London Paris Pakistan

London Paris Pakistan Connecting cultures from London, Paris to Pakistan — fashion, lifestyle, travel, and inspiration all in one place.!! If you want to be trusted be Honest❤️
(1)

🇵🇰 پاکستان کی عوام کے لیے خوشخبری!پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ میں 126 ویں سے 98 ویں نمبر پر آنا ایک مضبوط کامیابی ہے! 🌟یہ ...
16/01/2026

🇵🇰 پاکستان کی عوام کے لیے خوشخبری!
پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ میں 126 ویں سے 98 ویں نمبر پر آنا ایک مضبوط کامیابی ہے! 🌟
یہ ترقی نہ صرف ہمارے ملک کی عالمی شناخت کو بہتر بناتی ہے بلکہ پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔ ✈️
یہ سب ممکن ہوا ہے ہمارے مسلسل محنت اور عزم کی بدولت۔ آئیے اس کامیابی کا جشن منائیں اور آگے بڑھنے کے لیے متحد رہیں! 💪

یونان کی شہزادی ایرینے 83 برس کی عمر میں میڈریڈ میں انتقال کر گئیں۔مرحومہ، سابق ملکہ صوفیہ کی بہن اور اسپین کے موجودہ با...
16/01/2026

یونان کی شہزادی ایرینے 83 برس کی عمر میں میڈریڈ میں انتقال کر گئیں۔
مرحومہ، سابق ملکہ صوفیہ کی بہن اور اسپین کے موجودہ بادشاہ فلپے ششم کی خالہ تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ میڈریڈ میں اسپینش شاہی محل میں گزارا۔
شہزادی ایرینے کو ہندی موسیقی اور ثقافت سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سرگرم رہیں اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے ایک فلاحی فاؤنڈیشن قائم کر رکھی تھی۔
ان کی زندگی سادگی، ثقافت سے محبت اور انسانیت و حیوانات کی خدمت کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔

🌙 شبِ معراج مبارکشبِ معراج وہ مقدس رات ہے جب زمین کی حدیں سمٹ گئیںاور آسمانوں نے محبوبِ خدا ﷺ کا پرنور استقبال کیا۔یہ وہ...
16/01/2026

🌙 شبِ معراج مبارک
شبِ معراج وہ مقدس رات ہے جب زمین کی حدیں سمٹ گئیں
اور آسمانوں نے محبوبِ خدا ﷺ کا پرنور استقبال کیا۔
یہ وہ رات ہے جب:
📿 نماز کا انعام ملا
🤍 رب اور بندے کے درمیان فاصلہ مٹ گیا
✨ یقین کو معراج نصیب ہوئی
یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
جب نیت خالص ہو اور دل سجدے میں ہو،
تو رب خود اپنے بندے کو بلاتا ہے۔
آج کی رات بس ایک ہی دعا کافی ہے:
یا اللہ! ہمیں بھی اپنے قرب کی وہ لذت عطا فرما
جو تیرے محبوب ﷺ کو نصیب ہوئی۔
🌙 شبِ معراج مبارک ہو
اللہ ہماری دعائیں قبول فرمائے، آمین 🤲

ہماری پہچان، ہماری نسبت اور ہمارا فخر ایک ہی ہے۔محمد ﷺ رسولُ اللہ۔سرحدیں بدل جاتی ہیں، زبانیں بدل جاتی ہیں،لیکن دلوں میں...
16/01/2026

ہماری پہچان، ہماری نسبت اور ہمارا فخر ایک ہی ہے۔
محمد ﷺ رسولُ اللہ۔
سرحدیں بدل جاتی ہیں، زبانیں بدل جاتی ہیں،
لیکن دلوں میں بسنے والا عشقِ مصطفیٰ ﷺ کبھی نہیں بدلتا۔
ہم جہاں بھی ہوں، نامِ محمد ﷺ ہماری شناخت ہے،
اور مدینہ ہماری روح کا مرکز۔
یہ نام ہمیں جوڑتا ہے،
یہی نام ہمیں سنوارتا ہے،
اور یہی نام ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرتا ہے۔

اصلی اور کھرے لوگ جانتے ہیں کہسچائی اور اصلیت دکھانے کا کوئی انعام نہیں ملتا۔یہ سب (ایمانداری اور خلوص) اس لیے کرتے ہیںک...
16/01/2026

اصلی اور کھرے لوگ جانتے ہیں کہ
سچائی اور اصلیت دکھانے کا کوئی انعام نہیں ملتا۔
یہ سب (ایمانداری اور خلوص) اس لیے کرتے ہیں
کیونکہ یہ ان کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔”

طوفان کے پار محبت(عجیب و غریب تاریخ)1917ء کی خزاں میں، نیویارک جانے والا ایک مسافر بردار جہاز بحرِ اوقیانوس کی ہولناک طو...
16/01/2026

طوفان کے پار محبت
(عجیب و غریب تاریخ)
1917ء کی خزاں میں، نیویارک جانے والا ایک مسافر بردار جہاز بحرِ اوقیانوس کی ہولناک طوفانی لہروں سے نبرد آزما تھا۔ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا—سینکڑوں مہاجر ایک بہتر مستقبل کے خواب لیے اس خطرناک سفر پر نکلے تھے۔ انہی میں اٹلی کا اٹھائیس سالہ بڑھئی انتونیو روسو بھی شامل تھا، جس کی گود میں اس کی پانچ سالہ بیٹی ماریا تھی۔
انتونیو کے لیے یہ سفر محض ہجرت نہیں تھا، بلکہ آخری امید تھا۔ اس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا چکی تھی، غربت نے جینا دوبھر کر دیا تھا، اور وہ اپنی بچی کے لیے ایک محفوظ، باعزت زندگی چاہتا تھا۔
رات کے دو بجے کے کچھ بعد، دیوقامت موجوں نے جہاز کو گھیر لیا۔ نچلا ڈیک—جہاں تیسری کیٹیگری کے مسافر سو رہے تھے—تیزی سے پانی سے بھرنے لگا۔ اندھیرا، چیخیں، دعائیں اور خوف… سب ایک ساتھ ٹوٹ پڑے۔
انتونیو چیخوں سے جاگا۔ جہاز خطرناک حد تک ایک جانب جھک رہا تھا۔ اس نے ماریا کو سینے سے لگایا اور گھٹنوں تک پانی میں راستہ بناتا ہوا اوپر کی طرف بڑھا۔ ہر طرف بھگدڑ تھی—کوئی گر رہا تھا، کوئی رو رہا تھا، کوئی اپنے خدا کو پکار رہا تھا۔
تب اس پر ایک ہولناک حقیقت منکشف ہوئی: دونوں کے لیے کوئی لائف بوٹ نہیں تھی۔ وقت ختم ہو چکا تھا۔ ماریا کانپ رہی تھی، اپنی ماں کو پکار رہی تھی۔ ڈیک پر پہنچ کر انتونیو کی نظر ایک ٹوٹے ہوئے روشن دان پر پڑی—اتنا چھوٹا کہ صرف ایک بچہ نکل سکتا تھا۔ دور اندھیرے میں ریسکیو کشتیوں کی مدھم روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں—کمزور سی امید کی مانند۔
آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے، انتونیو نے ماریا کو اٹھایا اور اسے اس سوراخ سے برفیلے سمندر میں دھکیل دیا۔ ماریا کی چیخ رات کے سناٹے میں گونج اٹھی اور وہ لہروں میں اوجھل ہو گئی۔
انتونیو جھک کر چلّایا—وہ آخری الفاظ جو ماریا نے زندگی بھر نہ بھلائے:
“تیرو، ماریا! روشنی کی طرف تیرو! مدد آ رہی ہے!”
وہ جانتا تھا کہ شاید ماریا بچ جائے۔
اور یہ بھی کہ وہ خود نہیں بچے گا۔
چند لمحوں بعد جہاز سمندر کی تہہ میں جا بسا۔ انتونیو روسو 117 دیگر افراد کے ساتھ ڈوب گیا۔ اس کی لاش کبھی نہ مل سکی۔
ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد، ریسکیو عملے نے سمندر سے ایک ننھی، بے ہوش بچی کو نکالا۔ ماریا بمشکل زندہ تھی—سردی اور خوف سے سن۔ کمبل میں لپیٹ کر اسے ایک ہسپتال جہاز پر منتقل کیا گیا۔
وہ ایک اجنبی سرزمین میں بالکل اکیلی تھی۔ زبان اجنبی تھی، چہرے نامانوس تھے۔ اس کے پاس بس ایک سہارا تھا—اپنے باپ کی آواز، جو اسے روشنی کی طرف تیرنے کا حوصلہ دے رہی تھی۔
ماریا نیویارک کے ایک یتیم خانے میں پلی بڑھی۔ وہ برسوں اپنے باپ کا انتظار کرتی رہی۔ کوئی اسے نہ بتا سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وقت گزرتا گیا، امید مدھم پڑتی گئی، اور ایک دن اس نے یہ یقین کر لیا کہ شاید اس کے باپ نے اسے چھوڑ دیا تھا—کہ اسے سمندر میں دھکیل دینا ہی اس کی آخری یاد تھی۔
حقیقت اس تک تیس برس بعد پہنچی۔ ایک مؤرخ نے جہاز کے ریکارڈ کھنگالے۔ تب معلوم ہوا کہ انتونیو روسو نے اپنی بیٹی کو نہیں چھوڑا تھا—وہ اسے بچاتے ہوئے مر گیا تھا۔ اس نے اپنی زندگی قربان کر کے اس کی زندگی چُن لی تھی۔
ماریا 2004ء میں بانوے برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئی۔ اس نے ایک بھرپور زندگی گزاری—شادی کی، چار بچوں کی ماں بنی، اور بے شمار پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اس کی یادگار بنے۔ اکتیس زندگیاں ایک باپ کے آخری، بے لوث فیصلے کی مرہونِ منت تھیں۔
تراسی برس کی عمر میں، ماریا نے آنسوؤں کے ساتھ اپنی کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ وہ آج بھی روشن دان میں اپنے باپ کا چہرہ دیکھتی ہے، اور آج بھی اس کی آواز سنتی ہے جو اسے تیراکی کا حوصلہ دے رہی ہے۔
تقریباً آٹھ دہائیوں تک وہ روشنی کی طرف تیرتی رہی—جیتی رہی، محبت کرتی رہی، ثابت قدم رہی—کیونکہ اس کے باپ نے اسے یہ موقع دیا تھا۔
“مجھے امید ہے میں نے انہیں فخر دیا ہوگا،” اس نے کہا۔
“مجھے امید ہے وہ جانتے ہوں گے کہ میں نے اچھی زندگی گزاری۔
اور جب میں دوبارہ ان سے ملوں گی، میں بس اتنا کہوں گی:
شکریہ، پاپا۔ میری زندگی چُننے کا شکریہ۔ ہر چیز کا شکریہ۔”
کچھ محبتیں طوفان میں ماند نہیں پڑتیں۔
وہ اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ کسی کو طوفان کے پار لے جاتی ہیں۔

