Nukta نکتہ

Nukta نکتہ www.nuktaguidance.com Writer,Speaker,Mudarris

15/09/2026

اگر ہم ایلوپیتھک کی میڈیکل ہسٹری کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ بات بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک مسلسل اور کامیابی سے چلنے والی ادویات کی گنتی بہت تھوڑی ہے، جبکہ نقصان دہ ثابت ہو کر مارکیٹ سے غائب ہو جانے والی ادویات کی فہرست خاصی طویل ہے۔
​پہلے ہم ان ادویات کی بات کرتے ہیں جن کی عمر سو سال یا اس سے زیادہ ہو چکی ہے اور وہ آج بھی مستند اور کارآمد مانی جاتی ہیں۔ ان کی کل تعداد بمشکل چند درجن کے قریب ہوگی۔ ان میں سب سے مشہور نام اسپرین کا ہے جو 1899 میں متعارف ہوئی اور آج بھی درد یا دل کے امراض میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ مورفین ہے جو شدید درد کے لیے آج بھی ہسپتالوں میں ناگزیر ہے۔ ملیریا کے لیے کوئینین، دل کے امراض کے لیے نائٹروگلیسرین اور ڈائجوکسن، اور کھانسی یا درد کے لیے کوڈین چند ایسی دوائیں ہیں جنہوں نے کامیابی سے ایک صدی کا سفر طے کیا ہے۔ یہاں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ ان سو سال پرانی اور کامیاب ادویات میں سے زیادہ تر کی بنیاد براہ راست پودے یا نباتات ہی تھیں۔
​اس کے برعکس اگر ہم ان کیمیکل ادویات کی بات کریں جو لیبارٹریوں میں تیار ہوئیں، مارکیٹ میں بڑے دعووں کے ساتھ فروخت ہونا شروع ہوئیں اور بعد میں شدید نقصانات اور سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے بین کر دی گئیں، تو ان کی تعداد پوری دنیا میں ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ میڈیکل سائنس میں ہر سال کئی ایسی دوائیں مارکیٹ سے ہٹا دی جاتی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک بالکل محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔
​تاریخ میں اس کی چند بہت مشہور اور دل دہلا دینے والی مثالیں موجود ہیں۔ پچھلی صدی کے وسط میں حاملہ خواتین کو متلی اور گھبراہٹ سے بچانے کے لیے تھیلیڈومائیڈ کے نام سے ایک دوا مارکیٹ میں لائی گئی، لیکن اس دوا کے نتیجے میں ہزاروں بچے پیدائشی معذوری کا شکار ہوئے اور پھر اس دوا پر عالمی پابندی لگا دی گئی۔ اسی طرح 1999 میں جوڑوں کے درد کی ایک انتہائی مشہور دوا وائیوکس متعارف کروائی گئی جسے لاکھوں لوگوں نے استعمال کیا، لیکن صرف پانچ سال بعد ہی یہ خوفناک حقیقت سامنے آئی کہ اس کے استعمال سے دل کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اسے بنانے والی کمپنی کو اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد اسے فوراً مارکیٹ سے ہٹانا پڑا۔ موٹاپا کم کرنے کے لیے بنائی گئی دوا فین فین کا بھی یہی انجام ہوا تھا جب پتا چلا کہ یہ دوا لوگوں کے دل کے والو خراب کر رہی ہے۔
​اس تمام صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب کسی نئے کیمیکل کو مصنوعی طریقے سے بنا کر اس کے کلینیکل ٹرائلز کیے جاتے ہیں، تو اکثر اس کے طویل مدتی اثرات یا انسانی جسم کے اندرونی نظام پر اس کے پوشیدہ نقصانات کا اندازہ چند سالوں میں نہیں ہو پاتا۔ لیکن جب وہ دوا مارکیٹ میں آتی ہے اور لاکھوں لوگ اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو دس بیس سال بعد اس کے وہ سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں جو تجربہ گاہوں میں چھپے رہ گئے تھے۔
​یہی وجہ ہے کہ موجودہ ایلوپیتھک طریقہ علاج میں آئے دن پرانی دوائیں متروک ہو کر ختم ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ نت نئے کیمیکلز لے لیتے ہیں، تاکہ پرانی دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس سے بچا جا سکے اور یہ تبدیلی کا چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔
