24/07/2026
انتخابات قریب، عوام دور ٫ بسوں کی سیاست کب تک؟
انتخابات کی آہٹ سنائی دیتے ہی حکومت پنجاب کو اچانک عوام کی یاد آ گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے بسوں کی روانگی کو ایک بڑا کارنامہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہےمگر سوال یہ ہے کہ کیا چند بسیں برسوں کی محرومیوں، وعدہ خلافیوں اور عوامی مسائل کا مداوا کر سکتی ہیں؟
اگر پنجاب حکومت واقعی عوام کی خیرخواہ ہوتی تو انتخابی موسم میں نمائشی تحفے تقسیم کرنے کے بجائےج عوامی ایکشن کمیٹی کے وہ مطالبات منظور کرتی جن کے لیے عوام نے سڑکوں پر قربانیاں دیں۔ جن ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، جن خاندانوں نے اپنے پیارے دفن کیے ان کے زخموں پر مرہم بسوں کے اعلانات سے نہیں بلکہ انصاف، جوابدہی اور عملی اقدامات سے رکھا جاتا۔
آج بھی آزاد کشمیر کے ہسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے، نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں، پینے کا صاف پانی کئی علاقوں میں خواب بن چکا ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بے گھر افراد ریاست کی توجہ کے منتظر ہیں اور انٹرنیٹ کی ناقص سہولت نے طلبہ، کاروباری افراد اور فری لانسرز کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اگر خزانے میں وسائل موجود تھے تو یہ اقدامات پانچ سال پہلے کیوں نہ کیے گئے؟
عوام کو سہولتیں صرف انتخابات سے پہلے ہی کیوں یاد آتی ہیں؟ کیا عوام کی خدمت کا معیار صرف انتخابی مہم تک محدود ہے؟
عوام اب تصویروں، افتتاحی تقریبات اور نمائشی اعلانات سے متاثر ہونے والے نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل خدمت وہ ہے جو ہر دن نظر آئے نہ کہ صرف ووٹ مانگنے کے موسم میں۔ اگر وفاقی حکومت اپنی کارکردگی پر یقین رکھتی ہے تو اسے تشہیری مہم کے بجائے اپنے وعدوں کی تکمیل اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کا حساب دینا ہوگا۔
یاد رکھیں، عوام کو تحفے نہیں، حقوق چاہیے؛
اعلانات نہیں، عمل چاہیے؛
وقتی سہولتیں نہیں، مستقل انصاف اور ترقی چاہیے۔
شمیم اشرف
🤔🤔🤔🤔🤔🤔