک ایسی شخصیت جنہیں بنوں کے عوام نے اپنے قیمتی ووٹوں سے نواز کر اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچایا۔ لیکن عوام کا گلہ ہے کہ جب حالیہ انتخابات میں نتائج ان کی مرضی کے خلاف آئے، تو مبینہ طور پر عوام سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کے ع-ذ-ا-ب اور گرڈ اسٹیشن کے مصنوعی مسائل کا سارا کریڈٹ لینے کے لیے سوشل میڈیا پر پروپیگ-نڈہ مہم چلائی گئی، جبکہ حقیقت میں پرانا ٹرانسفارمر ہی کام کر رہا تھا۔

ملک راحت خان ایڈوکیٹ (بابائے بجلی): دوسری جانب بنوں کا وہ بہادر اور بے لوث سپوت، جس نے بغیر کسی لالچ کے عوام کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ واپڈا حکام اور ریاستی دبا-ؤ کی سختیاں برداشت کیں، لیکن کبھی ہار نہیں مانی۔ افسوس کہ سیاسی منا-فقت اور جھوٹے الزامات سے دلبرداشتہ ہو کر انہیں میدان چھوڑنا پڑا، جو کہ بنوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

سوچنے کا مقام: کیا مشکل وقت میں عوام کو تنہا چھوڑ دینا اور ان کے حقوق سے محر-وم کرنا درست ہے؟ کیا بنوں کے عوام اب اتنے باشعور نہیں کہ وہ حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کر سکیں؟

): آج بنوزئی نیوز آپ سے آپ کی رائے مانگتا ہے! نیچے دیے گئے کمنٹس میں بتائیں کہ آپ کا سچا لیڈر کون ہے؟ کیا آپ اس مشکل وقت میں ملک راحت خان ایڈوکیٹ کی بے لوث جدوجہد کے ساتھ ہیں یا اکرم خان درانی کے بیانیے کے ساتھ؟

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں! 👇

​ Malik Rahat Khan Adv Akram Khan Durrani Afridi Ismail Khel

Address

Ras Al-Khaimah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BannuZai News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share