UPost

UPost Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UPost, Video Creator, Sydney.

20/04/2026
Ir@ns military spokesperson mocks US presidents 👇Ir@ns military spokesperson mocks US presidents 👇 Dônald tr_ump with im...
06/04/2026

Ir@ns military spokesperson mocks US presidents 👇
Ir@ns military spokesperson mocks US presidents 👇 Dônald tr_ump with image of crashed US fight€r aircraft which was shot down by Iran day before, Spokesperson of IRGC is seen holding picture of aircraft with heading on it "Hey Trump How Are You"

May peace prevail. Ameen

Disclaimer.
This image is AI-generated for illustrative purposes only. It does not depict real events but is meant to represent ongoing geopolitical narratives.

رمضان اور سائنس — وہ سچ جو مغرب نے مانا لیکن ہمیں بتایا نہیںدنیا کی سب سے مہنگی weight loss industry — جو ہر سال کھربوں ...
15/03/2026

رمضان اور سائنس — وہ سچ جو مغرب نے مانا لیکن ہمیں بتایا نہیں

دنیا کی سب سے مہنگی weight loss industry — جو ہر سال کھربوں ڈالر کماتی ہے — آج ایک ایسی چیز کو "نئی دریافت" کہہ کر بیچ رہی ہے جو مسلمان 1400 سال سے کرتے آئے ہیں۔
اس کا نام ہے — Intermittent Fasting۔
یعنی روزہ۔
وہ سائنس جو قرآن کی تصدیق کرتی ہے:
جاپان کے سائنسدان Yoshinori Ohsumi نے 2016 میں روزے کی حالت میں جسم میں ہونے والے ایک عمل کو دریافت کیا — Autophagy۔ اس دریافت پر انہیں Nobel Prize ملا۔
Autophagy کیا ہے؟ جب آپ کئی گھنٹے کچھ نہیں کھاتے — تو آپ کا جسم خود اپنے اندر کے خراب، بیمار اور بوڑھے خلیوں کو کھانا شروع کر دیتا ہے — انہیں ری سائیکل کرتا ہے۔ یعنی جسم خود کو اندر سے صاف کرتا ہے۔
یہ وہی عمل ہے جو روزے کے دوران ہوتا ہے۔
مزید وہ سائنس جو حیران کرے:
روزے سے خون میں insulin کی مقدار کم ہوتی ہے — ذیابیطس کا خطرہ گھٹتا ہے۔ دماغ میں BDNF نامی protein بنتی ہے — جو دماغی خلیوں کو مضبوط کرتی ہے اور Alzheimer سے بچاتی ہے۔ جسم میں inflammation کم ہوتی ہے — جو دل کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے۔ وزن کم ہوتا ہے — لیکن پٹھے محفوظ رہتے ہیں۔
وہ بات جو مغرب نہیں بتاتا:
مغربی دواساز کمپنیاں آج Ozempic اور Wegovy جیسی weight loss دوائیں بیچ رہی ہیں — ایک انجیکشن کی ماہانہ قیمت 1,000 ڈالر سے زیادہ ہے۔ ارب پتی اسے "مستقبل کی دوا" کہتے ہیں۔
لیکن وہی فائدے — جو یہ دوائیں دیتی ہیں — وہ روزے سے مفت ملتے ہیں۔
اللہ نے 1,400 سال پہلے جو حکم دیا — سائنس آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ لیکن مغرب اسے "نئی دریافت" کہہ کر بیچ رہا ہے۔
اس رمضان میں روزہ صرف عبادت نہیں — یہ آپ کے جسم کی سب سے بڑی خدمت بھی ہے۔
یہ پوسٹ شیئر کریں — تاکہ لوگ روزے کی قدر جان سکیں۔ 🌙

رمضان میں مسجدِ اقصیٰ بند — یہ جنگ کا بہانہ ہے یا ایک پرانا منصوبہ؟رمضان کا تیسرا عشرہ جاری ہے۔دنیا بھر میں مسلمان تراوی...
15/03/2026

