24/12/2025
وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا آئین، جمہوریت اور نئے میثاق پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اعلان
اسلام آباد: وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کے معاملے پر تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے، جبکہ نئے میثاق کی تشکیل پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس آج اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ساجد ترین اور حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
اجلاس میں اپوزیشن کی دو روزہ قومی کانفرنس، 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے اور ملک بھر سمیت دنیا میں ہڑتال کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل رہی۔
اجلاس کے شرکاء نے ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیے نئے میثاق کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ طے پایا کہ نئے میثاق میں شفاف انتخابات، نئے الیکشن کمشنر کی تقرری اور پارلیمانی بالادستی کو شامل کیا جائے گا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر ڈائیلاگ کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ محمود خان اچکزئی نے 1973 کے آئین پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ نئے میثاق پر عمران خان کے دستخط کرانے کی ذمہ داری خود اٹھائیں گے۔
اجلاس میں 8 فروری یومِ سیاہ کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جبکہ ذیلی کمیٹیوں کے اعلان کا عندیہ دیا گیا ہے۔