14/09/2026
پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا، جس میں جاز کی طرف سے موبائل صارفین سے 6.58 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
اجلاس میں آڈٹ رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے دعویٰ کیا کہ جاز نے موبائل صارفین سے 6.58 ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں۔
حکام کے مطابق جاز کو صرف سہ ماہی بنیادوں پر ٹیرف میں 15 فیصد تک اضافے کا اختیار حاصل تھا۔
جاز کی طرف سے 15 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کے معاملے پر پی ٹی اے اور آڈٹ حکام آمنے سامنے آگئے۔
پی ٹی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی اے تسلیم کرتا ہے کہ 15 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کی کمپنیوں کو اجازت ہے۔ پی ٹی اے کی پالیسی ہے کہ موبائل کمپنیاں 15 فیصد تک ٹیرف بڑھا سکتی ہیں۔
دوسری جانب آڈٹ حکام نے کہا کہ آڈٹ پیرا اس بات پر ہے کہ پی ٹی اے کی پالیسی ہی رولز کے خلاف ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر ڈی ریگولیٹڈ ہے، لیکن جاز اس سیکٹر کا اہم پلیئر ہے، جبکہ جاز کو ریگولیٹ کرنا پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ جاز کی طرف سے 6.58 ارب روپے اضافی وصول کرنے پر ڈی اے سی ہوچکی ہے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا تھا کہ ٹیرف پیکیج 15 فیصد تک بڑھانا پی ٹی اے کی ڈومین میں آتا ہے۔
اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جاز کے ٹیرف بڑھانے والے معاملے پر نیب سے انکوائری کرانے کی تجویز دے دی۔
وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزہ فاطمہ نے سارے معاملے کا فرانزک کرانے کی تجویز پیش کی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی اے کی طرف سے ٹیرف دستاویز میں غلط جگہ پر دستخط ہوا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پی ٹی اے کے ڈائریکٹر فنانس اور متعلقہ ڈائریکٹر کو طلب کرلیا۔
عمید علی کی رپورٹ