10/04/2026
اسلام آباد میں تاریخ کا موڑ طاقت، سفارتکاری، اور پاکستان کا ابھرتا ہوا مثبت چہرہ
ثاقب مشتاق : اسلام آباد
اسلام آباد آج ایک ایسے لمحے کا میزبان بننے جا رہا ہے جسے آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کے ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سفارتی ملاقات ہے ایک میز، چند وفود، اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی گفتگو مگر حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ طاقت کے توازن، اعتماد کے بحران، اور امن کی تلاش کے درمیان ایک نازک پل ہے۔
امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ رہے ہیں، جبکہ ایران کا حکومتی وفد پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہے۔ یہ منظر محض پروٹوکول نہیں، بلکہ ایک گہرا پیغام ہے: دنیا کی بڑی طاقتیں اب محاذ آرائی سے آگے بڑھ کر بات چیت کی طرف آ رہی ہیں، اور اس مکالمے کے لیے پاکستان کو چنا گیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے دنیا نے پاکستان کا مثبت چہرہ آخر کب دیکھا تھا؟ برسوں تک عالمی بیانیے میں پاکستان کو ایک خاص زاویے سے پیش کیا گیا۔ اسے مسائل کا گڑھ، عدم استحکام کی علامت، اور دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ ماضی میں پاکستان پر ایسے الزامات بھی لگائے گئے جو وقت کے ساتھ نہ صرف کمزور پڑ گئے بلکہ تاریخ نے خود انہیں جھوٹا ثابت کر دیا۔ آج جب وہی دنیا پاکستان کو ایک اہم سفارتی میزبان کے طور پر دیکھ رہی ہے، تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک بیانیے کی تبدیلی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک پرامن قوم ہے۔ اس کے عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں اور معیشت دونوں کی قیمت ادا کی ہے، مگر عالمی سطح پر اس کی پہچان اکثر ان قربانیوں کے برعکس رہی۔ آج اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات اس تاثر کو بدلنے کا ایک سنہری موقع فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، اور اقتصادی چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایک سپر پاور کا اس سطح کے مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سفارتکاری میں صرف معاشی طاقت ہی معیار نہیں ہوتی، بلکہ اعتماد، جغرافیائی اہمیت، اور سفارتی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کشیدگی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم رکھا بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، علاقائی تنازعات، اور عالمی سطح پر غیر یقینی کی فضا—یہ سب اسی تناؤ کے مختلف پہلو ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نئی امید کا دروازہ کھول سکتے ہیں۔
پاکستان کا کردار یہاں انتہائی نازک اور اہم ہے۔ ایک طرف اسے غیر جانبداری کا توازن برقرار رکھنا ہے، اور دوسری طرف اسے ایک فعال سہولت کار کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں کامیابی پاکستان کے عالمی تشخص کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
اس سارے عمل میں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی غیر معمولی سرگرمی۔ اس وقت سفارتی سطح پر جو روابط، ملاقاتیں، اور تیاری جاری ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط کر سکتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستانی عوام کی بھی اس موقع سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ خاص طور پر دو شعبے ایسے ہیں جہاں امیدیں زیادہ ہیں: ترقیاتی منصوبے اور امیگریشن پالیسی میں نرمی۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ یہ سفارتی پیش رفت صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی شکل اختیار کرے—ایسے منصوبے سامنے آئیں جو معیشت کو سہارا دیں، روزگار کے مواقع پیدا کریں، اور نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے راستے کھولیں۔
اسی طرح امیگریشن کے حوالے سے بھی ایک نرم اور مثبت پالیسی کی امید کی جا رہی ہے۔ پاکستانی ہنر، تعلیم، اور محنت عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا چکے ہیں، اور اگر اس شعبے میں سہولت پیدا ہوتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سفارتکاری صرف حکومتوں کے درمیان نہیں ہوتی، بلکہ قوموں کے درمیان بھی ہوتی ہے۔ عوامی سطح پر اعتماد، تعلقات، اور مثبت تاثر بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں جتنے کہ سرکاری معاہدے۔ اگر یہ مذاکرات ایک مثبت ماحول پیدا کرتے ہیں تو اس کے اثرات عوامی سطح تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ خطے میں استحکام، توانائی کی منڈیوں میں توازن، اور عالمی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر ناکام ہوتے ہیں تو اس کے اثرات بھی اتنے ہی گہرے ہوں گے کشیدگی میں اضافہ، غیر یقینی کی فضا، اور ممکنہ تصادم کا خطرہ۔
لیکن شاید اس سارے عمل کا سب سے اہم پہلو “اعتماد کی بحالی” ہے۔ سفارتکاری میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اور ایران و امریکہ کے تعلقات میں یہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات مکمل حل نہ بھی دے سکیں، تو کم از کم ایک ایسا دروازہ ضرور کھول سکتے ہیں جہاں سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ سکے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک موقع بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ دنیا کو اپنا اصل چہرہ دکھا سکے—ایک ذمہ دار، پرامن، اور سنجیدہ ریاست کا چہرہ۔ اور ذمہ داری اس لیے کہ وہ اس اعتماد پر پورا اترے جو عالمی برادری اس پر کر رہی ہے۔
یہ وقت صرف فخر کرنے کا نہیں، بلکہ ثابت کرنے کا بھی ہے۔
اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں، بلکہ ایک سفارتی مرکز بن چکا ہے۔ ایک ایسا مقام جہاں ماضی کے بیانیے بدل رہے ہیں، اور مستقبل کی سمت طے ہو رہی ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
آخر میں سوال وہی ہے: کیا ہم اس موقع کو ایک عارضی کامیابی تک محدود رکھیں گے، یا اسے ایک مستقل سفارتی طاقت میں بدل دیں گے؟
جو بھی ہو، ایک بات طے ہے—کل کا دن صرف ایک دن نہیں ہوگا، بلکہ ایک پیغام ہوگا۔ ایک ایسا پیغام جو دنیا کو یہ بتائے گا کہ پاکستان کو جس نظر سے دیکھا جاتا تھا، وہ شاید مکمل سچ نہیں تھا۔
اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھے۔