رمضان میں مسجدِ اقصیٰ بند — یہ جنگ کا بہانہ ہے یا ایک پرانا منصوبہ؟
رمضان کا تیسرا عشرہ جاری ہے۔
دنیا بھر میں مسلمان تراویح پڑھ رہے ہیں، عبادت میں مشغول ہیں، اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
لیکن بیتُ المقدس میں — مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند ہیں۔
وہ مسجد جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، جہاں نبیِ کریم ﷺ نے معراج کی رات نماز پڑھائی — اس کے دروازوں پر آج اسرائیلی پولیس کے مسلح جوان کھڑے ہیں۔
آج کی صورتِ حال:
28 فروری کو ایران جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ مکمل بند کر دی۔ نمازیوں کو اندر جانے سے روکا گیا — حتیٰ کہ مسجد کے اپنے عملے اور محافظوں کو بھی۔ افطار اور سحری کا کھانا اندر پہنچانے سے بھی منع کیا گیا۔ ایک فلسطینی شخص نے بوڑھے کا بھیس بدل کر اندر جانے کی کوشش کی — پکڑا گیا۔ لوگ گلیوں میں، سڑکوں پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے لگے — سینکڑوں مسلح پولیس اہلکاروں کے سامنے۔
لیکن یہاں وہ بات ہے جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے:
اسرائیل نے اسی عرصے میں اپنی دکانیں، ریستوران، کارخانے — سب کھول دیے۔ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں کچھ شرائط کے ساتھ دوبارہ کھول دی گئیں۔ لیکن مسجدِ اقصیٰ — بند رہی۔
مسجد کے اندر زیرِ زمین ایک بہت بڑا ہال ہے — المروانی — جہاں دس ہزار نمازی بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اسرائیل نے اسے بھی نہیں کھولا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ "سیکیورٹی" کا معاملہ نہیں — یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ 2026 کے آغاز سے اب تک 260 سے زیادہ فلسطینی نمازیوں کو چھ چھ مہینے کے لیے مسجد میں داخلے سے باقاعدہ پابندی لگائی جا چکی ہے — بغیر کسی وجہ کے۔
وہ بڑا سوال — جو ہر مسلمان کو پوچھنا چاہیے:
کیا جنگ مسجدِ اقصیٰ بند کرنے کا بہانہ ہے؟ یا مسجدِ اقصیٰ پر مستقل قبضے کی طرف ایک قدم؟
آٹھ مسلمان ممالک — پاکستان، سعودی عرب، UAE، مصر، ترکی، اردن، انڈونیشیا اور قطر — نے مشترکہ بیان دیا: "یہ غیرقانونی ہے، ناقابلِ قبول ہے، اور اسرائیل کو مسجدِ اقصیٰ پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔"
لیکن بیان دینے اور عمل کرنے میں فرق ہوتا ہے۔
رمضان کا مہینہ ختم ہونے کو ہے۔ مسجدِ اقصیٰ ابھی بھی بند ہے۔ اور دنیا ابھی بھی خاموش ہے۔
آج رمضان میں ایک دعا مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے بھی کریں۔ اور یہ پوسٹ شیئر کریں۔ 🕌
ٰ

25 فروری 2026۔ جنیوا۔ایران کے وزیرِ خارجہ نے دنیا کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ "ہاتھ کے قریب" ہے۔ انہوں نے کہ...
08/03/2026

