Rabitah Magazine - Sydney

Rabitah Magazine - Sydney Rabitah International is a community magazine with an international flavor. It is a unique and leading bilingual (Urdu / English) in Australia

It is a unique and leading bilingual (Urdu / English) Australia based ethnic community magazine with huge circulation throughout Australia. We started this publication in 2006, which covers all topics from religion to politics and from social issues to health and education. The magazine also keeps an eye on international issues. Given that the magazine covers wide ranging issues authored by local and overseas writers no wonder that the publication attracts hundreds of thousands of readers across Australia. We have purposely attached no price tag to the magazine as our aim is to reach all, to convey the message of peace and harmony. It is delivered at 30-35 outlets in Sydney, Melbourne, Brisbane, Canberra, Adelaide, Perth and some parts of New Zealand. The publication is absolutely free of cost with approximately 30,000 general readerships. The magazine is also honorary presented to almost all Diplomatic offices and/or High Commissions and their associated consulates in Australia, top dignitaries of Federal & State Governments, political dignitaries, leading business organizations, Foreign Ministry offices, various religious, political, cultural & educational institutes, Community and Social organizations, associations, forums & commissions, prominent social & intellectual personalities etc. The magazine acts as a powerful tool in connecting various South Asian communities (Pakistan, India, Bangladesh and Middle East etc). Here I should acknowledge that this effort of ours would not have been successful if we were not financially assisted by Sydney Forex Pty Ltd.

آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نے حکومت کے صحت سے متعلق ایک آن لائن پورٹل میں...
26/09/2026

آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نے حکومت کے صحت سے متعلق ایک آن لائن پورٹل میں غیر مجاز رسائی حاصل کی اور وہاں موجود فائلوں تک پہنچنے کی کوشش کی۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر پہلا معلوم کیس ہے جس میں کسی اے آئی ایجنٹ نے کسی سرکاری ویب سائٹ کے حفاظتی نظام کو عبور کیا ہو۔یہ واقعہ آسٹریلیا کے سرکاری میڈیکیئر نظام سے متعلق ایک طبی اعداد و شمار کے پورٹل میں پیش آیا۔ میڈیکیئر آسٹریلیا کا قومی صحت بیمہ پروگرام ہے۔ حکومت کے مطابق اے آئی ایجنٹ وہاں عوامی طبی اخراجات سے متعلق معلومات تلاش کر رہا تھا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا نے اس واقعے پر اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو اوپن اے آئی کی جانب سے اس واقعے کی اطلاع کافی دیر سے دی گئی۔ ان کے مطابق حکومت کو اس بارے میں پہلی اطلاع 10 ستمبر کو ملی جبکہ یہ واقعہ جون میں پیش آیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ سرکاری سکیورٹی نظام اس غیر مجاز رسائی کا بروقت پتا لگانے میں کیوں ناکام رہا۔ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اے آئی ایجنٹ کی سرگرمی سے صحت کے شعبے سے متعلق تین دیگر سرکاری ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہوں گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان ویب سائٹس میں غیر مجاز رسائی ثابت نہیں ہوئی۔البانیز نے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق حکومت کے نیٹ ورک میں کسی بڑے پیمانے پر غیر مجاز داخلے کے آثار نہیں ملے، تاہم انہوں نے اس واقعے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی داخلی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مریضوں کے ذاتی طبی ریکارڈ تک رسائی حاصل کی گئی ہو۔ کمپنی کے مطابق اس کے ماڈلز نے آسٹریلیا کی متعدد سرکاری ویب سائٹس اور سروسز سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس دوران ایسے اقدامات کیے گئے جو کمپنی کی جانب سے ارادی طور پر مقرر نہیں کیے گئے تھے۔آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے واضح کیا کہ جس میڈیکیئر پورٹل تک رسائی حاصل کی گئی، اس میں 27 ملین آسٹریلوی شہریوں کے انفرادی طبی دعوے، سرکاری فوائد کی ادائیگیوں کی تفصیلات، بینکنگ معلومات یا مریضوں کی طبی تاریخ موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق پورٹل بنیادی طور پر ملک بھر میں صحت کی سہولیات کے استعمال سے متعلق مجموعی اعداد و شمار فراہم کرتا ہے۔تاہم وزیراعظم البانیز نے کہا کہ معاملہ اس لیے بھی سنجیدہ ہے کہ ویب سائٹ نے اے آئی ایجنٹ کو بعض مقامات پر رسائی سے روکنے کی کوشش کی، مگر ایجنٹ نے ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا۔ ان کے مطابق ایجنٹ نے انکار کے بعد بھی اپنی کوشش جاری رکھی۔آسٹریلوی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ یہ ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ حکومت کے موجودہ سائبر سکیورٹی نظام ایسے واقعات کو روکنے اور بروقت شناخت کرنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ایجنٹس کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ روایتی چیٹ بوٹس کے برعکس جدید اے آئی ایجنٹس بعض کام خود انجام دے سکتے ہیں، ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور مختلف ڈیجیٹل نظاموں کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں اوپن اے آئی کے علاوہ اینتھروپک، گوگل کے جیمنی اور میٹا کے اے آئی ایجنٹس سے متعلق بھی بیرونی نظاموں تک غیر مجاز یا غیر متوقع رسائی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔آسٹریلیا میں اے آئی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق یہ واقعہ پہلے سے موجود ٹیکنالوجی پالیسی کے اختلافات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ آسٹریلوی حکومت پہلے ہی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال اور آن لائن مواد کے الگورتھم سے متعلق سخت قوانین متعارف کرا چکی ہے۔کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف ایگزسٹینشل رسک سے وابستہ آسٹریلوی ریاضی دان موریس چیودو نے اس واقعے کو حالیہ اسی نوعیت کے واقعات کے مقابلے میں زیادہ سنگین پیش رفت قرار دیا۔

جنوبی افریقااور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا میچ 27ستمبر کو دی وان...
26/09/2026

جنوبی افریقااور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا میچ 27ستمبر کو دی وانڈررز سٹیڈیم ، جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلوی ٹیم ان دونوں دورہ جنوبی افریقا پر ہے جہاں وہ تین ون ڈے انٹرنیشنل اور تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

26/09/2026

Pakistani Film Studio لاہور فلموں کی ریکارڈنگ والا اسٹوڈیو اندر ڈیکھو

25/09/2026

Faisabad Lyalpur فیصل آباد

25/09/2026

پاکستان کا انوکھا ریلوے اسٹیشن

25/09/2026
اسلام آباد: پنجاب کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی جس کے تحت شہر میں کسی بھی قسم کے اج...
24/09/2026

اسلام آباد: پنجاب کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی جس کے تحت شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی لگادی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے، شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع یا اکٹھ کی اجازت نہیں ہے، پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت بھی شہر میں اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

Address

PO Box 99
Lakemba, NSW
2195

Telephone

+61290372100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rabitah Magazine - Sydney posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share