Umair Afzal Speaks

Umair Afzal Speaks Living in Germany, Content Creator, Student, Android Developer, University Lecturer

اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکیسنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کوانور صدیقی۔
14/03/2026

اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی
سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو

انور صدیقی۔

زندگی نہ جانے کب سپر ہیروز کی خیالی اور شور سے بھرپور فلموں سے نکل کر خاموش مگر گہرے انسانی جذبات کے حصار میں آ گئی، اس ...
04/01/2026

زندگی نہ جانے کب سپر ہیروز کی خیالی اور شور سے بھرپور فلموں سے نکل کر خاموش مگر گہرے انسانی جذبات کے حصار میں آ گئی، اس کا احساس ہی نہ ہو سکا۔ یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ کب دقیانوسی قرار دی جانے والی کہانیاں اور سادہ سے خیالات دل کو چھونے لگے۔
"The Children’s Train"
یہ فلم اگرچہ مکمل طور پر حقیقی واقعات پر مبنی نہیں، مگر ناول نگار کے تحریر کردہ ہر لفظ کو جس خوبصورتی، حساسیت اور دیانت داری کے ساتھ پردۂ اسکرین پر منتقل کیا گیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ غربت، مفلسی اور بے بسی جیسے تلخ حقائق کے باوجود یہ فلم محض دکھ کا بیان نہیں، بلکہ انسانی جذبوں، رشتوں اور امید کی نرم سی روشنی کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے۔
کہانی دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں ایک بچے کے کردار کے ذریعے اٹلی کے شہر نیپلز کے سماجی حالات، طبقاتی فرق اور انسانی کرب کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے، جو انسان کو خاموشی سے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

پولینڈ سے واپسی پر دوست آپس میں گفتگو کر رہے تھے ک ملک کچھ خاص پسند نہیں آیا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ برباد ہونے کے بعد مرمت...
01/01/2026

پولینڈ سے واپسی پر دوست آپس میں گفتگو کر رہے تھے ک ملک کچھ خاص پسند نہیں آیا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ برباد ہونے کے بعد مرمت نے وہ پرانی، قدیم آرائش ختم کر دی ہے۔
کسی نے آواز لگائی، “نہیں جی! پراگ کا گوتھک آرکیٹیکچر دیکھنے کے بعد اب شاید ہی کچھ آنکھوں کو حیران کر سکے۔”
اور کوئی سڑکوں کا موازنہ جرمنی کی آٹوبان سے کر رہا تھا۔

اور مجھے وہ پرانے دن یاد آ رہے تھے—سارا دن محلے کی نکڑ پر بیٹھ کر بجلی آنے کا انتظار کرنا۔ جب بجلی آتی، تب گھر جاتے… جیسے کوئی تہوار آ گیا ہو۔

یونیورسٹی کے دنوں میں بھی شاید ہی کبھی سیر و تفریح کی غرض سے شہر سے باہر نکلنا ہوا ہو۔ کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ گھومنے نکل جاتے تھے، وہ بھی ایسے جیسے کسی مہم پر جا رہے ہوں۔

اپنے ملک میں تو بنیادی ضروریات کی انتہائی قلت تھی، اور یہاں اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ کس ملک کو کیا بہتر کرنا چاہیے۔

پاکستان کے حکمران بہت ہی اچھے ہیں—ہمیں اس سے آگے سوچنے ہی نہیں دیتے کہ “بجلی آ گئی ہے تو فلاں کام کر لوں” یا “بجلی جانے سے پہلے فلاں کام نمٹا لوں”۔ یہ ایک زبردست تربیتی عمل ہے۔
ورنہ یہ لوگ جو گلی محلے کا کچرا اٹھائے جانے اور نالی کے پکے ہونے کو ہی ترقی کا کام سمجھتے ہیں، اگر انہیں بنیادی سہولتیں میسر آ جائیں تو سوال پوچھنا شروع کر دیں گے۔

اب ادھر جیسے ان لوگوں کو بنیادی ضرورتیں میسر ہیں تو سوال پوچھتے ہیں۔ یقینا اگر پاکستان میں بھی انہیں یہ سہولتیں مل جائیں تو الٹے سیدھے سوال پوچھنے لگیں گے۔اس لیے میں تو پاکستانی حکمرانوں سے بہت خوش ہوں
اور چند سال پہلے ایک اماں جی کی رکشے میں بیٹھے ویڈیو وائرل ہوئی تھی، انہی کے الفاظ پر اختتام کرتا ہوں:

“میاں جی، تن کے رکھو!”

