KK TV Network

KK TV Network News Updates
(1)

06/09/2026

آخری دم تک ڈٹا رہا — میجر راجہ عزیز بھٹی ش/ہ/ی/د

نوٹ: اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے مناظر AI-generated illustrative visuals ہیں، اصل تاریخی تصاویر یا جنگ کے حقیقی مناظر نہیں۔ ویڈیو بنانے کا مقصد صرف معلومات دینا ہے۔

06/09/2026

پیوٹن سے 3 گھنٹے کی خفیہ ملاقات، کیا یوکرین جنگ ختم ہونے والی ہے؟

ڈسکلیمر: اس ویڈیو میں استعمال ہونے والی تمام تصاویر AI-generated / مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ illustrative images ہیں۔ یہ حقیقی ملاقات یا اصل واقعات کی تصاویر نہیں ہیں۔ ویڈیو کا مقصد موجودہ بین الاقوامی خبروں کو معلوماتی اور بصری انداز میں پیش کرنا ہے۔

#پیوٹن #روس #یوکرین #امریکہ

مسجدِ حضرت علیؓ — مدینہ منورہ کا ایک تاریخی مقاممدینہ منورہ میں واقع مسجدِ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک معروف ت...
05/09/2026

مسجدِ حضرت علیؓ — مدینہ منورہ کا ایک تاریخی مقام

مدینہ منورہ میں واقع مسجدِ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک معروف تاریخی مقام کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ مسجد تاریخی طور پر مسجدِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مشرق میں ایک نسبتاً بلند مقام پر واقع بتائی جاتی ہے اور مدینہ منورہ کے اہم تاریخی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔

تاریخی معلومات کے مطابق اس مسجد کی لمبائی تقریباً 8.5 میٹر اور چوڑائی 6.5 میٹر بیان کی جاتی ہے۔ مسجد تک رسائی کے لیے ایک مختصر سیڑھی بھی موجود ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق اس مقام کی تعمیر یا بعد میں ہونے والی تجدید کا تعلق مسجدِ فتح کے تعمیر و تجدید کے ادوار سے جوڑا جاتا ہے۔

غزوۂ احزاب کے حوالے سے بعض تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسی علاقے کے قریب مشہور جنگجو عمرو بن عبدود کے مقابلے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اس مخصوص مسجد یا مقام کو اس واقعے کی قطعی جگہ قرار دینا تاریخی روایات پر مبنی ہے، اس لیے اسے حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنے کے بجائے "روایت کے مطابق" یا "منسوب کیا جاتا ہے" کہنا زیادہ محتاط ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس مقام اور اس کے اطراف موجود تاریخی مساجد کی مرمت اور دیکھ بھال بھی کی گئی۔ علاقے میں شجرکاری اور دیگر ترقیاتی اقدامات کے نتیجے میں یہاں ایک پُرسکون اور خوبصورت ماحول بھی نظر آتا ہے۔

یہ تاریخی مقام مدینہ منورہ کی اس سرزمین کی یاد دلاتا ہے جہاں غزوۂ احزاب جیسے اہم واقعات پیش آئے اور جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام کے دفاع میں بے مثال شجاعت اور قربانیوں کا مظاہرہ کیا۔ 🤍

تاریخی وضاحت:
مسجدِ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور غزوۂ احزاب سے متعلق بعض تفصیلات تاریخی روایات میں بیان ہوئی ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص مقام یا واقعے کی نسبت کو قطعی اور یقینی قرار دینے کے بجائے "تاریخی روایات کے مطابق" اور "منسوب کیا جاتا ہے" جیسے الفاظ استعمال کرنا زیادہ محتاط اور علمی طرزِ بیان ہے۔

ڈسکلیمر:
یہ پوسٹ اسلامی، تاریخی اور ثقافتی معلومات کے عمومی مقصد کے لیے شیئر کی گئی ہے۔ تاریخی مقامات اور ان سے وابستہ روایات کے بارے میں مختلف آرا پائی جا سکتی ہیں، لہٰذا غیر قطعی معلومات کو حتمی اور یقینی تاریخی حقیقت نہ سمجھا جائے۔

صخرۂ مقدس — قبۃ الصخرہ اور واقعۂ اسراء و معراجشہرِ القدس میں واقع قبۃ الصخرہ (Dome of the Rock) کے اندر موجود ایک معروف ...
05/09/2026

