Urdu Adab Page

Urdu Adab Page This Page is Urdu Adab page For Poetry ,Urdu Posts,Urdu Interests for Interesting People,Like and Share to promote Urdu..

20/06/2026

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
پروین شاکر

What is your take on Ali And Shafi Case? Should we have a live interactive session?
02/04/2026

What is your take on Ali And Shafi Case? Should we have a live interactive session?

ابھی میں نے اس بندی کی ویڈیو دیکھی جس میں اس کا شوہر اتا ہے پہلے بیوی کو گولی مارتا ہے اور وہیں پر موجود اس کے دو بچے جو...
23/03/2026

ابھی میں نے اس بندی کی ویڈیو دیکھی جس میں اس کا شوہر اتا ہے پہلے بیوی کو گولی مارتا ہے اور وہیں پر موجود اس کے دو بچے جو ایک لڑکا اور دوسری لڑکی ہے وہ بیچارے پہلے اپنی ماں کے پاس جاتے کہ ہوا کیا ہے شاید انہیں سمجھ بھی نہ ہو کہ ہماری ماں مر چکی ہے اور اس کے بعد اس کا شوہر اپنے سر پہ بندوق رکھ کے بچوں کو کہتے ہیں کہ ادھر چلے جاؤ تاکہ بچے یہ نہ دیکھ سکے اور پھر وہیں پر اپنے اپ کو گولی مارتا ہے یہ ویڈیو دیکھ کے تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی💔 اور دو زندگیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اور ٹک ٹاکر کے فیم نے دو زندگیاں ختم کر دی۔ میں نے جب اس لڑکی کی ویڈیو دیکھی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ف**** سے بھری تھی اور کسی بھی قسم کی دفاع کے قابل نہیں لیکن پھر میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوا؟ پھر جب حقائق دیکھے تو اس کے شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دیا تھا اور اس کے بعد شاید اس نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانا شروع کی اور وغیرہ وغیرہ جس میں بہت نازیبہ قسم کی ویڈیوز جس کا میں ذکر نہیں کروں گا وہ موجود تھی۔ طلاق کے بعد ہمارے معاشرے میں اس کے باپ کا گھر بھی اس کا نہیں ہوتا یہ تلخ حقیقت ہے اگر ہمارے معاشرے میں کوئی بھی عورت کسی بھی محکمے میں کام کرتی ہیں تو تب تک اس کی ترقی ہوتی نہیں یا نوکری ملتی نہیں جب تک وہ کسی کو خوش نہیں کرتے ان ڈائریکٹ وے میں یا ڈائریکٹ اور یقینا یہ بات ان تمام خواتین کو پتہ ہے جو ان چیزوں سے گزر چکے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ عورتوں کا کردار خراب ہوتا ہے لیکن اگے مرد صحیح نہیں ہوتے جسم کے بھوکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب عورت کے بکا کا مسئلہ بنتا ہے تو پھر وہ اپنی اولاد کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہے۔ سارے لوگ اس کے قتل پہ خوش ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ انہوں نے یہ چیزیں شروع کیوں کی اگر اس سے بھی ایک عزت دار امدنی کا ذریعہ میں ملتا تو اس نے یہ ناجگانہ ف**** جیسی چیزیں کرنا کون پسند کرتا ہے۔ مجھے تو ان بچوں کے لیے سب سے زیادہ برا لگا کہ وہ بچے اس ٹراما سے ساری زندگی نہیں نکل پائیں گے کیونکہ ان کے سامنے ہی ان کے ماں اور باپ اس دنیا سے چلے گئے اور اب کافی لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل اچھا ہوگا یہ بچے در در ٹھوکریں کھائیں گے۔میرے پاس اس سے زیادہ لکھنے کا کچھ نہیں ہے💔 اگر کوئی بھی غیرت مند پٹھان میری یہ پوسٹ دیکھ رہا ہے تو وہ ان دو بچوں کی اچھی پرورش کی ساری زندگی ذمہ داری اٹھائیں 18 سال تک میں مانتا ہوں کہ اب کتنے غیرت مند ان کے بچوں کی ذمہ داری اٹھائیں گے میں خود بھی ایک پٹھان ہوں۔اور دوسری بات ان لڑکیوں کے لیے کہ اگر اپ لوگ اس طرح کی فحش ویڈیوز بناتے ہیں تو دو دن کی زندگی ہے زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں یہ چیزیں وہ گناہ ہیں جو اپ کے مرنے کے بعد بھی اپ کو نہیں چھوڑتے اس کی کتنی ہزاروں کی تعداد میں ویڈیوز ہیں جو کہ بالکل نازیبہ ہے پتہ نہیں کوئی ڈیلیٹ کر پائے گا بھی کہ نہیں تو سوچ سمجھ کے ویڈیوز بنایا کریں

