Physics with Mirza

Physics with Mirza Hear about Physics & Science from me + some other things time to time.

Physics PhD Researcher in Germany 🇩🇪
STFS Scholarship Pakistan 🇵🇰 and Erasmus Mundus European Scholarship 🇫🇷 🇩🇪 🇪🇺 Alumni in Physics and Quantum Technologies

تجرباتی طبیعیات دان بننے کیلئے آپ کو الیکٹریشن، مکینک، کمپیوٹر انجینیر، سافٹویئر انجینیر، استاد، طالبعلم، منیجر، سب بننا...
05/09/2026

تجرباتی طبیعیات دان بننے کیلئے آپ کو الیکٹریشن، مکینک، کمپیوٹر انجینیر، سافٹویئر انجینیر، استاد، طالبعلم، منیجر، سب بننا پڑتا ہے ۔ لیکن میری نظر میں جو دو چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں وہ یہ ہیں۔

ہمیشہ ایک طالب علم رہیں۔ طبیعیات کی لیبارٹریاں آپ کو بہت کچھ نیا سکھاتی ہیں۔ ہر ایک چیز کے ساتھ آپ کو کچھ نا کچھ نیا سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

ہمیشہ ایک استاد رہیں۔ جو آپ نے سیکھا ہے اس کو آگے سکھانے کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ صرف سکھائیں ہی نہیں بلکہ اس جوش کے ساتھ سمجھائیں کے سیکھنے والے کیلئے شوق بڑھتا چلا جائے۔ اور سکھاتے سکھاتے نئی چیزیں سیکھنے کیلئے کھلا دماغ رکھیں۔

25/08/2026

German made a gravitational wave detector that is not sensitive enough to actually detect gravitational waves. However, this laboratory provided a proof of concept that finally lead to the experimental discovery of gravitational waves by LIGO in USA in 2015 followed by official announcements in 2016.

Gravitational waves are ripples in fabric of space time caused by merger of heavy heavenly bodies such as neutron stars or black holes. Gravitational waves were hypothesized by Einstein in 1915 and finally observed experimentally in 2015. It took 100 years to devise an experiment sensitive enough to observe them.

Germany is now building next generation gravitational wave detector named Einstein Telescope which is projected to have more sensitivity than state of the art available gravitational wave detectors.

26/07/2026

جب آپ ف*ج کو بند کرنے کے فورا بعد دوبارہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو غیر معمولی طور پر زیادہ زور کیوں لگانا پڑتا ہے ؟

The main reason for stress is everyday contact with idiots.  Bought this gem from last year Christmas Market in Münster.
22/07/2026

The main reason for stress is everyday contact with idiots.
Bought this gem from last year Christmas Market in Münster.

19/07/2026

آخر ایسا کیوں ہے کہ آپ کی بنائی ہوئی تصویر میں گاڑی کے شیشے یا گھر کی کھڑکی میں ریفلیکشن نظر آتی ہے مگر فلموں میں ایسی کوئی ریفلیکشن نظر نہیں آتی۔

اس وڈیو میں میں آپ کو روشنی کی ایک خاصیت جسے ہم پولیرائزیشن کہتے ہیں کے بارے میں سمجھاتا ہوں اور کیسے اس خاصیت کا استعمال فوٹوگرافی اور فلموں میں ہوتا ہے۔

جب آپ ایک ایٹم کو پکڑ کر لیزر کی روشنی کے منعکسی نقطے پر رکھتے ہیں تو اس سے بہت ہی دلچسپ فزکس جنم لیتی ہے۔ پہلے نظر آنے ...
18/07/2026

جب آپ ایک ایٹم کو پکڑ کر لیزر کی روشنی کے منعکسی نقطے پر رکھتے ہیں تو اس سے بہت ہی دلچسپ فزکس جنم لیتی ہے۔

پہلے نظر آنے والی تصویر کو دیکھئے۔
اس میں آپ کو کچھ نقطے نظر آ رہے ہیں جو ایک مینار جیسی شکل بنا رہے ہیں۔
نیچے اور بائیں جانب کچھ نمبر لکھے ہوئے ہیں۔

نیچے لکھئے ہوئے نمبر دراصل ایک ایسے آلے [اے او ایم] سے لئے گئے ہیں جو اس سے گزرنے والی روشنی کو اس نمبر کی فریکوئنسی سے کم یا زیادہ کر دیتا ہے۔ یہ نمبر میگاہرٹز میں ہیں۔ یہ دراصل ایک 729 نینومیٹر ویولینتھ کی لیزر فریکوئنسی میں اس نمبر کو جمع کیا جا رہا ہے۔ اور استعمال کیا جانے والا ایٹم کیلشیم 40 + ہے۔ ایٹم کی بجائے آئن استعمال کیا گیا ہے۔