صخرۂ مقدس — قبۃ الصخرہ اور واقعۂ اسراء و معراج

شہرِ القدس میں واقع قبۃ الصخرہ (Dome of the Rock) کے اندر موجود ایک معروف چٹان کو اسلامی و تاریخی روایت میں صخرۂ مقدس کہا جاتا ہے۔ یہ چٹان صدیوں سے مسلمانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہے اور اسے روایتی طور پر واقعۂ اسراء و معراج سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کے عظیم سفرِ اسراء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى﴾

"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔"

(سورۃ الإسراء: 1)

اسلامی روایات کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کو رات کے سفر میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا، جسے اسراء کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے آسمانی سفرِ معراج کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے۔

قبۃ الصخرہ کے اندر موجود اس چٹان کو اسلامی روایت میں واقعۂ معراج سے جوڑا جاتا ہے، تاہم یہاں ایک اہم تاریخی وضاحت ضروری ہے: قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں اس مخصوص چٹان کو معراج کے آسمانی سفر کے آغاز کی جگہ کے طور پر صراحت کے ساتھ متعین نہیں کیا گیا۔ لہٰذا علمی احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے قطعی اور یقینی تاریخی حقیقت کے بجائے روایت کے مطابق منسوب نسبت کے طور پر بیان کیا جائے۔

مسجدِ اقصیٰ اور بیت المقدس کی مقدس سرزمین مسلمانوں کے لیے نہایت عظیم دینی، تاریخی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ واقعۂ اسراء و معراج ہمیں رسول اللہ ﷺ کی عظمت، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت اور مسجدِ اقصیٰ کی خصوصی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔

اہم تاریخی وضاحت:
قبۃ الصخرہ کے اندر موجود چٹان کو صخرۂ مقدس کہا جاتا ہے اور اسلامی روایت میں اسے واقعۂ معراج سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم اس مخصوص چٹان کو معراج کے آغاز کا مقام قرار دینے کی صراحت قرآنِ کریم یا صحیح احادیث میں موجود نہیں۔ اس لیے "روایت کے مطابق" اور "منسوب کیا جاتا ہے" جیسے الفاظ استعمال کرنا زیادہ محتاط اور علمی طرزِ بیان ہے۔

ڈسکلیمر:
یہ تحریر دینی، تاریخی اور معلوماتی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ تاریخی مقامات سے متعلق بعض نسبتیں روایات پر مبنی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں قطعی اور حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔

🌿 بنی سعد — رسول اللہ ﷺ کے بچپن کی یادیںطائف کے قریب بنی سعد کے علاقے میں موجود بعض قدیم کھنڈرات اور آثار کو مقامی اور ر...
05/09/2026

🌿 بنی سعد — رسول اللہ ﷺ کے بچپن کی یادیں

طائف کے قریب بنی سعد کے علاقے میں موجود بعض قدیم کھنڈرات اور آثار کو مقامی اور روایتی طور پر حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے اپنے بچپن کا ابتدائی حصہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی رضاعت اور کفالت میں بنی سعد کے علاقے میں گزارا۔

🌸 حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو رسول اللہ ﷺ کی رضاعی والدہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ بنی سعد کے صحرائی اور سادہ ماحول میں آپ ﷺ نے اپنے بچپن کے ابتدائی ایام گزارے، جہاں عرب معاشرے کی فصاحت، سادگی اور خالص ماحول سے بھی آپ ﷺ کی ابتدائی تربیت وابستہ رہی۔

سیرتِ طیبہ کے مطابق، اسی بچپن کے دور سے شقِ صدر کا عظیم واقعہ بھی منسوب ہے، جس کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے۔

آج بنی سعد کے علاقے میں موجود بعض قدیم آثار کو مقامی روایات کی بنیاد پر حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کھنڈرات کی حتمی شناخت کو آثارِ قدیمہ کے ذریعے قطعی طور پر ثابت نہیں کیا گیا، اس لیے انہیں روایتی تاریخی نسبت کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط طرزِ عمل ہے۔

🤍 یہ مقامات ہمیں رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے ان ابتدائی ایام کی یاد دلاتے ہیں، جو بنی سعد کے پُرسکون صحرائی ماحول میں گزرے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت پیدا فرمائے اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Disclaimer:
This post presents information based on traditional Islamic and local historical accounts. The exact identification of these ruins as the house of Halimah Al-Sa'diyyah (RA) has not been independently established through definitive archaeological evidence. Therefore, this attribution should be understood as a traditional historical association rather than a conclusively verified archaeological identification.