25 فروری 2026۔ جنیوا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ نے دنیا کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ "ہاتھ کے قریب" ہے۔ انہوں نے کہا — "ہم جنگ نہیں چاہتے، امن چاہتے ہیں، اور یہ امن ممکن ہے۔"
26 فروری کو جنیوا میں بات چیت کا تیسرا دور ہوا — عمان کی ثالثی میں۔ ایران نے یورینیم ذخائر ختم کرنے، IAEA کی مکمل نگرانی قبول کرنے، اور صرف پُرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا۔ عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا — "نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔" ایرانی نمائندے نے کہا — "ہمارا مسودہ مکمل ہے، چند دنوں میں معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔"
یہ سب 26 فروری کو ہوا۔
اور 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ شروع کر دی۔
عین اسی وقت جب امن کا دروازہ کھلا تھا — اسے بند کر دیا گیا۔
یہ سوال پوچھنا ضروری ہے:
کیا واقعی ایران جوہری ہتھیار بنانے والا تھا؟ دنیا کے جوہری توانائی ادارے IAEA نے حملوں کے بعد واضح کہا — ایران اس مرحلے پر نہیں تھا۔
کیا مذاکرات ناکام ہو گئے تھے؟ نہیں — عمانی ثالث نے خود کہا کہ وہ "فکرمند" تھے اور جنگ کو قریب محسوس کر رہے تھے — باوجود اس کے کہ بات چیت آگے بڑھ رہی تھی۔
تو پھر جنگ کیوں؟
بلومبرگ کی تحقیق کے مطابق امریکی نمائندے جنیوا سے واپس اڑے اور ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا تھا — مذاکرات کے نتیجے سے پہلے ہی۔ ایک تجزیہ نگار نے لکھا: "امریکہ اور اسرائیل نے اس وقت حملہ کیا جب امن صرف ممکن نہیں تھا — بلکہ واقعی قریب تھا۔ یہ سوال ہمیشہ پوچھا جائے گا کہ کیا کچھ طاقتیں دائمی کشیدگی میں امن سے زیادہ راحت محسوس کرتی ہیں۔"
2003 میں عراق پر حملے سے پہلے بھی یہی ہوا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار کہہ رہے تھے — ہتھیار نہیں ملے۔ لیکن جنگ ہو گئی۔ وہ ہتھیار آج تک نہیں ملے۔
آج تہران میں 787 سے زیادہ عام شہری مارے جا چکے ہیں — وہ نہ سائنسدان تھے، نہ فوجی۔ بس لوگ تھے۔
دنیا میں جب بھی جنگ ہوتی ہے — قیمت وہ لوگ چکاتے ہیں جنہوں نے نہ فیصلہ کیا، نہ جنگ چاہی۔
یہ پوسٹ شیئر کریں — تاکہ لوگ جانیں کہ اصل میں کیا ہوا۔ 🌍

ایک پانی کا راستہ — جو بند ہو گیا — اور اب پوری دنیا کانپ رہی ہے33 کلومیٹر۔بس اتنا چوڑا ہے Strait of Hormuz — دنیا کی سب...
08/03/2026

