Hamza Naseer

Hamza Naseer Hamza Naseer. Human Rights Defender
Vloger & Citizen Journalist
(271)

02/10/2026

ہمارا آرے امجد دو ماہ سے زائد عرصہ تک جیل کاٹ کے آیا ، رات ساری ناکوں پہ پہرہ دیتا ہے ، چار اکتوبر کے حوالہ سے سنیں کیا کہتا ہے..

02/10/2026

کیا آ پ کل 3 اکتوبر کو صدر ریاست کا راستہ روکنے جا رہے ہیں ؟ سردار امان کشمیری نے وضاحت کر دی..

02/10/2026

فارن فنڈڈ ❌ RAW فنڈد ❌ ملاحظہ فرمائیں کیسے لوگ تعاون اور محنت کر رہے ہیں..

02/10/2026

آزاد خوراک تحریک کا عملی نمونہ ، یا اللہ ہم صرف تیرے سامنے ہی جھکتے ہیں اور تجھ سے ہی رزق طلب کرتے ہیں ، کشمیری کسی کا نہیں کھاتے ☑️ اس بھائی کی محنت ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں بنجر پڑی زمینوں سے ہم کتنا کما سکتے ہیں !

01/10/2026

صدقہ جاریہ کیلئے ایمبولینسز لی جا سکتی ہیں تو ٹریکٹر بھی لیئے جا سکتے ہیں ، ہم کمیونٹی فارمنگ کا آغاز کر رہے ہیں جو اس دور کی سب سے اہم ضرورت ہے کیا آ پ بھی اس مہم کاُحصہ بنیں گے ؟

01/10/2026

ان ویرانیوں کے ذمہ دار تم ہو

01/10/2026

آزاد خوراک کیوں ضروری ہے ؟ آخر کب تک کوئی کسی کا سہارا بن سکتا ہے ؟

خواجہ مہران ارشد کے والد کی املاک مسمار کرنے پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا قانونی جواز پیش کرنے کا مطالبہجمو...
30/09/2026

