22/08/2026
برطانوی حکومت کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران 80 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا، جن میں غیر ملکی مجرم، مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزار اور وہ افراد شامل ہیں جن کے پاس ملک میں قیام کا قانونی حق موجود نہیں تھا۔
چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے 6,103 افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔ 80 ہزار سے زائد غیر ملکی واپس بھیج دیے گئے
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 11,733 غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,995 مجرموں کو سزا مکمل ہونے سے پہلے ہی برطانیہ سے نکال دیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 24,471 ایسے افراد کو بھی واپس بھیجا گیا جن کے پناہ کے کیسز زیرِ کارروائی تھے یا ان کی درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ مزید 19,622 افراد کو ملک بدر کیا گیا جنہیں برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے 6,103 افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔
برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں امیگریشن حراستی مراکز کی گنجائش میں 40 فیصد اضافے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے واضح کیا ہے کہ قانون توڑنے والوں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