ایک پانی کا راستہ — جو بند ہو گیا — اور اب پوری دنیا کانپ رہی ہے
33 کلومیٹر۔
بس اتنا چوڑا ہے Strait of Hormuz — دنیا کی سب سے طاقتور سمندری گزرگاہ۔
اور آج — مارچ 2026 میں — وہ مکمل طور پر بند ہے۔
150 سے زیادہ تیل کے بڑے بحری جہاز وہاں لنگر انداز ہیں — نہ آگے جا سکتے ہیں، نہ پیچھے۔
یہ صرف ایک سمندری بحران نہیں — یہ آپ کی روزمرہ زندگی پر حملہ ہے:
Strait of Hormuz سے دنیا کا 20 سے 30 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔ روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل — جس کی سالانہ قدر 500 ارب ڈالر ہے۔ Analyst News یہ سب ایک جھٹکے میں رک گیا۔
اس تیل کا 84 فیصد ایشیائی ممالک کی طرف جاتا تھا — چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا مل کر اس کا 69 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ Analyst News
اور پاکستان؟ ہم بھی اسی خطے کا حصہ ہیں۔
وہ سچ جو ہمارے حکمران نہیں بتائیں گے:
قطر — جو دنیا کا سب سے بڑا LNG گیس برآمد کنندہ ہے — اس نے 2 مارچ کو گیس پیداوار بند کر دی اور Force Majeure کا اعلان کر دیا۔ Anadolu Ajansı یعنی اس نے کہہ دیا — ہم اپنے معاہدے پورے نہیں کر سکتے۔
قطر کے توانائی وزیر نے خبردار کیا: "اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک پیداوار بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے — اور یہ پوری دنیا کی معیشتوں کو تباہ کر دے گا۔" War on the Rocks
وہ پانچ چیزیں جو اگلے ہفتوں میں ہو سکتی ہیں:
تیل کی قیمتیں — جو پہلے ہی چار سال کی بلند ترین سطح پر ہیں — مزید آسمان کو چھوئیں گی۔ پاکستان میں پیٹرول، بجلی، گیس — سب مہنگی ہو جائے گی۔ غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھیں گی — کیونکہ گندم اور خوردنی تیل کی نقل و حمل مہنگی ہو جائے گی۔ Maersk، CMA CGM جیسی دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے خلیج کے راستے بند کر دیے — اب تمام جہاز افریقہ کا چکر لگا کر آتے ہیں — اس سے شپنگ لاگت ہفتوں میں دوگنی ہو سکتی ہے۔ اور وہ عام پاکستانی جو سوچتا ہے "ہم سے کیا مطلب" — اسے سب سے پہلے بازار میں احساس ہوگا۔
ایک ایسا سوال جو آپ کو تڑپائے گا:
Ali Vaez — International Crisis Group کے ایران امور کے ڈائریکٹر — نے کہا: "Strait of Hormuz کی بندش سے رات بھر میں دنیا کا پانچواں حصہ تیل بند ہو جائے گا — اور قیمتیں صرف بڑھیں گی نہیں — وہ ایک جھٹکے سے اچھل جائیں گی۔ یہ صدمہ توانائی منڈیوں سے باہر نکل کر معاشی سختی اور مہنگائی کی صورت میں ہر کمزور معیشت کو چند ہفتوں میں کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔" Analyst News
وہ لوگ جو خاموشی سے منافع کما رہے ہیں:
جب خلیج جل رہی ہے — واشنگٹن کی ہتھیار ساز کمپنیوں کے شیئر بڑھ رہے ہیں۔ تیل کمپنیوں کے منافع بڑھ رہے ہیں۔ اور وہ عام آدمی — پاکستان میں، ایران میں، لبنان میں — قیمت ادا کر رہا ہے۔
تاریخ ہمیشہ وہی دہراتی ہے — جنگیں طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں اور غریب بھگتتے ہیں۔
یہ پوسٹ ابھی شیئر کریں — اپنے گھر والوں کو آگاہ کریں۔ 🛢️🔥

وہ راز جو غزہ کی دیواروں میں دفن ہے — اور جسے دنیا دیکھنا نہیں چاہتیایک بچہ۔ گیارہ سال کا۔ اس کا نام قیس تھا۔جولائی 2025...
08/03/2026

