VOH - Urdu360

VOH - Urdu360 Voice of Hazara - Urdu360
is the international Media Channel of Hazaranation.

یزیدِ زماں ، ایک شخص، ایک علامت یا ایک نظریہ؟تحریر از جے ایم ہزارہ ۔ یزیدِ زماں ایک ایسا تصور ہے جو ہر دور میں نئے روپ، ...
07/07/2025

یزیدِ زماں ، ایک شخص، ایک علامت یا ایک نظریہ؟
تحریر از جے ایم ہزارہ ۔

یزیدِ زماں ایک ایسا تصور ہے جو ہر دور میں نئے روپ، نئے چہروں اور نئے نظاموں میں جنم لیتا رہا ہے۔ لیکن اس کی پہچان ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ تاریخ میں یزید، صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک استعارہ بن چکا ہے۔
ظلم، جبر، آمریت، باطل نظام اور حق کے خلاف کھڑے ہونے کی علامت کو یزید زماں بھی کہا جاتا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ "یزیدِ وقت" کون ہے؟
اس کا جواب ہمیشہ یکساں نہیں رہا ہے ۔ یہ ایک سبجیکٹیو (انفرادی و تناظری) تشخیص ہے۔ جو ایک فرد کے نزدیک ظالم ہے، ممکن ہے دوسرے کے لیے مصلح، محافظ یا حاکم وقت ہو۔ یزید کا مفہوم اب صرف سن 61 ہجری کے ایک شخص تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا علامتی کردار بن چکا ہے جو ہر اُس فرد یا نظام میں جلوہ گر ہوتا ہے جو حق کے راستے میں رکاوٹ بنے۔ حق کا راستہ بھی ایک سبجکٹیف ایشو ہے ۔ داعش کے مطابق وہ حق پر ہے ، جبکہ القاعدہ کی نظر میں اہل حق صرف ان کے لوگ ہے ۔ جبکہ صیہونیت والے خود کو حق کہتے پیرتے ہیں جبکہ ولایت فقہ بھی خود کو حق کا وارث سمجھتا ہیں ۔ اسی طرح ان میں سے ہر کسی کا یزید زماں مختلف ہیں ۔ کسی ایک کا یزید زماں دوسرے کا محسن اور حق پرست ہے ۔

جیسے جیسے زمانہ بدلتا ہے، ظلم اور حق کی جنگ نئی شکل اختیار کرتی ہے۔
ایک سیاسی کارکن کے نزدیک یزید وہ آمر ہو سکتا ہے جو عوامی آواز کو دباتا ہے،
ایک عالم دین کے لیے وہ علماء جو دین کو اپنی مرضی سے ڈھالتا ہے،
ایک مظلوم قوم کے لیے وہ ریاست یا نظام ہو سکتا ہے جو ان کے وجود کا انکار کرے،
اور ایک عام شہری کے لیے وہ کوئی بھی طاقت ہو سکتی ہے جو اس کی آزادی اور ضمیر پر پہرہ بٹھائے۔

لہٰذا، یزید کا مفہوم افراد اور معاشروں کے تجربات، احساسات، اقدار اور نظریات سے جُڑا ہوا ہے۔ جس کو تم یزید کہتے ہو، ممکن ہے دوسرا اسے "قائدِ وقت" کہے، کیونکہ اس کا مفاد اس سے جڑا ہو یا اس کے زاویہ نظر میں ظلم کی تعریف کچھ اور ہو ۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی کو "یزیدِ زماں" کہتے ہیں، تو ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ محض ایک دینی یا تاریخی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ ایک طاقتور سیاسی اور سماجی بیان بھی بن چکی ہے۔ جس کی بنیاد ہمارے جذبات، مشاہدات اور تجربات پر ہے۔
کسی کے نزدیک امریکہ یزیدِ وقت ہے، تو کسی اور کے لیے ایران یا طالبان۔ کسی کے نزدیک بادشاہ ظلم کا استعارہ ہے، تو کسی اور کے نزدیک وہی بادشاہی نظام امن کا ضامن ہے۔

یہ سبجکٹیف حقیقت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے "یزیدِ وقت" کو پہچاننے سے پہلے سوال کریں:

کیا ہم جذباتی تعصب سے فیصلہ کر رہے ہیں یا واقعی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں؟ اور کیا مظلوم کا معیار یکساں ہے یا اپنا پسندیدہ مظلوم ہی مظلوم کہا جاتا ہیں ۔
کیا ہمارا یزید کہنا ظلم کے خلاف ایک شعوری ردعمل ہے یا محض سیاسی مخالفت؟
کیا ہمارا "حق" واقعی حسین کا راستہ ہے یا ذاتی مفاد کا لبادہ؟

یزیدِ وقت ایک زندہ اور متحرک علامت ہے۔ یہ کبھی ایک چہرہ ہوتا ہے، کبھی ایک نظام، کبھی ایک نظریہ۔ لیکن اس کی پہچان ہر فرد، ہر معاشرے اور ہر عہد میں مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے "یزیدِ وقت" کو پہچاننے کے لیے نہ صرف عقل، شعور اور علم کی ضرورت ہے، بلکہ دیانت، انصاف اور وسعتِ نظر کی بھی۔

