08/06/2026
پاکستان میں سپین ایمبیسی کی اپائنٹمنٹس کے مسئلے پر ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
جب بھی کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ہم فوری طور پر مختلف تنظیموں اور ایسوسی ایشنز پر تنقید شروع کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک تنظیم یا چند افراد کا نہیں، بلکہ پوری کمیونٹی کا مسئلہ ہے۔
اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ سپین ایمبیسی میں اپائنٹمنٹس کی مبینہ خرید و فروخت اور عام لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ ہو، تو ہمیں خود بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف سوشل میڈیا پر شکایتیں کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔
بار بار احتجاج کی اپیل کی جاتی ہے، حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی احتجاج رکھا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر احتجاج میں صرف چند لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر ہر طرف شور ہوتا ہے، مگر عملی میدان میں لوگ موجود نہیں ہوتے۔
یاد رکھیں، جب تک ہم اپنی تعداد، اپنی آواز اور اپنا دباؤ متعلقہ اداروں تک نہیں پہنچائیں گے، تب تک ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔
اگر آپ بھی اس مسئلے سے متاثر ہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عام آدمی کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے، تو آئندہ احتجاج اور اجتماعی کوششوں میں ضرور شریک ہوں۔ اپنی آواز بلند کریں، دوسروں کو آگاہ کریں اور ثابت کریں کہ ہماری کمیونٹی اپنے حقوق کے لیے متحد ہے۔
حقوق صرف مانگنے سے نہیں ملتے، ان کے لیے منظم اور متحد ہو کر آواز اٹھانی پڑتی ہے ۔