Atif Razaq

Atif Razaq Digital content creator from Canada 🇨🇦
Watch, Listen and Learn!!! YOUTUBE: https://youtube.com/?si=5qK3xF13Ir65MLZb
(2)

10/18/2025

پاکستان کی سیاسی تاریخ، اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور اس کے اثرات

پاکستان کی سیاسی تاریخ، اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور اس کے اثراتیہ کہانی ہے طاقت کے ایوانوں کی جہاں اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتاؤ...
10/18/2025

پاکستان کی سیاسی تاریخ، اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور اس کے اثرات

یہ کہانی ہے طاقت کے ایوانوں کی جہاں اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتاؤں نے اپنے مفادات کے لیے سیاسی جماعتوں، جتھوں اور نظریات کو کبھی جنم دیا، کبھی پروان چڑھایا اور کبھی بے رحمی سے کچل دیا

تحریک لبیک پاکستان اسی کہانی کا ایک باب ہے جو ایک وقت میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پھلا پھولا اور پھر جب وہ ہاتھ بدلے تو اسے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کہانی صرف TLP کی نہیں بلکہ اس ملک کی عوام کی ہے جو ہر بار اس سیاسی کھیل کا ایندھن بنتی ہے اور نقصان اٹھاتی ہے

اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ایجنڈوں کے لیے مختلف گروہوں کو استعمال کیا۔ کبھی مذہبی جماعتوں کو تقویت دی، کبھی سیکولر نظریات کو فروغ دیا اور کبھی سیاسی پارٹیوں کو بنایا اور توڑا۔ TLP بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اسے بنانے والوں نے شاید سوچا کہ یہ ایک ایسی طاقت ہوگی جو ان کے ہاتھوں میں رہے گی ان کے مفادات کی تکمیل کرے گی لیکن جب مفادات بدلے، جب عالمی دباؤ بڑھا اور جب نئی پالیسیوں نے جنم لیا تو وہی TLP جو کل تک ایک ہتھیار تھی آج ایک خطرہ بن گئی۔ نتیجہ؟ بے رحمانہ جبر، ظلم اور ایک پراسرار خاموشی جو اندر ہی اندر چیختی ہے کہ یہ ملک عوام کا نہیں بلکہ چند طاقتوروں کے ہاتھوں میں کھلونا ہے

آج کی اسٹیبلشمنٹ جو شاید امریکی پالیسیوں کے زیر اثر یا اپنے نئے مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے TLP کو برداشت نہیں کرتی۔ اسے کچلنے کے لیے جو کچھ کیا گیا وہ کوئی معمولی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی مثال ہے جو ہر اس شخص کے دل میں خوف بٹھاتی ہے جو اس نظام کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتا ہے۔ لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کل کوئی نیا کرتا دھرتا آئے گا جس کی پالیسی آج سے مختلف ہوگی۔ وہ شاید کوئی نئی جماعت بنائے گا یا پرانے جتھوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ایک چکر، ایک دائرہ جو کبھی ختم نہیں ہوگا

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس کھیل کا شکار پاکستان کی عوام ہے۔ وہ عوام جو ہر بار امید لگاتی ہے کہ شاید اس بار کچھ بدلے گا، شاید اس بار انصاف ملے گا یا شاید اس بار یہ ملک بہتر ہوگا لیکن ہر بار ان کی امیدیں چکناچور ہوتی ہیں۔ وہ جماعتیں جو کل تک ان کے جذبات کی ترجمانی کرتی تھیں اگلے دن غائب ہو جاتی ہیں۔ وہ لیڈر جو کل تک ان کے ہیرو تھے اگلے دن یا تو جیلوں میں ہوتے ہیں یا خاموش کر دیے جاتے ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا؟ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک کی پرتعیش زندگی گزارنے چلے جاتے ہیں جبکہ یہ ملک اور اس کی عوام اپنے زخم چاٹتی رہتی ہے

یہ ظلم، یہ جبر اور یہ کھیل صرف TLP تک محدود نہیں۔ یہ نمونہ ہے اس نظام کا جو عوام کو کبھی ترقی نہیں کرنے دیتا، کبھی آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ ہر نئی نسل اسی چکر میں پھنستی ہے اور ہر بار وہی سبق ملتا ہے کہ طاقت چند ہاتھوں میں ہے اور عوام صرف شطرنج کی بساط پر بچھائے گئے مہرے ہیں

