PTI Supporters

PTI Supporters News updates

09/04/2026

بیرسٹر سلیمان صفدر کی آج عمران خان سے ملاقات کا احوال انہی کی زبانی

"اڈیالہ جیل حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر چار ماہ بعد آج سہ پہر 3 بجے عمران خان صاحب سے ملاقات کی سہولت فراہم کی۔ بشریٰ بی بی کو درخواستوں اور عدالتی احکامات کے باوجود سیل سے نہیں بلایا گیا تاکہ وہ وکیل اور مؤکل کی اہم ملاقات میں شامل ہو سکیں۔
ملاقات 60 منٹ تک جاری رہی اور خان صاحب کو تمام قانونی معاملات بشمول القادر ٹرسٹ کیس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مجموعی طور پر خان صاحب اچھی صحت میں، بلند حوصلے میں اور پہلے کی طرح غیر معمولی طور پر مضبوط دکھائی دیے۔ آنکھ کا مسئلہ بدستور موجود ہے جس میں شدید کمزوری ہے اور بہت کم بہتری آئی ہے۔ مزید علاج دو ہفتوں میں متوقع ہے۔
خان صاحب نے القادر کیس کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیں اور ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دینے اور میرٹ پر فیصلہ لینے پر زور دیا۔ خان صاحب اور ان کی اہلیہ کو تقریباً 24 گھنٹے انتہائی تکلیف دہ تنہائی (سولیٹری کنفائنمنٹ) میں رکھا جا رہا ہے، جہاں نہ کتابوں، نہ ٹی وی، نہ خاندان اور نہ ہی وکلاء تک رسائی ہے۔"
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو کم از کم 21 توپوں کی سلامی تو بنتی ہے، شرم سے ڈوب کر مر جاؤ کیونکہ وکیل صاحب نے بڑے ہی محتاط انداز سے یہ سب بتایا ہے اصل احوال اس سے بھی بدتر ہے۔

15/02/2026

12/01/2026
In Shaa Allah
12/01/2026

In Shaa Allah

Millennials+GenZ+GenAlpha
12/01/2026

Millennials+GenZ+GenAlpha

06/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر رد عمل

‏عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔

اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔

وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔

دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔

06/01/2026

ڈی جی ISPR آؤ، میں تمہیں بتاؤں کہ پاکستان تحریکِ انصاف اپریل 2022 کے بعد کیسے پاک فوج نامی دہشت گرد جتھے سے
متاثر ہوئی

• 3 نومبر، 2022
پاکستان فوج نامی جتھے نے اپنے دہشت گردوں کے ذریعے عمران احمد خان نیازی پر وزیر آباد کے مقام پر جان لیوا حملہ کروایا

• 18 مارچ، 2023
پاکستان فوج نامی دہشت گرد گروہ نے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان پر ایک مرتبہ پھر جان لیوا حملہ کروایا اور ہمارے 100 سے زائد کارکنان کو اغواء کیا

• مئی 9,2023
پاکستان فوج نامی دہشت گرد تنظیم نے پاکستان تحریکِ انصاف پر ملک بھر میں شدید اور ٹارگٹڈ دہشت گرد حملے کئے جس میں 278 کارکنان شہید اور 10 ہزار سے زائد کو جبری طور پر اغواء کرلیا گیا جس میں بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سب شامل تھے

• 26 نومبر 2024
پاکستان فوج نامی جتھے نے ایک بار پھر پوری طاقت سے اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف پر حملہ کیا، 1100 سے زائد کارکنان کو اغواء کیا اور 50 سے زائد افراد کو سنائپرز سے شہید کیا اور جسدِ خاکی تک نہ دیئے

• اگست 2025
اگست 2025 پاکستان تحریکِ انصاف کی مختلف ریلیوں پر پاکستان فوج نامی دہشت گرد، غنڈے جتھے نے پھر حملہ کیا جس میں 300 سے زائد کارکنان کو اغواء کیا گیا

• پاک فوج نامی دہشت گرد گروپ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 108 کارکنان کو بےگناہ لمبی سزائیں سنوائیں

اسکے علاوہ پاکستان فوج نامی دہشت گرد گروہ نے کئی مرتبہ عمران خان کے زمان پارک گھر پر حملے کئے

آپ اب بھی پوچھتے ہیں کہ دہشت گرد تحریکِ انصاف والوں کو کیوں کچھ نہیں کہتے

Yad-e-Mazzi
06/01/2026

Yad-e-Mazzi

Jhootha😂🤡
06/01/2026

Jhootha😂🤡

01/01/2026


06/12/2025

‏ عمران خان پر اعتماد کرنے. .
والےحاضری لگاؤ. .
✌️
وعدہ کرو ہم تحریک انصاف کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے سب کہو انشاء اللہ

Address

Glasgow

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTI Supporters posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share