🌙 حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ — ذاتُ النطاقینمکہ مکرمہ کے تاریخی مقبرۂ معلاۃ میں ایک قبر حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیقؓ سے منسو...
05/09/2026

🌙 حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ — ذاتُ النطاقین

مکہ مکرمہ کے تاریخی مقبرۂ معلاۃ میں ایک قبر حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیقؓ سے منسوب کی جاتی ہے۔ حضرت اسماءؓ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بڑی بہن اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی تھیں۔

حضرت اسماءؓ نے اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان قبول کیا اور ہجرتِ نبوی ﷺ کے موقع پر اپنے والد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور رسول اللہ ﷺ کی مدد میں اہم کردار ادا کیا۔

🌙 ذاتُ النطاقین کا لقب

ہجرت کے سفر کے موقع پر حضرت اسماءؓ نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے سفر کا سامان تیار کیا۔ روایات کے مطابق، انہوں نے اپنے کمر بند کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصے سے کھانے کا سامان باندھ دیا۔ اسی واقعے کی نسبت سے انہیں "ذاتُ النطاقین" یعنی دو کمر بندوں والی کا لقب دیا گیا۔

حضرت اسماءؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ کی زوجہ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ مدینہ منورہ میں مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے کے طور پر معروف ہیں۔

حضرت اسماءؓ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری اور 73 ہجری میں وفات پائی۔

🤍 حضرت اسماءؓ کی زندگی ایمان، ہمت، قربانی، وفاداری اور ثابت قدمی کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی جدوجہد اور کردار اسلامی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔

Disclaimer:
یہ پوسٹ حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ کی معروف سوانحی معلومات کے ساتھ مقبرۂ معلاۃ میں ان سے منسوب قبر کا ذکر پیش کرتی ہے۔ تاریخی قبرستانوں میں انفرادی قبور کی درست شناخت ہمیشہ آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق نہیں ہوتی، اس لیے قبر کی نسبت کو اسی تاریخی روایت کے تناظر میں سمجھا جائے۔

📜 مسجدِ دِرع — غزوۂ اُحد سے جڑا ایک تاریخی مقامتاریخی روایات کے مطابق نبی کریم حضرت محمد ﷺ غزوۂ اُحد کے لیے روانگی کے دو...
05/09/2026

📜 مسجدِ دِرع — غزوۂ اُحد سے جڑا ایک تاریخی مقام

تاریخی روایات کے مطابق نبی کریم حضرت محمد ﷺ غزوۂ اُحد کے لیے روانگی کے دوران اس مقام پر تشریف لائے اور یہاں کچھ دیر قیام فرمایا۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے یہاں اپنی دِرع (زرہ) اتاری، اسی نسبت سے یہ مقام مسجدِ دِرع کے نام سے معروف ہوا۔

یہ وہ تاریخی دور تھا جب مدینہ منورہ سے مسلمانوں کا لشکر اُحد کی جانب روانہ ہوا۔ آج یہ مقام زائرین کو سیرتِ رسول ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم قربانیوں اور غزوۂ اُحد کے اہم واقعات کی یاد دلاتا ہے۔

❤️ ایسے تاریخی مقامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں، بلکہ ان مقامات سے بھی وابستہ ہے جہاں ایمان، صبر، استقامت، قربانی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی عظیم مثالیں قائم ہوئیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں سے سبق حاصل کرنے اور دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Disclaimer:
مسجدِ دِرع اور مسجدِ شیخین کا غزوۂ اُحد سے تعلق تاریخی اور روایتی روایات کی بنیاد پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں پیش کی گئی تفصیلات انہی تاریخی روایات کے مطابق ہیں؛ انہیں اس مقام کی کسی مستقل شرعی فضیلت کے اثبات کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔

صُفّہ — مسجدِ نبوی ﷺ کا وہ مبارک مقام جہاں علم، عبادت اور تربیت کا چراغ روشن ہواہجرتِ مدینہ کے بعد جب مسجدِ نبوی ﷺ تعمیر...
03/09/2026

صُفّہ — مسجدِ نبوی ﷺ کا وہ مبارک مقام جہاں علم، عبادت اور تربیت کا چراغ روشن ہوا
ہجرتِ مدینہ کے بعد جب مسجدِ نبوی ﷺ تعمیر ہوئی تو مسجد کے ایک حصے میں کھجور کی شاخوں سے ایک سایہ دار جگہ بنائی گئی، جسے الصُّفَّة (صُفّہ) کہا جاتا تھا۔
یہاں ایسے صحابہؓ قیام فرماتے تھے جن کے مدینہ منورہ میں اپنے گھر یا خاندان نہیں تھے۔ ان میں خصوصاً وہ مہاجرین شامل تھے جنہوں نے دنیاوی آسائشیں چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی صحبت، عبادت اور دین کی تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ ان مبارک ہستیوں کو اصحابِ صفہ کہا جاتا ہے۔
اصحابِ صفہ کی تعداد ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی تھی بلکہ حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ صحیح بخاری، حدیث 442 میں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:
"میں نے اصحابِ صفہ میں سے ستر آدمیوں کو دیکھا..."
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اصحابِ صفہ صرف غریب یا بے گھر افراد کا نام نہیں تھا، بلکہ ان میں ایسے جلیل القدر صحابہؓ بھی شامل رہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہ کر قرآن، حدیث اور دین کا علم حاصل کیا۔
وہ قرآن سیکھتے اور یاد کرتے، رسول اللہ ﷺ کی مجالس میں بیٹھتے، احادیث سنتے، عبادت کرتے اور دین کی تعلیم حاصل کرتے۔ ان میں سے بعض صحابہؓ کو مختلف علاقوں اور قبائل میں اسلام اور قرآن کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
اسی وجہ سے صُفّہ کو اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کے اہم علمی اور تربیتی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
اصحابِ صفہ میں شامل رہنے والے چند جلیل القدر صحابہؓ
حضرت ابو ہریرہؓ
اصحابِ صفہ میں سب سے نمایاں ناموں میں سے ایک۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں بہت وقت گزارا اور کثرت سے احادیث روایت کرنے والے صحابہؓ میں سب سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
حضرت سلمان فارسیؓ
آپؓ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ کی آزادی کے واقعے میں کھجور کے درختوں کا مشہور ذکر ملتا ہے، اور مدینہ منورہ میں آپؓ سے منسوب باغ بھی معروف ہے۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ
اسلام قبول کرنے والے ابتدائی صحابہؓ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؓ حق گوئی، سادگی اور زہد کے لیے مشہور تھے۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ
رسول اللہ ﷺ نے انہیں منافقین سے متعلق ایک خاص راز سے آگاہ فرمایا تھا، اسی نسبت سے انہیں صاحبِ سرِّ رسول اللہ ﷺ کہا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ
آپؓ قرآنِ کریم کے جلیل القدر قاری اور علم و فقہ میں ممتاز صحابی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ سے قرآن سیکھنے کی ترغیب بھی دی۔
حضرت صہیب رومیؓ
اسلام کی خاطر آپؓ نے اپنے مال و اسباب کی قربانی دی اور ہجرت اختیار کی۔ آپؓ کی قربانی اسلامی تاریخ کا ایک قابلِ ذکر واقعہ ہے۔
حضرت کعب بن مالکؓ
آپؓ انصار کے معروف شاعر اور رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرنے والے صحابہؓ میں سے تھے۔ غزوۂ تبوک کے بعد آپؓ کی سچی توبہ قبول ہونے کا واقعہ قرآنِ کریم میں بھی بیان ہوا ہے۔
صُفّہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟
صُفّہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مسجدِ نبوی ﷺ صرف نماز کی جگہ نہیں تھی بلکہ عبادت، تعلیم، تربیت، معاشرت اور ضرورت مندوں کی کفالت کا بھی مرکز تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ کی زندگی اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ آپؓ صُفّہ میں قیام کرتے، رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں زیادہ وقت گزارتے اور آپ ﷺ سے احادیث سنتے۔ اسی وجہ سے آپؓ کو بے شمار احادیث یاد کرنے اور امت تک پہنچانے کا عظیم شرف حاصل ہوا۔
آج بھی مسجدِ نبوی ﷺ میں صُفّہ کا یہ مبارک مقام زائرین کے لیے ایک تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مدینہ منورہ حاضر ہونے والوں کے لیے یہ جگہ اسلامی تاریخ کے اس روشن باب کی یاد تازہ کرتی ہے جہاں صحابہؓ نے علم، عبادت اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنایا۔
اگر یہ تحریر آپ کو پسند آئے تو اپنے دوست احباب کے ساتھ ضرور شیئر کریں، خصوصاً ان لوگوں کے ساتھ جو جلد مدینہ منورہ حاضری کی سعادت حاصل کرنے والے ہیں۔
تحریر: محمد وقاص
صُفّہ کا چبوترا — مسجدِ نبوی ﷺ
مدینہ منورہ، سعودی عرب

