08/14/2026
تحقیقاتی رپورٹ: عمران خان کے متعلق سنسنی خیز دعوے، فوجی خاموشی اور ’ثبوتِ حیات‘ کی اندرونی حقیقت
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں صحت اور مبینہ وفات کے حوالوں سے وائرل ہونے والی خبروں پر سینئر صحافی اور اینکر وجاہت سعید خان نے نیو یارک سے اپنی حالیہ رپورٹنگ میں تفصیلی وضاحتیں پیش کی ہیں۔ 30 سالہ صحافتی تجربے اور دفاعی و سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی کی اس رپورٹ کے بعد ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی ایوانوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
1. فوجی ذرائع کا موقف: وفات کی نفی لیکن شدید اندیشے
وجاہت سعید خان کے مطابق، ان کے جی ایچ کیو کے اندرونی شعبہ جات جن میں جنرل اسٹاف ، ملٹری انٹیلی جنس اور سی 41 ڈائریکٹوریٹ سے وابستہ تین سینئر فوجی افسران اور ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر شامل ہیں، نے عمران خان کی وفات کی کوئی تصدیق نہیں کی۔
تاہم، ان ذرائع نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ "شاید کچھ بہت برا ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے"۔ اس گہرے خوف کی بنیادی وجہ ملٹری کے اندرونی حلقوں میں قائم غیر معمولی، پراسرار اور خوفناک خاموشی ہے، جبکہ ادارے میں اپنے ہی لوگوں پر سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جا چکا ہے۔
2. اڈیالہ جیل کا کنٹرول اور سیکورٹی نیٹ ورک
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اب سول انتظامیہ یا جیل حکام کے اختیار میں نہیں رہی۔
ایم آئی کا کنٹرول: جیل کو ملٹری انٹیلی جنس کی 308 سروس سیکشن نے اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا ہے، جس کی براہِ راست نگرانی برگیڈیئر، کرنل اور میجر رینک کے افسران کر رہے ہیں۔
جدید نگرانی : جیل کے اندر اور عمران خان کے سیل کے اطراف انتہائی جدید سرولیئنس اور سی سی ٹی وی سسٹمز نصب کیے گئے ہیں۔
مخصوص کمانڈ: سیکورٹی اور فیصلے کرنے والا ایک بہت چھوٹا انٹیلی جنس گروپ ہے جو بلاواسطہ طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو رپورٹ کرتا ہے۔
3. آئی ایس پی آر کا ردِعمل اور ’ثبوتِ حیات‘
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے عمران خان کی وفات کی افواہوں کے سرکاری انکار کو وجاہت نے اپنی رپورٹنگ کی کامیابی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مہینوں سے جاری پراسرار خاموشی کے بعد حکومت اور ملٹری کی طرف سے اس خبر کی باضابطہ تردید دراصل عمران خان کے "زندہ ہونے کا ثبوت " ہے۔ ان کی رپورٹنگ کا بنیادی مقصد پرو-خان یا اینٹی-خان پراپیگنڈا کرنا نہیں، بلکہ صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکام کو مجبور کرنا تھا کہ وہ ان کی زندگی کا ثبوت پیش کریں۔
4. خاندان کی جانب سے غیر مستقیم تصدیق
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کے خاندان کے بعض افراد نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمران خان کو خود اپنے قدموں پر بغیر کسی کی مدد کے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس مشاہدے سے ان کی طبیعی صحت اور جیل میں موجودگی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض انتہائی افواہوں کی مزید نفی ہوتی ہے۔
5. صحافتی ساکھ اور مقصدِ شفافیت
اپنے 30 سالہ کریئر، اہم ملٹری ایمبیڈنگزاور اہم شخصیات کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے وجاہت سعید خان نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ملک اور عوام میں شفافیت لانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک قد آور سیاسی رہنما کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا جائے اور خبروں کی رسائی روک دی جائے، تو ایسے میں بااعتماد صحافت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں کو جوابدہ بنائے اور حقیقت سامنے لائے۔