TFP Pakistan-USA

TFP Pakistan-USA The Frontier Press is a digital media platform covering news,current affairs, public policy, education,business, and culture.

We promote factual reporting, constructive dialogue, & stronger Pak-USA relations through informed journalism & P2P connections.

09/09/2026

کیا پختون جاگ اٹھے ؟ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف تھانہ شرقی پشاور میں محب وطن پاکستانی کی طرف سے اندراج مقدمہ کی درخواست دائر، ایک زرداری سب پے بھاری اپنے نواسوں کو لیکر لندن کے سکولوں میں داخل کروانے پہنچ گیا تاکہ لندن کے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر پاکستان کی باگ ڈور سنبھالیں ؟ محسن نقوی کی ریڈ لائن اور پاکستانی مسائل۔

Have the Pashtuns finally awakened? A patriotic Pakistani has filed an application at East Police Station, Peshawar, seeking the registration of a case against Punjab Chief Minister Maryam Nawaz.
Meanwhile, “One Zardari, Heavier Than All” has arrived in London with his grandsons to enroll them in schools there - apparently so that, after being educated at London’s institutions, they can eventually take charge of Pakistan. Mohsin Naqvi’s Red Line and Pakistan’s Problems.

17/08/2026

ملتان سند باد ہوٹل واقع پر پاکستان کے معروف سئنیر اینکر پرسن سمع ابراہیم صاحب کا دو ٹوک پروفیشنل نقطہء نظر

16/08/2026

اسلام آباد کا نامور صحافی ملتانی طوائفوں کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگا رہا ہے؟ ملتان کے پرائیویٹ ہوٹلوں میں قلم کاروں کی محفلیں اور جوئے کے اڈے کون چلا رہا ہے؟

35 برس بعد لودھراں پولیس کی کمان خاتون پولیس آفیسر کے ہاتھوں میں، بینش فاطمہ ریاست کی رول ماڈل بیٹی۔ثاقب مشتاق : بیوروچی...
13/08/2026

35 برس بعد لودھراں پولیس کی کمان خاتون پولیس آفیسر کے ہاتھوں میں، بینش فاطمہ ریاست کی رول ماڈل بیٹی۔

ثاقب مشتاق : بیوروچیف دی فرنٹیئر پوسٹ اسلام آباد

کبھی کبھی سرکاری فائل پر ہونے والا ایک دستخط محض کسی افسر کے تبادلے یا تقرری کا حکم نہیں ہوتا بلکہ برسوں سے قائم روایت کو توڑ کر تاریخ کا نیا باب رقم کر دیتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں ایس پی بینش فاطمہ کا بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارج سنبھالنا بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے، مگر اس تقرری کو محض ایک انتظامی تبدیلی سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔

لودھراں کو 1991 میں ضلع کا درجہ ملا تھا۔ یوں 1991 سے 2026 تک پورے 35 برس لگے کہ اس ضلع کی پولیس کمان پہلی مرتبہ کسی خاتون افسر کے سپرد ہوئی۔ تین تحصیلوں لودھراں، دنیاپور اور کہروڑپکا اور دس پولیس اسٹیشنوں پر مشتمل ضلع کی تاریخ میں بینش فاطمہ کا نام اب پہلی خاتون ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے طور پر درج ہو چکا ہے۔

یہ صرف ایک خاتون افسر کی کامیابی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سماجی اور انتظامی سفر میں تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ پاکستانی خواتین نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ کسی شعبے میں مردوں سے کم نہیں۔ تعلیم ہو یا صحت، عدلیہ ہو یا سول سروس، افواج ہوں یا پولیس، سفارت کاری ہو، صحافت، کاروبار یا ٹیکنالوجی، پاکستانی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ خواتین صرف آبادی کا نصف نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی backbone ہیں۔ ایسے میں ایک خاتون افسر کو پورے ضلع کی پولیس فورس کی کمان دینا صرف gender representation نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے خواتین کی صلاحیت اور leadership پر اعتماد کا عملی اظہار ہے۔

آج دنیا کسی بھی ریاست کی ترقی کو صرف معیشت یا انفراسٹرکچر سے نہیں دیکھتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس ملک کے فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کو کتنی نمائندگی اور اختیار حاصل ہے۔ اس تناظر میں جنوبی پنجاب کے ایک روایتی ضلع کی پولیس کمان خاتون افسر کو سونپنا بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستانی خواتین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں صرف معاون کردار تک محدود نہیں بلکہ operational command اور فیصلہ سازی کے اعلیٰ عہدوں پر بھی اپنی صلاحیت ثابت کر رہی ہیں۔

