History in Urdu

History in Urdu "Delving deep into Ottoman,Mughal, Abbasid, Wars, Mongol & Caliphate eras. Explore Muslim legacies 🕌

05/06/2026
04/06/2026

Savcı Bey | Rebel Story of Ottoman Empire

16/05/2026

The Death of Evrenos Oğlu Ali Bey

15/05/2026

How Did Zaganos Pasha Die? The Forgotten Ottoman Legend

02/05/2026

Sultan Abdul Hamid I - Part 1

01/05/2026

Orhan Ghazi The End of a Golden Era

29/04/2026

خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد، خصوصاً جنگِ عظیم اول کے خاتمے پر سلطنتِ عثمانیہ کمزور ہو گئی اور اس کے کئی علاقے اتحادی طاقتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ انہی حالات میں فرانس نے جنوبی اناطولیہ کے اہم شہر قہرمان مرعش پر قبضہ کر لیا۔ یہ زمانہ دراصل ترکی کی جنگِ آزادی کا ابتدائی دور تھا، جب ترک عوام بیرونی تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہو رہے تھے۔
اس دور میں ترک خواتین پردہ اور حجاب کا اہتمام کرتی تھیں۔ ایک دن فرانسیسی کمانڈر نے حجاب میں ملبوس ترک خواتین کو دیکھ کر غرور سے کہا: “تمہاری خلافت ختم ہو چکی ہے، اب تم فرانسیسی حکومت کے ماتحت ہو، لہٰذا حجاب اتار دو۔” مگر غیرت مند ترک خواتین نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔
جب اس فرانسیسی جنرل نے ایک خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو قریب ہی ایک ترک مسلمان موجود تھا جو دودھ فروخت کرتا تھا، اس کا نام امام سوتجو تھا۔ (ترکی زبان میں “سوت” کا مطلب دودھ اور “سوتجو” کا مطلب دودھ فروش ہوتا ہے)۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے اندر دینی حمیت اور غیرتِ ایمانی جوش میں آ گئی۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر جنرل کے کمر بند سے پستول نکالا اور اسی ہتھیار سے اسے ہلاک کر دیا۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کا ردِعمل نہیں تھا بلکہ اس نے پورے علاقے میں ایک عظیم عوامی بیداری پیدا کر دی۔ اس کے بعد قہرمان مرعش میں شدید بغاوت برپا ہوئی، جس میں مقامی ترک مجاہدین نے فرانسیسی افواج کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ تاریخی طور پر یہ بغاوت 1920ء میں اپنے عروج پر پہنچی، اور بالآخر فرانسیسی افواج کو پسپا ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں قہرمان مرعش آزاد ہو گیا۔ اس کامیابی پر بعد میں شہر کو “قہرمان” (یعنی بہادر) کا لقب بھی دیا گیا۔
بعد کے زمانے میں اس عظیم کارنامے کی یاد میں ایک مجسمہ نصب کیا گیا جسے “امام سوتجو، فاتحِ مرعش” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مجسمے میں ایک باحجاب خاتون، اس کا حجاب پکڑتا ہوا فرانسیسی جنرل، اور بہادر امام سوتجو کو دکھایا گیا ہے جو اسے گولی مار رہا ہے۔ یہ منظر اس واقعے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، ترکی میں سوتجو امام یونیورسٹی بھی انہی کے نام سے قائم کی گئی، اور کئی اوقاف اور فلاحی ادارے بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ آج بھی ترکی کے تعلیمی نصاب میں ان کی داستانِ شجاعت کو شامل کیا جاتا ہے، تاکہ نئی نسل کو غیرت، ایمان اور آزادی کی قدر کا شعور دیا جا سکے۔
"افسوس! آج وہی مسلمان نوجوان، جسے اپنی بہنوں کی عزت و حیا کا محافظ ہونا چاہیے تھا، انہی کی چادر و عصمت کو پامال کرنے میں شریک دکھائی دیتا ہے۔"
اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے،آمین

25/04/2026

Suleiman Pasha - The Beloved Son of Orhan Gazi and His Sudden Death

Dirección

Rua Carreira 41
Miño
15630

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando History in Urdu publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Empresa

Enviar un mensaje a History in Urdu:

Compartir