Aneeb Zaheer

Aneeb Zaheer The channel has started to provide viewers with entertainment, infotainment, history and current affairs.

It contains the content like documentaries, news, short films, motivational & sad stories. It is a complete package of information, entertainment.

05/01/2026

نجی یونیورسٹی میں پھر افسوسناک واقعہ

03/01/2026

Rawalpindi: Accused Arrested for Priv*cy Vi*lation at Hospital | Aneeb Zaheer

وینزویلا کے صدر کی مبینہ اغواء کی تصویر
03/01/2026

وینزویلا کے صدر کی مبینہ اغواء کی تصویر

03/01/2026

مسجد نبویﷺ میں دل دہلا دینے والا واقعہ

’’پاکستان کو اب بوڑھوں کی ضرورت نہیں‘‘اب یہ بحث کسی ایک وائرل مضمون تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب ایک پورے سماجی اور فکری ب...
03/01/2026

’’پاکستان کو اب بوڑھوں کی ضرورت نہیں‘‘

اب یہ بحث کسی ایک وائرل مضمون تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب ایک پورے سماجی اور فکری بحران کی علامت بن چکی ہے۔ زورین نظامانی کے مضمون کے بعد سوشل میڈیا پر جنم لینے والا بیانیہ شدت پسندی بن رہا ہے اوربات کسی اور رخ پر بھی پھیلنے لگی ہے کہ ’’پاکستان کو اب بوڑھوں کی ضرورت نہیں‘‘ دراصل جذبات سے پیدا ہونے والا وہ نعرہ ہے جو غور و فکر کے بجائے ردِعمل کی پیداوار ہے۔ یہ جملہ بظاہر انقلابی لگتا ہے، مگر اپنی تہہ میں خطرناک سادگی رکھتا ہے، کیونکہ یہ مسئلے کی جڑ کو نہیں بلکہ محض عمر کو کٹہرے میں کھڑا کررہا ہے۔دنیا بھر میں طاقتور ملکوں کی بوڑھی قیادت دیکھئے اور ہمارا مطالبہ جو ایک خطرناک بیانیہ بنایا جارہا ہے۔
اصل مسئلہ بوڑھا ہونا نہیں،بلکہ وہ ذہنی جمود ہے جو بعض اوقات عمر کے ساتھ طاقت کے نشے میں بدل جاتا ہے۔ عمر اگر تجربہ، برداشت اور حکمت پیدا کرے تو وہ قوموں کا سرمایہ ہوتی ہے، اگر وہی عمر سوال سننے کی صلاحیت چھین لے، نئی سوچ کو بغاوت اور اختلاف کو غداری سمجھنے لگے تو پھر وہ تجربہ نہیں، رکاوٹ اور استبدادبن جاتی ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسئلہ بزرگوں کی موجودگی نہیں بلکہ بعض بزرگوں کا ہر قیمت پر اقتداریا اختیار سے چمٹے رہنا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوان نسل کا غصہ بے وجہ نہیں۔ بیروزگاری، ناانصافی، سیاسی بے دخلی اور مسلسل نظرانداز کیے جانے نے اس نسل کو اندر سے کھولتے ہوئے لاوا بنا دیا ہے۔ جب نوجوان دیکھتا ہے کہ فیصلے وہ لوگ کر رہے ہیں جو اس کے حال اور مستقبل دونوں سے کٹے ہوئے ہیں، تو اس کے اندر بغاوت جنم لیتی ہے۔یہ فطری تقاضاہے۔ یہی بغاوت آج سوشل میڈیا کے نعروں، جملوں اور وائرل تحریروں میں نظر آتی ہے۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ غصہ دانش سے کٹ کر صرف نفرت میں بدل جاتا ہے، اور تجربے کو محض اس لیے رد کر دیا جاتا ہے کہ وہ سفید بالوں کے ساتھ آتا ہے۔
دنیا کی کوئی بھی مہذب ریاست یادداشت کے بغیر نہیں چلتی۔ قومیں جوان خون کی توانائی سے آگے بڑھتی ہیں، مگر ریاستیں یادداشت، تسلسل اور تجربے سے قائم رہتی ہیں۔ تاریخ، سیاست، معیشت اور سماج محض جوش سے نہیں سنبھلتے، ان کے لیے ہوش بھی درکار ہوتا ہے۔ اگر ہر نئی نسل یہ سمجھ لے کہ اس سے پہلے سب ناکام تھے اور سب کو ہٹا دینا ہی حل ہے، تو پھر ہر قوم بار بار وہی غلطیاں دہراتی رہے گی۔
پاکستان کو جن بوڑھوں سے نجات کی ضرورت ہے،یہ وہ ہیں جو عمر کو ڈھال بنا کر احتساب سے بچتے ہیں، جو اپنی ناکامیوں کا بوجھ نئی نسل پر ڈال دیتے ہیں، اور جو طاقت کو حقِ پیدائش سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن پاکستان کو جن بزرگوں کی اشد ضرورت ہے، یہ وہ ہیں جو تجربہ بانٹنا جانتے ہیں، جو سیکھنے کے عمل سے الگ نہیں ہوئے، اور جو نوجوان کو خطرہ نہیں بلکہ تسلسل سمجھتے ہیں۔ ایسے بزرگ بوجھ نہیں ہوتے، وہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔
اصل لڑائی عمر کی نہیں بلکہ رویّے کی ہے۔ اگر کوئی بوڑھا جمود کا استعارہ ہے تو وہ واقعی بوجھ ہے، اور اگر کوئی جوان صرف شور اور گالی کو انقلاب سمجھتا ہے تو وہ بھی مسئلے کا حل نہیں۔ تبدیلی نہ تو صرف جوانی سے آتی ہے اور نہ ہی صرف بڑھاپے سے، بلکہ تبدیلی اس ذہن سے جنم لیتی ہے جو سیکھنے، سننے اور خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یہ جنگ نسلوں کے درمیان نہیں، بلکہ عقل اور جمود کے درمیان ہے۔ اس جنگ میں نہ ہر بوڑھا قصوروار ہے اور نہ ہر جوان نجات دہندہ۔ اصل سوال صرف یہ ہے کہ کون پاکستان کو آگے لے جانا چاہتا ہے اور کون اسے اپنی کرسی، اپنی انا اور اپنی ضد کی بھینٹ چڑھائے ہوئے ہے۔ یہی سوال اس بحث کا مرکز ہے، اور یہی سوال فیصلہ کن بھی ۔