نبھا گئے ہیں اکیلے ہی رسمِ شبیری نہ کوفیوں سے توقع نہ ڈر یزید کا تھا  💔 اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
02/03/2026

نبھا گئے ہیں اکیلے ہی رسمِ شبیری
نہ کوفیوں سے توقع نہ ڈر یزید کا تھا

💔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھابجلی بند ہو جانے کے باعث اندر اندھیرا تھا، کچھ لوگوں نے موبائل فون کی ٹا...
23/01/2026

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا

بجلی بند ہو جانے کے باعث اندر اندھیرا تھا، کچھ لوگوں نے موبائل فون کی ٹارچ جلائی ہوئی تھی۔ مگر روشنی بھی زندہ نہیں لگتی تھی۔ میزنائن فلور کی چھت کے نیچے جمع دھواں آہستہ آہستہ سانسوں کو نگل رہا تھا۔ کراکری کے شیلف اب بھی اپنی جگہ کھڑے تھے، جیسے کسی عجیب خاموشی میں منجمد ہوگئے ہوں۔ پلیٹوں، پیالیوں اور ڈنر سیٹس کے درمیان تقریبا دودرجن زندگیاں سمٹ کر کھڑی تھیں، ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کے سہارے پر۔

دکان کے مالک حاجی صاحب ، کانپتے ہاتھوں سے شٹر کو دوبارہ نیچے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

"۔۔۔بس بند رکھو۔۔۔باہر آگ ہے، یہاں بچ جائیں گے ہم"

ان کی آواز میں خود اعتمادی کم اور خود کو تسلی زیادہ تھی۔

نوجوان سیلز مین ، جو روزانہ اسی دکان میں گاہکوں کو مسکرا کر برتن دکھاتا تھا، اب موبائل ہاتھ میں لیے نیٹ ورک تلاش کر رہا تھا۔

حاجی صاحب۔۔۔میڈیا والے آگئے ہوں گے نیچے۔۔۔ جیسے ہی خبرچلے گی، فائر بریگیڈ آجائے گی۔۔۔" وہ آگ بجھا دیں گے"۔

ایک کونے میں تین خواتین بیٹھی تھیں۔ جن میں ایک پچاس سالہ عورت اپنی بیٹی اور بھانجی کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئے تھے ۔ ماں بار بار کہہ رہی تھی:

"ہم نے تو بس چائے کے کپ لینے تھے… اللہ ہمیں گھر واپس بھیج دے"

ان کی بیٹی خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور بھانجی کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے، دعا میں، سسکی میں، شاید دونوں میں۔

قریب ہی باپ بیٹے کی جوڑی کھڑی تھی۔ باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

"ڈرنا نہیں، میں ہوں نا بیٹا"

بیٹا شاید دس یا گیارہ سال کا تھا، اس کی آنکھیں شاپ کے کونے پر جمی تھیں شاید اس کی آنکھیں محفوظ جگہ کی تلاش میں تھیں ۔

"بابا"۔۔۔آج نانو کے گھر جانا تھا ، وہ انتظار کر رہی ہوں گی… انھوں نے آج میری پسند کے مٹر چاول بھی بنائے ہیں۔

یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی، اور وہ دکان کے کونے میں جا کر سہم گیا، جیسے وہاں چھپ کر آگ کو دھوکا دے دے گا۔

ایک جوان بہن اپنے چھوٹے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔

"امی نے کہا تھا زیادہ دیر نہ کرنا کیا پتہ ان کو ہماری خبر ہو یا نہ ہو"

بھائی نے سر اٹھا کر کہا،

"آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپا"

بہن مسکرانے کی کوشش میں رو پڑی۔

درمیان میں ایک پانچ افراد کی فیملی تھی۔ ماں، باپ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ فرش پر رکھے ڈنر سیٹس کے ڈبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماں بولی:

"بس یہ آخری خریداری تھی۔۔۔عید کے بعد شادی ہے۔۔۔ میری بچی کا گھر بس جائے گا"

باپ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے چھت کے پار کچھ نظر آ جائے۔

"اللہ کرے ہم سب سلامت باہر نکل جائیں"

