Humwatan Media Group

Call Directions Website Contact the business

Humwatan Media Group HumWatan International tv is an international newspaper,news media site, social media tv channel

بالی ووڈ کی معروف جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپور خان کی محبت کی کہانی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس جوڑی نے ح...
18/10/2026

بالی ووڈ کی معروف جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپور خان کی محبت کی کہانی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس جوڑی نے حال ہی میں کامیڈین کپل شرما کے’دی گریٹ انڈین کپل شو‘ میں بطور مہمان شرکت کی اور شو کے دوران کرینہ کپور خان نے اپنی ازدواجی زندگی کے ایک دلچسپ واقعے سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ سیف علی خان نے مجھے شادی کے لیے پہلے ممبئی پھر یونان اور تیسری بار پیرس میں پروپوز کیا، پہلی 2 مرتبہ تو میں نے انکار کردیا لیکن تیسری مرتبہ رضامندی ظاہر کردی۔
کرینہ کپور خان کی بات پر سیف علی خان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ ممبئی میں ہی ہاں کر دیتیں تو میرے کافی پیسے بچ جاتے۔ واضح رہے کہ سیف علی خان اور کرینہ کپور خان کو فلم ’ٹشن‘ کی شوٹنگ کے دوران 2007ء میں ایک دوسرے سے محبت ہوئی اور کئی برس ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کے بعد دونوں نے اکتوبر 2012ء میں ممبئی میں شادی کرلی۔ اب اس جوڑی کے دو بیٹے ہیں، بڑے بیٹے کا نام تیمور علی خان جبکہ چھوٹے بیٹے کا نام جہانگیر علی خان ہے۔

پنجاب حکومت کے اہم منصوبے ’پرواز کارڈ‘ کے تحت بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے 145 سے زائد امیدواروں سے کروڑوں روپے کے...
18/10/2026

پنجاب حکومت کے اہم منصوبے ’پرواز کارڈ‘ کے تحت بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے 145 سے زائد امیدواروں سے کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ اور دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔
صحافی اوصاف علی خان کی خصوصی رپورٹ کے مطابق 7 ارب روپے مالیت کے اس حکومتی منصوبے میں نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کے تمام اخراجات پنجاب حکومت نے ادا کرنے تھے، تاہم منتخب افراد سے فی کس لاکھوں روپے وصول کرلیے گئے، اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 90 لڑکوں اور 45 لڑکیوں کا انتخاب کیا گیا تھا، جن سے ویزہ، ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور دیگر سفری اخراجات کی مد میں فی کس 4 لاکھ روپے وصول کیے اور بعد میں رقم کی واپسی کا دلاسہ دیا گیا۔
منصوبے کی لانچنگ تقریب کے موقع پر ان تمام شرکاء کو ہدایت کی گئی کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سامنے اس بات کا اعتراف کریں کہ انہیں تمام مطلوبہ رقم اور سہولیات مل چکی ہیں، جس پر شرکاء نے چند روز میں رقم ملنے کی امید پر وزیراعلیٰ کو سب ٹھیک ہونے کا بتایا، مزید برآں ان امیدواروں کو یہ جھانسا بھی دیا گیا کہ سعودی عرب میں ان کی اپنی فیلڈ سے متعلق اعلیٰ ملازمتیں اور 11 ہزار سے 13 ہزار ریال تک ماہانہ تنخواہیں مقرر کی گئی ہیں۔
تاہم جب یہ امیدوار سعودی عرب پہنچے تو ان پر سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ انہیں کسی اعلیٰ عہدے کے بجائے بلدیاتی و صفائی کے شعبے میں معمولی مزدوری کی نوکری دی گئی ہے، جب متاثرین نے یہ مشقت طلب اور غیر متعلقہ کام کرنے سے انکار کیا، تو متعلقہ کمپنی نے معاہدہ ختم کرنے اور نوکری چھوڑنے کے عوض 5 ہزار ریال جرمانہ ادا کرنے کا کہہ دیا، اس سنگین اور نازیبا صورتحال کے بعد پنجاب سے گئے یہ تمام نوجوان سعودی عرب میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور حکومتی سطح پر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے لیے میری خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ میں نے ہوائی ...
18/10/2026

