Urdu News De

Urdu News De First Urdu News Channel in Germany
Aims to bring credible and responsible news followed by importan

کراچی میں فرانس کا قونصل خانہ مستقل طور پر بند کردیا گیا۔ فرانسیسی قونصل خانے کی جانب سے قونصل خانے کو مستقل بند کرنے کا...
31/08/2026

کراچی میں فرانس کا قونصل خانہ مستقل طور پر بند کردیا گیا۔ فرانسیسی قونصل خانے کی جانب سے قونصل خانے کو مستقل بند کرنے کا باقاعدہ طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے فرانسیسی قونصل خانے نے کراچی کیلئے ’’الوداع کراچی‘‘ کا پیغام بھی دیا جبکہ قونصل خانے سے فرانس اور یورپی یونین کے پرچم اتار دیے گئے ہیں جبکہ فرانسیسی قونصل خانے کی جانب سے دوستوں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

جرمنی میں ملک بدری (ڈی پورٹیشن) کا عمل تیزکردیا 23 افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے ہوئے کابل روانہ کردیا جرمنی نے ملک بدری ...
27/08/2026

جرمنی میں ملک بدری (ڈی پورٹیشن) کا عمل تیزکردیا
23 افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے ہوئے کابل روانہ کردیا

جرمنی نے ملک بدری کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے 23 افغان شہریوں کو خصوصی چارٹر پرواز کے ذریعے افغانستان واپس بھیج دیا ہے۔

جرمن حکام کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والے تمام افراد مرد تھے اور ان میں زیادہ تر ایسے افراد شامل تھے جو جرمنی میں مختلف سنگین جرائم میں سزا یافتہ رہ چکے تھے۔ چارٹر پرواز Leipzig/Halle ایئرپورٹ سے کابل کے لیے روانہ ہوئی۔

جرمن حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ افغانستان واپسی کا عمل صرف سزا یافتہ مجرموں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے دیگر افغان شہری بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں جنہیں جرمنی چھوڑنے کا قانونی حکم دیا جا چکا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمنی میں غیرقانونی امیگریشن، مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے پر سیاسی بحث جاری ہے۔

جرمنی نے جنوبی ایشائی ممالک میں محظوظ ممالک کی لسٹ جاری کرتے ہوئے بنگلادیش، بھارت اور بھوٹان سمیت دیگر ممالک کو محفوظ قرار دیابے

The "Boomerang Effect": Over 24,000 Return Requests as EU Commission Forbids Italy from Blocking Transfers! 🇮🇹📉🇪🇺اٹلی کے...
24/08/2026

The "Boomerang Effect": Over 24,000 Return Requests as EU Commission Forbids Italy from Blocking Transfers! 🇮🇹📉🇪🇺

اٹلی کے لیے 'بومرینگ اثر': 24 ہزار سے زائد واپسی کی درخواستیں، یورپی کمیشن کا اٹلی کو تارکینِ وطن روکنے سے صاف انکار! 🇮🇹📉🇪🇺

👇 For the complete breakdown and European policy updates in English, please check the first pinned comment!

نئے یورپی معاہدے (New EU Pact on Migration) کے نفاذ کے بعد اٹلی کی امیگریشن پالیسی پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے، جسے ماہرین اور تجزیہ کار ایک بڑا "بومرینگ اثر" (Boomerang Effect) قرار دے رہے ہیں۔

اس اہم یورپی بحران کے تمام بڑے حقائق اور تازہ ترین پیش رفت:

1. چھ (6) ممالک کی جانب سے واپسی کا باقاعدہ آغاز:

* آسٹریا نے باضابطہ طور پر 4 تارکینِ وطن کو ٹرین اور بس کے ٹکٹ دے کر اٹلی منتقل کر دیا ہے۔
* جرمنی اور سوئٹزرلینڈ نے اگست کے اختتام کے لیے واپسی کی فلائٹس بک کر لی ہیں۔
* سویڈن اور فن لینڈ نے بھی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ نیدرلینڈز (ہالینڈ) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 12 جون کے بعد آنے والے تمام ڈبلن پناہ گزینوں کو واپس اٹلی بھیجے گا۔

