Asad Sial

Asad Sial Asad Sial | Social Issues & Reality Talks
Raising voice on social issues, injustice, and everyday realities. Because silence is not always an option.

21/07/2026
20/06/2026

Barcelona

Working as a trainer in Barcelona Spain🇪🇸
19/06/2026

Working as a trainer in Barcelona Spain🇪🇸

17/06/2026

Dosto ap kia kehty hen????

16/06/2026

جن طالبات کو تحفظ اور انصاف ملنا چاہیے تھا، ان ہی میں سے 16 نرسنگ طالبات کو ریلیف/فارغ کر دیا گیا، جبکہ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ فیصلہ مسئلے کے حل کے لیے کیا گیا یا ذمہ داری سے بچنے کے لیے؟

اگر یہ دعوے درست ہیں تو اصل ضرورت متاثرہ طالبات کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کی ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کی جو مزید سوالات کو جنم دیں۔

آخر ایسا کیوں ہوا؟ اور اس فیصلے کا نقصان کس کو پہنچا؟

16/06/2026

ایک غلطی، ایک غفلت، اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے اُجڑ گیا۔
اب چاہے جتنی وضاحتیں دی جائیں، چاہے جتنی کارروائیاں کر لی جائیں، ایک ماں باپ کی بیٹی واپس نہیں آ سکتی۔

ایسے واقعات صرف افسوس کا باعث نہیں بلکہ نظام کی کمزوریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ داری کا تعین ہو، انصاف ہو اور مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

جھنگ میں دو نوجوان مل کر بھی ایک سموسہ نہیں خرید سکیں گے ۔۔۔۔۔
15/06/2026

جھنگ میں دو نوجوان مل کر بھی ایک سموسہ نہیں خرید سکیں گے ۔۔۔۔۔

15/06/2026

پاکستان ویمنز کرکٹ کی شکست صرف میدان میں نہیں ہوئی، یہ ہمارے نظام کی شکست بھی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے ویمنز کرکٹ سسٹم کا موازنہ کریں تو فرق صاف نظر آتا ہے۔ ایک طرف کھلاڑیوں کو گراس روٹ لیول سے مواقع، سہولیات اور مسلسل کرکٹ ملتی ہے، جبکہ دوسری طرف ہماری باصلاحیت لڑکیاں مناسب مواقع، ڈومیسٹک اسٹرکچر اور سپورٹ سے محروم رہتی ہیں۔

اس ویڈیو میں میچ کی ہائی لائٹس کے ساتھ ان بنیادی وجوہات پر بھی بات کی گئی ہے جن کی وجہ سے پاکستان ویمنز کرکٹ مسلسل پیچھے رہ رہی ہے۔ مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔

آپ کے خیال میں پاکستان ویمنز کرکٹ کی ترقی کے لیے سب سے پہلے کیا بدلنا چاہیے؟

ممتاز عالمِ دین مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی انتقال کر گئے۔ وہ منہاج القرآن کے دارالافتاء کے سربراہ اور علومِ اسلامیہ و فقہ...
15/06/2026

ممتاز عالمِ دین مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی انتقال کر گئے۔ وہ منہاج القرآن کے دارالافتاء کے سربراہ اور علومِ اسلامیہ و فقہ کے نامور استاد تھے۔

مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی تعلیم، تدریس اور خدمت کے لیے وقف کیے رکھی، اور ان کے ہزاروں شاگرد ملک و بیرونِ ملک دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی گزشتہ 38 برس سے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ان کی علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کو دینی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد از نمازِ مغرب منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ادا کی جائے گی، جس کی امامت چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کریں گے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی و علمی خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

15/06/2026

اس گفتگو میں مہر الطاف بھروانہ، جو پنجابی ادب کے ایک تجربہ کار استاد اور شاعر ہیں، نے انتہائی پرسکون اور متوازن انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ میثم کھوکھر کی طرف سے نسبتاً سخت اور جذباتی لہجہ سامنے آیا۔

Dirección

Tarragona
43001

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando Asad Sial publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Empresa

Enviar un mensaje a Asad Sial:

Atajos

Compartir

Categoría