These walls are funny. First you hate 'em, then you get used to 'em. Enough time passes, you get so you depend on 'em. T...
07/12/2025

These walls are funny. First you hate 'em, then you get used to 'em. Enough time passes, you get so you depend on 'em. That's institutionalized۔

07/12/2025

چھٹی کے دن بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے بالآخر جب میں اردگرد ٹہلنے کیلئے باہر نکلا تو یہ منظر میرے سامنے تھا.
ایک تربیت گاہ، اور اس کے بیچوں بیچ دو بچے بڑی سنجیدگی سے سڑک پر لگے اشاروں کی پابندی کرتے ہوئے سائیکل چلا رہے تھے۔ ان کا یہ معصوم مگر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قابلِ غور بھی تھا اور قابلِ تعریف بھی۔
اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے تو ضرور کیے جاتے ہیں، لیکن ان کا اثر چند دن یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں تک ہی قائم رہتا ہے۔ کچھ عرصہ سختی نظر آتی ہے، پھر نظام وہی پرانی ڈگر پر واپس آ جاتا ہے۔
دوسری جانب مغربی معاشروں میں، جیسا کہ میرے گھر کے قریب قائم اس تربیتی درسگاہ میں دیکھا جا سکتا ہے، بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے سڑک کے اصولوں کی سمجھ بوجھ دی جاتی ہے۔ انہیں بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل صرف سواری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے—ایسی چیز جسے ذرا سی غفلت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ خود بھی نقصان پہنچا سکتی ہے اور دوسروں کی زندگی کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
یہی ابتدائی اور مستقل تربیت آگے چل کر ایک محفوظ، منظم اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔
#

29/10/2025

Short Trip to Barcelona.

01/10/2025

13/08/2025

29/07/2025

22/07/2025

20/07/2025

مرد ذات کیلئے سواری نامی شے ہمیشہ کشش کی حامل رہی ہے۔ اب چاہے وہ گھڑ سواری ہو،اونٹ کی سواری ہو یا مزید جس کا میں نام نہیں لے سکتا مگر جو اس وقت آپ کے ذہن میں آ رہا ہے ، یقینا وہ بھی۔

پاکستان میں گاڑی نہ چلانے کا خمیازہ ادھر میری انشورنس کمپنی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک تو میں نے گاڑی اس زمانے کی خریدی جب گاڑی کے تصور کو ہی بطور گاڑی پیش کیا جاتا تھا۔
اس پر مزید یہ کہ میں ہر رات غلطی سے کوئی نہ کوئی لائٹ آن چھوڑ کر اس کی بیٹری ختم کر دیتا ہوں۔
انشورنس والا بجلی کی تاریں پکڑے میر گاڑی کے آگے پیچھے گھومتا رہتا ہے۔

لطف انگیز بات یہ ہے کہ پاکستا ن میں جتنے پیسوں سے صرف رکشہ نظر آنے جیسی چیز خریدی جا سکتی ہے۔ ادھر میں نے اتنے میں گاڑی خرید لی۔
اور اس گاڑی کی سب سے بڑی خوبی جو مجھے نظر آئی، کہ یہ چلتی بھی ہے۔
مزید بتاتا چلوں کہ اس میں Ac ہے، ہیٹر ہے اور تو اور گاڑی کی سیٹوں کے اندر ہیٹر ہے۔ یعنی سردیوں میں اگر دل ٹھنڈا ہو بھی جائے تو کمر گرم
رہتی ہے۔

شیشے اوپر نیچے کرنے کے لیے بھی بٹن - مكمل پروٹوکول، جسے دیکھ کر دل کرتا ہے کہ خود کو وی آئی
پی سمجھ لیں۔
خیر، آپ سب دعا گو رہیں کہ یہ گاڑی میرے لیے بہتری، آسانی اور سکون کا باعث بنے۔ اور میری انشورنس کمپنی کے لیے صبر کا۔
شکریہ۔

عمیر افضل۔

21/06/2025

Adresse

Frankfurt

Website

Benachrichtigungen

Erfahren Sie als Erste/r von Neuigkeiten und Aktionen: Wir schicken Ihnen eine E-Mail, wenn Umair Afzal Speaks etwas veröffentlicht. Ihre E-Mail-Adresse wird für keinen anderen Zweck verwendet, und Sie können sich jederzeit abmelden.

Verknüpfungen

Teilen

Kategorie