قریبی دکان کا ایک سیلز مین بھاگتا ہوا اندر آیا تھا۔

"میری دکان پوری جل چکی ہے میں ادھر چھپ رہا ہوں۔۔۔ یہ دکان محفوظ ہے نا؟"

کسی کے پاس جواب نہیں تھا، مگر سب نے سر ہلا دیا، کیونکہ اس وقت جھوٹ بھی امید لگتا تھا۔

دروازے کے پاس ایک سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ وردی پر کالک جم رہی تھی۔

"فورسز آتی ہی ہوں گی۔۔۔میں نے دیکھا ہے، وہ سیلاب، زلزلہ سب آفتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ ہمیں بھی نکال لیں گی"

اس کے الفاظ مضبوط تھے، مگر آنکھیں خالی۔

وقت گزرتا گیا۔ دھواں گاڑھا ہوتا گیا۔ سانس لینا مشکل ہونے لگا۔

کسی نے کہا،

"ہمیں ریسکیو والے بچالیں گے، بس تھوڑا صبر"

کسی نے میڈیا پر بھروسا کیا،

"کیمرے آن ہوں گے، حکمران مجبور ہو جائیں گے"

ایک آدمی نے دو سیاسی جماعتوں کا نام لیا،

"میں نے ماضی میں ووٹ دیا ہے انھیں… وہ شہر کی نمائندہ ہیں… وہ ہمیں نہیں مرنے دیں گے"

لیکن امید کا وزن دھوئیں سے ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔

خواتین کی دعائیں بلند ہو گئیں۔

"یا اللہ۔۔۔یا اللہ"

ایک عورت نے روتے ہوئے کہا،

"میری بچی کی شادی رہ گئی ہے"

دوسری نے ہاتھ اٹھا کر کہا،

"یا اللہ، اگر یہاں سے نہیں نکالنا تو کم از کم آسانی دے دے"

بچہ کونے میں کان بند کیے بیٹھا تھا۔

"نانو پیاری نانو"

اس کی آواز اب صرف ہونٹوں کی حرکت تھی۔

گرمی بڑھنے لگی۔ ہوا جلنے لگی۔

سیلز مین نے ہانپتے ہوئے کہا،

"حاجی صاحب۔۔۔شاید شٹر کھولنا پڑے"

حاجی صاحب نے سر ہلایا،

"باہر شدید آگ ہے۔۔۔اللہ سے دعا کرو شاید"

آخری لمحوں میں باتیں ٹوٹنے لگیں۔ جملے ادھورے۔

سیکیورٹی گارڈ نے وردی کے بٹن کھولتے ہوئے کہا،

"میرا فرض۔۔۔بس یہی تھا"

باپ نے بیٹے کو سینے میں بھینچا،

"آنکھیں بند کر لو میری جان اور مجھے معاف کردو"

دعا، امید، سیاست، میڈیا،سب دھوئیں میں گھل گئے۔

آخری دو لمحے چیخ نہیں تھے، وہ سرگوشیاں تھیں۔

"اللہ"

"امی"

"معاف کردیں"

اور گل پلازہ کی شاپ نمبر 144، جو کبھی چمکتے برتنوں کی دکان تھی، خاموشی کا ایک بند کمرہ بن گئی. جہاں یقین زندہ رہا، مگر زندگی نہ بچ سکی۔

منقول

04/12/2025
04/12/2025

یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

منیر نیازی صاحب کو ایک نوجوان نے اپنی غزل سُنائی تو اُنہوں نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اُس غزل کو اُردو شاعری میں ایک بہ...
07/10/2025

منیر نیازی صاحب کو ایک نوجوان نے اپنی غزل سُنائی تو اُنہوں نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اُس غزل کو اُردو شاعری میں ایک بہترین اضافہ قرار دیا۔

شامتِ اعمال کہ اگلے روز اُس لڑکے نے وہی غزل حلقۂ اربابِ ذوق کے تنقیدی اجلاس میں پیش کر دی۔ اجلاس کے شرکاء نے اُس کی غزل کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور اُسے شاعری کا ایک بدنما داغ قرار دیا۔

وہ لڑکا منہ بسورے منیر نیازی صاحب کے پاس آیا اور بولا:-

" سر آپ نے تو کہا تھا کہ یہ بہت اچھی غزل ھے مگر حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس میں تو اسے شاعری کا ایک بدنما داغ قرار دیا گیا"

منیر نیازی مُسکرا کے بولے :-

" پُتر - - - جے ماں کدی پیار نال چن کہہ دیوے تے مقابلہ حُسن وچ حصہ لین نئیں ٹُر جائی دا ۔۔

