23/09/2025
اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ، عالمی رہنماؤں کی دھواں دار تقاریر، اہم نکات اور عالمی ردعمل
ثاقب مشتاق : اقوام متحدہ نیویارک، 23 ستمبر 2025۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے پہلے دن دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت اور حکومت نے عالمی مسائل پر بھرپور اظہارِ خیال کیا۔ اجلاس میں امن و سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی، انسانی بحرانوں اور عالمی انصاف جیسے موضوعات پر زور دار تقاریر ہوئیں۔
سیکریٹری جنرل کی وارننگ
افتتاحی اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹرس نے کہا کہ ’’دنیا بے قابو انتشار کے دور میں داخل ہو رہی ہے‘‘۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قانون کی حکمرانی اور عالمی تعاون کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ گوٹرس کے مطابق امن اور ترقی کے ستون ’’بکلا رہے ہیں‘‘ اور انہیں بچانے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں عالمی تعاون کے کئی پہلوؤں پر تنقید کی۔
انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کو ’’بہت بڑا دھوکہ‘‘ کہا۔ یورپ کی امیگریشن پالیسیوں اور پناہ گزینوں کی آمد کو تباہ کن قرار دیا۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حالیہ فیصلوں کو ’’حماس کو انعام دینے‘‘ کے مترادف کہا۔ اسرائیل کی مکمل حمایت اور روس پر مزید معاشی دباؤ کی تجویز دی۔
ٹرمپ کے خطاب نے جنرل اسمبلی کے ہال میں ملا جلا ردعمل پیدا کیا، بعض یورپی رہنماؤں نے اس رویے کو ’’تقسیم بڑھانے والا‘‘ قرار دیا۔
برازیل کے صدر لُلا دا سلوا کا غزہ میں نسل کشی کا الزام ، برازیل کے صدر لوئز اناسیو لُلا دا سلوا نے اپنی تقریر میں غزہ کی صورتحال کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی عوام کی بقا آزاد ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔
انہوں نے برازیل کی عدالتوں اور جمہوری اداروں پر بیرونی دباؤ اور پابندیوں کو سختی سے مسترد کیا۔ دنیا کو خبردار کیا کہ آمرانہ قوتیں ایک بار پھر طاقت پکڑ رہی ہیں، اور جمہوریت کی حفاظت عالمی ترجیح ہونی چاہیے۔
صدر لی جے میونگ نے اپنی پہلی اقوامِ متحدہ تقریر میں ’’اینڈ انیشی ایٹو‘‘ (Exchange, Normalization, Denuclearization) پیش کیا۔
شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تناؤ کم کرنے، پروپیگنڈا پمفلٹس اور لاؤڈ اسپیکر نشریات ختم کرنے کا اعلان کیا ، کہا کہ جنوبی کوریا شمالی کوریا کے سیاسی نظام کا احترام کرے گا اور جنگ کی بجائے مکالمہ کو ترجیح دے گا۔
اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ صرف دو ریاستی حل سے ہی نکل سکتا ہے اور عالمی برادری کو فوری جنگ بندی کرانی چاہیے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری ریلیف فنڈ قائم کرے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے روس-یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’طاقت کی بنیاد پر سرحدوں کی تبدیلی قبول نہیں‘‘ اور اقوامِ متحدہ کو مزید متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے عالمی اداروں میں اصلاحات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کو مستقل نشست دینے کا مطالبہ کیا۔
پرتگال، لتھوینیا، یوراگوئے اور سلووینیا کے سربراہان نے بھی جمہوریت کے تحفظ، عالمی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا۔
انڈونیشیا کے صدر پراوو سبیانتو نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ایشیا میں تجارتی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
پیرو، تاجکستان، ترکمانستان اور منگولیا کے صدور نے اپنے خطوں میں غربت اور موسمیاتی چیلنجز کے حل کے لیے عالمی سرمایہ کاری کی اپیل کی۔
عراق کے صدر عبداللطیف راشد نے ملک میں استحکام کے لیے عالمی مدد طلب کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید تعاون کا مطالبہ کیا۔
پہلے دن کی کارروائی نے یہ واضح کیا کہ دنیا آج کئی بڑے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے — فلسطین و اسرائیل تنازع، روس-یوکرین جنگ، ماحولیاتی تبدیلی اور مہاجرین کے بحران نے اجلاس پر غلبہ رکھا۔ اگرچہ بیشتر رہنما تعاون اور امن کی بات کرتے نظر آئے، لیکن امریکی صدر کی سخت زبان اور کچھ ممالک کے باہمی اختلافات نے یہ بھی دکھا دیا کہ عالمی اتفاقِ رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا.