04/05/2026
👈🏼 داڑھی والا گناہگار یا داڑھی نہ رکھنے والا 👇🏼
ہمارے سکول کے ایک بہترین استاد محمد عبداللہ صاحب نے ایک دفعہ ایک سوال پوچھا تھا ہم سے، پانچویں یا آٹھویں جماعت میں، کیونکہ مجھے اتنا یاد ہے کہ بورڈ کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے ہم۔ سوال تھا کہ ایک شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دہی کرتا ہے اسے کہا جاتا ہے کہ سنت رسول منہ پر ہے اور جھوٹ بولتے ہو شرم کرو، اور ایک شخص کلین شیو رہتا ہے داڑھی نہیں رکھتا لیکن وہ بھی جھوٹ بولتا ہے اور دھوکہ دہی کرتا ہے، لیکن وہ پکڑا جائے تو اسے کوئی اتنا برا بھلا نہیں کہتا، تو دونوں میں سے کون زیادہ گناہگار ہے۔
ہم سب شاگردوں کا جواب تھا کہ جو داڑھی رکھ کر جھوٹ بولتا ہے وہ زیادہ گناہگار ہے۔ لیکن ہمارے عزیز استاد کے جواب نے ہمیں حیران کر دیا۔ جو کہ واقعی سچ بھی تھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ داڑھی والا شخص جھوٹ بولتا ہے تو ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، لیکن جو شخص داڑھی نہیں رکھتا، وہ زیادہ گناہگار ہو گا کیونکہ وہ دو گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ پہلا داڑھی نہ رکھنے کا، اور دوسرا جھوٹ بولنے کا۔ تو وہ زیادہ گناہگار ہو گا۔
یہ تقریباً 26 سے 27 سال پرانی بات ہے، لیکن آج بھی یہی ہوتا ہے۔ آج بھی معاشرے میں داڑھی والے شخص کو زیادہ گناہگار سمجھا جاتا ہے۔ یا ایسے بھی کہا جاتا ہے کہ داڑھی والا ہے تو فرشتہ ہو گیا کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔حالانکہ کئی دفعہ جھوٹے لوگ داڑھی رکھ لیتے ہیں اپنے آپ کو ایماندار دکھانے کے لئے۔ لوگ داڑھی کو بدنام کرتے ہیں کہ داڑھی والے ایسے ہی ہوتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تمام داڑھی والے چور نہیں ہوتے، ہاں کچھ چور ضرور داڑھی رکھ کر باقیوں کو اور مذہب کو بدنام کرتے ہیں۔