۔۔
جب ہم روایتی طب یعنی حکیمی علاج کی بات کرتے ہیں، تو یہاں ادویات کی تاریخ اور کامیابی کا تناسب جدید کیمیکل ادویات کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ یہاں ادویات کی عمر محض چند دہائیوں یا ایک صدی پر نہیں، بلکہ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔
​صدیوں سے رائج اور کامیاب مفردات
روایتی طب کی بنیاد جن جڑی بوٹیوں اور مفردات پر ہے، وہ آج بھی اسی طرح مستند اور کارآمد ہیں جیسے سینکڑوں سال پہلے تھیں۔ مثال کے طور پر مصطگی رومی، عقر قرحا، ستاور، مصبر اور جلوتری جیسی جڑی بوٹیاں صدیوں پہلے بھی انسانی صحت کے لیے جو فوائد رکھتی تھیں، آج بھی ان کے مزاج اور اثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
​اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ روایتی طب میں دوائی کو اس کی مکمل اور قدرتی حالت (whole form) میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرت نے ایک جڑی بوٹی میں اگر کوئی تیز اثر رکھنے والا فعال جزو رکھا ہے، تو اس کے مضر اثرات کو متوازن کرنے اور جسم میں جذب ہونے کو اعتدال میں رکھنے کے لیے اس کے اندر دیگر قدرتی اجزاء بھی شامل کر دیے ہیں۔ جب ہم اسے اسی قدرتی حالت میں استعمال کرتے ہیں، تو انسانی جسم کا نظام اسے ایک اجنبی کیمیکل کے طور پر نہیں بلکہ فطرت کے ایک حصے کے طور پر قبول کرتا ہے۔
​کیا روایتی طب میں بھی ادویات متروک یا نقصاندہ ثابت ہوتی ہیں؟
روایتی طب کی تاریخ میں ایسی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں کہ کوئی جڑی بوٹی صدیوں تک بے ضرر سمجھی جاتی رہی ہو اور اچانک دریافت ہو کہ یہ تو دل یا گردوں کے لیے جان لیوا ہے اور اسے فوری طور پر ترک کرنا پڑے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
​پہلے سے معلوم اثرات اور تدبیر: روایتی طب کے ماہرین صدیوں کے مشاہدات سے ان مفردات کے ہر پہلو سے بخوبی واقف ہیں۔ اگر کسی بوٹی میں کوئی زہریلا یا انتہائی تیز اثر ہوتا ہے، تو اس کے استعمال سے پہلے اسے 'مدبر' (detoxify) کرنے کے واضح اصول موجود ہیں جو آج کے نہیں بلکہ صدیوں پرانے ہیں۔
​انسانی جسم کے افعال سے ہم آہنگی: طب پاکستانی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ محض بیماری کی ظاہری علامات کو دبانے کے بجائے جسم کے اعضاء کے افعال اور ان کی حیاتیاتی حالتوں کی اصلاح کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں تحریک (stimulation) اور تسکین (sedation) کو محض کسی عضو کے سکڑنے یا سوجنے کے طبعی عمل کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ یہ اعضاء کی فعلی اور حیاتیاتی (functional and vital) حالتیں سمجھی جاتی ہیں۔ جب علاج ان ٹھوس اصولی بنیادوں پر ہوتا ہے، تو دوا جسم کے قدرتی نظام سے ٹکرانے کے بجائے اس کی معاونت کرتی ہے۔
​خلاصہ کلام
جدید ادویات ایک مخصوص اور تیز ترین کیمیکل کو الگ کر کے بنائی جاتی ہیں جو فوری اثر تو دکھاتا ہے لیکن اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے طویل المدتی استعمال میں دوسرے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کی وجہ سے آئے دن پرانی دوائیں منسوخ اور نئی ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔
​اس کے مقابلے میں، روایتی ادویات اور پنسار کی جڑی بوٹیاں انسانی جسم کے مزاج اور فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود روایتی طریقہ علاج کی بنیادی ادویات تبدیل نہیں ہوئیں اور آج بھی پوری افادیت کے ساتھ کامیابی سے چل رہی ہیں۔
حکیم سید عبدالوہاب شاہ
#نکتہ

بکرمی کیلنڈر: دیسی مہینوں کا تعارف اور ہماری ثقافتی تاریخ​برصغیر پاک و ہند کا دیسی کیلنڈر دنیا کی چند قدیم ترین اور مستن...
12/09/2026

بکرمی کیلنڈر: دیسی مہینوں کا تعارف اور ہماری ثقافتی تاریخ
​برصغیر پاک و ہند کا دیسی کیلنڈر دنیا کی چند قدیم ترین اور مستند ترین تقویموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز لگ بھگ 57 قبل مسیح میں ہندوستان کے معروف حکمران راجہ بکرم اجیت کے دور میں ہوا۔ اسی نسبت سے اسے بکرمی کیلنڈر کہا جاتا ہے، تاہم عوامی سطح پر یہ پنجابی کیلنڈر، دیسی مہینے یا جنتری کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس شمسی تقویم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا نیا سال چیت کے مہینے سے شروع ہوتا ہے اور اس کے مہینوں کی تقسیم موسموں کے عین مطابق ہے۔
​اس کیلنڈر کا سال 365 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن اس کے مہینوں کے دن انگریزی کیلنڈر کی طرح مقرر نہیں ہیں۔ اس میں 9 مہینے تیس دن کے ہوتے ہیں، وساکھ اکتیس دن کا ہوتا ہے، جبکہ جیٹھ اور ہاڑ کے مہینے بتیس بتیس دن کے ہوتے ہیں۔
​دیسی مہینے اور ان کے موسم
​چیت (چیتر): یہ سال کا پہلا مہینہ ہے جو بہار کی نوید لاتا ہے۔
​بیساکھ (وساکھ): اس میں موسم ملا جلا یعنی سرد و گرم رہتا ہے۔
​جیٹھ: یہ شدید گرمی اور لُو چلنے کا مہینہ ہے۔
​ہاڑ (اساڑھ): گرم اور مرطوب موسم، جس میں مون سون کا آغاز ہوتا ہے۔
​ساون (ساؤن): یہ حبس، گرمی اور بھرپور مون سون بارشوں کا مہینہ ہے۔
​بھادوں (بھادروں): موسم معتدل ہونے لگتا ہے اور ہلکی بارشیں ہوتی ہیں۔
​اسو (اسوج): یہ مکمل طور پر ایک معتدل اور خوشگوار مہینہ ہے۔
​کاتک (کتا): اس مہینے سے ہلکی سردی کا احساس شروع ہو جاتا ہے۔
​مگھر (منگر): سردی میں باقاعدہ اضافہ ہونے لگتا ہے۔
​پوہ: یہ سخت طوفانی سردی کا مہینہ ہے۔
​ماگھ (مانہہ): اس میں سردی کے ساتھ کہری دھند بھی چھائی رہتی ہے۔
​پھاگن (پھگن): سردی کم ہونے لگتی ہے، خشک ہوائیں چلتی ہیں اور بہار کی آمد آمد ہوتی ہے۔
​انگریزی مہینوں کے لحاظ سے دیسی سال کا آغاز
دیسی مہینوں کی شروعات عموماً انگریزی مہینے کے وسط سے ہوتی ہے:
​یکم چیت: 14 مارچ
​یکم بیساکھ: 14 اپریل
​یکم جیٹھ: 14 مئی
​یکم ہاڑ: 15 جون
​یکم ساون: 17 جولائی
​یکم بھادوں: 16 اگست
​یکم اسو: 16 ستمبر
​یکم کاتک: 17 اکتوبر
​یکم مگھر: 16 نومبر
​یکم پوہ: 16 دسمبر
​یکم ماگھ: 14 جنوری
​یکم پھاگن: 13 فروری
​دن اور رات کے آٹھ پہر
بکرمی کیلنڈر کے مطابق ایک دن چوبیس گھنٹوں کے بجائے آٹھ پہروں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹے کا ہوتا ہے۔ لفظ "ویلا" برصغیر کی کئی زبانوں میں وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان روایتی پہروں کے نام یہ ہیں:
​دھمی یا نور پیر دا ویلا: صبح 6 بجے سے 9 بجے تک
​دوپہر یا چھاہ ویلا: صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک
​پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک
​دیگر یا ڈیگر ویلا: سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک
​نماشاں یا شاماں ویلا: شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک
​کفتاں ویلا: رات 9 بجے سے رات 12 بجے تک
​ادھ رات ویلا: رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک
​سرگی یا اسور ویلا: صبح 3 بجے سے صبح 6 بجے تک

مظفرآباد میں ندی نالوں پر قبضہ کر کے آباد کیے گئے محلے انتہائی خطرے میں ہیں۔ سیٹلائٹ تصویر میں گوجرہ نالہ کا حال دیکھا ج...
06/09/2026

مظفرآباد میں ندی نالوں پر قبضہ کر کے آباد کیے گئے محلے انتہائی خطرے میں ہیں۔ سیٹلائٹ تصویر میں گوجرہ نالہ کا حال دیکھا جا سکتا ہے۔ ان آبی گزرگاہوں میں کسی بھی وقت بادل پھٹنے سے خوفناک سیلابی ریلے آ سکتے ہیں، جن سے بھاری جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
حکومت کے لیے ضروری اقدامات:
> ان تمام علاقوں کا فوری تھریٹ سروے کرایا جائے۔
> ندی نالوں سے غیر قانونی تجاوزات فوری ہٹائی جائیں۔
> پہاڑوں میں چیک ڈیمز کی تعمیر اور فلڈ الارم سسٹم قائم کیا جائے تاکہ ہنگامی انخلا بروقت ہو سکے۔
یہ مسئلہ صرف مظفرآباد کا نہیں بلکہ پورے کشمیر اور پاکستان کا ہے، جہاں ایسے حفاظتی اور معلوماتی سسٹمز کی تنصیب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کیا یہ پودے گھر میں لگانا منع ہیں؟؟یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکی ہے۔ قرآن مجید میں جہنم کے ...
21/08/2026

کیا یہ پودے گھر میں لگانا منع ہیں؟؟
یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکی ہے۔ قرآن مجید میں جہنم کے جن درختوں کا ذکر آیا ہے، ان کا اس دنیا کے تھور یا کسی بھی دوسرے پودے سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔
سب سے پہلے شرعی اور نقلی بات کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں جہنمیوں کی خوراک کے طور پر "زقوم" اور "ضریع" (خشک اور زہریلی کانٹے دار جھاڑی) کا ذکر موجود ہے۔ لیکن قرآن نے خود ہی سورہ الصافات کی آیت 64 میں زقوم کا مقام واضح کر دیا ہے کہ یہ وہ درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے۔ یعنی یہ دنیا کا درخت ہے ہی نہیں بلکہ جہنم کی آگ کی ایک خاص پیداوار ہے جو صرف عذاب کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب مکہ کے کافروں نے قرآن میں زقوم کا نام سنا تھا تو وہ خود حیران تھے کیونکہ عرب اس نام کے کسی دنیاوی درخت سے واقف ہی نہیں تھے۔ ہمارے ہاں پائے جانے والے تھور یا کیکٹس کو محض اس کی کڑواہٹ یا عجیب و غریب کانٹے دار شکل کی وجہ سے لوگوں نے زقوم سے تشبیہ دے دی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اسے ہی جہنمی درخت سمجھ لیا گیا۔
اب اس بات کو عقلی لحاظ سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی کوئی بھی چیز بے مقصد، لعنتی یا منحوس پیدا نہیں کی۔ پودوں پر کانٹے دراصل ان کا ایک قدرتی دفاعی نظام ہیں تاکہ بنجر اور خشک علاقوں میں جانور انہیں کھا کر ختم نہ کر دیں۔ اگر کانٹے دار ہونا کسی درخت کے منحوس یا جہنمی ہونے کی نشانی ہوتی تو گلاب کے پودے پر بھی کانٹے ہوتے ہیں اور بیری کے درخت پر بھی تیز کانٹے پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ بیری کے درخت (سدرۃ) کا ذکر تو قرآن مجید میں جنت اور سدرۃ المنتہیٰ کے شاندار حوالے سے آیا ہے۔ اس لیے کسی بھی دنیاوی پودے کو اس کی ظاہری شکل کی بنیاد پر جہنمی قرار دینا سراسر عقل کے خلاف ہے۔
ان کو گھر میں لگانا شرعی اور عقلی ہر لحاظ سے بالکل جائز ہے۔ ان میں کوئی نحوست نہیں اور نہ ہی ان کا تعلق جہنم سے ہے۔ یہ اللہ کی ایک خوبصورت اور حیرت انگیز تخلیق ہیں جو سخت ترین حالات میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بس عملی طور پر اتنی احتیاط ضروری ہے کہ ان کے تیز کانٹوں یا ڈنڈا تھور سے نکلنے والے سفید دودھ سے بچوں کو محفوظ رکھا جائے تاکہ وہ زخمی نہ ہوں، اس کے علاوہ انہیں گھر میں رکھنے میں رتی برابر بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔

میرے بہت ہی پیارے دوست غلام نبی شاہ ہم میں نہیں رہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
07/08/2026

میرے بہت ہی پیارے دوست غلام نبی شاہ ہم میں نہیں رہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

07/08/2026
09/07/2026

بنو امیہ
بنو امیہ کا سادہ سا مطلب ہے امیہ کی اولاد یا ان کا خاندان، یا امیہ کی نسل۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ یزید کی مخالفت اور اس پر تنقید کرتے ہوئے غصے میں پورے بنو امیہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کرنا بہت بڑی غلطی اور نادانی ہے۔
​اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں خاندانی شجرے پر غور کرنا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں ایک بہت معزز ہستی عبد مناف گزرے ہیں۔ ان کے دو مشہور بیٹے تھے، ایک کا نام ہاشم اور دوسرے کا نام عبد شمس تھا۔ ہاشم کی نسل سے بنو ہاشم کا خاندان چلا جس میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، جبکہ عبد شمس کے بیٹے کا نام امیہ تھا جس سے بنو امیہ کا خاندان شروع ہوا۔
​اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ اصل میں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں اور ان کا آپس میں قریبی خونی رشتہ ہے۔ بنو امیہ کوئی معمولی خاندان نہیں، اس میں سینکڑوں جلیل القدر صحابہ کرام اور معزز ہستیاں شامل رہی ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بنو امیہ تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جو خلیفہ ثالث اور حضور کی دو بیٹیوں کے شوہر ہیں وہ بھی بنو امیہ ہیں، دیگر سینکڑوں صحابہ کرام بنو امیہ ہیں۔
​اس لیے جب کوئی شخص یزید کی نفرت میں لفظ بنو امیہ کو گالی کے طور پر استعمال کرتا ہے تو وہ دراصل انجانے میں ان سینکڑوں صحابہ کرام اور اس خاندان کے ان بزرگوں کی بھی توہین کر رہا ہوتا ہے جن کا شجرہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے جا کر ملتا ہے۔ کسی ایک شخص کے برے افعال کی وجہ سے اس کی پچھلی کئی نسلوں اور پورے قبیلے پر لعن طعن کرنا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔
آپ یزید پر ضرور تنقید کریں لیکن اپنی گندی ذہنیت سے مقدس ہستیوں کو محفوظ رکھیں
#نکتہ

دونوں پنجاب جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں گٹھ گورننس، عوامی ترجیح...
26/05/2026