ہر دور کا حسین وہ ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو، اور ہر دور کا یزید وہ جو ظلم کی پشت پناہی کرے لیکن ان کی شناخت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، کیونکہ سچائی اکثر پردوں میں چھپی ہوتی ہے، اور پردے ہم خود ڈال دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ دور کا حسین اور دور کا یزید ایک سبجکیف موضوع ہے ۔ کسی ایک کا یزید زماں دوسرے کا حسین زماں بھی ہو سکتا ہے اور کسی کا حسین زماں کسی اور کا یزید زماں بھی ہو سکتا ہے ۔ لہذا لازم ہے کہ سب کو یکساں نظر سے دیکھنا چاہیے ۔ جب مذہب کا سیاسی استعمال ہوگا تو لوگ اپنے مخالف کو یزید زماں کا لقب دے کر اور اپنے پسندیدہ فرد ، نظام یا نظریے کو حسین زماں کا لقب دے کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ جس طرح 61 ہجری میں یزید نے امام عالی مقام کے خلاف مذہب کا سیاسی استعمال کرکے امام عالی مقام کو خارجی قرار دے کر ان کی قتل کو جائز قرار دیا تھا ۔

مذہبی شدت پسندی اور دریا سندھ سے دریا کابل تک کا خطہ ! تحریر از جان محمد ہزارہ ۔ اس وقت پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے...
23/11/2024

مذہبی شدت پسندی اور دریا سندھ سے دریا کابل تک کا خطہ !
تحریر از جان محمد ہزارہ ۔

اس وقت پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے ۔ ان میں سر فہرست معاشی زوال اور خطے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی ہیں۔ تاریخی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو نو آبادیاتی دور سے لیکر آج تک اس خطے میں سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام نہیں آیا ہے ۔ بلخصوص دریا سندھ سے دریا کابل کے درمیان تک جو خطہ ہے نوآبادیاتی دور میں بھی یہاں سب سے زیادہ شورشیں رہی ہیں ۔ اس کے پیچھے بہت سارے عوامل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن عالمی قوتوں کی کردار سے اور نہ ہی قومی ، مذہبی و جغرافیائی تنازعات سے انکار کیا جا سکتا ہے ۔ 1947 کے بعد بھی یہاں پر وہی نوآبادیاتی پالیسیاں جاری رہی جس میں تشدد کے زریعے سے اپنی سیاسی مقاصد کا حصول سرفہرست رہتا ہے ۔ تا ہم مذہبی شدت پسندی کا نزول یہاں سرد جنگ کے دوران امریکی ایماء پر وجود میں آئی ۔

ویتنام جنگ کے بعد نام نہاد افغانستان ( بفر زون ) میں امریکہ نے اپنی روایتی حریف کمیونسٹ بلاک کو شکست دینے کیلئے اسلام کا سیاسی استعمال کرنا براہ راست شروع کی ۔ اس تمام کھیل میں مقامی اشرافیہ بھی برابر کے شریک رہے ۔ مذہب کے نام پر سیاست کا آغاز تو 1906 میں ہی برصغیر میں کاشت کیا گیا تھا ۔ لیکن فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے زمانے میں اس کو مزید توانائی عطا کی گی ۔
شیعت کے نام پر سیاست کا آغاز بھی جنرل ضیاء صاحب نے کرائی ۔ چونکہ انہوں نے غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر قبضہ جمائے ہوئے تھے لہذا انہوں نے ایک خود ساختہ مذہبی سیاست کی آب یاری کی ۔

ذبیع اللہ بلگن اپنی کتاب پاکستانی جماعتیں اور غیر ملکی فنڈنگ میں لکھتے ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر سیاست کو فروغ دیا اور شیعت کے نام پر سیاست کا اصل بانی بھی ضیاء الحق صاحب تھے ۔ وہ اس حوالے سے مزید لکھتے ہے کہ چونکہ ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ جماتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو روندا تھا اور پیپلز پارٹی میں اکثریت کا تعلق مسلکی بنیادوں پر اہل تشیع سے تھا ۔ لہذا پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے ضیاء الحق نے اس وقت کے ایرانی پراکسی علامہ عارف حسین الحسینی کی مکمل حمایت کر رہے تھے کیونکہ اس سے ضیاء الحق کو دو اہم مقاصد حاصل ہوتے ۔ اول کہ شیعت کے نام پر سیاست سے پیپلز پارٹی کمزور ہوتی ، دوسری پاکستان میں دیگر مسلک کے لوگ اہل تشیع کے خلاف ہو کر خود بخود جناب ضیاء الحق کو مضبوط کرتے اور عرب ریاستوں کی سرپرستی بھی ضیاء الحق کو ملتی کیونکہ عرب اور ایرانیوں کے درمیان ایک جنگ ہمیشہ سے جاری ہے ۔ اور یہی کچھ ہوتا رہا بعد میں فوجی ڈکٹیٹر نے بھی ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علماء کونسل کی بنیاد رکھی ۔

