15/09/2026
اگر ہم ایلوپیتھک کی میڈیکل ہسٹری کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ بات بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک مسلسل اور کامیابی سے چلنے والی ادویات کی گنتی بہت تھوڑی ہے، جبکہ نقصان دہ ثابت ہو کر مارکیٹ سے غائب ہو جانے والی ادویات کی فہرست خاصی طویل ہے۔
پہلے ہم ان ادویات کی بات کرتے ہیں جن کی عمر سو سال یا اس سے زیادہ ہو چکی ہے اور وہ آج بھی مستند اور کارآمد مانی جاتی ہیں۔ ان کی کل تعداد بمشکل چند درجن کے قریب ہوگی۔ ان میں سب سے مشہور نام اسپرین کا ہے جو 1899 میں متعارف ہوئی اور آج بھی درد یا دل کے امراض میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ مورفین ہے جو شدید درد کے لیے آج بھی ہسپتالوں میں ناگزیر ہے۔ ملیریا کے لیے کوئینین، دل کے امراض کے لیے نائٹروگلیسرین اور ڈائجوکسن، اور کھانسی یا درد کے لیے کوڈین چند ایسی دوائیں ہیں جنہوں نے کامیابی سے ایک صدی کا سفر طے کیا ہے۔ یہاں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ ان سو سال پرانی اور کامیاب ادویات میں سے زیادہ تر کی بنیاد براہ راست پودے یا نباتات ہی تھیں۔
اس کے برعکس اگر ہم ان کیمیکل ادویات کی بات کریں جو لیبارٹریوں میں تیار ہوئیں، مارکیٹ میں بڑے دعووں کے ساتھ فروخت ہونا شروع ہوئیں اور بعد میں شدید نقصانات اور سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے بین کر دی گئیں، تو ان کی تعداد پوری دنیا میں ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ میڈیکل سائنس میں ہر سال کئی ایسی دوائیں مارکیٹ سے ہٹا دی جاتی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک بالکل محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔
تاریخ میں اس کی چند بہت مشہور اور دل دہلا دینے والی مثالیں موجود ہیں۔ پچھلی صدی کے وسط میں حاملہ خواتین کو متلی اور گھبراہٹ سے بچانے کے لیے تھیلیڈومائیڈ کے نام سے ایک دوا مارکیٹ میں لائی گئی، لیکن اس دوا کے نتیجے میں ہزاروں بچے پیدائشی معذوری کا شکار ہوئے اور پھر اس دوا پر عالمی پابندی لگا دی گئی۔ اسی طرح 1999 میں جوڑوں کے درد کی ایک انتہائی مشہور دوا وائیوکس متعارف کروائی گئی جسے لاکھوں لوگوں نے استعمال کیا، لیکن صرف پانچ سال بعد ہی یہ خوفناک حقیقت سامنے آئی کہ اس کے استعمال سے دل کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اسے بنانے والی کمپنی کو اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد اسے فوراً مارکیٹ سے ہٹانا پڑا۔ موٹاپا کم کرنے کے لیے بنائی گئی دوا فین فین کا بھی یہی انجام ہوا تھا جب پتا چلا کہ یہ دوا لوگوں کے دل کے والو خراب کر رہی ہے۔
اس تمام صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب کسی نئے کیمیکل کو مصنوعی طریقے سے بنا کر اس کے کلینیکل ٹرائلز کیے جاتے ہیں، تو اکثر اس کے طویل مدتی اثرات یا انسانی جسم کے اندرونی نظام پر اس کے پوشیدہ نقصانات کا اندازہ چند سالوں میں نہیں ہو پاتا۔ لیکن جب وہ دوا مارکیٹ میں آتی ہے اور لاکھوں لوگ اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو دس بیس سال بعد اس کے وہ سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں جو تجربہ گاہوں میں چھپے رہ گئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ ایلوپیتھک طریقہ علاج میں آئے دن پرانی دوائیں متروک ہو کر ختم ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ نت نئے کیمیکلز لے لیتے ہیں، تاکہ پرانی دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس سے بچا جا سکے اور یہ تبدیلی کا چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔
۔۔
جب ہم روایتی طب یعنی حکیمی علاج کی بات کرتے ہیں، تو یہاں ادویات کی تاریخ اور کامیابی کا تناسب جدید کیمیکل ادویات کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ یہاں ادویات کی عمر محض چند دہائیوں یا ایک صدی پر نہیں، بلکہ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔
صدیوں سے رائج اور کامیاب مفردات
روایتی طب کی بنیاد جن جڑی بوٹیوں اور مفردات پر ہے، وہ آج بھی اسی طرح مستند اور کارآمد ہیں جیسے سینکڑوں سال پہلے تھیں۔ مثال کے طور پر مصطگی رومی، عقر قرحا، ستاور، مصبر اور جلوتری جیسی جڑی بوٹیاں صدیوں پہلے بھی انسانی صحت کے لیے جو فوائد رکھتی تھیں، آج بھی ان کے مزاج اور اثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ روایتی طب میں دوائی کو اس کی مکمل اور قدرتی حالت (whole form) میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرت نے ایک جڑی بوٹی میں اگر کوئی تیز اثر رکھنے والا فعال جزو رکھا ہے، تو اس کے مضر اثرات کو متوازن کرنے اور جسم میں جذب ہونے کو اعتدال میں رکھنے کے لیے اس کے اندر دیگر قدرتی اجزاء بھی شامل کر دیے ہیں۔ جب ہم اسے اسی قدرتی حالت میں استعمال کرتے ہیں، تو انسانی جسم کا نظام اسے ایک اجنبی کیمیکل کے طور پر نہیں بلکہ فطرت کے ایک حصے کے طور پر قبول کرتا ہے۔
کیا روایتی طب میں بھی ادویات متروک یا نقصاندہ ثابت ہوتی ہیں؟
روایتی طب کی تاریخ میں ایسی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں کہ کوئی جڑی بوٹی صدیوں تک بے ضرر سمجھی جاتی رہی ہو اور اچانک دریافت ہو کہ یہ تو دل یا گردوں کے لیے جان لیوا ہے اور اسے فوری طور پر ترک کرنا پڑے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
پہلے سے معلوم اثرات اور تدبیر: روایتی طب کے ماہرین صدیوں کے مشاہدات سے ان مفردات کے ہر پہلو سے بخوبی واقف ہیں۔ اگر کسی بوٹی میں کوئی زہریلا یا انتہائی تیز اثر ہوتا ہے، تو اس کے استعمال سے پہلے اسے 'مدبر' (detoxify) کرنے کے واضح اصول موجود ہیں جو آج کے نہیں بلکہ صدیوں پرانے ہیں۔
انسانی جسم کے افعال سے ہم آہنگی: طب پاکستانی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ محض بیماری کی ظاہری علامات کو دبانے کے بجائے جسم کے اعضاء کے افعال اور ان کی حیاتیاتی حالتوں کی اصلاح کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں تحریک (stimulation) اور تسکین (sedation) کو محض کسی عضو کے سکڑنے یا سوجنے کے طبعی عمل کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ یہ اعضاء کی فعلی اور حیاتیاتی (functional and vital) حالتیں سمجھی جاتی ہیں۔ جب علاج ان ٹھوس اصولی بنیادوں پر ہوتا ہے، تو دوا جسم کے قدرتی نظام سے ٹکرانے کے بجائے اس کی معاونت کرتی ہے۔
خلاصہ کلام
جدید ادویات ایک مخصوص اور تیز ترین کیمیکل کو الگ کر کے بنائی جاتی ہیں جو فوری اثر تو دکھاتا ہے لیکن اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے طویل المدتی استعمال میں دوسرے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کی وجہ سے آئے دن پرانی دوائیں منسوخ اور نئی ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں، روایتی ادویات اور پنسار کی جڑی بوٹیاں انسانی جسم کے مزاج اور فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود روایتی طریقہ علاج کی بنیادی ادویات تبدیل نہیں ہوئیں اور آج بھی پوری افادیت کے ساتھ کامیابی سے چل رہی ہیں۔
حکیم سید عبدالوہاب شاہ
#نکتہ