بینش فاطمہ کی تقرری کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ کوئی نوآموز افسر نہیں بلکہ پولیسنگ اور قانون نافذ کرنے کے مختلف اور حساس شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ اس سے قبل فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC)، وفاقی تحقیقاتی ادارے FIA کے سائبر کرائم ونگ، Crime Control Department (CCD) سمیت مختلف اہم ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں جبکہ Chief Traffic Officer (CTO) کے طور پر بھی خدمات انجام دینے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ یہ مختلف النوع assignments کسی بھی پولیس افسر کے professional profile کو وسعت دیتی ہیں۔ روایتی law and order سے لے کر cybercrime، organized crime، جدید تحقیقاتی طریقوں، traffic management اور operational policing تک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کا تجربہ ایک ضلعی پولیس سربراہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

آج کا جرم بھی بدل چکا ہے اور پولیسنگ بھی۔ جرائم صرف روایتی چوری، ڈکیتی اور قتل تک محدود نہیں رہے۔ Cybercrime، organized criminal networks، technology-based fraud، بین الاضلاعی جرائم اور sophisticated criminal operations نے law enforcement کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں۔ ایسے حالات میں DPO کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف تھانہ کلچر کو نہ سمجھے بلکہ جدید policing، technology اور intelligence-based investigation سے بھی واقف ہو۔ بینش فاطمہ کے سابقہ تجربات انہیں اسی اعتبار سے ایک تجربہ کار اور متنوع professional exposure رکھنے والی پولیس افسر کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ اب ان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اس تجربے کو لودھراں کے مقامی حالات میں کس طرح استعمال کرتی ہیں۔ ان کی تقرری کو صرف اس بات تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ لودھراں کی پہلی خاتون DPO ہیں۔ وہ ایک خاتون افسر ضرور ہیں لیکن اس سے بڑھ کر ایک تجربہ کار پولیس افسر ہیں جنہوں نے law enforcement کے مختلف محاذوں پر کام کیا ہے۔

اسی لیے میں بینش فاطمہ کو محض لودھراں کی خواتین کی نمائندہ نہیں سمجھتا۔ آج ان کی کامیابی جنوبی پنجاب کی ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے۔ وہ ان بچیوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہیں جو کسی چھوٹے شہر یا گاؤں میں بیٹھ کر یہ خواب دیکھتی ہیں کہ ایک دن وہ بھی پولیس، سول سروس، عدلیہ یا ریاست کے کسی اہم ادارے کی قیادت کریں گی۔ بینش فاطمہ آج ایک لحاظ سے لودھراں ہی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی خواتین کی آواز ہیں۔ ان کی تعیناتی یہ پیغام دیتی ہے کہ قیادت کسی جنس کی میراث نہیں۔ قیادت قابلیت، کردار، تربیت، تجربے اور ذمہ داری کا نام ہے۔ 9 اگست 2026 کو سامنے آنے والے تقرری و تبادلے کے احکامات میں ایس پی بینش فاطمہ کو DPO لودھراں مقرر کیا گیا۔ پنجاب حکومت اور بالخصوص آئی جی پنجاب کا یہ فیصلہ اس حوالے سے قابل تحسین ہے کہ جنوبی پنجاب کے ایک ایسے ضلع میں خاتون پولیس افسر پر اعتماد کیا گیا جہاں پولیسنگ محض جرائم کی روک تھام نہیں بلکہ روایتی سماجی ڈھانچے، سیاسی اثرورسوخ اور برسوں سے جڑی تھانہ کچہری کی سیاست سے بھی نمٹنے کا نام ہے۔

لودھراں کی سیاست اور سماج کو قریب سے جاننے والے بخوبی واقف ہیں کہ یہاں سیاسی شعور اور policy-based politics کے مقابلے میں طویل عرصے سے برادری، مقامی اثرورسوخ، زمین، تھانہ اور کچہری جیسے عوامل زیادہ طاقتور رہے ہیں۔ مقامی سطح پر یہ شکایات بھی سننے کو ملتی رہی ہیں کہ بعض اوقات سیاسی یا ذاتی اختلافات پولیس اسٹیشن تک پہنچ جاتے ہیں اور مقدمات، درخواستوں یا پولیس کے ذریعے مخالفین کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے یقیناً ہر سیاست دان، ہر مقدمے اور ہر پولیس افسر کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے دیہی سیاسی نظام میں تھانے تک رسائی اور پولیس پر اثرورسوخ کو اکثر طاقت کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے بینش فاطمہ کے لیے لودھراں محض ایک نئی posting نہیں بلکہ leadership کا ایک حقیقی امتحان ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے بھی ہے جہاں قانون، عدلیہ اور پولیس کی اعلیٰ سطحوں کا تجربہ موجود رہا ہے۔ ان کے والد جسٹس قاضی محمد امین احمد لاہور ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج رہے جبکہ ان کے سسر کیپٹن (ر) عارف نواز خان پنجاب پولیس کے سربراہ یعنی انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب رہ چکے ہیں۔