چونکہ علامہ عارف حسین الحسینی کا آبائی علاقہ پارہ چنار تھا ۔ لہذا مذہب کے نام پر وہاں سیاست نے جڑ پکڑنا شروع کیا ۔ ضیاء الحق اور ایرانی حمایت یافتہ علامہ عارف حسین الحسینی دونوں نے ملکر بارہ چنار اور بلخصوص کرم ایجنسی میں مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی ۔

در اصل اس مذہبی منافرت کے پیچھے اصل تخلیق کار ایران ، پاکستان اور امریکہ تھے ۔ ایرانیوں نے پارہ چنار کو چھوٹا قم بنایا اور وہاں سے خام مال انسانی شکل میں حاصل کرتے رہے ۔ پاکستانی اشرافیہ نے اسی کو جواز بناتے ہوئے امریکہ سے مزید ڈالر لیتے رہے اور تقسیم کرو حکومت کرو کے پالیسی پر بھی عمل پروا رہے ۔ یہ پروجیکٹ کثیر المقاصد تھے اور پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے پالیسیاں اکثر کثیر المقاصد ہوتی ہے ۔ اس طرح تینوں کا فائدہ ہوا لیکن سب سے بڑی نقصان کا سامنا عام عوام کو ہوئی ۔

صوبہ سرحد میں سنی مسلک کے مقابلے میں شیعہ مسلک کے لوگ اقلیت میں ہے ۔ اسی نوعیت کے حالت کا شکار کویٹہ میں بھی بلخصوص ہزارہ قوم کے لوگ ہوئے ۔
بلوچستان بھی صوبہ سرحد کی طرح ہمیشہ سے شورشوں کا مرکز رہا ہے ۔ جبکہ موجودہ حالت میں صوبہ سرحد کے مقابلے میں بلوچستان کی اہمیت زیادہ ہے ۔ یہاں نہ صرف مذہبی شدت پسند تنظیمیں اپنی وجود کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ یہاں مسلح قوم پرست نظریات رکھنے والے گروہ بھی شورش کا حصہ ہے ۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال نومبر کے پہلے عشرے تک بلوچستان میں فائرنگ اور دھماکوں سے 271 افراد جاں بحق جبکہ 590 افراد کے قریب زخمی ہوئے ہیں ۔ سال 2023 میں ٹوٹل 622 واقعات ہوئے تھے تا ہم اس سال نومبر کے پہلے عشرے تک کل 733 واقعات ہوچکے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال بلوچستان میں 17 سے 80 فیصد کے قریب شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن 1998 کے بعد 2024 وہ واحد سال ہے جس میں بلوچستان میں فرقہ وارنہ ٹارگیٹ کلنگ ، ہزارہ قوم اور ٹرینوں پر حملے نہیں ہوئے ہیں ۔

اس خطے میں نا امنی کے پیچھے کئ عوامل وجود رکھتی ہے ۔ تا ہم ناگفتہ نہ رہے کہ دریا سندھ سے دریا کابل کے درمیان جو خطہ ہے یہ ایک حوالے سے قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی خدو خال سے بھی مالا مال ہے ۔ پاکستان میں رہی سہی زراعت بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور پاک بھارت خراب سیاسی تعلقات کی وجہ سے پہلے جیسی منافع بخش نہیں رہا ہے ۔ لہذا پاکستان کی واحد معاشیات کا انحصار بیرونی ممالک سے امداد اور قدرتی وسائل ہی اب رہا ہے ۔ بیرونی امداد کا واحد جواز تشدد پسندی کے خاتمے سے اکثر یہاں جوڑا گیا یے ۔

پارہ چنار کے اہل تشیع کی طرح بلوچستان اور بلخصوص کوئٹہ شہر میں ہزارہ قوم کے لوگ بھی محاصرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ یہاں پر بھی نام نہاد مذہبی دہشگردی کے بہانے سے مقامی زرایع کے مطابق 3000 سے زائد افراد کا قتل کیا جا چکا ہے اور ڈان نیوز کے ایک رپورٹ کے مطابق 70 ہزار کے قریب ہزارہ برادری کے لوگ 2002 سے 2018 کے درمیان تک کوئٹہ سے باہر ہجرت کر چکے ہیں ۔ ہیومن رائٹس کمیشن اف پاکستان کے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سال 2009 سے 2014 کے درمیان تک 1 ہزار افراد کے قریب ہزارہ قوم کے لوگ دہشگردی کے شکار ہوئے ۔

اگر چند دونوں صوبوں میں مذہبی شدت پسند گروہ مقامی اہل تشیع کی قتل و غارتگری کی جواز ایرانی پراکسی سے جوڑتے رہے ہیں لیکن جنرل ضیاء الحق اور علامہ عارف حسین الحسینی جس طرح دنوں اتحادی تھے بلکل آج بھی پاکستانی اشرافیہ اور ایرانی اشرافیہ کچھ معاملوں کے حوالے سے نزدیک اور اتحادی ہے ۔