میزابِ رحمت — خانۂ کعبہ سے حطیم کی جانب بہنے والا پرنالہخانۂ کعبہ کی چھت سے باہر کی جانب نکلا ہوا سنہری رنگ کا خوبصورت...
02/09/2026

میزابِ رحمت — خانۂ کعبہ سے حطیم کی جانب بہنے والا پرنالہ

خانۂ کعبہ کی چھت سے باہر کی جانب نکلا ہوا سنہری رنگ کا خوبصورت پرنالہ میزابِ رحمت کہلاتا ہے۔ یہ کعبہ شریف کی شمالی سمت، حِجرِ اسماعیلؑ (حطیم) کی جانب نصب ہے۔

کعبہ شریف کی چھت پر جمع ہونے والا بارش کا پانی اسی میزاب کے ذریعے حطیم کی جانب گرتا ہے۔ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت، خانۂ کعبہ کی عظمت اور بیت اللہ سے مسلمانوں کی عقیدت کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔

حِجرِ اسماعیلؑ مسجدِ حرام کا ایک نہایت مقدس حصہ ہے، جہاں نماز، ذکر، تلاوت اور دعا کی سعادت حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔

میزابِ رحمت کے نیچے دعا کے بارے میں اہم وضاحت

زائرین میں یہ بات مشہور ہے کہ میزابِ رحمت کے نیچے، حطیم میں کھڑے ہو کر دعا کرنے کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ تاہم اس مخصوص مقام پر دعا کے بارے میں ایسی صحیح اور صریح حدیث ثابت نہیں جس کی بنیاد پر یہ یقینی طور پر کہا جا سکے کہ یہاں دعا لازماً زیادہ قبول ہوتی ہے۔

اس لیے اس بات کو ایک مشہور عوامی یا تاریخی روایت کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے، جبکہ اسے قطعی طور پر مسنون عمل یا دعا کی قبولیت کے لیے مخصوص مقام قرار نہیں دینا چاہیے۔

البتہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہر جگہ کی جا سکتی ہے، اور مسجدِ حرام میں عبادت و دعا کی سعادت یقیناً ایک عظیم نعمت ہے۔

اے اللہ! ہمیں بار بار اپنے مقدس گھر کی حاضری نصیب فرما، ہماری دعاؤں کو اپنی رحمت اور حکمت کے مطابق قبول فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما۔ آمین۔

⚠️ ڈسکلیمر:
یہ تحریر عمومی معلومات اور دستیاب روایات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں بیان کردہ تمام معلومات کی مکمل تاریخی یا شرعی صحت کی ہم حتمی طور پر تصدیق نہیں کرتے۔ مذہبی معاملات میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء اور معتبر اسلامی کتب و ذرائع سے رجوع کریں۔

02/09/2026

راولپنڈی میں بارش کے بعد کے مناظر
Disclaimer: This video is created for entertainment purposes only. The information, opinions, predictions, and discussions presented in this video are intended solely for entertainment and should not be considered official or factual statements.
The visuals/images used in this video have been obtained from different publicly available platforms and are used solely for entertainment purposes.
No harm, defamation, or misrepresentation is intended toward any individual, actor, creator, organization, or institution.
This content is intended strictly for entertainment purposes only.

Address

01
Belfast

Telephone

+923417387770

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KK TV Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share