دونوں پنجاب جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں گٹھ گورننس، عوامی ترجیحات اور عوامی پیسے کے استعمال کے معاملے میں دونوں کے درمیان ایک بہت بڑا اور واضح فرق نظر آتا ہے۔ آپ نے جو موازنہ پیش کیا ہے، وہ دونوں حکومتوں کی ترجیحات کے فرق کو بالکل صاف واضح کرتا ہے۔
​ان دونوں خطوں کے نظام اور ترجیحات کا ایک تفصیلی موازنہ درج ذیل ہے:
​1. سرکاری فنڈز کا استعمال: عوام بمقابلہ اشرافیہ
​انڈین پنجاب (ترجیح: عوامی اثاثہ): وہاں کی حکومت نے تقریباً گیارہ ارب روپے (بھارتی کرنسی میں 1,080 کروڑ روپے) کا استعمال ایک پورا تھرمل پاور پلانٹ (گوئندوال صاحب پلانٹ) خریدنے کے لیے کیا۔ یہ پلانٹ اب ایک سرکاری اثاثہ ہے جو پورے صوبے کے لیے سستی بجلی پیدا کر رہا ہے۔ یعنی عوامی ٹیکس کا پیسہ واپس عوام کی سہولت کے لیے ایک پیداواری منصوبے میں لگایا گیا۔
​پاکستانی پنجاب (ترجیح: وی آئی پی کلچر): اس کے برعکس، پاکستانی پنجاب میں اتنی ہی خطیر رقم (تقریباً گیارہ ارب روپے) سے صوبے کے لیے ایک نیا لگزری طیارہ (Executive Jet) خریدنے کی تیاریاں اور منظوری سامنے آئی، جو صرف وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کے وی آئی پی سفر کے لیے مخصوص ہے۔ یہ پیسہ کسی پیداواری کام یا عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اشرافیہ کی آسائش پر خرچ ہو رہا ہے۔
​2. بجلی کے بلوں میں ریلیف کا نظام
​انڈین پنجاب (600 یونٹ بالکل مفت): وہاں ہر گھریلو صارف کے لیے دو مہینے کے بلنگ سائیکل میں 600 یونٹ تک بجلی بالکل مفت ہے۔ اگر آپ کا خرچ اس سے کم ہے تو بل صفر (زیرو) آئے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں کے تقریباً 90 فیصد گھرانوں کو بجلی کا ایک روپیہ بھی بل نہیں دینا پڑتا۔
​پاکستانی پنجاب (مہنگی بجلی اور سلیب کا کڑا نظام): یہاں بجلی کی قیمتیں پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہیں، اور اس پر سلیب سسٹم (Slab System) اتنا سخت ہے کہ اگر صارف کا خرچ 200 یونٹ کی حد سے ایک یونٹ بھی اوپر چلا جائے، تو پچھلے تمام یونٹس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ٹیکسوں، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بل دو گنا سے تین گنا ہو جاتا ہے، جس سے غریب اور سفید پوش طبقہ شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار ہے۔
​3. محکموں کی حالت اور مالیاتی انتظام
​انڈین پنجاب (خسارے سے منافع کی طرف): بجلی مفت دینے کے باوجود وہاں کے سرکاری محکمے کو تباہ ہونے سے بچایا گیا۔ بجلی چوری کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا، سرکاری کوئلے کی کان کا درست استعمال کیا گیا، اور کرپشن روک کر بجلی کے محکمے کو اربوں روپے کے خالص منافع (Profit) میں لایا گیا۔
​پاکستانی پنجاب (حکومتی سبسڈیز اور گردشی قرضہ): یہاں کا پورا انرجی سیکٹر "گردشی قرضے" (Circular Debt) کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے۔ مستقل بنیادوں پر اصلاحات یا سستے پاور پلانٹس لگانے کے بجائے حکومتیں عارضی طور پر چند مہینوں کے لیے چند روپے کا ریلیف تو دیتی ہیں، لیکن اس کا بوجھ بھی گھوم پھر کر بعد میں ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ہی پڑتا ہے۔
​خلاصہ
​یہ موازنہ اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب نیت عوام کو سہولت دینے کی ہو، تو گیارہ ارب روپے سے ایسے اثاثے خریدے جاتے ہیں جو عوام کو مفت بجلی فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ لیکن جب ترجیحات میں وی آئی پی کلچر اور شاہانہ اخراجات سرِفہرست ہوں، تو وہی گیارہ ارب روپے آسمان کی بلندیوں پر اڑنے والے لگزری جہازوں کی نظر ہو جاتے ہیں، جبکہ زمین پر موجود عوام مہنگی بجلی اور بھاری بلوں تلے دبے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر اور ڈاکو میں بس اتنا سا فرق ہے: ڈاکو ہتھیار سے ڈرا کر لوٹ مار کرتا ہے، اور ڈاکٹر بیماری سے ڈرا کر لوٹ مار کرتا ہے۔...
20/05/2026