ایک مرتبہ پھر گزشتہ روز پارہ چنار سے پشاور جانے والے مسافر بردار گاڑیوں پر مسلح نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 42 افراد کے قریب جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ بظاہر مذہبی فرقہ وارنہ دیکھائی دیکھنے والا یہ واقعہ دونوں اتحادی اشرفیوں کا وسیع تر مفادات کیلئے آپسی کھیل بھی ہو سکتا ہے ۔

کیونکہ رواں سال کوئٹہ میں جلوس عاشورہ کے مواقعے پر بھی کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیموں کے جھنڈے نامعلوم افراد کی جانب سے بر آمد کرنے کی کوشش کی گئ تھی ۔ تا کہ اس سے صوبہ میں مذہبی فرقہ واریت اور شدت پسند مذہبی گروہوں کا جواز فراہم ہو جائے ۔ اس سلسلے میں ہزارہ سیاسی کارکنوں کی جانب سے اس پر شدید رد عمل آئی ۔ اس فعل کی عوام نے بھی شدید ردعمل دیکھتے ہوئے مذمت کی ۔
اور اگلے ہی چند ماہ بعد کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں لاہور سے در آمد شدہ ایک متنازعہ اور ایرانی پراکسی ملا کو سرکاری سرپرستی میں پروٹوکول دیا گیا ۔ جس سے اس بات میں وزن پیدا ہوتی ہے کہ عاشورہ والے دن کالعدم جھنڈوں کا بر آمد ہونے کی کوشش ایرانی اور پاکستانی اشرافیہ کی آپسی ملی بھگت سے ہوئی تھی ۔ اس بات کو وزنی مقامی قوم پرست سیاسی حلقوں کی خاموشی سے ہوتی ہے ۔

تا ہم ایک علمی سیمنیار میں کویٹہ سے ایم ڈبلیو ایم کے رہنما ملا حسنین نے کالعدم جماعتوں کے جھنڈوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ۔ اور نجی ہوٹل کے سیمنار میں بھی غائب رہے جبکہ اس کے مقابلے میں شیعہ علماء کونسل کے رہنما اس سرکاری سیمنار میں شریک تھے ۔

باز ہزارہ سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ بیس سالہ قتل عام کے دوران ایم ڈبلیو ایم کا بد نام ہونے کے بعد سرکار نے اپنا روایتی پتہ شیعہ علماء کونسل کو کوئٹہ میں مختلف ناموں اور بیانیوں کے ساتھ لانچ کر دی ہے ۔

ماہرین کے مطابق مذہبی شدت پسند گروہوں سے پاکستانی اور ایرانی اشرافیہ کو حقیقی طور پر زیادہ نقصان کا سامنا نہیں ہوتا جبکہ قوم پرست مسلح تنظیمیں دونوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس لیے کچھ سازشی تھیوریوں کے تحت یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ قوم پرست مسلح کالعدم جماعتوں کی بیخ کنی کرنے کیلئے بھی اس خطے میں نام نہاد مذہبی شدت پسندی کو پیدا کیا جاتا رہا ہے ۔

مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک مرتبہ پھر موجودہ
موجودہ خطے میں منتقل کیا جا سکتا ہے کیونکہ سرد جنگ کے دوران یہ عالمی قوتوں کا روایتی میدان جنگ رہا ہے ۔
ایران اور اسرائیل سرد جنگ اب گرم جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ ایرانی سرکار نے اسرائیل کی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے انسانی پراکسی لشکروں کا سہارا لینے کا اعلان کر چکے ہیں ۔

لبنان محاز پر مسلسل عرب جنگجووں کی شکست اور کمی کو پورا کرنے کیلئے دنیا بھر سے پراکسی وہاں منتقل کرنے کی ایران کا آزمودہ نسخہ ہو سکتا ہے ۔ جس کی جواب بھی امریکہ اور اسرائیل انسانی خام مال بر امد کرنے والوں پر زندگی تنگ کرکے ایرانی انسانی ایندھن کی راہ بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

دریا سندھ سے دریا کابل کے درمیان تک مذہبی شدت پسندی امریکہ ، پاکستان اور ایران کا اپنا پیدا کردہ کارنامہ ہے ۔
کوئٹہ میں مقیم اپنی بقاء کی جنگ میں مصروف ہزارہ قوم کیلئے بہتر ہے کہ وہ وکٹ کے چاروں طرف کھیلنے کے بجائے آئین کا چھتری مضبوطی سے تھامے اور ہر قسم مذہبی سیاست سے گریز کرتے ہوئے مذہبی جواز فراہم کرنے والوں کا سیاسی قلع قمع کریں ۔

اور یہ بات بھی ضرور یاد رکھیں کہ خطے میں جغرافیائی تبدیلی سے قبل ہمیں اپنی سرنوشت کیلئے اپنی منزل کا انتخاب کرنا چاہیے بصورت دیگر اجتماعی قتل عام یا جبری ہجرت کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔

Reference:
Dawn Newspaper Article.
The Guardian Newspaper
Human Rights Commission of Pakistan
پاکستانی جماعتیں اور غیر ملکی فنڈنگ ۔ زبیع اللہ بلگن
پاکستان میں فرقہ واریت کی تاریخ ۔ حمزہ علوی ۔
The Ghost War By Steve Coll
The Creation of Muslim League 1906.
The New Great Game from Gilgit - Baldistan to Gawadar From kaka khail.