آخر یہ کب تک چلے گا؟ کب تک یہ ملک اسی طرح تجربات کا شکار رہے گا؟ کب تک عوام اپنے خون، پسینے اور آنسوؤں سے اس نظام کا ایندھن بنی رہے گی؟ شاید اس کا جواب اس وقت ملے گا جب عوام خود اپنی تقدیر کے مالک بنیں گی۔ جب وہ اس چکر کو توڑنے کی ہمت کریں گے لیکن اس کے لیے ایک ایسی بیداری چاہیے جو نہ صرف جذبات سے بھرپور ہو بلکہ ایک واضح مقصد اور حکمت عملی سے لیس ہو

ورنہ یہ کہانی جاری رہے گی۔ TLP جیسے جتھے بنتے اور ٹوٹتے رہیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا اپنی پالیسیاں بدلتے رہیں گے اور پاکستان کی عوام اپنی تمام تر قربانیوں کے باوجود اسی انتظار میں رہے گی کہ شاید کل کا سورج ایک نئی صبح لائے۔ لیکن وہ صبح کب آئے گی؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے دل میں اٹھتا ہے اور اس کا جواب شاید وقت کے ہاتھوں میں ہے

(عاطف رزاق)

“ریاستی دہشت گردی”ریاست، پولیس یا کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ جرائم میں ملوث ہے تو اسے ...
10/17/2025

“ریاستی دہشت گردی”

ریاست، پولیس یا کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ جرائم میں ملوث ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ سڑکوں پر گولیاں ماری جائیں۔ ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کنونشن کا بنیادی اصول فئیر ٹرائیل ہے۔ فئیر ٹرائیل کا مطلب ہے کہ ملزم کو الزامات سے آگاہ کیا جائے، دفاع کا موقع دیا جائے اور فیصلہ شفاف ہو

ماورائے عدالت قتل نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست کی ناکامی اور کرپشن کی علامت بھی ہے۔ یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی نظام کمزور ہے یا پولیس کو غیر ضروری اختیارات دیے گئے ہیں۔ اکثر یہ مقابلے شواہد کو چھپانے یا سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں

یہ ریاست کو ایک “قاتل ریاست” بنا دیتا ہے جو قانون کی بجائے طاقت پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے قتل معاشرے میں خوف پھیلاتے ہیں اور لوگوں کا اعتماد عدالتی نظام سے اٹھ جاتا ہے۔ لوگ خود انصاف کرنے لگتے ہیں جو مزید انتشار کا باعث بنتا ہے۔ یہ نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتا ہے خاص طور پر جب یہ مذہبی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر ہو

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10A میں فئیر ٹرائیل کا حق دیا گیا ہے لیکن ماورائے عدالت قتل عام کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے “ریاستی دہشت گردی” قرار دیتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ ایسے کیسز کی آزادانہ تحقیقات ہوں

ماورائے عدالت قتل ایک وحشیانہ عمل ہے جو معاشرے کو تباہ کرتا ہے۔ یہ نہ صرف مجرموں کو بلکہ بے گناہوں کو بھی نشانہ بناتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔ ریاست کو چاہئے کہ وہ قانون کا احترام کرے، عدالتوں پر بھروسہ کرے اور نفرت کو انصاف پر حاوی نہ ہونے دے

پاکستان دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں مزید نیچے چلا گیا‏Henley Passport Index کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رین...
10/15/2025

پاکستان دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں مزید نیچے چلا گیا

‏Henley Passport Index کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رینکنگ میں پاکستان کا پاسپورٹ اب 103ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے

‏پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے کمزور پاسپورٹ بن گیا ہے

‏جعلی پاکستانی پاسپورٹس کا استعمال بڑھا ہے جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی

‏2023 میں سعودی عرب نے 12,000 جعلی پاکستانی پاسپورٹس ضبط کیے اور 2025 میں متحدہ عرب امارات میں 4,700 پاکستانیوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے گئے

‏سیاسی بحران، معاشی مشکلات، دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت کی بڑھتی ہوئی شرح نے عالمی ممالک کو پاکستانی مسافروں پر سخت پابندیاں لگانے پر مجبور کر دیا ہے

‏یہ تنزلی پاکستانی شہریوں کی عالمی نقل و حرکت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے خاص طور پر بزنس اور تعلیم کے لیے

‏⁦‪ ‬⁩ ⁦‪ ‬⁩ ⁦‪ ‬⁩ ⁦‪

10/14/2025

ٹرمپ، شہباز شریف کیلئے فرشتہ کیوں؟
ٹرمپ جس نے اسرائیل کو جدید ہتھیار دیے
ہمارے لیڈر امریکہ کے آگے جھک رہے ہیں