شاہد نذیر چوہدری صاحب کی وال سے

02/01/2026

ٹک ٹاک کی دوستی تین معصوم جانیں نگل گئی

گجرات میں خاتون نے دوسری شادی کے لیے اپنے تینوں بچوں کو ق ت ل کرکے نعشیں جلادیں،نعشوں کو آزاد کشمیر کے علاقہ بھمبر میں د...
02/01/2026

گجرات میں خاتون نے دوسری شادی کے لیے اپنے تینوں بچوں کو ق ت ل کرکے نعشیں جلادیں،نعشوں کو آزاد کشمیر کے علاقہ بھمبر میں دفن کیا گیا،گجرات پولیس نے خاتون سدرہ اور اس کے آشناکو گرفتار کرلیا،خاتون نے پولیس کو بتایا کہ بچوں کے ہوتے ہوئے اس کی دوسری شادی نہیں ہوسکتی تھی۔تینوں بچوں کو فروٹ چاٹ میں نیند کی گولیاں دیکر بے ہوش کرکے گلے دبا کر ق ت ل کیا گیا،بچوں کی عمریں 2 سے سات سال کے درمیان تھیں،ملزم بابر اور خاتون کی دوستی ٹک ٹاک کے ذریعے ڈیڑھ سال قبل ہوئی تھی۔

زورین نظامانی کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے مضمون پر ردعمل
02/01/2026

زورین نظامانی کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے مضمون پر ردعمل

نو مولود بچے کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا، ریسکیو 1122
02/01/2026

نو مولود بچے کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا، ریسکیو 1122

آج سے کوئی 15 سال قبل 'قید تنہائی' نامی ڈرامے میں اداکارہ سویرا ندیم زورین نظامانی کے ساتھ مکالمہ کر رہی تھیں۔ سویرا ندی...
02/01/2026

آج سے کوئی 15 سال قبل 'قید تنہائی' نامی ڈرامے میں اداکارہ سویرا ندیم زورین نظامانی کے ساتھ مکالمہ کر رہی تھیں۔

سویرا ندیم:
تم بہت سوال کرتے ہو۔ ہمیشہ سے ہی ایسے تھے؟

زورین نظامانی:
ہمیشہ سے ہی ایسا تھا۔
کیوں؟ بری بات ہے سوال پوچھنا؟

کسے معلوم تھا کہ آج سے 15 سال قبل ایک ڈرامے میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اداکاری کرنے والا اداکار کسی وقت پورے ملک میں اپنے ایک مضمون کے لیے اس قدر زیر بحث آئے گا۔ یاد رہے کہ زورین نظامانی اداکارہ فضیلہ قاضی اور اداکار قیصر خان نظامانی کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ حال ہی میں ان کا ایک مضمون 'it is over' ایکسپریس ٹریبیون کی ویب سائٹ سے ڈیلیٹ پایا گیا جس کے بعد ان کے مضمون کے ترجمے ہونے لگے جسے سوشل میڈیا صارفین مسلسل شئیر کر رہے ہیں۔

ادیب یوسفزئی کی وال سے

ضلع باجوڑ کے رہائشیوں کے لیے ”آن لائن کھلی کچہری“ کا انعقاد.
02/01/2026

ضلع باجوڑ کے رہائشیوں کے لیے ”آن لائن کھلی کچہری“ کا انعقاد.

انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے عادل راجہ،صابر شاکر،معید پیرزادہ وجاہت سعید کو دو دو بار عمر قید کی سزا سُنا دی۔
02/01/2026

انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے عادل راجہ،صابر شاکر،معید پیرزادہ وجاہت سعید کو دو دو بار عمر قید کی سزا سُنا دی۔

Address

Auburn
Sydney, NSW

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aneeb Zaheer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aneeb Zaheer:

Share