ڈاکٹر اور ڈاکو میں بس اتنا سا فرق ہے: ڈاکو ہتھیار سے ڈرا کر لوٹ مار کرتا ہے، اور ڈاکٹر بیماری سے ڈرا کر لوٹ مار کرتا ہے۔
اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ایک خاتون دوران حمل اپنا ہفتہ وار چیک اپ کرواتی تھی، جب ایک ڈیڑھ مہینہ باقی تھا تو اس نے ڈاکٹر سے کہا مجھے کسی کام سے گاوں جانا ہے، تو ڈاکٹر نے سوچا ہو سکتا ہے یہ ایک مہینہ واپس ہی نا آئے اور ڈلیوری گاوں میں ہی کرے، اس طرح ہمارا ایک ڈیڑھ لاکھ کھوٹا ہو جائے گا، چنانچہ ڈاکٹر نے فورا کہا آپ کے بچے کی حالت خراب ہے، ہمیں فوری آپریشن کرنا ہوگا، تاکہ آپ کی جان بچ سکے۔
یہ ایک واقعہ نہیں ہمارے ملک میں اس طرح کے ہزاروں واقعات روزانہ ہوتے ہیں، جہاں محض پیسے کی لالچ میں جان بچانے کا کہہ کر ہزاروں قتل کیے جاتے ہیں اور پیسہ بھی لوٹا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں نے ایسے کئی آپریشن زبردستی کے بنا لیے ہیں جن سے ان کو حرام کا پیسہ آتا ہے، مثلا ڈاکٹروں کو پتا چلا کے جسم سے پتے کو نکالنے سے انسان نہیں مرتا بلکہ پتے کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے (وہ الگ بات ہے کہ پتے کے بغیر آگے کی ساری زندگی عذاب ہوتی ہے) تو ڈاکٹروں نے پچھلے چند سال سے زبردستی پتے نکالنا شروع کردیے، اب کوئی عورت معدے کی تکلیف یا پتے کے درد کی وجہ سے کسی پرائیوٹ ہسپتال چلی جائے تو ڈاکٹر الٹراساونڈ کرکے فورا ڈاکووں کی طرح موت سے ڈرانا شروع کردیتے ہیں کہ پتا پھٹنے والا ہے، آپ کے پاس گھر جانے کا ٹائم بھی نہیں، آپ مر جائیں گی، زہر جسم میں پھیل جائے گا، فورا پتا نکالنا ہوگا، اس طرح آپریشن کے پتا بھی نکال کر اس انسان کو ناکارہ بھی کردیتے ہیں اور ایک لاکھ روپے بھی لوٹ لیتے ہیں۔
جیسے معدے میں درد ہوتاہے، سر میں درد ہوتا ہے، شوگر میں لبلبلہ کام نہیں کرتا، مثانے میں تکلیف ہوتی ہے تو ان کا علاج کیا جاتا ہے، ان کو نکالا نہیں جاتا۔ اگر بالفرض معدے کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا تو آج ڈاکٹر ہر دوسرے انسان کو ڈرا دھمکا کر ان کے معدے بھی نکال رہے ہوتے، سر کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا تو ڈاکٹر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر سر کاٹ رہے ہوتے۔
ان ڈاکٹروں کو اللہ کی ذات پر ایمان نہیں، بس پیسے پر ایمان اور یقین ہے، اس پیسے کے لیے انسانوں کی زندگیوں سے کھلیتے ہیں، اور کتنے ہی پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا باعث بنتے ہیں، انسانوں کے اعضاء نکال کر ان کو ہمیشہ کے لیے معذور کر دیتے ہیں۔
#نکتہ