2. یورپی کمیشن کا اٹلی کو سخت حکم:
اٹلی نے دسمبر 2022 سے ان منتقلیوں (transfers) کو یہ کہہ کر روکا ہوا تھا کہ اس کے پاس گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ تاہم، یورپی کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ اب اٹلی محض "انکار" نہیں کر سکتا۔ اگر کسی طے شدہ تاریخ پر پناہ گزین کو وصول کرنا ممکن نہ ہو، تو اٹلی کو فوری متبادل تاریخ فراہم کرنا لازمی ہوگی۔
3. 24 ہزار سے زائد واپسی کی درخواستیں:
یوروسٹیٹ (Eurostat) کے اعداد و شمار کے مطابق، دیگر یورپی ممالک کی جانب سے اٹلی کو پناہ کی درخواستیں سنبھالنے کے لیے 24,152 درخواستیں جمع کروائی جا چکی ہیں، جو پوری یورپی یونین میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
4. یورپ میں اندرونی تقسیم:
جہاں 6 شمالی یورپی ممالک تارکینِ وطن کو اٹلی واپس بھیج رہے ہیں، وہیں فرانس اور اسپین نے اس اقدام کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے اور یورپی یکجہتی کے اصول کو ترجیح دی ہے۔ ادھر وزیراعظم جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ اٹلی نے 2023 سے اب تک 80 ہزار درخواستیں مسترد کی ہیں اور نیا معاہدہ اٹلی کے لیے فائدہ مند رہے گا۔یہ صورتحال یورپ بھر میں موجود پناہ گزینوں اور غیر دستاویزی افراد کی نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا اشارہ ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران 80 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا، جن میں غیر ملکی مج...
22/08/2026

برطانوی حکومت کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران 80 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا، جن میں غیر ملکی مجرم، مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزار اور وہ افراد شامل ہیں جن کے پاس ملک میں قیام کا قانونی حق موجود نہیں تھا۔
چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے 6,103 افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔ 80 ہزار سے زائد غیر ملکی واپس بھیج دیے گئے
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 11,733 غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,995 مجرموں کو سزا مکمل ہونے سے پہلے ہی برطانیہ سے نکال دیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 24,471 ایسے افراد کو بھی واپس بھیجا گیا جن کے پناہ کے کیسز زیرِ کارروائی تھے یا ان کی درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ مزید 19,622 افراد کو ملک بدر کیا گیا جنہیں برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے 6,103 افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔

برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں امیگریشن حراستی مراکز کی گنجائش میں 40 فیصد اضافے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے واضح کیا ہے کہ قانون توڑنے والوں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔2024 میں انسٹاگرام کے ذریعے ڈاکٹر اسماء سے میری بات چیت کا آغاز ہوا اور وقت کے ساتھ یہ رابطہ ای...
22/08/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون۔
2024 میں انسٹاگرام کے ذریعے ڈاکٹر اسماء سے میری بات چیت کا آغاز ہوا اور وقت کے ساتھ یہ رابطہ ایک اچھی اور خلوص تھا اور میں ان کا فین تھا۔ ہماری ملاقات تو کبھی نہ ہو سکی شاید زندگی کی مصروفیات نے موقع ہی نہیں دیا۔ وہ اپنے کاموں میں مصروف رہتی تھیں اور میں بھی اپنی ذمہ داریوں میں لیکن انسٹاگرام پر اکثر ہماری بات چیت ہوتی رہتی تھی۔
ڈاکٹر اسماء ایک بہت اچھی بااخلاق اور محبت کرنے والی پاکستانی خاتون تھیں۔ انہیں پاکستان کی خوبصورتی سے بے حد محبت تھی۔ وہ اکثر ملک کے مختلف خوبصورت علاقوں کا سفر کرتی پاکستان کو ایکسپلور کرتی اور اس کی خوبصورتی دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ یہی ان کا ایک خوبصورت مشن تھا۔
میری ان سے آخری گفتگو بھی انسٹاگرام پر ہی ہوئی، اس وقت وہ ملک سے باہر تھیں۔ آج جب ان کے انتقال کی خبر سنی تو یقین نہیں آیا اور دل بہت افسردہ ہو گیا۔ بعض لوگ زندگی میں بالمشافہ ملاقات کیے بغیر بھی اپنی اچھی یاد چھوڑ جاتے ہیں، ڈاکٹر اسماء بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔
اللہ پاک ڈاکٹر اسماء کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام نیکیاں قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ و عزیز و اقارب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