#شہبازشریف

10/12/2025

کیا تحریک لبیک پاکستان (TLP) اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کو پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی پراکسی قرار دینے کا الزام طویل عرصے سے لگایا جا رہا ہے۔ اسے سیاس...
10/12/2025

تحریک لبیک پاکستان کو پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی پراکسی قرار دینے کا الزام طویل عرصے سے لگایا جا رہا ہے۔ اسے سیاسی دباؤ ڈالنے، مخالفین کو کمزور کرنے اور مذہبی جذبات کو استعمال کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

یہ الزام صرف تھیوری نہیں بلکہ ماضی کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے جہاں ٹی ایل پی کو کھلے عام سہولت دی گئی یا اسے روکنے میں ناکامی ہوئی

2017 میں ٹی ایل پی نے توہین رسالت کے قوانین میں مبینہ تبدیلیوں کے خلاف فیض آباد میں دھرنا دیا۔ حکومت نے مذاکرات سے معاملہ حل کیا، الزامات لگے کہ فوج نے دھرنے کو طول دیا اور اسے نواز شریف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال کیا

2021 کے اسلام آباد لانگ مارچ میں ٹی ایل پی نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا۔ پولیس سے جھڑپوں میں کئی اہلکار ہلاک ہوئے لیکن حکومت نے مطالبات مان لیے۔ ایک لیک ویڈیو میں فوجی افسر کو مظاہرین میں پیسے بانٹتے دیکھا گیا جو اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ مارچ عمران خان کی حکومت کے لیے بڑا دھچکا تھا اور مبصرین کے مطابق اسے سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا گیا

اکتوبر 2025 میں ٹی ایل پی نے اسرائیل مخالف مظاہروں کے نام پر لاہور سے اسلام آباد مارچ کیا جس میں پولیس سے جھڑپوں میں کئی کارکن ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انجینئرڈ ہے تاکہ غزہ تنازع کے تناظر میں سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایل پی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی ہے جو مریم نواز کی پنجاب حکومت کو کمزور کرنے کے لیے پرتشدد مظاہرے کروا رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سیاسی دباؤ کے لیے ایسی گروپس کو استعمال کرتی ہے

ٹی ایل پی کو اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی بنانا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دیتا ہے، تشدد کو جائز قرار دیتا ہے، سیاسی استحکام کو کمزور کرتا ہے اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور اندرونی طور پر انتشار پھیلتا ہے، جیسے پنجاب کے حالیہ فسادات

یہ ایک خطرناک کھیل ہے جو ریاست کو کمزور کر رہا ہے؛ اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایسے گروہوں کی بجائے حقیقی جمہوری عمل کو مضبوط کرے ورنہ پاکستان مزید انتشار کا شکار ہوتا چلا جائے گا

(عاطف رزاق)

سڑکوں اور انٹرنیٹ کی بندش – نااہلی اور ظلم کی داستاناسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام کی زندگیاں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ...
10/11/2025

سڑکوں اور انٹرنیٹ کی بندش – نااہلی اور ظلم کی داستان

اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام کی زندگیاں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ یہ ایک ظالم حکومت کی سازش ہے جو “سیکورٹی” کے نام پر لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو جہنم بنا رہی ہے

لوگ فیملی اور سامان کا بوجھ اٹھائے میلوں پیدل سفر پر مجبور، ایمبولینس راستے کی متلاشی۔ یہ سب کچھ اس بے حس، نااہل اور آمرانہ نظام کا نتیجہ ہے۔ مظاہرین کہیں دور بیٹھے ہیں مگر سڑکیں بند، انٹرنیٹ معطل اور عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں

محسن نقوی اور طلال چوہدری اگر شہر کا دورہ کریں تو شاید ان کو کوئی شرم آئے، مگر؟ یہ لوگ عوام کی چیخوں پر کان دھرنے والے نہیں بلکہ ان کی اذیتوں سے لطف اندوز ہونے والے ہیں۔ اس ناجائز حکومت نے پاکستان کو قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے اور محسن نقوی اس سنگدلانہ ڈرامے کا مرکزی کردار ہے

مریض ہسپتالوں تک نہ پہنچ سکے، بچے اسکولوں سے محروم، کاروبار تباہ اور غریب مزدور بھوکے مرنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مظاہرین اسلام آباد سے میلوں دور لاہور میں بیٹھے ہیں۔ ایمبولینسز گھنٹوں راستہ ڈھونڈتی رہییں، مریض سڑکوں پر تڑپتے رہے اور حکومت “امن و امان” کا راگ الاپ رہی ہے۔ یہ ظلم اس قدر شدید ہے کہ عالمی میڈیا بھی پاکستان کو “ڈیجیٹل آمریت” کا خطاب دے رہا ہے جہاں شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے

محسن نقوی نے فیض آباد کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ “کوئی گروپ یا ہجوم اسلام آباد پر مارچ نہیں کر سکے گا” مگر کیا انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کی “ریاست کی طاقت” کی وجہ سے ہزاروں خاندان بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں؟ یہ بے شرم لیڈر عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں جو ان کی پالیسیوں کے شکار ہیں

نقوی صاحب آپ کی یہ “سیکورٹی” دراصل عوام کی موت کا تماشہ ہے۔ اگر آپ میں ذرا سی بھی انسانیت ہو تو پیدل چلنے والے ان لوگوں کی اذیت دیکھیں، شاید آپ کی سنگدل روح کو تھوڑی سی شرم آ جائے، مگر کیا فائدہ؟ آپ تو ایسے لوگ ہیں جو عوام کی اذیتوں پر تالیاں بجاتے ہیں

PTA نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر 10 اکتوبر کی آدھی رات سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل ڈیٹا معطل کر دیا اور یہ معطلی “غیر معینہ مدت” تک جاری رہے گی یعنی حکومت جب تک چاہے عوام کو تاریکی میں رکھے گی۔ یہ صرف انٹرنیٹ کی بندش نہیں بلکہ ڈیجیٹل قتل عام ہے

نقوی کی وزارت نے پریس کی آزادی کو بھی کچلا، صحافیوں پر حملے کروائے اور جھوٹی انکوائریاں شروع کیں۔ یہ سب کچھ ایک آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ نقوی صاحب آپ کی یہ “حفاظت” دراصل عوام کی تباہی ہے۔ آپ ایک ایسے “لیڈر” ہیں جو عوام کا خون چوستے ہیں، ان کی اذیتوں پر مسکراتے ہیں اور تاریخ میں ایک ظالم کے طور پر یاد کیے جائیں گے

سڑکوں اور انٹرنیٹ کی بندش سیکورٹی نہیں بلکہ بدترین آمریت ہے۔ حکومت TLP یا PTI کو روکنے کے بہانے ملک کو تباہ کر رہی ہے۔ معیشت گر رہی ہے، غربت بڑھ رہی ہے اور لوگ بغاوت کے دہانے پر ہیں۔ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کو فوری طور پر یہ ظالمانہ پابندیاں ختم کرنی چاہئیں، عوام کی آواز سنیں اور مذاکرات کریں۔ ورنہ یہ عوام آپ کی حکومت کو اکھاڑ پھینکیں گے

پاکستان زندہ باد، آمریت مردہ باد!

(عاطف رزاق)

“ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس”یہ پریس کانفرنس سیکیورٹی مسائل پر تھی مگر اس میں سیاسی رنگ اتنا غالب تھا کہ یہ فوج ...
10/10/2025

“ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس”

یہ پریس کانفرنس سیکیورٹی مسائل پر تھی مگر اس میں سیاسی رنگ اتنا غالب تھا کہ یہ فوج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتی ہے۔ ڈی جی صاحب کے سیاسی اشارے نہ صرف متنازعہ بلکہ صوبوں کے درمیان تقسیم کو بڑھانے والے لگے

ڈی جی صاحب کا یہ بیان کہ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی بالکل نہیں ہے انتہائی سطحی اور غلط ہے۔ سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کی سرگرمیاں، کراچی میں ٹارگٹ کلنگز اور بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کی رپورٹس کے مطابق 2025 میں سندھ میں 15% اور پنجاب میں 20% دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ڈی جی صاحب کا یہ بیان صوبائی تعصب کو فروغ دیتا ہے۔ فوج کو چاہیے کہ پورے ملک کی سیکیورٹی کو ایک یونٹ کی طرح دیکھے نہ کہ صوبوں کو الگ الگ ٹارگٹ کرے

سندھ اور پنجاب کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں جبکہ KP کا بارڈر طویل پہاڑی علاقہ ہے جو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے۔ ڈی جی صاحب نے سرحد پار دہشت گردی کا ذکر تو کیا مگر KP کی جغرافیائی مشکلات پر تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا فوکس صرف “گڈ گورننس” پر تھا۔ KP کی 70% سرحد افغانستان سے ملتی ہے جہاں افغان طالبان اور TTP کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ ڈی جی صاحب سرحدی فینسنگ اور انٹیلی جنس کی ناکامی پر خاموش رہے۔ یہ یک طرفہ بیان KP کو “ناکام” قرار دے کر صوبائی احساس محرومی بڑھاتا ہے

دہشت گرد ا فغانستان سے آتے ہیں اور سرحد پر روکنا فوج اور فرنٹیئر کور کی ذمہ داری ہے نہ کہ صوبائی حکومت کی۔ ڈی جی صاحب نے افغان حکومت سے مطالبہ تو کیا مگر پاکستان کی سیکیورٹی کمزوریوں پر سوال نہیں اٹھایا۔ جیسے ڈرونز، سیٹلائٹ نگرانی اور بی آر اے (Border Rangers Agency) کی کمزوریاں۔ تنقید یہ ہے کہ فوج سرحد کی حفاظت کی بجائے اندرونی سیاست میں ملوث ہو رہی ہے جبکہ اصل مسئلہ سرحدی کنٹرول ہے

ڈی جی صاحب کا PTI کی KP حکومت کو براہ راست نشانہ بنانا (نام لیے بغیر) اور سندھ/پنجاب کی “کامیابی” کا موازنہ صوبوں کے درمیان تقسیم ڈالنے والا ہے۔ فوج کا آئین کے تحت کام دہشت گردی روکنا ہے نہ کہ گورننس کا جائزہ لینا یا عوامی نمائندہ سیاسی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرانا

بلوچستان میں PTI کی حکومت نہیں پھر بھی BLA اور دیگر گروہوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں – 2025 میں 200 سے زائد حملے ہوئے جیسے کوئٹہ بم دھماکے وغیرہ۔ ڈی جی صاحب نے بلوچستان کا ذکر تک نہیں کیا جو ان کے بیانیے کی خامی ہے۔ بلوچستان فوج کی “کالونی” کہلایا جاتا ہے پھر وہاں دہشت گردی کیوں؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ صرف “گورننس” نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام، وسائل کی لوٹ اور علاقائی تنازعات ہیں

یہ پریس کانفرنس فوج کی قربانیوں اور آپریشنز کی تفصیلات کے لیے اچھی تھی مگر سیاسی تنقید نے اسے متنازعہ بنا دیا۔ ڈی جی صاحب کا انداز جارحانہ تھا جو عوام اور فوج کے درمیان خلیج بڑھاتا ہے

یہ وقت تحریک انصاف یا عمران خان کو بدنام کرنے کا نہیں بلکہ دہشت گردی کیخلاف متحد ہونے کا ہے۔ فوج کو چاہیے کہ NAP کو پورے ملک میں نافذ کرے، صوبائی تعصب چھوڑے اور سیاست سے دور رہے۔ ورنہ ایسے بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بجائے سیاسی جنگ کو ہوا دیتے رہیں گے

(عاطف رزاق)

افغانستان سے محاذ آرائی: پاکستان کے لیے نقصان دہافغانستان سے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ دونوں م...
10/10/2025

افغانستان سے محاذ آرائی: پاکستان کے لیے نقصان دہ

افغانستان سے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ممالک کی سرحدیں اور مشترکہ ثقافتی و قبائلی روابط کی وجہ سے تنازعات کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے جو ملکی سلامتی، معیشت اور سیاست کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں

ماضی کے واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسی محاذ آرائی نہ صرف جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ طویل مدتی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے

ان تنازعات نے پاکستان کی ریاست کو کمزور کیا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بغاوت بڑھی جس سے فوجی وسائل ضائع ہوئے۔ تجارت رک گئی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا

1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے امریکی مدد سے مجاہدین کی حمایت کی۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور سرحد عبور کرنے والے مجاہدین کی تربیت پاکستان میں ہوئی۔ افغانستان نے اسے اپنی سرزمین پر مداخلت قرار دیا جس سے سرحدی جھڑپیں بڑھیں

پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوا—تقریباً 30–40 لاکھ مہاجرین کے بوجھ نے پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں مضبوط کیں کیونکہ مجاہدین کی باقیات سے TTP جیسی تنظیموں نے جنم لیا۔ معاشی طور پر مہاجرین کی میزبانی پر اربوں روپے خرچ ہوئے جبکہ سیاسی طور پر پاکستان کو “دہشت گردوں کی پناہ گاہ” کا لیبل لگا۔ امریکی رپورٹس کے مطابق 2001–2023 تک پاکستان میں 94,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں سے بہت سے افغان تنازعہ کی وجہ سے تھے