نام کتاب " دوختر وزیر " مصنف : ڈاکٹر للیاس ہملٹن ترجمہ نگار : اشفاق بخاری تبصرہ : جے ایم ہزارہ کتاب  " دوختر وزیر " ایک ...
22/12/2023

نام کتاب " دوختر وزیر "
مصنف : ڈاکٹر للیاس ہملٹن
ترجمہ نگار : اشفاق بخاری
تبصرہ : جے ایم ہزارہ

کتاب " دوختر وزیر " ایک ناول استہ ، کی دہ بارے بیست ومنہ صدی " جنگ ھای کی منے قوم دلیر ھزارہ و قابض افغان ھا شدہ بیان شدہ ۔ ای ناول را یک انگریز ڈاکٹر و مصنفہ ڈاکٹر للیاس ہملٹن نوشتہ کدہ ۔ وہ خود شی دہ سال 1890 از شہر کلکتہ بنگال ہندوستان دہ کابل مورہ ۔ و تقریباً 6 سال زیاد وہ دہ کابل مومنہ ۔ ای انگریز خاتون ذاتی طور پر علاج و معالجہ " ملعون افغان بادشاہ عبدالرحمن " را ام موکد ۔

ای نوشتہ ازی باری اول دہ زبان انگریزی دہ سال 1900 چھاپ شد ، ازو باد ای کتاب " دوختر وزیر" ام دہ فارسی ھزارگی و ہم دہ اردو ترجمہ شدہ ۔

از انگریزی ایرا دہ اردو اشفاق بخاری ترجمہ کدہ ۔ کی خود مترجم استاد دانشگاہ در شعبہ زبان اردو بودہ ۔

کتاب دوختر وزیر از نام شی معلوم موشہ کی دہ باری دوختر وزیر ہی گب زدہ شودہ ، وزیر نام شی غلام حسین ہزارہ استہ کی یک از وزیر ھای امیر ھزارہ قوم استہ کی خلاف افغان قابض بادشاہ تا آخری حدود زندگی خو مبارزہ مونہ ۔
ای وزیر بیسار ادم قابل و فامیدہ و سر خلاص استہ ۔ و دوختر ازی نام شی استہ " گل بیگم ہزارہ " کی منے کتاب دوختر وزیر مخاطب شدہ ۔ وزیر دوختر خورہ ام بیسار بہترین تربیت مونہ ۔

زمانے کی افغان قابض فوج بلے ھزارستان حملہ آوار موشہ ، افغان قابض قوم را انگریز ھا مکمل پیسہ ، نفری و اسلحہ میدہ ، بیسار دہ تعداد کلان " ماہر نشانہ باز " کی انگریز استہ قد افغان فوج یک جای شدہ حملہ بلے ھزارستان مونہ ۔
ڈاکٹر للیاس ہملٹن نوشتہ کدہ کی مردم ھزارہ از صد ھا سال ازاد بطور قبائلی بلے سرزمین ھای خو زندگی موکد ۔ وقتی کی قابض افغان بادشاہ کوشش مونہ ھزارہ ھا تسلیم شونہ ، و ٹیکس بیدہ ، ونجی ھزارہ ھا از تسلیم شدو انکاری موشہ و تا آخری حدود را از سرزمین خو دفاع مونہ و جنگ مونہ ۔

از خاطر جنگ وزیر غلام حسین ھزارہ دوختر خورہ گل بیگم ھزارہ را از منطقے خود خو دہ جائ دیگہ رای مونہ ، تا کی خدا نخواستہ ناموس باد از جنگ دہ دست دشمن نرہ ۔
لیکن بالا آخر گل بیگم ھزارہ بادی ازی کی دہ جنگ ھزارہ ھا دوچار مسائل موشہ ، بطور جنگی قیدی کابل بور دہ موشہ ۔

گل بیگم ھزارہ انتہائی ہوشیار و عقل مند دوختر استہ ، دہ ہر جائ خود خورہ بچاو مونہ ، و تا آخری وقت را کوشش مونہ کی واپس دہ ھزارستان بایہ از کابل ،

منے ازی ناول چند بہترین صفات ھای گل بیگم ھزارہ را ام تذکرہ شودہ مثلآ " یک جائ کی دیگہ کی جنگی قیدی ھا گل بیگم ھزارہ را موگہ از مالکن برای خو نو کالا بیخایو ۔ انجی گل بیگم ھزارہ موگہ ما دہ نو کالا ضرورت ندروم ، ما دہ آزادی ضرورت دروم ۔

گل بیگم ھزارہ انتہائی آزاد پسند و خود دار دوختر استہ ۔ امزو خاطر تا آخری قطرے خون خو کوشش مونہ کی آز غلامی آزاد شونہ ۔