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے لیے میری خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ میں نے ہوائی قلعے نہیں بنائے بلکہ مستحقین کے لیے اپنی چھت کے خواب پورے کیے۔وزارت اعلیٰ کا منصب گاڑی میں بیٹھ کر آنے جانے کا نام نہیں، میری ترجیحات صرف اور صرف عوامی خدمت کے کام ہیں۔
لاہور میں سندھ کے انتظامی سروس کے افسران سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ ملک نے ہمیں عزت ، پہچان دی ، ہم اس ملک کے احسان مند ہیں، انتظامی سروس کے افسران ہمارے لیے قابل فخر ہیں، روز کی بنیاد پر افسران کے ساتھ مل کر ٹیم کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ وزارت اعلیٰ کا منصب گاڑی میں بیٹھ کر آنے جانے کا نام نہیں، میری ترجیحات صرف اور صرف عوامی خدمت کے کام ہیں، چیلنجز کے باوجود روز جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کے لیے گھر سے نکلتے ہیں، اپنے روزمرہ کے کاموں میں ایک منٹ بھی عوامی خدمت سے دور نہیں رہتی، ہر روز عوام کی فلاح اور بھلائی کے لیے فیصلے لیے جاتے ہیں، آفس آنا، حاضری لگانا اور مشکل کام چھوڑ کر آسان کام پر دستخط کر دینا نوکری نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میری اپنی کابینہ میں ایسے وزیر ہیں جو لوگوں کو اپنے دروازے پر بلا کر بھول جاتے ہیں، سرکاری مسند پربیٹھنے والے کو سب سے پہلے اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے، پنجاب کے حکومتی امور نمٹانے میں مجھے کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پنجاب کے لیے میری خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے، میں نے ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحقین کے لیے اپنی چھت کے خواب پورے کیے، اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا ہے، گھر بنانے کے لیے قرضے کی اقساط مرحلہ وار دی جاتی ہیں، ہر مرحلے پر گھر کی تعمیر کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، میں نے آج تک کوئی بھی افسر سفارش پر نہیں لگوایا، ہر جگہ میرٹ کا خیال رکھا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفدسے ملاقات ،سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیدی

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ مولانا کہتے تھے کہ کوئی بھی حکومت ان کے بغیر نہ بنتی ہے نہ چلتی ہے، می...
18/10/2026

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ مولانا کہتے تھے کہ کوئی بھی حکومت ان کے بغیر نہ بنتی ہے نہ چلتی ہے، میں انہیں کہتا ہوں کہ آپ کے بغیر کے پی حکومت بنی اور چلے گی بھی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی گزشتہ روز کی تقریر سے مجھے بہت مایوسی ہوئی، مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاستدان ہیں، ان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی۔ خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے۔ خیبر پختون خوا حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کر رہی یہ کہنا درست نہیں، خیبر پختون خوا کی سابق حکومت کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے کابل اور قندھار سے آتے تھے۔
سیاسی اتحاد اصولوں پر ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی کے سیاسی مؤقف میں تضاد ہے، کل جنہیں گالیاں دیتے تھے آج ان سے محبت جتا رہے ہیں، خواجہ آصف
فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں کے بعض مفرور عناصر سرحد پار بیٹھ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن بتائیں لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں کون سے پہاڑ اور معدنی وسائل موجود ہیں۔معدنی وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے، غیرملکی کمپنیاں، پاکستانی کمپنیاں اور خیبرپختونخوا حکومت مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہے، صوبے میں امن کے قیام کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، باقی تمام معاملات پر بات کی جاتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت چلانا بہت آسا...
18/10/2026