‏1990s میں پاکستان نے افغان طالبان کی مالی اور عسکری مدد کی جو 1996 میں کابل پر قبضہ کر گئے۔ 2001 میں امریکی حملے کے بعد بھی پاکستان پر طالبان رہنماؤں (جیسے ملا عمر) کی پناہ گاہ کے الزامات لگے۔ 2011 میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت نے تناؤ بڑھایا۔ افغان صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی نے پاکستان کو “غیر اعلانیہ جنگ” کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ 2017 کے کابل بم دھماکے جیسے واقعات میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر الزام لگا

2025 میں دار العلوم حقانیہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 6 ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ سرحد بند ہونے سے لاکھوں روپے کا روزانہ نقصان اور 2023 سے 9 لاکھ افغانوں کی واپسی نے انسانی بحران پیدا کیا۔ اقوام متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ محاذ آرائی سے پاکستان کو کبھی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ دہشت گردی، معاشی گراوٹ اور سیاسی دباؤ کا باعث بنی۔ پاکستان کے تحفظات جائز ہیں لیکن دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے

پاکستان جو پہلے ہی معاشی مسائل سے دوچار ہے ایک نیا محاذ نہیں کھول سکتا۔ تجارت بڑھانے اور سفارت کاری سے استحکام ممکن ہے۔ دونوں ممالک کو سرحدی تنازعات حل کرنے اور مشترکہ سلامتی کے لیے کام کرنا چاہیے ورنہ مستقبل بھی ماضی کی طرح تباہ کن ہوگا

(عاطف رزاق)

🚨 موروثی سیاست بمقابلہ محنت و میرٹمریم نواز اور سہیل آفریدی کا موازنہ پاکستانی سیاست کے دو الگ چہروں کو عیاں کرتا ہے ایک...
10/09/2025

🚨 موروثی سیاست بمقابلہ محنت و میرٹ

مریم نواز اور سہیل آفریدی کا موازنہ پاکستانی سیاست کے دو الگ چہروں کو عیاں کرتا ہے ایک خاندانی اقتدار کی علامت دوسرا محنت اور میرٹ کا نمونہ

مریم نواز کا سیاسی عروج 2017 میں ہوا لیکن یہ PML-N کی خاندانی سیاست کا تسلسل ہے جہاں عہدے عموماً رشتہ داروں کو ملتے ہیں اور عام کارکن کنارے رہ جاتا ہے

2024 میں وہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بنیں مگر ان پر مینڈیٹ “چوری” کا الزام ہے۔ پاناما پیپرز اور ایون فیلڈ کیس میں لندن فلیٹس کی غیر قانونی خریداری پر انہیں 2018 میں 7 سال قید کی سزا ہوئی۔ شریف ٹرسٹ سمیت دیگر مقدمات ان کے خاندان کی کرپشن کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کی ساکھ پر یہ الزامات بھاری پڑتے ہیں اور عوام میں انہیں اکثر اشرافیہ کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے جو اقتدار کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی ہے

دوسری جانب، سہیل آفریدی ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہیں۔ خیبر سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سہیل نے پشاور یونیورسٹی سے اکنامکس کی ڈگری لی اور زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں قدم رکھا۔ PTI کے Insaf Students Federation کے صدر رہنے کے بعد انہوں نے 2024 کے الیکشن میں PK-70 سے آزاد حیثیت میں 31 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ اب عمران خان نے انہیں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے

سہیل سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر بات کرتے ہیں اور مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی نبض سمجھتے ہیں۔ ان کی ترقی خاندانی اثر کے بغیر محض محنت اور قابلیت کی بنیاد پر ہوئی

مریم کی سیاست پرانے نظام کی پیداوار ہے جہاں اقتدار چند خاندانوں تک محدود ہے۔ کرپشن کے الزامات ان کی ساکھ پر سیاہ دھبہ ہیں اور عوام انہیں اشرافیہ کا حصہ سمجھتی ہے جبکہ سہیل آفریدی نئی سوچ اور صاف ساکھ کے ساتھ ایک امید کی کرن ہیں

پاکستانی سیاست کو خاندانی جاگیروں سے نکل کر میرٹ کی طرف جانا ہوگا اور سہیل جیسے لوگ اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ جب تک اقتدار چند خاندانوں کے ہاتھوں میں رہے گا تبدیلی ناممکن ہے

(عاطف رزاق)

Address

Winnipeg, MB
R3T5L2

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Atif Razaq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Atif Razaq:

Share