ای کتاب " دوختر وزیر " سیاسی ، معاشی و فرہنگ حالت امزو وقت و جنگ ھای منے فرزندانِ ھزارستان را قد قابض افغان ھا را بیسار دہ بہترین انداز احاطہ کدہ ۔ کلان ترین خوبی ازی کتاب اینی استہ کی نوشتہ گر ازی دہ امو زمان خود شی دہ کابل موجود بودہ ، و ہر چیز را کی ہوش کدہ امورہ نوشتہ کدہ ۔ یعنی پرائمری سورس امی خود شی بودہ ۔

و شودہ میتنہ کی بطور سند ازی کتاب استفادہ شونہ ، چون ظلم ھای کی قابض افغان سامراج باد از جنگ ھا قد مردم ھزارستان کدہ وہ غیر انسانی و زد قوانین جنگی بودہ ، کی تذکرے ازی منے ازی کتاب ام شودہ ۔

منے ازی کتاب مصنفہ کوشش کدہ کم و بیش وجوہات شکست مردم ھزارستان را ام بیان کنہ ، مثلآ یک از وجوہات شکست مردم ھزارستان ای بودہ بقول مصنفہ کی مردم ھزارستان مطابق امزو زمان و مکان اپڈیٹ نہ بودہ ،
اسلحہ ھای مردم ھزارستان روایتی بودہ ، جبکہ دہ مقابلے مردم ھزارستان افغان قابض فوج منظم و مکمل حمایت انگریز ھا را دشتہ بودہ ۔ یک ہم وجہ شکست ای ام بودہ کی افغان قابض فوج را انگریز ، نفری ، پیسہ و اسلحہ مسلسل کمک موکد ۔

دوئم منے ازی کتاب منظر کشی یک جاہل و پسماندہ قبائلی معاشرہ را ام کدہ کی منے معاشرے قد خواتین بیسار امتیازی سلوک ھا موشدہ بودہ ۔ و احساس بیگانگی را ام منظر کشی شی شدہ کی مختلف قبیلے ھزارہ ھا قد یک دیگے خو بیگانہ بودہ ، یعنی دہ نام قبیلہ اینا تقسیم در تقسیم بودہ ۔

مرکزی نقطہ ازی کتاب را کی ما فامیدوم وہ استہ کی ناول مکمل مکمل بلے جہد مسلسل و آزادی و خودمختاری مشتمل استہ ۔ ای ناول یک طرف ظلم و ستم ھای قابض افغان ھا را قد مردم ھزارستان نشان میدہ ، جبکہ دویم طرف ای وجوہات شکست را بیان مونہ ، سویم چیز عزم و ہمت ھزارہ ھا را نشان میدہ کی تا آخری حدود را از مادر وطن خو دفاع مونہ و حد تا یک دوختر کی نام شی گل بیگم ھزارہ استہ بے انتہا آزادی پسند و نفرت از غلامی مونہ ، چہارم چیز کی ای ناول بیان مونہ وہ ای استہ کی جنگ منے قابض افغان ھا و مردم ھزارستان از خاطر آزادی و خودمختاری ھزارہ ھا استہ ۔

برای کی اگو کس بوفامہ مسلہ ھزارہ ھا قد افغان ھا چی استہ ، بیسار لازم استہ کی ای کتاب را مطالعہ کنہ ، چون افغان ھا ایک قابض اجنبی طاقت استہ جبکہ ھزارہ ھا از خاطر دفاع مادر وطن خو جنگ مونہ ، و ای جنگ تا امروز را ام ادامہ درہ ۔ بلخصوص ای کتاب را مطالعہ برای ہر زن و دوختر ھزارہ مانندہ " نان خوردو " وری لازمی استہ کی مطالعہ کنہ ۔ چون واقعین ہمت و آزاد پسندی گل بیگم ھزارہ یک بہترین نمونہ برای نسل جدید و خواہران عزیز ازمو استہ ۔

ہزارہ کلچر ڈے ! تحریر از جان محمد ہزارہدنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس کا اپنا کوئی کلچر نہ ہو اور نہ ہی کوئی کلچر قوم کے...
17/05/2023

ہزارہ کلچر ڈے !
تحریر از جان محمد ہزارہ

دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس کا اپنا کوئی کلچر نہ ہو اور نہ ہی کوئی کلچر قوم کے بغیر وجود رکھتی ہیں۔ محکوم قوموں کیلئے کلچر ایک ہتھیار ہوتی ہیں کہ جس کے زریعے سے وہ قابض کے خلاف مزاحمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرتی ہیں ۔ کلچر سے ہی قوموں کی شناخت ہوتی ہیں ۔
اج ایک ایسے دور میں جب ہزارہ قوم انتہائی بحرانوں کا شکار ہیں ، کلچر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔
کیونکہ
نسل خطرے میں ہے ۔
شناخت خطرے میں ہے ۔
تاریخ خطرے میں ہے ۔
زبان خطرے میں ہے ۔
قومی وقار خطرے میں ہے ۔
فرہنگ خطرے میں ہے
ہزارہ خطرے میں ہے اور ہزارستان خطرے میں ہیں۔