بائیں جانب نظر آنے والے نمبر ایک امکان کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جس ایٹم پر یہ روشنی منعکس کی جا رہی ہے وہ اپنی گراؤنڈ سٹیٹ میں ہیں یا ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں۔ عام الفاظ میں بتاؤں تو ایٹم کی گراؤنڈ سٹیٹ اس کی وہ حالت ہے جس میں وہ رہنا پسند کرتا ہے۔ اور ایکسائیٹڈ سٹیٹ اس کی وہ حالت ہے جس میں اگر وہ ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے کے کسی نا کسی طریقے سے واپس گراؤنڈ سٹیٹ میں چلا جائے۔ ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں ایک ایٹم کتنی دیر رہ سکتا ہے اس کا انحصار اس بات پر کرتا ہے کے اپ نے ایٹم کو کس ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں ٹرانسفر کیا ہے۔ کچھ ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں وہ ایٹم کچھ نینو سیکنڈ گزارنے کے بعد واپس گراؤنڈ سٹیٹ میں آ جاتا ہے تو کچھ میں وہ منٹوں، گھنٹوں، اور برسوں بھی گزار سکتا ہے۔

ایٹم کو گراؤنڈ سٹیٹ سے ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں لے جانے کے عمل کو ہم ایکسائیٹیشن اور ایکسائیٹڈ سٹیٹ سے گراؤنڈ سٹیٹ میں لانے کے عمل کو ڈی ایکسائیٹیشن کہتے ہیں۔ اور عمومی طور پر ان کے لئے ٹرانزیشنز کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسے تجربات جن میں آپ اس چیز کی کھوج لگاتے ہیں کہ کونسی فریکوئنسی کی روشنی سے ایٹم گراؤنڈ سٹیٹ سے کس ایکسائیٹڈ سٹیٹ میں جا رہا ہے، ایسے تجربات کو اٹامک سپیکٹروسکاپی کے تجربات کہا جاتا ہے۔

ایسے تجربات جس میں اپ ایک ٹرانزیشن کو زیادہ اچھے سے ماپنے کیلئے اور یہ دیکھنے کیلئے کہ اس مینار کی موٹائی کو کتنا کم کیا جا سکتا ہے، ایسے تجربات کو پریسیزن سپیکٹروسکاپی کا نام دیا جاتا ہے۔ نظر انے والی تصویر میں آپ کو نظر آ رہا ہے کہ اس مینار کی آدھی اونچائی، مطلب 50 فیصد ایکسائیٹیشن پر اس کی موٹائی تقریبا 2 کلو ہرٹز ہے۔ اس آدھی اونچائی پر اس مینار کی موٹائی کو انگریزی میں فل وڈتھ ہالف میکسیمم کہتے ہیں اور تکنیکی لحاظ سے اس نمبر کو لائن وڈتھ کہتے ہیں۔ تو اس تجربے میں چونکہ اس ٹرانزیشن کی محض سپیکٹروسکاپی کر رہا ہوں اس لئے کچھ ہی سیکنڈوں میں 2 کلو ہرٹز کی لائن وڈتھ ماپ لی۔ پریسیزن سپیکٹروسکاپی تجربات اس ٹرانزیشنز کی لائن وڈتھ کو 0.2 ہرٹز تک ماپنا چاہتے ہیں جو کہ اس کی قدرتی لائن وڈتھ ہے، مطلب اس سے زیادہ بہتر نہیں ماپ سکتے۔

ابھی تک کیلشیم 40+ کی پریسیزن سپیکٹروسکاپی اس ٹرانزیشنز کو
411 042 129 776 400.41 (0.23) Hz
تک ماپی جا چکی ہے اور اس میں دیکھا جا سکتا ہے کی غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔

چونکہ میری لیب کا کام اس ٹرانزیشنز کو اچھے سے ماپنا نہیں بلکہ اس کو دوسرے کام کیلئے استعمال کرنا ہے تو لگ بھگ 2 کلو ہرٹز کی لائن وڈتھ میرے کام کیلئے بری نہیں۔ لیکن کبھی کبھار جب لیزر اچھا برتاؤ کر رہی ہو اور میں نے تجربے کے پیرامیٹر کو بھی بہتر کیا ہو تو اس کو 500 ہرٹز تک لے کر جانا کوئی بڑی بات نہیں۔

Adresse

Braunschweig
38116

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Physics with Mirza erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Verknüpfungen

Teilen

Kategorie