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت چلانا بہت آسان کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کرسی پر بٹھایا ہے جہاں ہر دن ایک نیا چیلنج ہے، جس کے کندھوں پر ذمہ داری ہو اسے رات کو نیند بھی نہیں آتی، لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ اللہ نے ایسے مقام پر رکھا جہاں میرا ایک فیصلہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔
سندھ کے انتظامی سروس کے افسران سے ملاقات اور خطاب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک جرنلسٹ نے مجھ سے کہا کہ آپ نے ہمیں سرپرائز کیا ہے اور ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آپ اتنی کامیاب ہو جائیں گی، میری جتنی تعریف ہوتی ہے اس سے زیادہ تنقید کی جاتی ہے، مگر مجھے اس کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے، اور میں روزانہ 30 کالز سن کر رات کو سوتی ہوں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چیف سیکریٹری اکثر کہتے ہیں کہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ وزیراعلیٰ بلا لیں تو پورا دن ضائع ہونے کا علم ہوتا تھا اور 10 بجے کا وقت ہو تو میٹنگ ساڑھے 12 بجے سے پہلے شروع نہیں ہوتی تھی، لیکن اب میں خود اگر کہیں 10 بجے پہنچنا ہو تو 9 بج کر 55 منٹ پر پہنچ جاتی ہوں، آسان کام کرنا آسان ہے مگر میں نے اس طریقے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے، میرے پروگرام میں میٹنگ 10 بجے کی ہے تو وہ اسی وقت ہوگی، ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جہاں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر 20 بندے دو دو گھنٹے انتظار کرتے ہیں، ان کی اپنی کابینہ میں بھی ایسے وزیر ہیں جو لوگوں کو بلا کر بھول جاتے ہیں کہ باہر لوگ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک نے ہمیں تعلیم، تربیت، پہچان اور عزت دی ہے، اب فیلڈ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، میری تعلیم پاکستان میں ہوئی، میں یہیں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور یہیں تعلیم حاصل کی، آج اللہ نے اس مقام پر بٹھایا ہے اس لیے پاکستانی ہونے پر فخر ہے، لوگ بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا ہے اور ہم باہر جا رہے ہیں، اس ملک نے ہمیں عزت دی ہے، میں نے خود باہر سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ بچے باہر سے پڑھے ہیں، آج میں کسی بھی ملک جاؤں اور پوچھا جائے آپ کہاں سے پڑھی ہیں تو وہ فخر سے کہتی ہوں کہ ’برن اِن پاکستان، میڈ اِن پاکستان‘۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمی...
18/10/2026

جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جو سیاسی کردار ماضی میں عائشہ گلالئی کو سونپا گیا تھا، اب وہی ذمہ داری موجودہ دور میں مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دی گئی تھی، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دی گئی ہے، اس بار بھی فلم وہی ہے، اسکرپٹ وہی ہے اور ہدایت کار بھی وہی ہیں۔
حافظ حمداللہ کہتے ہیں کہ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب پرانے کرداروں کی جگہ نئے اداکاروں کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے نئے فنکاروں اور اداکاروں کو اس مبینہ نئی ذمہ داری ملنے پر طنزیہ انداز میں مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کا یہ ردعمل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینئرسیاستدان سے دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، ان سے پوچھا جائے کہ کیا 13 سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں شریک ہوئے؟۔
مریم نواز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخواہ کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے، جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخواہ میں نااہلی کے انبار لگادیئے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا، صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیئے، جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا۔