وہ راز جو غزہ کی دیواروں میں دفن ہے — اور جسے دنیا دیکھنا نہیں چاہتی
ایک بچہ۔ گیارہ سال کا۔ اس کا نام قیس تھا۔
جولائی 2025 میں وہ ایک اسکول میں تھا — وہ اسکول جو اب شیلٹر بن چکا تھا۔ کیونکہ اس کا گھر پہلے ہی ملبے میں بدل چکا تھا۔ اس کی ماں میسرہ نے اپنے بیٹے کی لاش کو اپنے سینے سے لگایا — اور دنیا نے وہ تصویر دیکھی۔
لیکن کیا دنیا نے وہ سوال بھی پوچھا جو پوچھنا چاہیے تھا؟
وہ سوال — جو کوئی نہیں پوچھتا:
غزہ میں اب تک تقریباً 67,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ غزہ کی کل آبادی کا 5 فیصد ہے۔ سوچیں — پاکستان کی آبادی کا 5 فیصد مطلب ہے ایک کروڑ سے زیادہ لوگ۔
لیکن اصل حیران کن بات یہ نہیں ہے۔
اصل بات وہ ہے جو اعداد و شمار کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
راز نمبر ایک — ہتھیار اور منافع:
جب غزہ پر بمباری ہو رہی تھی — اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنیوں کے شیئر آسمان کو چھو رہے تھے۔ Lockheed Martin، Raytheon، Boeing Defense — ان سب کے منافع میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔
جنگ ہمیشہ سے کچھ لوگوں کا کاروبار رہی ہے۔ جب میدانِ جنگ میں لاشیں بچھتی ہیں — تو کہیں بورڈ رومز میں سیٹیاں بجتی ہیں۔ تالیاں ہوتی ہیں۔ سالانہ رپورٹیں سجائی جاتی ہیں۔
راز نمبر دو — اسپتال نشانہ کیوں؟
UN کے اعداد کے مطابق غزہ میں 38 اسپتال یا تو تباہ کر دیے گئے یا بند ہو گئے۔ 1,670 طبی کارکن شہید ہوئے — وہ لوگ جو کبھی ہتھیار نہیں اٹھاتے۔ 197 ایمبولینسیں تباہ کی گئیں۔
یہ اعداد و شمار پڑھ کر ایک لمحے کے لیے رکیں۔
جب آپ ڈاکٹروں کو مارتے ہیں — تو آپ لڑاکوں کو نہیں مارتے۔ آپ شفا کو مارتے ہیں۔ آپ امید کو مارتے ہیں۔
راز نمبر تین — پانی کا ہتھیار:
جون 2025 میں غزہ کے میونسپل حکام نے خبردار کیا کہ 75 فیصد پانی کے کنویں تباہ ہو چکے ہیں۔ بجلی 15 فیصد سے بھی کم ہے۔ لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔
آپ نے تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ قرونِ وسطیٰ کے دور میں فاتح لشکر محاصرے میں پانی کے ذرائع کاٹ دیتے تھے۔ یہ صدیوں پرانی جنگی چال آج 2025 میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔
راز نمبر چار — وہ تعداد جو میڈیا نہیں بتاتا:
UN کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اموات کی تعداد رپورٹ شدہ تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ملبے میں دبے ہزاروں لوگ ابھی تک نکالے نہیں جا سکے۔ ان کی گنتی نہیں ہوئی۔ ان کے نام کہیں درج نہیں ہیں۔ وہ بس — غائب ہیں۔
راز نمبر پانچ — غزہ مارچ 2025 کے بعد:
مارچ 2025 میں ایک مختصر جنگ بندی ہوئی — پھر ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد صرف چند ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ نئی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی۔ دس لاکھ — یعنی ہر رات لاکھوں لوگ کہیں نئی جگہ سونے پر مجبور ہوئے۔ بچوں کے پاس نہ بستر تھا، نہ چھت، نہ ماں کی گود۔
تو ہم کیا کریں؟
آج بہت سے لوگ کہتے ہیں: "ہم کیا کر سکتے ہیں؟"
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام خاموش ہو جائیں — تو ظلم کو پَر لگ جاتے ہیں۔ اور جب عوام بولیں — تو تاریخ بدل جاتی ہے۔
آج آپ کا بولنا، شیئر کرنا، دعا کرنا — یہ سب ایک آواز کا حصہ ہے۔
وہ آواز جو غزہ کی دیواروں تک پہنچتی ہے۔ جو قیس جیسے بچوں کی روحوں کو بتاتی ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ابھی بھی محسوس کرتے ہیں۔
یہ پوسٹ شیئر کریں۔ خاموش نہ رہیں۔ 🇵🇸

Address

Sydney, NSW

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UPost posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category