07/17/2026
بائے بائے گریس
یونان میں آبادی میں کمی
تارکینِ وطن کی روانگی تشویش کا باعث
————————
ایتھنز(البدر نیوز رپورٹ )یونان کی آبادی میں مسلسل کمی اور تارکینِ وطن کے ملک چھوڑنے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یونان نے معاشی بحران سے نکل کر سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی حاصل کی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں رہنے والے بہت سے یونانی اور غیر ملکی مستقبل کے لیے خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران یونان میں 65,400 بچوں کی پیدائش جبکہ 120,800 افراد کی وفات ہوئی، یعنی اموات کی تعداد پیدائش سے تقریباً دو گنا رہی۔ اسی عرصے میں یونان میں مقیم غیر ملکیوں کی تعداد میں 140,500 افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ملازمت کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد بھی کم ہو کر 97,500 رہ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مختلف شعبوں میں کارکنوں کی شدید ضرورت ہے، مگر کم تنخواہیں، غیر تسلی بخش کام کے حالات اور رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لوگوں کو یونان میں رہنے سے روک رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی نظام بھی ایسی مہارتیں فراہم نہیں کر رہا جن کی معیشت کے مختلف شعبوں میں ضرورت ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زندگی کے معیار سے متعلق عوامی اطمینان کم ہے۔ شہریوں نے بلدیاتی اور علاقائی خدمات کو 10 میں سے صرف 4.3 نمبر دیے۔ عوام نے پارکنگ کی کمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور فٹ پاتھوں، معذور افراد کے لیے ناکافی سہولیات اور آوارہ جانوروں کے ناقص انتظام کو اہم مسائل قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صرف معیشت ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی سہولتیں،تارکین وطن کو آئے روز نئے سخت امیگریشن قوانین اور یہ احساس کہ ایک شخص کو کسی ملک میں کیسےخوش آمدید کہا جاتا ہے، بھی اس بات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ لوگ وہاں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بہت سے تارکینِ وطن اب یونان چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