سامراجی طاقتوں کا پہلا حملہ محکوم قوموں کی کلچر پر ہوتی ہیں ۔ جب نازی جرمنی کے معروف پروپیگنڈا وزیر گوئبلز نے کچھ لوگوں کو ثقافت کے بارے میں گفتگو کرتے سنا تو غصے میں اکر پستول نکالا اور ان سب کو قتل کر ڈالا ، کیونکہ استعماری طاقت کے خلاف مزاحمتی عمل میں ثقافت کا کردار انتہائی اہمیت کے حامل ہوتی ہیں ۔

ثقافت کا بنیادی تعلق سرزمین سے ہوتی ہیں۔ ثقافت کو سیاست اور معیشت سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ نسل ، شناخت ، تاریخ ، زبان ، قومی وقار ، فرھنگ اور ہزارہ کے بعد آخر میں ہزارستان خطرے میں ہے کا ذکر اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ جب تک ہزارستان کو نہیں بچایا جائے گا اس وقت تک ( نسل ، تاریخ ، زبان ، شناخت، قومی وقار ، اور ہزارہ ) تمام چیزوں کو نہیں بچایا جاسکتا ہیں۔

افغان سامراج نے ہر دور میں یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہماری کلچر کو مسخ کرئے ، ہمیں افغان ملت میں ضم کریں ، چونکہ ہزارستان افغانیوں کیلئے ایک نوآبادیاتی ہے ۔ سامراجی بالا دستی کی بنیاد زیر دست سماج کی پیدوار قوتوں کو پسماندہ رکھنا ہوتی ہے ۔ اس کے زریعے عوام کو اپنی مخصوص تاریخی ترقی کے عمل کو روکا جاتاہے ۔ کسی بھی سماج میں پیداواری قوتوں کی ترقی کو سمجھنا در اصل اس سماج کے تمام پہلوں کو سمجھنے کا نام ہے ۔

پیداواری قوتوں کی ترقی کا تعلق ثقافت سے ہے ۔ چونکہ ہزارستان افغانیوں کیلئے ایک نو آبادیاتی ہے اس لئے تمام قوت پیداوار پر افغان قابض ہے اسی لیے ثقافتی لحاظ سے ہزارہ کافی کمزور نظر آتے ہیں۔

ثقافت کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا ۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنا ہوگا کہ نو آبادیاتی نظام میں محکوم قوموں کی ثقافت بھی مسخ کی جاتی ہیں اور چی گویرا کے بقول جب غلاموں ، قابضوں اور ظالموں کیخلاف بغاوت نہیں کی جاتی ہے تو غلامی قوم کا کلچر بنتی ہیں ۔ چونکہ ہزارستان افغان نو آبادیاتی ہے لہذا نو آبادیاتی کلچر کی شناخت اور بیخ کنی اور کلچر کو بطور ہتھیار آزادی کیلئے استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہیں۔

ہزارہ کلچر کو ہزارستان کی آزادی کے بغیر نہیں بچایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو دنیا کے سامنے اس کی حقیقی چہرے کی مناسبت سے پیش کیا جاسکتا ہے ۔

غلامی میں رہتے ہوئے کلچر منانے کا مقصد کسی قومی ننگ سے کم نہیں ہے ۔ تاج برطانیہ کے احکام اعلیٰ جب ہندوستان کے دورے پر آتے تھے تو وہ مقامی لوگوں کو کہہ دیتے کہ وہ اپنی قومی لباس میں ملبوس ہو کر ان کا استقبال کریں۔

مقامی محکوم لوگ خوش ہوتے کہ وہ اپنی قومی لباس میں برطانیہ کے اعلیٰ حکام کے سامنے ہونگے جبکہ در اصل انگریز سامراج انہیں نفسیاتی طور پر شکست دینے کیلئے انہیں ان کے قومی لباس پہنا کر غلامی کرواتے تا کہ ان میں اور مقامی لوگوں میں واضح فرق ہوں اور یہ تصور دیا جائے کہ وہ تہذیبی طور پر انگریزوں سے کم تر ہیں۔

ایسے موقعے پر وہ مقامی لوگوں کو انگریزی لباس کے ساتھ ان کی استقبال سے منع کرتے کیونکہ اس سے وہ سب برابر نظر آئینگے ۔ یہ اور بھی خطرناک ہوگا کہ ہم اپنی قومی لباس ، زبان ، اور ثقافت کو اختیار کرتے ہوئے غلامی کریں کیونکہ جب غداروں ، قابضوں اور ظالموں کے خلاف بغاوت نہیں کیا جاتا تو غلامی کلچر بن جاتی ہیں۔ لہذا ہمیں کلچر ڈے مناتے ہوئے اپنی نئ نسل کو غداروں ، قابضوں اور ظالموں کے خلاف بغاوت اختیار کرنا سیکھنا چاہیے ۔