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے ٹیوش...
18/10/2026

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے ٹیوشن فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کی ٹیوشن فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اس طرح فیس میں 35 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، جو سابقہ فیس کے مقابلے میں 233 فیصد سے زائد بنتا ہے۔
نئی فیس کا اطلاق رواں سال داخلہ لینے والے طلبہ پر ہوگا، جبکہ گزشتہ سالوں میں داخل ہونے والے طلبہ سے سابقہ مقررہ فیس ہی وصول کی جائے گی۔ اس فیصلے کے تحت نئے داخل ہونے والے طلبہ کو پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ فیس ادا کرنا پڑے گی۔
میڈیکل اور ڈینٹل کی تعلیم پہلے ہی طویل تعلیمی دورانیے اور دیگر اخراجات کے باعث طلبہ اور والدین کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج ہے۔ ایسے میں ٹیوشن فیس میں اضافے سے بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کی طبی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک پی ٹی آئی کے رہنم...
18/10/2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک پی ٹی آئی کے رہنما مولانا کو ’مولانا‘ کہنے کو گناہ قرار دیتے تھے، لیکن آج وہی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اتحاد اور اختلاف اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں، ذاتی مفادات اور اقتدار کی خواہش پر نہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی رہنما اپنے بیانات اور مؤقف بدل کر اپنی ساکھ اور وقار کو خود نقصان پہنچاتے ہیں۔ کل جن لوگوں کو گالیاں دی جاتی تھیں، آج ان سے محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلافات اور اتحاد دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن اصولوں کی بنیاد پر مؤقف میں تبدیلی اور ذاتی مفادات کے لیے سیاسی قلابازیاں لگانے میں فرق ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ذاتی تعلقات اچھے ہیں، تاہم وہ اس معاملے کو ذاتی تعلق کے بجائے سیاسی برادری کے طرزِ عمل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول سیاست دانوں کو اپنے ماضی کے بیانات اور آج کے مؤقف کا جواب دینا چاہیے، کیونکہ میڈیا اور عوام ان کے سابقہ بیانات یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے سیاست دانوں سے سوال کرنا ان کا حق ہے اور یہی سیاسی احتساب کا اہم ذریعہ ہے۔پاکستان میں حالیہ سفارتی اور دیگر اہم اقدامات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ان کے بقول ان اقدامات کی قیادت اور پیشرفت میں فیلڈ مارشل کا مرکزی کردار ہے۔
برفباری ،3روز سے بند بابوسر ٹاپ کو کھول دیا گیا
انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم ہونے کے باوجود اقتدار سے ہٹایا گیا، وہ جیل گئے، ان کی بیٹی بھی قید میں گئی اور ان کی اہلیہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ خود قید میں تھے، لیکن انہوں نے اپنی عزت اور وقار کا سودا نہیں کیا۔پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن کو مسلسل سیاسی معاملات میں مصروف رکھا گیا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں حالات سب کے سامنے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ اللہ کے فضل سے صوبے میں حالات بہتر ہوں گے۔
گورنر راج کے معاملے پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے نفاذ پر پارلیمنٹ غور کر سکتی ہے اور اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی ضمانت ہو۔مسلم لیگ ن چاہتی تھی کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں انتخابات کا اعلان کر دیا جائے اور ستمبر تک انتخابی عمل مکمل ہو، لیکن اس وقت اتحادی جماعتوں کا مؤقف تھا کہ اسمبلیوں کی باقی مدت پوری کی جائے۔ خواجہ آصف کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اس وقت ان کی اتحادی تھی اور حکومت میں اس کے پاس وزارتِ مواصلات سمیت اہم ذمہ داریاں تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اگلے ہفتے پشاور کا دورہ کریں گے : سرکاری ذرائع
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت نے حکومت کی تبدیلی کے بعد اپنے لیے بھی کوئی فائدہ یا اقتدار میں حصہ ملنے کی امید لگائی تھی تو یہ الگ معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی انتخابات کا موقع آئے گا تو مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنی قسمت آزما سکیں گی۔ ان کے بقول سیاسی اتحاد سے انہیں کوئی پریشانی نہیں، تاہم وہ عوام کے سامنے سیاسی رہنماؤں کے ماضی اور حال کے بیانات کا فرق رکھنا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ ان کے مؤقف میں اصولی تسلسل ہو۔ جب رہنما کل کسی کے خلاف سخت زبان استعمال کریں اور آج اسی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو عوام ان سے سوال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاست دانوں کا اصل احتساب یہی ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ وہ کل کیا کہتے تھے اور آج کیا کہہ رہے ہیں۔

17/10/2026

‏پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا کی حکومت نے ایشو کیے ہیں جی ایچ کیو یا فیڈرل حکومت نے ایشو نہیں کیے
‏کتنے پختونوں کتنے قبائلیوں کتنے افغانیوں کے نام ہیں سامنے لائیں ہمت کریں

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔ ...
17/10/2026

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ گولڑہ میں درج آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو باضابطہ طور پر مطلع کیا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، جس کے باعث ان کی عدالت میں حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔
بتایا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حاکم خان بھکر نے کی، سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے راجہ ظہور ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر نمائندگی کی، کیس میں نامزد شریک ملزم فاروق بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوا، وکیل صفائی راجہ ظہور نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے قانون کے احترام میں آج عدالت میں پیش ہونا تھا، تاہم پہلے سے گرفتاری کے باعث وہ عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر ہیں۔
دورانِ سماعت وکیل راجہ ظہور نے مؤقف اختیار کیا چونکہ ملزم پہلے ہی قانون کی تحویل میں اور گرفتار ہے، اس لیے اگر عدالت آج دوبارہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے تو اس کا انتظامی و قانونی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا، علی امین گنڈاپور کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر کیس میں گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے جا سکے، جس پر عدالت نے گواہوں کی شہادت کا عمل اگلی تاریخ تک کے لیے ملتوی کردیا۔
اس حوالے سے مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی، علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں آڈیو لیکس کے تناظر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی قانونی چارہ جوئی سیشن عدالت میں زیرِ التواء ہے۔

Address

Sydney, NSW
2144

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humwatan Media Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Humwatan Media Group:

Shortcuts

Share