🚀 کیا آپ اب بھی اپنی دکان کا حساب کتاب پرانے رجسٹروں پر کر رہے ہیں؟ 📓❌آج ہی اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل بنائیں اور گھنٹوں کا ...
17/05/2026

🚀 کیا آپ اب بھی اپنی دکان کا حساب کتاب پرانے رجسٹروں پر کر رہے ہیں؟ 📓❌
آج ہی اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل بنائیں اور گھنٹوں کا کام منٹوں میں کریں! ⏱️

ہم متعارف کروا رہے ہیں **"Tijarat Invoice POS"** — دکانداروں، تاجروں اور ریٹیلرز کے لیے پاکستان کی سب سے ایڈوانسڈ موبائل ایپ! 📱💼

اب آپ کو مہنگے کمپیوٹرز اور سافٹ ویئرز کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کا موبائل ہی آپ کا کیش کاؤنٹر اور انوینٹری مینیجر بن جائے گا! 💯

🌟 **اس ایپ کے زبردست فیچرز جو آپ کے کاروبار کو بدل دیں گے:**

✅ **فوری بلنگ اور بارکوڈ اسکیننگ:** موبائل کیمرے سے بارکوڈ اسکین کریں اور سیکنڈوں میں بل تیار کریں (اسکیننگ پر بیپ ساؤنڈ کے ساتھ)!
✅ **کسٹمر کھاتہ اور ادھار بک:** اپنے گاہکوں کا حساب کتاب رکھیں اور انہیں ایپ سے ہی **مفت واٹس ایپ یا SMS کے ذریعے ادھار کی یاددہانی (Reminder)** بھیجیں!
✅ **اسٹاک اور انوینٹری مینجمنٹ:** کتنا مال پڑا ہے اور کتنا بک گیا؟ سب کچھ آپ کی انگلیوں پر۔
✅ **اسمارٹ الرٹس (Smart Notifications):** کوئی آئٹم ختم ہونے والا ہے یا ایکسپائر ہونے والا ہے؟ ایپ دن میں 3 بار خودکار نوٹیفکیشن کے ذریعے آپ کو خبردار کرے گی! 🔔
✅ **بلوٹوتھ تھرمل پرنٹنگ:** کسی بھی سستے بلوٹوتھ پرنٹر سے گاہک کو خوبصورت اور پروفیشنل رسید پرنٹ کر کے دیں۔ 🖨️
✅ **ایڈوانسڈ ڈیش بورڈ:** روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ سیلز اور منافع کا مکمل گرافکس کے ساتھ جائزہ لیں۔ 📊
✅ **PDF رپورٹس ڈاؤن لوڈ:** ایک کلک پر پورے مہینے کی سیلز، منافع یا کم اسٹاک والی اشیاء کی خوبصورت PDF رپورٹ ڈاؤن لوڈ اور شیئر کریں۔ 📄
✅ **وزن کے حساب سے قیمت:** گرام (Grams) یا کلوگرام میں سامان بیچنے والوں کے لیے خودکار منافع کیلکولیٹر! ⚖️
✅ **مکمل بیک اپ:** آپ کا تمام قیمتی ڈیٹا محفوظ۔ موبائل تبدیل کرنے پر پرانا ڈیٹا ایک کلک میں واپس! ☁️

🎯 **یہ ایپ کس کے لیے ہے؟**
کریانہ اسٹور، میڈیکل اسٹور، گارمنٹس، الیکٹرانکس، ہارڈویئر، موبائل شاپس، اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے کاروبار کے لیے بہترین!

💸 آج ہی انسٹال کریں اور اپنے بزنس کو پروفیشنل طریقے سے مینیج کریں۔

👇 **ابھی ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:**
🔗 [یہاں پلے اسٹور کا لنک لگائیں، مثلاً: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.nukta.Billing]
💬 مزید تفصیلات یا رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں یا کمنٹس میں پوچھیں۔

Address

Bolton

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nukta نکتہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share