اس کہانی کا ایک دلچسپ تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ کیپٹن (ر) عارف نواز خان اپنے پولیس کیریئر کے ابتدائی دور میں لودھراں میں ASP کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کئی دہائیوں بعد آج اسی خاندان کی ایک خاتون پولیس افسر لودھراں کی مکمل ضلعی پولیس کمان سنبھال رہی ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ بینش فاطمہ کس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کسی افسر کی اصل شناخت اس کی اپنی performance ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بینش فاطمہ لودھراں میں اپنی کیا میراث چھوڑتی ہیں۔یہیں سے ان کی تقرری کا سب سے اہم پہلو خواتین کے حقوق اور عام شہری کے تحفظ سے جڑ جاتا ہے۔جنوبی پنجاب کے دیہی معاشرے میں آج بھی بہت سی خواتین گھریلو تشدد، ہراسانی، وراثتی حقوق سے محرومی، سماجی دباؤ اور مختلف اقسام کے استحصال کا سامنا کرنے کے باوجود تھانے تک جانے سے خوف محسوس کرتی ہیں۔ کہیں خاندان کا دباؤ ہوتا ہے، کہیں معاشرتی بدنامی کا خوف، کہیں کسی بااثر شخص کی دھمکی اور کہیں پولیس اسٹیشن کا روایتی ماحول۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بینش فاطمہ اپنی تاریخی تقرری کو تاریخی کارکردگی میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ میری ان سے پہلی توقع یہی ہوگی کہ لودھراں کو women-friendly policing کا ایک عملی ماڈل بنایا جائے۔ ضلع کے تمام دس تھانوں میں آنے والی خواتین کو عزت، رازداری اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ تربیت یافتہ female police staff کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جائے۔ گھریلو تشدد، harassment، stalking اور خواتین کے خلاف دیگر جرائم کو سماجی مصلحتوں کے بجائے قانون کے مطابق دیکھا جائے۔ جو عورت اپنے خاندان، کسی بااثر فرد یا کسی طاقتور ملزم کے خلاف شکایت لے کر پولیس اسٹیشن پہنچے، اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ سامنے بیٹھا پولیس اہلکار محض ایک وردی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا نمائندہ ہے اور ریاست اس کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔

اور شاید بینش فاطمہ کی تقرری کا سب سے طاقتور پیغام بھی یہی ہو سکتا ہے:
اگر ایک خاتون پورے ضلع کی پولیس کمان سنبھال سکتی ہے تو اسی ضلع کی ایک عام عورت کو انصاف مانگنے کے لیے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا بڑا امتحان جھوٹے، سیاسی اور انتقامی مقدمات کی حوصلہ شکنی ہوگا۔ سیاسی وابستگی، زمین کے تنازعات، برادری کے اختلاف یا ذاتی دشمنی کو فوجداری نظام کے ذریعے حل کرنے کا رجحان کسی بھی پولیس نظام کے لیے زہر ہے۔ اگر کوئی بے گناہ شخص صرف اس لیے حوالات پہنچ جائے کہ اس کا مخالف زیادہ طاقتور ہے تو نقصان صرف اس شہری کا نہیں ہوتا بلکہ ریاست، پولیس اور قانون تینوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ڈی پی او بینش فاطمہ کو اپنے ماتحت افسران تک ایک واضح اور دوٹوک پیغام پہنچانا ہوگا کہ تھانہ کسی ایم پی اے، ایم این اے، جاگیردار، وڈیرے، سیاسی گروپ یا بااثر خاندان کی ذاتی چوکی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا ادارہ ہے۔ جس دن لودھراں کے ایک عام شہری کو یقین ہو گیا کہ DPO دفتر یا پولیس اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے کسی سیاسی سفارش کی ضرورت نہیں، اسی دن اس ضلع میں پولیسنگ کی نئی تاریخ لکھنا شروع ہو جائے گی۔