برلن میں ہیکر حملہ: مسئلے کے حل میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیںبرلن کے سرکاری نیٹ ورک پر ہونے والے سنگین سائبر حملے کے پانچ ...
21/08/2026

برلن میں ہیکر حملہ: مسئلے کے حل میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں

برلن کے سرکاری نیٹ ورک پر ہونے والے سنگین سائبر حملے کے پانچ روز بعد بھی متاثرہ ادارے مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ برلن کے میئر کائی ویگنر کے مطابق مسئلے کے حل میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔

حملے کے بعد سٹی ڈویلپمنٹ اور ٹرانسپورٹ سے متعلق دونوں سینیٹ محکموں کو حفاظتی طور پر سرکاری نیٹ ورک سے منقطع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق فی الحال حساس معلومات کے چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے، تاہم کچھ جغرافیائی ڈیٹا لیک ہوا ہے جو پہلے ہی عوامی طور پر دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق حملہ پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا، تاہم اسے بروقت شناخت کر کے مزید نقصان سے بچاؤ کے اقدامات کیے گئے۔

حملے کے باعث بعض سرکاری خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ خاص طور پر برلن کے 50 ہزار سے زائد مستحق گھرانوں کو فی الحال Wohngeld کی ادائیگی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ 20 ستمبر کو ہونے والے برلن اسمبلی انتخابات متاثر نہیں ہوں گے۔ انتخابی نظام محفوظ ہے اور ضروری آن لائن خدمات دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔

برلن حکومت کا کہنا ہے کہ سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔


Fazal Aziz Bunairee
Farrukh Waqar
Zahoor Ahmed Ishrat Moin Seema
Anwar Zaheer Rahber

جرمنی میں بے روزگار افراد کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئیامیگرنٹس اور جاب سیکر ویزا رکھنے والوں کے لیے تشویشناک صورتحال...
20/08/2026

جرمنی میں بے روزگار افراد کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی
امیگرنٹس اور جاب سیکر ویزا رکھنے والوں کے لیے تشویشناک صورتحال
برلن..
جرمنی کی لیبر مارکیٹ پر معاشی سست روی کے اثرات برقرار ہیں اور جولائی 2026 میں ملک میں رجسٹرڈ بے روزگار افراد کی تعداد ایک مرتبہ پھر 30 لاکھ سے تجاوز کرتے ہوئے 30 لاکھ 7 ہزار (3.007 ملین) تک پہنچ گئی ہے۔

جرمنی کی وفاقی روزگار ایجنسی Bundesagentur für Arbeit کے مطابق جولائی میں بے روزگار افراد کی تعداد جون کے مقابلے میں 71 ہزار بڑھی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 0.2 فیصد پوائنٹس اضافے کے ساتھ 6.4 فیصد ہوگئی۔ گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں بھی بے روزگار افراد کی تعداد 28 ہزار زیادہ ہے۔ (Bundesagentur für Arbeit⁠)

وفاقی روزگار ایجنسی کا کہنا ہے کہ جولائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موسمِ گرما سے متعلق سیزنل عوامل ہیں، تاہم جرمن لیبر مارکیٹ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری کمزور صورتحال بھی برقرار ہے۔ سیزنل اثرات نکالنے کے بعد بھی بے روزگاری میں جون کے مقابلے میں تقریباً 6 ہزار افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ (Bundesagentur für Arbeit⁠)

اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جرمنی میں نئی افرادی قوت کی طلب بدستور کمزور ہے۔ جولائی میں وفاقی روزگار ایجنسی کے پاس تقریباً 6 لاکھ 53 ہزار خالی آسامیاں رجسٹرڈ تھیں۔ سرکاری لیبر مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ملازمت حاصل کرکے بے روزگاری سے نکلنے کے امکانات تاریخی اعتبار سے کم سطح پر ہیں۔ (Bundesagentur für Arbeit⁠)

موجودہ صورتحال ایسے غیر ملکیوں اور نئے آنے والوں کے لیے بھی اہم ہے جو جرمنی میں ملازمت تلاش کر رہے ہیں یا Job Seeker/Opportunity Card جیسے راستوں کے ذریعے جرمن لیبر مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ 30 لاکھ سے زائد بے روزگار افراد کا سرکاری ڈیٹا مجموعی جرمن لیبر مارکیٹ کا ہے اور اسے صرف امیگرنٹس یا غیر ملکی ورکرز کی بے روزگاری تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ماہر ہنر اور متعلقہ قابلیت رکھنے والے افراد کے لیے مواقع مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ اور ہنرمند کارکنوں کی ضرورت بدستور موجود ہے، اس لیے جرمنی آنے کے خواہشمند افراد کے لیے اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ قابلیت، جرمن زبان اور مطلوبہ شعبے میں ملازمت کے امکانات کا جائزہ لینا پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

ماخذ: Bundesagentur für Arbeit — جولائی 2026 لیبر مارکیٹ رپورٹ

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں پاکستانی کلچر اینڈ لینگویج ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام پاکستان کے 14اگست یومِ آزادی کی ایک شاندار...
18/08/2026

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں پاکستانی کلچر اینڈ لینگویج ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام پاکستان کے 14اگست یومِ آزادی کی ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔
جس میں ڈریسڈن سٹی سے فملی اور بچوں نے جوک در جوک شرکت کی اور اس موقع پر بچوں نے ملی نغمے پیش کئے، اس موقع پر برلن میں پاکستان کی سفیر، محترمہ سیدہ سقلین، نے کمیونٹی سے لائیو خطاب کیا اور یومِ آزادی کی مبارکباد پییش کی
اس موقع پر فیرائین کے ڈپٹی چیئرمین مجتبیٰ حسین اور چیئرپرسن کرن راؤف نے سپیچ کرتے ہؤے پاکستانی ثقافت و زبان کے فروغ کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔
تقریب کے اختتام پر فیرائن کے چیئرمین رانا ثاقب خالد نے اور مس ناہید ہمدان نے بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔

سفارت خانہ پاکستان برلن نے جشن آزادی کی تقریب حب الوطنی کے جوش و جذبے کے ساتھ منائی۔ جشن یوم آزادی کی تقریب کا انعقاد پا...
18/08/2026

سفارت خانہ پاکستان برلن نے جشن آزادی کی تقریب حب الوطنی کے جوش و جذبے کے ساتھ منائی۔

جشن یوم آزادی کی تقریب کا انعقاد پاکستان ہاؤس برلن میں کیا گیا۔جس میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جرمنی میں پاکستان کی سفیر محترمہ ثقلین سیدہ نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پر قومی پرچم لہرایا۔ تقریب کے دوران جرمنی کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔

اس موقع پر صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم پاکستان کے یوم آزادی کے پیغامات حاضرین کو پڑھ کر سنائے گئے۔

اپنےخطاب میں، سفیر ثقلین سیدہ نے تقریب میں شرکت کرنے والے پاکستانیوں، جرمن معززین اور پاکستان کے دوستوں کو تہہ دل سے مبارکباد دی۔ یوم آزادی کے تقدس اوراہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی ایک مقدس امانت ہے جو قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی قیادت میں ہمارے آباؤ اجداد کےنظریے اور قربانیوں سے حاصل کی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کی اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، سفیر نے ملک کے معاشی استحکام، سبز توانائی اور موسمیاتی انصاف میں بڑھتے ہوئے مقام، اور پاکستان کے نوجوانوں کی قیادت میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی نمایاں طور پر پھیلتی ہوئی صلاحیت کو نوٹ کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس سال کی تقریبات خاص تاریخی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یوم پیدائش کی یاد منا رہا ہے، اورکہا کہ ہم قائد کے سنہری اصول اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کرمزیدترقی کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔

تقریب میں ڈاکٹر سینٹا ماریا اینا سلر کو ان کی انسانی خدمات، دیہی خواتین کوبااختیار بنانے اور پاکستان میں کمیونٹی کی ترقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی میڈل دیا گیا۔

تقریب کا اختتام پر جشن آزادی کا کیک کاٹنے، پاکستانی فنکار کی لائیو میوزیکل پرفارمنس اور روایتی پاکستانی ریفریشمنٹ کے ساتھ ہوا۔ اس تقریب میں پاکستانی تارکین وطن، جرمن حکام، سفارت کاروں اور پاکستان کے خیر خواہوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

09/08/2026

Adresse

Berlin
10555

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Urdu News De erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Service Kontaktieren

Nachricht an Urdu News De senden:

Verknüpfungen

Hervorgehoben

Teilen