نیل آرمسٹرانگ کا انتقال 25 اگست 2012 کو سنسناٹی میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 82 برس تھی۔ نیل آرمسٹرانگ لکھتے ہیں کہ جب ہم ...
26/08/2025

نیل آرمسٹرانگ کا انتقال 25 اگست 2012 کو سنسناٹی میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 82 برس تھی۔ نیل آرمسٹرانگ لکھتے ہیں کہ جب ہم خلائی جہاز پر سوار ہونے کے لئے نکلے تھے تو میں نے سب کو دیکھ کر اعتماد سے انگوٹھا دکھایا۔ ہم خود اتنے پراعتماد نہیں تھے۔ تھوڑا نروس اور تھوڑا جوش، یہ ملی جلی سی کیفیت تھی۔ راکٹ میں بلند ہوتے وقت بہت شور ہوتا ہے اور اس قدر جھٹکے جیسے کسی ٹرین میں بیٹھے ہوں جو خراب ٹریک پر چل رہی ہے۔ اس مشن کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ تھیں اور بہت سے لوگوں کی بڑی محنت لگی تھی۔ آپ کو یہ سب چھوڑ کر صرف ایک چیز پر فوکس کرنا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کاک پٹ میں آپ خود کوئی غلطی نہ کریں۔ آپ کے ہاتھ میں بس یہی کچھ ہے۔ میری اپنی زندگی نے اور شوق نے مجھے اس مشن کے لئے تیار کیا تھا۔ بچپن سے ہی اڑنے کا اور جہازوں کا شوق رہا تھا۔ مجھے پائلٹ کا لائسنس سولہ سال کی عمر میں مل گیا تھا۔ اس وقت مجھے گاڑی ڈرائیو کرنا نہیں آتی تھی۔ اکیس سال کی عمر میں میں کوریا کی جنگ میں لڑاکا طیارے اڑا کر مشن پر جایا کرتا تھا۔ جنگ کے بعد ٹیسٹ پائلٹ بن گیا جس کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربے کرنے کے لئے دئے جاتے تھے۔ ایکس 15 جہاز کو چار ہزار میل فی گھٹنہ کی رفتار سے انتہائی بلندی پر چلانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب 1962 میں مجھے اپنی تین سالہ بیٹی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کی موت دماغ کے کینسر سے ہوئی تھی۔ آپ بچے کی موت کو نہیں بھلا سکتے۔ اس کا نشان آپ پر زندگی بھر کے لئے رہ جاتا ہے لیکن اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ زندگی کو مصروف طریقے سے گزارنا ہے۔ یہی وہ سال تھا جب مجھے خلابازی کے لئے چُن لیا گیا۔

خلابازی کی تربیت کے دوران ایک حادثہ 1966 میں ہوا جب ہمارا کیپسول کچھ دیر کے لئے بے قابو ہو کر گھومنا شروع ہو گیا۔ پھر 1968 میں لینڈنگ کی ڈیوائس کے تجربے میں یہ ایک خرابی سے کریش ہو گئی۔ اس سے جب میں نے ایجیکٹ کیا تو یہ زمین سے صرف سو فٹ دور تھی۔ میں بمشکل اس کی آگ کی لیپٹ میں آنے سے بچا۔ باہر نکل کر میں آفس میں جا کر کام کرنے لگا۔ جب کسی نے کہا کہ "تم مرتے مرتے بچے ہو اور واپس کام کرنا شروع ہو گئے ہو؟" تو میرا جواب تھا کہ "مرا تو نہیں، زندگی چلتی رہتی ہے۔ بہت کام کرنے کو پڑا ہے”۔

