09/05/2026
ملازمت سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والے ملازم کو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات سے محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دورانِ معطلی یا برطرفی ڈیوٹی سرانجام نہیں دی۔
لاہور ہائیکورٹ کی معزز جج محترمہ جسٹس شیرین عمران نے بابر مسیح بنام کینٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر، سرگودھا و دیگر کے مقدمہ میں مورخہ 3 ستمبر 2026ء کو اہم فیصلہ جاری کیا۔
درخواست گزار کو 6 اکتوبر 2011ء کو صفائی کارکن کے طور پر ملازمت پر مقرر کیا گیا تھا اور اس کی ملازمت 30 دسمبر 2011ء کو مستقل کر دی گئی۔ بعد ازاں اسے ایک فوجداری مقدمہ میں ملوث کیے جانے کے باعث گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں رکھا گیا، جس کی وجہ سے وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دے سکا۔
بعد ازاں درخواست گزار کو مذکورہ فوجداری مقدمہ میں عدالت سے بری کر دیا گیا۔ اس کے بعد محکمانہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے 26 نومبر 2012ء سے ملازمت پر بحال کر دیا گیا، تاہم اس عرصہ کی بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے غیرحاضری کے عرصہ کو غیر معمولی رخصت قرار دے دیا گیا۔
⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم اصول
معزز عدالت نے قرار دیا کہ جب محکمانہ اتھارٹی خود یہ تسلیم کر چکی ہو کہ ملازم کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی اور یہ غیرحاضری دانستہ نہیں تھی، تو بقایا مالی مراعات کے دعوے پر منصفانہ، عادلانہ اور معقول انداز میں غور کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا کہ کسی ملازم کی غیر قانونی برطرفی کے بعد بحالی کی صورت میں بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کا دیا جانا عمومی اصول ہے، جبکہ انکار ایک استثنائی عمل ہے۔
اگر محکمہ بقایا مالی مراعات سے انکار کرنا چاہتا ہے تو اسے اس انکار کے لیے واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول وجوہات پیش کرنا ہوں گی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملازم نے اس عرصہ میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا۔
📌 اگر ملازم کسی اور جگہ ملازمت نہیں کر رہا تھا؟
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ اگر محکمہ کوئی ایسا ثبوت پیش نہ کر سکے کہ ملازم نے برطرفی اور بحالی کے درمیانی عرصہ میں کہیں اور باقاعدہ آمدن حاصل کی یا ملازمت اختیار کی، تو محض ڈیوٹی سرانجام نہ دینے کی بنیاد پر اسے بقایا مالی مراعات سے محروم کرنا کافی جواز نہیں ہے۔
⚖️ غیر معمولی رخصت اور بقایا تنخواہوں میں فرق
عدالت نے واضح کیا کہ برطرفی اور بحالی کے درمیان عرصہ کو غیر معمولی رخصت قرار دینا اور اس عرصہ کی بقایا تنخواہوں کا فیصلہ کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
غیر معمولی رخصت کا مقصد سروس ریکارڈ میں ملازمت کا تسلسل برقرار رکھنا ہو سکتا ہے تاکہ ملازم کی پنشن، ترقی، سنیارٹی اور دیگر ملازمتی حقوق متاثر نہ ہوں، لیکن اسے محض اس بنیاد پر بقایا تنخواہوں سے محرومی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
🏛️ عدالت کا حتمی حکم
لاہور ہائیکورٹ نے بقایا مالی مراعات سے انکار کی حد تک مورخہ 13 دسمبر 2024ء اور 10 جنوری 2025ء کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو واپس بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ بقایا مالی مراعات کے معاملہ پر قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔
متعلقہ اتھارٹی کو یہ فیصلہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر کرنے کی ہدایت کی گئی۔
🔹 مختصر قانونی اصول
اگر کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالنے کے بعد بحال کر دیا جائے، اور اس کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی ہو، تو صرف اس بنیاد پر کہ اس نے اس عرصہ میں ڈیوٹی سرانجام نہیں دی، اسے بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636
Islamabad Office:
Khadim Hussain Khosa Adv Supreme Court
Office No. 31, Third Floor, Al Hameed Mall, G-11 Markaz, Islamabad.
📞 Contact: 0334-6759818