16/01/2026

جمعہ مبارک ہو 🌙
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، سکون اور برکت عطا فرمائے،
دلوں کے فاصلے ختم ہوں اور رشتوں میں محبت پیدا ہو۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾
“بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 90)
اللہ ہمیں عدل، احسان اور محبت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

15/01/2026
کوئلے کی کانوں کے گھوڑےیہ گھوڑے دھوپ اور تازہ ہوا سے ناآشنا تھے۔یہ زیرِ زمین اندھیروں میں رہتے تھے،جنہیں “کونگونز” کہا ج...
15/01/2026

کوئلے کی کانوں کے گھوڑے
یہ گھوڑے دھوپ اور تازہ ہوا سے ناآشنا تھے۔
یہ زیرِ زمین اندھیروں میں رہتے تھے،
جنہیں “کونگونز” کہا جاتا تھا۔
یہ گھوڑے اندھیرے ہی میں پیدا ہوتے،
وہیں اپنی پوری زندگی کام میں گزار دیتے
اور وہیں خاموشی سے مر جاتے۔
ایک گھوڑا کوئلے سے لدی آٹھ بھاری بوگیوں کو کھینچ سکتا تھا۔
انتہائی سخت اور ظالمانہ حالات کے باوجود
ان گھوڑوں نے اپنا وقار کبھی نہیں کھویا۔
وہ اپنے حق سے آگاہ تھے—
اگر بوجھ حد سے زیادہ ہوتا
تو وہ چلنے سے صاف انکار کر دیتے۔
ان کے پاس وقت کا حیرت انگیز احساس تھا۔
وہ جانتے تھے کہ ان کا کام کا دن کب ختم ہوتا ہے
اور اندھیرے میں بھی
اصطبل تک واپسی کا راستہ خود تلاش کر لیتے تھے۔
کوئلے کی کانوں میں گھوڑوں کی یہ محنت 1972 تک جاری رہی
جب ٹیکنالوجی نے اس تاریک دور کا خاتمہ کیا۔
3 دسمبر 1972ء کو
روبی—آخری کان کن گھوڑا—
کان سے باہر آیا،
مزدوروں کے جلوس کے ساتھ۔
روبی کو ایک چادر اوڑھا کر رخصت کیا گیا…
یہ صرف ایک گھوڑے کی نہیں،
ایک پورے عہد کی خاموش الوداع تھی۔

Adresse

Paris
75012

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque London Paris Pakistan publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager