09/01/2026
اسلام آباد میں انسانی بستیاں اجاڑی گئیں، لوگوں کے گھر ٹوٹے، خاندان بے گھر ہوئے، بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا، مگر نہ کسی بڑے اینکر کی آواز اٹھی، نہ کسی لبرل دانشور کی آنکھ نم ہوئی۔
جب بات درختوں کی کٹائی کی آئی تو اچانک سارے صحافی، سارے لبرل، سارے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار میدان میں آ گئے۔ ٹاک شوز، پوسٹس، ٹوئٹس اور مہمیں شروع ہو گئیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا درخت انسان سے زیادہ قیمتی ہیں؟ یا مسئلہ درخت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بے گھر ہونے والے عام لوگ ہیں، طاقتور نہیں؟
انصاف اگر واقعی انصاف ہے تو وہ درخت اور انسان دونوں کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ صرف منافقت ہے، اصول نہیں۔
#انسانیحقوق