18/09/2026
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری،انسداد دہشت گردی عدالت نے جیل بھیج دیا۔
اسلام آباد سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد پولیس نے ایک نئے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا، بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
ذرائع کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے نئے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس کے ایس پی خرم اشرف کی قیادت میں پولیس نفری انہیں اسلام آباد لے گئی۔
*ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی متعدد گاڑیاں اور مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔ دونوں کو تھانہ کوہسار میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں طلب کیا گیا۔
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جہاں جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے دونوں ملزمان کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی تھی۔
*سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے وکلا کو عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ سپریم کورٹ کے مطابق ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک منظور کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نئے مقدمے میں عائد الزامات کا حتمی تعین عدالت میں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