پہلے مشن کے کمانڈر کے طور پر میرا انتخاب ہو گیا۔ چار روز تک سفر کر کے ہم چاند تک جا پہنچے۔ مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں رہے۔ بز آلڈرن اور میں لونر ماڈیول میں سوار ہو گئے۔ لینڈنگ کے دوران کچھ غیرمتوقع ہو گیا تھا۔ گائیڈنگ سسٹم ہمیں ایک گڑھے کی طرف لے کر جا رہا تھا جہاں بڑے پتھر تھے۔ میرے خیال میں یہ اترنے کی مناسب جگہ نہیں تھی۔ میں نے خود کنٹرول سنبھال لیا کہ بہتر جگہ پر اتر سکیں۔ اس سے اضافی ایندھن استعمال ہونے لگا۔ ایک ارب لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ زمینی عملے کو لینڈنگ کے فلائٹ پلان کا علم تھا اور یہ لینڈر اس کو فالو نہیں کر رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر لوگ کچھ لوگ اب سانس روک کر دیکھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم نے اس کو چاند پر اتار لیا اور یہ الفاظ "عقاب اتر چکا ہے" سن کر بہت سے لوگ جن کے پسینے چھوٹ رہے تھے، ان کی جان میں جان آئی۔ پھر میں نے سیڑھی سے اترنا شروع کیا۔ یہ قدم رکھتے ہوئے میرے ذہن میں وہ چار لاکھ افراد تھے جنہوں نے اس مشن کے لئے کام کیا تھا اور بہت سے دوسرے بھی، جن کا حصہ بالواسطہ تھا۔ میرے الفاظ "یہ انسانیت کے لئے بڑا قدم ہے"، ان سب کے لئے تھے کیونکہ یہ قدم مجھ اکیلے کا نہیں تھا۔

چاند ایک بڑا دلچسپ احساس ہے۔ افق بہت پاس لگتا ہے۔ دھوپ اور مٹی مختلف ہیں۔ ہمیں کرنے کے لئے کئی تجربات دئے گئے تھے۔ ہم نے وہ سب کئے۔ بہت زیادہ وقت نہیں گزارا۔ پھر واپسی ہوئی۔ واپس زمین پر انٹری اس سفر کا سب سے مشکل حصہ تھا۔ جب زمین پر پہنچے تو ہم سپرسٹار بن چکے تھے۔ نیویارک میں چالیس لاکھ لوگوں نے ہمارا استقبال کیا۔ پھر ہم دنیا کے ٹور پر نکلے۔ چاند پر پہنچ جانے کی کامیابی ہم خلابازوں کی نہیں، انسانوں کی کامیابی تھی۔ ہم اس میں دنیا بھر کے انسانوں کے نمائندہ تھے۔ کانگو میں لوگوں کے ہجوم سے لے برطانیہ کی ملکہ تک سب ہم کو دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ میں اس سب کے لئے تیار نہیں تھا۔ یہ اچھا تو لگتا تھا لیکن میرے لئے ایک بوجھ تھا۔ مجھے یہ سب پسند نہیں تھا۔

میں اپنی شہرت صرف کسی ایک واقعے کی وجہ سے نہیں چاہتا تھا بلکہ اپنے روز کے کام کی وجہ سے۔ اور اس شہرت کا میں مستحق نہیں تھا۔ اگر میں پہلا شخص تھا جس نے چاند پر قدم رکھا تو اس میں میرا کمال نہیں تھا، حالات کا تھا۔ یہ میرا اکیلے کا کارنامہ تو کبھی نہیں رہا تھا۔ بس شہرت مجھے مل گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنا خلابازی کا کیرئیر ختم کر دیا اور سنسناٹی میں یونیورسٹی میں انجینرنگ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ مجھے ایک چیز کا افسوس رہا تھا۔ اپنے کیرئیر کی وجہ سے اپنی فیملی کو وقت نہیں دے سکا تھا۔ اپنے بڑھتے بیٹوں کے ساتھ کم وقت گزار سکا۔ مجھے علم تھا کہ اپالو پروگرام کی اپنی زندگی زیادہ لمبی نہیں اور اس کو چند سال کے بعد چھوڑ دینے کا ہی پلان تھا، لیکن خلائی پروگرام سے میری توقعات زیادہ تھیں۔ میرا خیال تھا کہ ہم اس سے کہیں زیادہ کر پائیں گے جتنا ہم نے کیا۔ میری رائے یہ ہے کہ جب آپ کا مقابلہ ختم ہو جائے تو پھر آپ زیادہ نہیں کر پاتے۔ وہ جذبہ اور حوصلہ ماند پڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

First Man: The Life of Neil A. Armstrong by James R. Hansen

Adresse

Landstrasse 19
Diemelstadt
34474

Telefon

+491742187128

Website

Benachrichtigungen

Erfahren Sie als Erste/r von Neuigkeiten und Aktionen: Wir schicken Ihnen eine E-Mail, wenn Urdu Adab Page etwas veröffentlicht. Ihre E-Mail-Adresse wird für keinen anderen Zweck verwendet, und Sie können sich jederzeit abmelden.

Service Kontaktieren

Nachricht an Urdu Adab Page senden:

Verknüpfungen

Teilen

Kategorie