پاکستان کا مثبت اور progressive چہرہ دنیا کے سامنے صرف تقاریر اور سفارتی بیانات سے نہیں آتا۔ وہ ایسے عملی فیصلوں سے سامنے آتا ہے جہاں خواتین کو حقیقی authority، responsibility اور leadership دی جاتی ہے۔ایک خاتون کو ضلع کی law-enforcement machinery کی سربراہی دینا یقیناً پاکستان کے ایک ایسے چہرے کی نمائندگی کرتا ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ لیکن symbol سے substance تک کا سفر اب بینش فاطمہ کو خود طے کرنا ہے۔ محض DPO کی کرسی پر ایک خاتون کا بیٹھ جانا women empowerment کی آخری منزل نہیں۔ اس کرسی کے اختیار کو دوسری خواتین، کمزور شہریوں، مظلوموں اور محروم طبقات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا اصل empowerment ہے۔

انہیں سیاسی اور سماجی دباؤ بھی ملے گا، پولیس فورس کو lead بھی کرنا ہوگا، دس تھانوں کی performance دیکھنی ہوگی، جرائم کی روک تھام کرنی ہوگی، تفتیشی نظام بہتر بنانا ہوگا، عوامی شکایات سنبھالنی ہوں گی اور ایسے مواقع بھی آئیں گے جہاں درست فیصلہ شاید آسان فیصلہ نہ ہو۔ لیکن یہی leadership کا اصل امتحان ہے۔ پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب نے انہیں موقع دیا ہے؛ اب تاریخ ان کی کارکردگی کا فیصلہ کرے گی۔ لودھراں کے شہریوں کو بھی اس تقرری کو صرف ایک خاتون افسر کی آمد کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ موقع ہے کہ ضلع تھانہ کچہری، روایتی طاقت اور سفارش کی سیاست سے ایک قدم آگے بڑھے اور قانون، میرٹ، شہری وقار اور institutional justice کی بنیاد مضبوط ہو۔

اگر بینش فاطمہ اپنے دور میں ایک مظلوم عورت کو بغیر سفارش انصاف تک پہنچا دیں، کسی بے گناہ کو سیاسی دباؤ میں مقدمے سے بچا لیں، کسی SHO کو یہ باور کرا دیں کہ ایک غریب مزدور، کسان یا بے سہارا عورت کی عزت کسی بااثر شخص سے کم نہیں، جدید ٹیکنالوجی اور اپنے سابقہ تجربے کو crime control میں استعمال کریں اور پولیس اسٹیشن کے دروازے کو خواتین کے لیے خوف کے بجائے تحفظ کی علامت بنا دیں تو ان کی کامیابی صرف یہ نہیں ہوگی کہ وہ لودھراں کی پہلی خاتون DPO تھیں۔

تب تاریخ شاید یہ لکھے گی کہ 1991 میں ضلع بننے والے لودھراں کو اپنی پہلی خاتون پولیس سربراہ کے لیے 35 برس انتظار کرنا پڑا، مگر جب وہ خاتون آئی تو وہ صرف ایک عہدہ سنبھالنے نہیں آئی تھی؛ وہ تجربے، اعتماد، قانون کی بالادستی اور جنوبی پنجاب کی خواتین کے نئے حوصلے کی علامت بن کر آئی تھی اور شاید کسی پولیس افسر کے لیے اس سے بڑی میراث کوئی نہیں ہو سکتی۔

26/07/2026

پاکستانی امریکی ڈاکٹرز سے تفصیلی گفتگو، حاملہ خواتین ڈیلیوری کے وقت سی سیکشن (بڑے آپریشن) سے کیسے بچ سکتی ہیں، آپ خود دس منٹ میں یہ چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کا دل ٹھیک دھڑک رہا ہے یا نہیں، کولسٹرول سے بچنے کا آسان طریقہ ان ڈاکٹروں نے مفت میں بتایا ہے۔

19/07/2026
19/07/2026

فول پروف انتظامات میں صدر کی آمد،

19/07/2026

نیویارک نیوجرسی گراؤنڈ کے باہر تقریباً 90 فیصد ارجنٹینا کے چاہنے والے ہیں، سپین کے 10 فیصد لوگ کیوں بھاری ثابت ہورہے ہیں، گراؤنڈ کے باہر سے جذباتی مناظر۔

19/07/2026

نیویارک نیوجرسی سے براہ راست، گانا گا کر میسی کو پیار بھرا سلام۔

Address

Sydney, NSW

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TFP Pakistan-USA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to TFP Pakistan-USA:

Shortcuts

Share

Category