16/09/2026
کیا آپ یقین کریں گے کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی رہا ہے جہاں بچہ پیدا ہوتے ہی ایک سال کا سمجھا جاتا تھا؟
دنیا کے تقریباً تمام معاشروں میں عمر کا آغاز بچے کی پیدائش کے دن سے ہوتا ہے۔ بچہ جس دن دنیا میں آتا ہے، اسی دن سے اس کی زندگی کا پہلا سال شروع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جنوبی کوریا میں صدیوں تک عمر گننے کا ایک بالکل مختلف روایتی طریقہ رائج رہا۔
اس روایت کے مطابق جب ایک بچہ دنیا میں پیدا ہوتا تو اسے ایک سال کا سمجھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تصور تھا کہ بچے کی زندگی صرف پیدائش کے بعد شروع نہیں ہوتی، بلکہ ماں کے پیٹ میں گزارا ہوا عرصہ بھی اس کی زندگی کا حصہ ہے۔
یعنی ایک نومولود بچہ، جس نے ابھی دنیا میں آنکھ کھولی، روایتی کوریائی حساب کے مطابق پہلے ہی ایک سال کا ہوتا تھا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
روایتی کوریائی نظام میں ہر شخص کی عمر نئے سال کے آغاز پر بھی ایک سال بڑھ جاتی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک ہی سال میں پیدا ہونے والے دو بچوں کی عمر بعض حالات میں حیران کن انداز سے شمار کی جا سکتی تھی، کیونکہ عمر کا حساب صرف سالگرہ سے نہیں بلکہ نئے سال سے بھی جڑا ہوا تھا۔
مثلاً اگر کوئی بچہ 31 دسمبر کو پیدا ہوتا، تو روایتی نظام کے تحت پیدائش کے وقت ہی اس کی عمر ایک سال شمار ہوتی، اور اگلے ہی دن یکم جنوری کو اس کی عمر مزید ایک سال بڑھ سکتی تھی۔
یہ عمر گننے کا طریقہ آج ہمیں عجیب لگ سکتا ہے، لیکن یہ محض کوئی مذاق یا غلط فہمی نہیں تھا بلکہ جنوبی کوریا میں ایک معروف روایتی عمر کا نظام تھا۔
پھر جدید دور آیا اور یہ روایت بدل گئی۔
جنوبی کوریا نے جون 2023 میں سرکاری اور قانونی معاملات میں بین الاقوامی عمر کے نظام کو اپنایا، جس کے تحت عمر پیدائش کی اصل تاریخ سے شمار ہوتی ہے۔ اب وہاں سرکاری طور پر ایک نومولود بچہ وہی عمر رکھتا ہے جو دنیا کے بیشتر ممالک میں ہوتی ہے: صفر سال۔
یوں صدیوں پرانی عمر گننے کی ایک دلچسپ روایت تاریخ کا حصہ بن گئی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمر صرف گزرنے والے سالوں کا نام نہیں، بلکہ مختلف تہذیبوں میں اسے دیکھنے اور گننے کا انداز بھی مختلف رہا ہے۔
ایک جگہ بچہ دنیا میں آتے ہی ایک سال کا تھا، جبکہ آج اسی بچے کی عمر دنیا کے عام نظام کے مطابق پیدائش کے دن سے شروع ہوتی ہے۔