18/08/2026
سوشل میڈیا پر صدقات کے نام پر بڑا دھدوکا: دکھلاوے کی آڑ میں کروڑوں کے غبن کا انکشاف
سوشل میڈیا پر فلاح و بہبود اور انسانی ہمدردی کے نام پر صدقات و عطیات اکٹھا کرنے والے چند گروہوں نے اسے ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار (دھن-دا) بنا لیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، کئی نام نہاد سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور غیر رجسٹرڈ تنظیمیں غریبوں کی امداد کا دکھلاوا کر کے عوام سے کروڑوں روپے کے فنڈز بٹور رہی ہیں، جن کا بڑا حصہ مستحقین تک پہنچنے کے بجائے خود ان کی جیبوں میں جا رہا ہے۔
دینی و اخلاقی اصولوں کے مطابق حقیقی اور مخلص مخیر حضرات ہمیشہ گمنام رہ کر اللہ کی رضا کے لیے خفیہ طور پر مدد کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، سوشل میڈیا پر موجود یہ عناصر غریب اور مجبور لوگوں کی تذلیل کر کے، ان کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ یہ دکھلاوا محض زیادہ سے زیادہ عطیات سمیٹنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے
تفتیش اور عوامی شکایات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکٹھی کی گئی رقم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ کیمرے کے سامنے تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ رقم کی بڑی مقدار یہ لوگ اپنے ذاتی استعمال اور تجملانہ طرزِ زندگی پر خرچ کرتے ہیں۔ شفافیت اور حساب کتاب کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے عطیہ دہندگان کی محنت کی کمائی کا غلط استعمال ہو رہا ہے
سوشل میڈیا کے اس د-ھوکے سے بچنے کے لیے عوام اور عطیہ دہندگان کو سخت احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے:
* خود مستحقین تک پہنچیں: اپنے صدقات، زکوۃ اور عطیات کسی نامعلوم یا غیر تصدیق شدہ آن لائن پلیٹ فارم کو دینے کے بجائے خود اپنے ارد گرد، رشتہ داروں اور محلے داروں میں مستحق افراد کو تلاش کر کے ان تک پہنچائیں۔
* تصدیق شدہ اداروں کا انتخاب: اگر کسی ادارے کو رقم دینی ہو تو صرف ان فلاحی تنظیموں کا انتخاب کریں جن کا ریکارڈ شفاف ہو اور وہ باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