کلچر انسانوں کا تخلیق کردہ ہوتی ہیں ۔ کلچر ایک متحرک عمل ہوتی ہے ۔ اور نئ کلچر اختیار کیا جاسکتا ہیں۔ اگر کوئی ہزارگی ، ٹوپی ، شال ، اور ہزارگی زبان میں کسی کی غلامی کررہا ہوں تو یہ اور بھی خطرناک اور قومی ننگ ہوگی ۔ چونکہ ہم اس وقت غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں لہذا ہمیں کلچر ڈے اس طریقے سے منانے کی اشد ضرورت ہے کہ افغان سامراج کے خلاف اور ہزارستان کی آزادی کیلئے نوجوان نسل کو امادہ کیا جاسکے۔ اگر کلچر ڈے کی منانے سے ہم ہزارستان کی آزادی کے قریب نہیں ہورہے ہیں تو وہ یقیناً غلامی کا کلچر ہے ۔ کیونکہ جس طرح

" ملا کو جو ہے ہزارستان میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ ہزارہ ہے آزاد ،

ٹھیک کلچر ڈے والے بھی غلامی کا کلچر منانا کر خود کو ازاد خیال کریں گے جس سے نئ نسل گمراہی میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔

قزاقستان کے وزیر اعظم نزر بایوف  عوامی احتجاج کے بعد مستعفی ہوگئے۔
06/01/2022

قزاقستان کے وزیر اعظم نزر بایوف عوامی احتجاج کے بعد مستعفی ہوگئے۔


06/01/2022

کوئٹہ کے ایک پشتون تاجر حاجی رازق بڑیچ نے مدینہ مسجد کراچی کو بچانے کےلئے میدان میں آگیا۔

50 کروڑ روپے دینے کے لئے تیار ہوں لیکن مسجد کو شہید نہ کیاجائے.

• ‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹی وی چینلز کو آڈیو /وڈیو لیک چلانے سے منع کردیا• پیمرا نے ٹی وی چینلز کو مراسلہ جاری کر دیا. ...
06/01/2022

• ‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹی وی چینلز کو آڈیو /وڈیو لیک چلانے سے منع کردیا

• پیمرا نے ٹی وی چینلز کو مراسلہ جاری کر دیا.


استحکام اور مستقل بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے• ایس، ایس، پی ٹریفک کوئٹہ کیپٹن (ر) شیرعلی ہزارہ نے کالے شیشوں والی گاڑیوں،...
05/01/2022

استحکام اور مستقل بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے

• ایس، ایس، پی ٹریفک کوئٹہ کیپٹن (ر) شیرعلی ہزارہ نے کالے شیشوں والی گاڑیوں، پرائیوٹ گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹوں، پولیس سائرن و بوسٹر کو پرائیوٹ گاڑیوں پر لگانے کیخلاف زبردست اقدامات سے شہر میں عوام کا اعتماد بحال اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں حوصلہ شکنی ہوئی ہے،

• آئی جی پولیس بلوچستان بہتر کارکردگی کی بنیاد ایس، ایس، پی ٹریفک کوئٹہ کیپٹن (ر) شیرعلی کو حسن کارکردگی پر تعرفی اسناد سے نوازیں تاکہ شہر میں ٹریفک مزید بہتری کیجانب جائے اور اس میں مستقل بنیادوں پر بہتری آئے۔


وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کابینہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کروائیں۔ عبدالمالک کاکڑ صدر بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیس...
05/01/2022

وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کابینہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کروائیں۔

عبدالمالک کاکڑ
صدر بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن۔

سیکرٹریٹ کیڈر کے مسئلہ پر کابینہ کا واضح فیصلہ آچکا ہے عملدرآمد کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو سول سرونٹ کو ذاتی ملازم سمجھ کر تعیناتیاں کر رہے ہیں۔ عبدالمالک کاکڑ

سول سرونٹ ریاست کا ملازم ہے کسی سیاسی حکومت یا سیاسی جماعت کا نہیں۔ عبدالمالک کاکڑ

سول سروس میں سیاسی مداخلت، آئین کی خلاف ورزی ہے۔

سول سروس کی بنیاد قانون اور آئین ہے۔ انحراف معاشرے میں انارکی کا سبب بنتا ہے اور ادارے کمزور ہوتے ہیں۔

ایماندار اور پریشر میں نہ آنے والے آفیسرز کو OSD کیا جا رہا ہے۔ عبدالمالک کاکڑ

گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایماندار، باکردار اور مضبوط بیوروکریسی کی ضرورت ہے۔

پوسٹنگ ٹرانسفر سیاسی بنیادوں پر غیر قانونی ہے۔ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کرے گی۔

وزیراعلی بلوچستان کو بار بار یاد دلا رہے ہیں کہ بی ایس ایس اور بی سی ایس کے مابین شیئر ڈسٹریبیوشن کا مسئلہ ہمارے لیے بنیادی مقصد رکھتا ہے۔


کویٹہ : فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) 2019 ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے رکن صوبائی مشیر کھیل و ثقافت ...
05/01/2022

کویٹہ : فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) 2019 ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے رکن صوبائی مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے دس لاکھ 42 ہزار رقم ٹیکس ادا کیے۔


Address

Rajshahi Division

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VOH - Urdu360 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share