Nukta نکتہ

Nukta نکتہ www.nuktaguidance.com Writer,Speaker,Mudarris

09/01/2026

اسلام آباد میں انسانی بستیاں اجاڑی گئیں، لوگوں کے گھر ٹوٹے، خاندان بے گھر ہوئے، بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا، مگر نہ کسی بڑے اینکر کی آواز اٹھی، نہ کسی لبرل دانشور کی آنکھ نم ہوئی۔

جب بات درختوں کی کٹائی کی آئی تو اچانک سارے صحافی، سارے لبرل، سارے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار میدان میں آ گئے۔ ٹاک شوز، پوسٹس، ٹوئٹس اور مہمیں شروع ہو گئیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا درخت انسان سے زیادہ قیمتی ہیں؟ یا مسئلہ درخت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بے گھر ہونے والے عام لوگ ہیں، طاقتور نہیں؟

انصاف اگر واقعی انصاف ہے تو وہ درخت اور انسان دونوں کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ صرف منافقت ہے، اصول نہیں۔


#انسانیحقوق

08/01/2026

آئی ایم ایف نے قرضوں کے بدلے جے ایف ٹھندر خریدنے کی تیاری کرلی۔ الوداع آئی ایم ایف
شدید پٹوای

31/12/2025

قریب کوئی آٹھ سال پرانی بات ہوگی۔ سوشل میڈیا پر راتوں رات ایک شادی شدہ جوڑا وائرل ہوا، جن کا نام ام عبداللہ تھا اور ان کے شوہر کا نام حسنات تھا۔ دونوں سوشل میڈیا پر میاں بیوی کے طور پر مشہور تھے۔ یہ وہی عہد تھا جس کی فضا عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناموں سے بھی گونجتی تھی۔ جین زی کو شاید اس کا علم نہ ہو، لیکن جو لوگ 90’s kids ہیں وہ بخوبی واقف ہوں گے۔

دونوں میاں بیوی اپنی زندگی کو اس طرح دکھاتے تھے جیسے وہ دین کے مکمل پابند ہوں اور بہت خوشی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں۔ اس وقت ہم خود بھی شادی شدہ نہیں تھے اور نہ ہی اتنا تجربہ تھا، تو یہی لگتا تھا کہ کس قدر مبارک جوڑا ہے کہ دین دار بھی ہیں اور اس قدر خوش بھی۔

کچھ عرصے بعد ان کا ڈراپ سین ہوا، اور کسی اللہ کے بندے نے انتہائی باریک بینی سے ایک اور انسٹاگرام انفلوئنسر اور ام عبداللہ صاحبہ کی پوسٹس میں بعض مماثلتیں تلاش کیں۔ یوں معلوم ہوا کہ موصوفہ قطعاً دین دار نہیں بلکہ Dual Life گزار رہی ہیں۔ ایک جگہ نقاب میں مکمل اسلامی خاتون، اور دوسری آئی ڈی سے بے پردہ ماڈل۔ پھر ان کے ساتھ جو حضرت بطورِ شوہر تشریف فرما ہوتے ہیں، وہ بھی اصل میں ملحد نکلے۔ جی ہاں، ملحد۔

دراصل یہ راتوں رات مذہبی داعی بن کر ابھرنے کا فتنہ سوشل میڈیا کے ساتھ نمایاں ہوا ہے۔ جس دور میں سوشل میڈیا نہیں تھا، دعوت و تبلیغ کے لیے عموماً مساجد مختص تھیں، اور داعی بننے والے کے لیے ظاہری اور باطنی زندگی کا ایک جیسا ہونا لازمی ہوتا تھا۔ لوگ اسے فزیکلی جانتے تھے، ملاقات کرتے تھے اور اچھی طرح واقف ہوتے تھے۔

پھر سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا، گویا یاجوج ماجوج کی دیوار گر گئی، اور اسی طرح ہمارے سامنے ایسے داعی حضرات آنے لگے جیسے یاجوج ماجوج بکثرت اور یکدم آئیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قربِ قیامت ایسے لوگ آئیں گے: دعاۃ علیٰ ابوابِ جہنم، یعنی جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنی طرف بلا رہے ہوں گے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ داعی ہی سرے سے برے ہو گئے ہیں، لیکن میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ اصل میں داعی ہیں ہی نہیں۔ یہ ایک بزنس ہے، ایک فیلڈ اسٹیبلش ہو چکی ہے۔ جو لوگ اپنی ملازمت سے تنگ آجاتے ہیں وہ یہ بزنس شروع کردیتے ییں جہاں نہ کسی کو زمہ داریوں کا جواب دینا ہے اور نہ پیسے کا چاہے چندے سے آئے یا مانٹائزیشن سے۔ جہاں عموماً طریقۂ واردات یہ ہوتا ہے کہ:

ایک نوجوان حضرت یوٹیوب چینل شروع کرتے ہیں، پھر بتاتے ہیں کہ میں کیسے اللہ کے دین سے دور تھا اور آہستہ آہستہ دین کے قریب آیا۔ پھر وہاں سے آغاز ہوتا ہے ایک نئے ساشے پیک داعی کا۔ انہیں بمشکل ایک سال بھی نہیں ہوا ہوتا، لیکن حضرت اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں کہ دین کے ہر موضوع پر اپنی رائے پیش کریں۔ ایک طرف تو دین سے اتنی لگن، لیکن دوسری طرف ایسی غفلت کہ دس دس سال گزر جاتے ہیں اور انہوں نے نہ عربی سیکھنے کی زحمت کی ہوتی ہے، نہ ہی کسی مدرسے یا یونیورسٹی کی ڈگری لینا مناسب سمجھا ہوتا ہے۔

جبکہ حضرت کے گھر کے سارے اخراجات اب دینی کانٹینٹ یا بطورِ داعی فنڈز سے پورے ہو رہے ہوتے ہیں۔ پھر اگر آپ نے توبہ کر لی ہے تو اچھی بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ بھائی! آپ نہ دنیا کے پہلے شخص ہیں جنہیں توبہ کی توفیق ملی ہے اور نہ آخری۔ لیکن کیا محض توبہ کرنا کوئی قابلیت ہے؟ کہ آپ نے کر لی تو ہر معاملے میں بولیں گے اور رائے دیں گے؟

جہاں توبہ سچی ہو وہاں بھی یہی مسئلہ پیش آتا ہے کہ علم حاصل کرنے کا کوئی اھتمام نہیں کیا جاتا۔ ایسی توبہ کی ایسکپسائری ڈیٹ زیادہ لمبی نہیں ہوتی۔ اس حدیث کی طرح کے جہاں 100 قتل کرنے والے شخص نے جب توبہ کا ارادہ کیا تو عالم دین نے اسکو کہا کہ توبہ تب ہوگی جب اپنی بری صحبت اور یہ علاؤہ چھوڑدوگے، ورنہ چند دنوں بعد دوبارہ اسی میں ملوث ہو جاؤگے۔

لہذا یونیورسٹی میں بگڑے ہوئے یہ صاحب جب دین کی طرف آئے تو حصول علم سے دوری کی وجہ سے دوبارہ فتنے کا شکار ہوئے لیکن اس مرتبہ شیطان نے دین کو استعمال کیا کیونکہ یونیورسٹی تو اب لبرلزم اور سیکولرزم کا گڑھ ثابت ہوچکی تھی۔

ان کی ایک اور علامت یہ ہے کہ عموماً یہ لوگ ان شخصیات کا نام لیتے ہیں جو کسی مسلک سے تعلق نہیں رکھتے، جیسے ڈاکٹر اسرار۔ کیونکہ اگر یہ کسی مسلک کے عالم کا نام لیں گے تو لوگ ان کی گرفت کریں گے، اس لیے کہ اس عالم کے بیسیوں شاگرد موجود ہوتے ہیں جو حضرت کو سمجھائیں گے کہ بھئی! فلاں عالم کا نام لے رہے ہیں تو ان کی تعلیمات اور طریقہ یہ نہ تھا۔

دین میں سب سے پہلی چیز اخلاص ہے۔ بخاری کی حدیث ہے کہ جہنم میں سب سے پہلے جن تین لوگوں کو ڈالا جائے گا وہ عالم، مجاہد اور زیادہ صدقہ کرنے والا ہوگا، اور وجہ ریاکاری ہوگی۔

اور اخلاص کا تقاضا عاجزی ہے اور اپنی اصل حیثیت کو پہچاننا ہے، کیونکہ جب آپ مخلص ہوں گے تو اس پر خوش ہوں گے کہ دین کا کام ہو رہا ہے، نہ کہ اس پر کہ میں ہی دین کا کام کر رہا ہوں۔

ان سب باتوں کا مقصد یہ ہے کہ ہماری جین زی ایسے بے شمار انفلوئنسرز سے متاثر ہو جاتی ہے جن کا کوئی اتا پتا نہیں، جنہیں کوئی جانتا نہیں، جو دعوتی فیلڈ میں دس دس سال سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایک مرتبہ بھی علماء سے باقاعدہ دین سیکھنے کی زحمت نہیں کرتے، اور ذرا سا مشہور ہوتے ہی علماء کے منہ پر آ جاتے ہیں۔

دین کا کام کرنے میں ہرگز برائی نہیں، اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کا دین کی طرف رغبت رکھنا انتہائی خوش آئند ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے لوگوں سے دین کے نام پر متاثر ہوا جائے جن کے پاس دین کے نام پر اپنی توبہ کی کہانی سنانے یا معاشرے میں وائرل ہونے والے کسی ڈرامے یا فلمی سین پر اسلامی رائے دینے کے علاوہ کوئی قابلیت نہ ہو۔ یا پھر بچے کھچے ایام میں اسلامی فیمینزم کا سہارا لے کر اپنی دکان پر رونق لگائے رکھتے ہوں۔

یا پھر ایک اور کیٹیگری ہے جو علاماتِ قیامت کے نام پر دکان چلا رہی ہے۔ جنہیں سن کر لگتا ہے کہ اگلے ہفتے دجال ضرور آ جائے گا، اور اگر نہیں آیا تو یہ خود دجال ہونے کا دعویٰ کر دیں گے۔ یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ دجال سے ڈرا رہے ہیں یا اس کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ترک معصیت کی کارگزاری سنانا اچھی بات ہے لیکن حصول علم کی کارگزاری کب شروع ہوگی؟ اسکی تو کبھی ابتداء ہی نہیں ہوتی۔

راتوں رات داعی بننے والے حضرات کا نہ ماضی مذہبی بیک گراؤنڈ سے ہوتا ہے اور نہ ہی حال اور مستقبل میں انہیں کوئی مستند مذہبی آدمی جانتا ہے، لیکن یہ بے شمار لوگوں کے دین کا ضرور بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔

ایسے بدبخت لوگوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام چونکہ دین سے مخلص نہیں ہوتے، تو جب کبھی ان کا کوئی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو مجموعی طور پر تمام نوجوان داعی، یوٹیوبرز اور علماء — جو سنجیدہ بھی ہیں اور بڑی تعداد میں موجود بھی ہیں، الحمدللہ — بدنام ہو جاتے ہیں، اور لوگ ہر ایک کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔

یہ سب کردار سے زیادہ گفتار کے غازی ہیں، ان سب میں جو چیز مشترک ہے وہ کے خوش کلامی اور speaking skills جس کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ان من البیان لسحرا۔۔ یعنی بعض لوگوں کی گفتگو سحر انگیز ہوتی ہے۔۔ اس سے بچنے کے لیے بھی اللہ کی خاص عنایت درکار ہوتی ہے۔

لہذا ان نوجوانوں سے متاثر ہونے کے بجائے سنجیدہ علماء سے متاثر ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر کسی کی تقلید لازمی کرنی ہے اور اس سے متاثر ہونا ہے تو فوت شدہ عالم سے متاثر ہو، کیونکہ زندہ آدمی کا کچھ پتہ نہیں کب بگڑ جائے۔ فوت شدہ کم از کم اپنے معاملات طے کر کے جا چکا ہوتا ہے۔

امام ابن الجوزی نے ایک بڑی شاندار کتاب لکھی تھی تلبیس ابلیس یعنی ابلیس کی چالیں کہ کس طرح شیطان دین دار اور بے دین لوگوں کو مختلف انداز میں فتنے میں ڈالتا ہے اور اسکا ترجمہ بھی ہوچکا ہے لیکن اس دور کی تلیبیسات مختلف ہیں اور اس پر مسلسل لکھنے کی ضرورت ہے۔

منقول #نکتہ

29/12/2025

پیر سید مختار الدین شاہ صاحب انتقال فرماگئے
انا للہ وانا الیہ راجعون

کیا قانون مریم نواز کے الفاظ اور آرڈر کا نام ہے؟؟؟؟
26/12/2025

کیا قانون مریم نواز کے الفاظ اور آرڈر کا نام ہے؟؟؟؟

23/12/2025

مفتی محمد تقی العثمانی صاحب عمر کے جس حصے میں ہیں عالم اسلام میں جس حیثیت کے حامل ہیں مالی طور پہ جس قدر آسودہ ہیں اسکے بعد لازمی ہے کہ خاموش رہ کر باقی ماندہ زندگی بھی یونہی سکون کیساتھ گزار دیتے مگر انہوں نے ایک مشکل اور بڑا فیصلہ کیا اور وہ یہ کہ ملک بھر میں موجود تمام مکاتب و مسالک اور فرقوں کے قابل ذکر علماء اور مولانا فضل الرحمان صاحب کو ایک چھت تلے جمع کیا شیخ شجاع الدین سے لیکر ابتسام الہٰی ظہیر صاحبان اور مفتی منیب الرحمان سے لیکر شاہ اویس نورانی صاحبان اور صاحبزادہ ابو الخیر زبیر تا شیعہ علماء تک کم و بیش ہر ایک کو دعوت دی مجلس میں گفتگو کا موقع دیا دس نکات پیش کئیے اور متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے جہاں پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیر شرعی قرار دیا وہیں نفاذ شریعت کےمطالبے کیساتھ صدر مملکت اور فیلڈ مارشل کے استثنیٰ پہ دوک ٹوک رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات سے صریح متصادم قرار دیا مزید بھی نکات تھے جیسا کہ مدارس کی رجسٹریشن وفاقی شرعی عدالت میں میرٹ پہ علماء ججوں کی تقرری ٹرانس جینڈر کے معاملات یونہی پاک افغان جنگ کے بجائے مذاکرات پہ زور دیا مولانا فضل الرحمان نے بھی ہمیشہ کیطرح اس موضوع پہ بہت کھل کی بات کی اور پاک افغان قضئیہ میں جنگ کی مخالفت اور مذاکرات کی وکالت کرتے دکھائی دئیے مولانا نے پاکستانی فوج کو غ ز ہ بھجوانے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ امن کے نام پہ پیش ہونے والے منصوبوں کے مقاصد قبضے کی توسیع ہی ہوتی ہے
مفتی محمد تقی العثمانی صاحب پہ سوشل میڈیا پہ مخالفین اکثر تنقید کرتے ہیں تنقید سے مبراء تو خیر سے کوئی نہیں مگر انکے ایسے جرآت آمیز بیانات پہ وہی لوگ نہ صرف خاموش رھتے ہیں بلکہ اس پہ بھی نکتہ چینی کرتے دکھائی دینگے اور سازش تلاش کرینگے کہ اس اجتماع کا بھی دراصل کوئی اور مقصد تھا اسی طرح مفتی منیب الرحمان نے تو استثنیٰ کے معاملے پہ بہت دبنگ بات کی عموماً وہ ایسے دینی موضوعات پہ بہت کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور سلف کی یاد تازہ کراتے رھتے ہیں ، اس مجلس میں شریک تمام علماء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اس مشکل دور میں جب طاقتور کی خوشنودی بہت سے علماء کا وطیرہ بن چکا انہوں نے ایسے حالات میں ایسی مجلس میں شرکت اور بیان کا فیصلہ کیا جو دنیاوی اعتبار سراسر خسارے مگر آخرت کیلئے بہت نفع کا سودا ہے ، جس درجے میں بھی یہ علماء حق کی بات کر رہے ہیں انہیں سر پہ بٹھائیں کہ کلمہ حق بہت بڑی بات ہے جو کہے اسکا ساتھ دیں رنگ نسل فرقے جنس اور مذھب کی تفریق کے بغیر
فیض اللہ خان

15/12/2025

جج ارشد جاوید نے مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا اور کالعدم جماعت کے پیرظہیرالحسن شاہ کو ساڑھے 35 سال قیدکی سزا سنائی۔ خبر
ہمارے جج کتنے انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں اس کا انداز آپ ساڑھے پنتیس سے لگائیں، پورے پنتیس یا پورے چھتیس بھی نہیں کیا تا کہ انصاف کا ترازو خراب نا ہو جائے۔

15/12/2025

شلوار اور فرقہ واریت
تحریر: سید عبدالوہاب شاہ شیرازی

یہ ایک نہایت سنجیدہ اور غور طلب حقیقت ہے کہ قومی سطح پر جب بھی علماء اور دینی طبقے کا ذکر آتا ہے تو بعض ذمہ دار مناصب پر فائز افراد علمی مسائل کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں جیسے یہی مسائل ملک میں فساد، تشدد اور فرقہ واریت کی اصل وجہ ہوں۔ حال ہی میں کنونشن سنٹر میں منعقدہ قومی علماء کانفرنس میں فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ علماء اس بات میں الجھے ہوئے ہیں کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر ہونی چاہیے یا نیچے، اور وزیر اعظم کا یہ جملہ کہ علماء آمین اونچی کہی جائے یا آہستہ اس میں الجھے ہوئے ہیں، اسی طرز فکر کی عکاسی کرتا ہے۔

سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر یا نیچے رکھنے کا مسئلہ ہو یا آمین بالجہر اور آمین بالسر کا اختلاف، یہ سب راجح اور مرجوح کے مسائل ہیں۔ یہ فقہی اور علمی اختلافات ہیں جو صدیوں سے امت میں موجود ہیں۔ ان اختلافات کو ائمہ مجتہدین نے علمی بنیادوں پر بیان کیا، دلائل دیے، کتابیں لکھیں اور ایک دوسرے کے موقف کا احترام بھی کیا۔ یہ اختلاف نہ تو کبھی فساد کا سبب بنا، نہ اس پر کبھی سڑکیں بند ہوئیں، نہ پارلیمنٹ کی دیواروں پر شلواریں ٹانگی گئیں، نہ کروڑوں کی نشستیں ان مسائل پر خریدی اور بیچی گئیں، اور نہ ہی ان اختلافات کی بنیاد پر قتل و قتال ہوا۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ چند سال پہلے تک یہ مباحث زیادہ تر مدارس، مساجد، کتابوں اور علمی مجالس تک محدود تھے۔ یہ زبانی اور تحریری علمی گفتگو تھی، جس کا دائرہ مذہبی طبقے سے باہر ش*ذ و نادر ہی نکلتا تھا۔ آج کے دور میں تو یہ بحثیں بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور عام آدمی ان میں دلچسپی بھی نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود انہیں فرقہ واریت کا عنوان دے کر پیش کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر فرقہ واریت اصل میں ہے کیا۔ فرقہ واریت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مسئلے میں علمی اختلاف ہو۔ فرقہ واریت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اس طرح گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے کہ وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں، ملک و قوم کو جانی اور مالی نقصان پہنچائیں، ریاستی ادارے مفلوج ہو جائیں اور معاشرہ نفرت اور انتشار کا شکار ہو جائے۔

شلوار اور فرقہ واریت
اگر پچھلے بیس برس کی تاریخ پر نظر ڈال لی جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ شلوار اوپر یا نیچے کرنے پر، یا آمین اونچی یا آہستہ کہنے پر نہ کوئی قتل ہوا، نہ کسی کی گاڑی جلائی گئی، نہ درخت کاٹے گئے، نہ فوج، پولیس یا ایف سی کو سڑکوں پر لانا پڑا، نہ عمارتیں نذر آتش ہوئیں اور نہ ہی پولیس کی گولیوں سے لوگ مارے گئے۔ ان تمام بیس برسوں میں ایسے تمام واقعات کا تعلق سیاسی جماعتوں کے جھگڑوں، اقتدار کی کشمکش اور سیاسی مفادات سے رہا ہے۔

یہ سیاسی لڑائیاں تھیں جنہوں نے قوم میں حقیقی تفرقہ پیدا کیا۔ یہی وہ جھگڑے تھے جنہوں نے معاشرے کو اس نہج پر پہنچایا کہ باپ بیٹے کو گالیاں دیتا ہے اور بیٹا باپ کو، بھائی بھائی سے ناراض ہے، پڑوسی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں، اور سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک نفرت اور بدزبانی عام ہو چکی ہے۔ یہ سب کچھ نہ شلوار کے مسئلے سے پیدا ہوا، نہ آمین کے اختلاف سے، بلکہ یہ سب اقتدار کی سیاست اور ذاتی مفادات کی آگ سے بھڑکا۔

لہذا اگر واقعی فرقہ واریت اور انتشار کا خاتمہ مطلوب ہے تو اس کی درست تشخیص ضروری ہے۔ علمی اور فقہی اختلافات کو نشانہ بنا کر اصل اسباب سے توجہ ہٹانا مسئلے کا حل نہیں۔ علماء کے فقہی مباحث صدیوں سے علمی حدود میں رہے ہیں اور آئندہ بھی رہ سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں زبردستی سیاسی اور معاشرتی فساد کا عنوان نہ بنایا جائے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو نفرت اور تقسیم کی سیاست سے بچایا جائے، اور ہر طبقے کو اس کے دائرے میں ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

اصل فرقہ واریت حکومت اور سیاسی پارٹیوں نے مچائی ہوئی ہے، جس سے قوم تقسیم در تقسیم ہو کر ٹوٹ چکی ہے۔ اس فرقہ واریت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

Source: Guidance #نکتہ

شلوار اور فرقہ واریت۔ لنک پہلے کمنٹ میں۔
14/12/2025

شلوار اور فرقہ واریت۔ لنک پہلے کمنٹ میں۔

اگرچہ این سی سی آئی اہلکاروں نے اس فراڈیے سے رقم لوٹی، جس کی سزا ان اہلکاروں کو ملنی چاہئے، لیکن بطخی بھائی بھی مظلوم نہ...
08/12/2025

اگرچہ این سی سی آئی اہلکاروں نے اس فراڈیے سے رقم لوٹی، جس کی سزا ان اہلکاروں کو ملنی چاہئے، لیکن بطخی بھائی بھی مظلوم نہیں اس نے بچوں اور نوجوانوں کو جس گمراہی کے راستے پر چلایا اس کی سزا اسے نہیں ملی۔
یہ بھی ظالم ہے اور کرپٹ اہلکار بھی۔

‏کے ایف سی اپنا مقدمہ ہار گیا! برسوں تک یہ چھپانے کی کوشش کرنے کے بعد کہ کے ایف سی کے برگر 100% چکن کے ہیں اب شکاگو کی ع...
05/12/2025

‏کے ایف سی اپنا مقدمہ ہار گیا!
برسوں تک یہ چھپانے کی کوشش کرنے کے بعد کہ کے ایف سی کے برگر 100% چکن کے ہیں اب شکاگو کی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ کے ایف سی میں صرف 15% چکن اور باقی 85% کھانے کے لیے بھی موزوں نہیں بلکہ کتوں کے کھانے کے لیے ہے کونسل آف اسلامی جسٹس نے کے ایف سی سے اپنا حلال گارنٹی سرٹیفیکیٹ واپس لے لیا ہے کیونکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ مصالحے، کیچپ اور مایئونیز بھی سور کی چربی سے ملا کر بنائے گئے ہیں۔
۔
اخے
ایک کلو میٹر پر مسجد مل جائے گی لیکن خالص دودھ نہیں۔
سوور کھانے والے لبرلز ہمیں سمجھاتے ہیں کہ یہودی دیانت داری سے کام کرتے ہیں۔
۔
نعمان احمد خان

Address

Bolton

Website

http://www.tabeebpedia.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nukta نکتہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share