خواجہ مہران ارشد کے والد کی املاک مسمار کرنے پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا قانونی جواز پیش کرنے کا مطالبہ
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے ترجمان نے انتظامیہ کی جانب سے خواجہ مہران ارشد کے والد کی ملکیت ڈیرہ/مہمان خانہ مسمار کیے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ عمارت تقریباً ایک دہائی سے قائم تھی۔
کارروائی کے دوران مبینہ طور پر احاطے میں موجود درخت بھی کاٹے گئے، جبکہ ایک گھوڑا زخمی ہوا۔ ان اطلاعات کے پیشِ نظر یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ انتظامیہ وہ قانونی اختیار، تحریری احکامات اور عملی ہدایات سامنے لائے جن کے تحت یہ کارروائی کی گئی۔
ترجمان نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ عمارت مسمار کرنے اور املاک پر کی گئی دیگر کارروائیوں کی واضح قانونی بنیاد، تحریری حکم اور متعلقہ قانونی اختیار عوام کے سامنے پیش کریں۔
’’اگر مالک کو کوئی نوٹس جاری کیا گیا تھا تو اسے سامنے لایا جائے۔ اگر انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ زمین یا تعمیر غیر قانونی تھی تو اس سے متعلق سرکاری ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر انہدام کا کوئی تحریری حکم موجود ہے تو انتظامیہ واضح کرے کہ وہ کس نے جاری کیا، قانون کی کس شق کے تحت جاری کیا، اور اس میں کن اقدامات کی اجازت دی گئی تھی۔‘‘
املاک اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کا آئینی تحفظ
ترجمان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین، 1974 املاک کے تحفظ اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کی آئینی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
آرٹیکل 4 میں درج بنیادی حق نمبر 13 کے تحت ریاستی باشندوں کو جائیداد حاصل کرنے، اپنے پاس رکھنے اور اسے منتقل کرنے کا حق حاصل ہے، البتہ مفادِ عامہ میں قانون کے ذریعے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ بنیادی حق نمبر 14(1) کے مطابق:
’’کسی شخص کو اس کی جائیداد سے قانون کے مطابق ہی محروم کیا جا سکتا ہے۔‘‘
اسی طرح بنیادی حق نمبر 15 کے تحت تمام ریاستی باشندے قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کے یکساں تحفظ کے حق دار ہیں۔
بنیادی حق نمبر 19 کے تحت کسی شخص کے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین میں اسے منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کا حق حاصل ہے۔
ان آئینی ضمانتوں کے تحت انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ اس قانونی اختیار کی نشان دہی کرے جس کی بنیاد پر نجی املاک میں اس نوعیت کی سنگین مداخلت کی گئی۔
فورتھ شیڈول کسی دوسرے شخص کی املاک کے خلاف کارروائی کا قانونی جواز نہیں بن سکتا
ترجمان نے کہا کہ اگر اس انہدام کا کسی بھی طرح خواجہ مہران ارشد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے سے تعلق تھا تو انتظامیہ واضح کرے کہ قانون کی کس شق نے ان کے والد کی ملکیت املاک کے خلاف کارروائی کی اجازت دی۔
’’کسی ایک شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہونا، بذاتِ خود، کسی دوسرے شخص کی ملکیت املاک کو مسمار کرنے، نقصان پہنچانے یا ان میں کسی اور قسم کی مداخلت کا قانونی جواز نہیں بن سکتا۔‘‘
ترجمان نے زور دیا کہ قانونی ذمہ داری انفرادی ہونی چاہیے، اور رشتہ داروں یا ان کی املاک کو متاثر کرنے والے اقدامات کے لیے الگ قانونی بنیاد اور شواہد کا ہونا ضروری ہے۔
’’اگر زمین یا تعمیر سے متعلق کوئی الگ قانونی خلاف ورزی موجود تھی تو انتظامیہ اسے سامنے لائے۔ اگر ایسی کوئی خلاف ورزی نہیں تھی تو یہ سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایک شخص کے خلاف تادیبی کارروائی کا دائرہ عملاً اس کے خاندان تک بڑھا دیا گیا۔‘‘
درختوں کی کٹائی اور گھوڑے کے زخمی ہونے کی اطلاعات
ترجمان نے احاطے میں درختوں کی کٹائی اور کارروائی کے دوران ایک گھوڑے کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی وضاحت طلب کی۔
’’انتظامیہ واضح کرے کہ اگر انہدام کا کوئی حکم موجود تھا تو کیا اس میں درخت کاٹنے کی بھی اجازت دی گئی تھی؟ نیز املاک، جانوروں اور گرد و نواح کو غیر ضروری نقصان سے بچانے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے؟‘‘
’’اگر سرکاری کارروائی کے دوران کوئی جانور زخمی ہوا تو اس کے حالات کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انتظامیہ واضح کرے کہ آیا یہ واقعہ درج کیا گیا، جانور کے علاج کے لیے ویٹرنری امداد فراہم کی گئی، اور کسی انکوائری کا آغاز کیا گیا؟‘‘
کسی انتظامی کارروائی کے دوران جانوروں، درختوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصان کو محض غیر اہم ضمنی نقصان قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری حکام اس بات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں کہ ریاستی طاقت کا ہر استعمال قانون کے مطابق، متناسب اور مناسب نگرانی میں ہو۔
انتظامیہ بنیادی سوالات کے جواب دے
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درج ذیل سوالات کے جواب عوام کے سامنے پیش کرے:
ڈیرہ کس مخصوص قانون اور کس قانونی شق کے تحت مسمار کیا گیا؟
کیا مالک کو کارروائی سے پہلے تحریری نوٹس دیا گیا تھا؟
کیا مالک کو جواب دینے یا مجوزہ انہدام کو چیلنج کرنے کا موقع دیا گیا؟
کیا انہدام کا تحریری حکم جاری کیا گیا تھا، اور اسے کس نے جاری کیا؟
کیا اس کارروائی کی اجازت دینے والا کوئی عدالتی حکم موجود تھا؟
زمین یا تعمیر سے متعلق کس مبینہ خلاف ورزی کو انہدام کی بنیاد بنایا گیا؟
احاطے میں درخت کاٹنے کی اجازت کس قانونی اختیار کے تحت دی گئی؟
کتنے درخت کاٹے گئے، اور کیا ان کا کوئی سرکاری ریکارڈ یا تخمینہ تیار کیا گیا؟
کیا کارروائی کے دوران کوئی گھوڑا زخمی ہوا، اور اگر ہوا تو چوٹ کس وجہ سے لگی؟
کیا گھوڑے کے علاج کے لیے ویٹرنری امداد فراہم کی گئی یا اس کی پیشکش کی گئی؟
کارروائی کا نگران افسر کون تھا؟
اگر انہدام کا تعلق خواجہ مہران ارشد کے خلاف اقدامات سے تھا تو ان کے والد کی ملکیت املاک کے خلاف کارروائی کی اجازت قانون کی کس شق نے دی؟
ترجمان نے مزید کہا:
’’اگر انتظامیہ نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے تو اسے نوٹس، انہدام کا حکم، متعلقہ قانونی اختیار اور کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ خاموشی قانونی جواز کا متبادل نہیں بن سکتی۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ سرکاری اہلکار جبری اختیارات استعمال کرتے وقت بھی آئین اور قانون کے پابند رہتے ہیں۔
’’سرکاری عہدہ کسی بھی اہلکار یا ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ عبوری آئین املاک، قانون کے سامنے برابری اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والی ہر انتظامی کارروائی کے لیے واضح قانونی اختیار اور درست طریقۂ کار کی بنیاد پر جواز پیش کرنا ممکن ہونا چاہیے۔‘‘
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کارروائی سے متعلق قانونی ریکارڈ فوری طور پر شائع کرے، درختوں کی کٹائی اور گھوڑے کے مبینہ طور پر زخمی ہونے کی وضاحت پیش کرے، اور واضح کرے کہ آیا کارروائی سے پہلے مالک کو نوٹس دیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔

https://jkjaac.co/jkjaac-demands-legal-explanation-over-demolition-of-property-belonging-to-khawaja-mehran-arshads-father

30/09/2026

جب بات نہ بن سکی ہیر پھیر سے تو
کتے لڑا دیئے گئے جنگل کے شیر سے
#ڈڈیال خواجہ مہران کا ڈیرہ گرانے کے بعد فورسز گھر کی طرف پیش رفت کر رہی ہیں

30/09/2026

راولاکوٹ : فائرنگ ، شوکت نواز میر صاحب کی پیشگی ، آئی جی صاحب اور چیف سیکرٹری صاحب کی پریس کانفرنس اور پونچھ پیکج
30 ستمبر 2026

Address

Birmingham

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamza Naseer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hamza Naseer:

Shortcuts

Share

Category