Arz-e-Pak News

Arz-e-Pak News Pakistan Studies and Information

Kandy SriLanka
15/03/2026

Kandy SriLanka

10/01/2026
پاکستان میں خوارج/شدت پسندوں کے خلاف جنگ: پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک طویل، پیچیدہ ا...
10/01/2026

پاکستان میں خوارج/شدت پسندوں کے خلاف جنگ:

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک طویل، پیچیدہ اور مہنگی جنگ لڑ رہا ہے۔ ریاستی بیانیے میں جن عناصر کو آج “خوارج” کہا جاتا ہے، ان میں بنیادی طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، اس کے اتحادی دھڑے، اور بعض اوقات داعش خراسان جیسے گروہ شامل سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کوئی ایک تنظیم نہیں بلکہ مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کا مجموعہ ہے

سرکاری بیانات، عسکری ترجمانوں اور معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق:

2014 سے اب تک (آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور بعد کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سمیت)
ہزاروں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

صرف حالیہ برسوں (2024–2025) میں مختلف جھڑپوں اور آپریشنز کے دوران
دو ہزار سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ان کارروائیوں کا دائرہ کار خیبر پختونخوا، سابقہ فاٹا، بلوچستان اور سرحدی علاقوں تک پھیلا رہا۔

یہ اعداد و شمار اندازاً ہیں، کیونکہ تمام تفصیلات سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی نہیں کی جاتیں۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ
شدت پسند کوئی باقاعدہ فوج یا رجسٹرڈ ادارہ نہیں۔
یہ چھوٹے خفیہ سیلز میں کام کرتے ہیں، جن کی تعداد وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
نئے لوگ شامل ہوتے ہیں، کچھ مارے جاتے ہیں، کچھ روپوش ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے “کتنے باقی ہیں” کا کوئی مستند، حتمی عدد موجود نہیں۔
ریاست کا ہدف تعداد گننا نہیں بلکہ:
نیٹ ورکس توڑنا
قیادت ختم کرنا
مالی، نظریاتی اور مقامی سہولت کاری روکنا
ٹی ٹی پی کی موجودہ حیثیت
تحریکِ طالبان پاکستان:

اب کھلی حکمرانی یا بڑے علاقے پر کنٹرول کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

زیادہ تر بکھرے ہوئے سیلز اور سرحدی علاقوں تک محدود ہے۔
بڑے شہروں میں اس کا منظم ڈھانچہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
اس کی کارروائیاں اب زیادہ تر علامتی یا محدود نوعیت کی ہوتی ہیں۔
افغان طالبان اور ٹی ٹی پی: اصل تعلق واضح ہے
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ:
دونوں میں نظریاتی مماثلت ضرور ہے، مگر
تنظیمی طور پر الگ ہیں۔

افغان طالبان کی قیادت افغانستان پر مرکوز ہے، جبکہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔

افغان طالبان کے اقتدار کے بعد:

ٹی ٹی پی کے بعض عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ ملی۔
افغان طالبان کھلی حمایت نہیں کرتے، مگر مکمل روک بھی نہیں لگا سکے۔ یہی بات پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ بنی۔

پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف بھاری انسانی، معاشی اور سماجی قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں شدت پسند مارے جا چکے ہیں، مگر خطرہ مکمل ختم نہیں ہوا۔ ریاستی حکمتِ عملی اب صرف فوجی نہیں بلکہ:
انٹیلی جنس
سرحدی مینجمنٹ
مالی شکنجہ
اور نظریاتی بیانیے
پر مبنی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ صرف بندوق سے نہیں، سوچ اور نظام سے بھی لڑی جاتی ہے—اور یہی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور امتحان ہے۔
اس جنگ میں پاکستان کی طاقت یہ ہے کہ پاک فوج منظم ہے لیکن کمزوری یہ ہے کہ اس جنگ کو عوامی حمایت نہیں مل سکی اس کی وجہ سیکورٹی فورسز کا سیاسی کردار ہے ۔وفاقی حکومت اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے میں ناکام رہی ہے جس سے خدشات دور ہوتے اور مشترکہ لائحہ عمل بنتا ۔کمزوریوں پر قابو پا کر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔

06/01/2026

طالبان: تخلیق، کردار اور آج کی تلخ حقیقت

افغان طالبان کو عموماً ایک سازش یا کسی ایک ملک کی “پیداوار” قرار دیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تاریخی ہے۔ طالبان 1994 میں افغانستان کے اندر اس وقت ابھرے جب سوویت انخلا کے بعد ملک خانہ جنگی، لاقانونیت اور جنگجو سرداروں کے ہاتھوں برباد ہو چکا تھا۔ طالبان کی اکثریت دینی مدارس کے ان طلبہ پر مشتمل تھی جو امن، نظم اور سخت مذہبی نظام کے نعرے کے ساتھ میدان میں آئے۔طالبان پاکستانی مدراس سے تعلیم حاصل کرتے رہے ، پاکستان ہی ان کو سپورٹ کر رہا تھا اور امریکہ کو قائل کیا گیا کہ یہ افغانستان کا نزم و نسق بہتر سنبھالیں گے ۔
۔ امریکا نے 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی،اس وقت وه افغان مجاہدین تھے ۔ مگر طالبان کا نام اس جنگ کے کئی برس بعد وجود میں آیا ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سرد جنگ کے بعد افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، جس خلا نے طالبان جیسے گروہوں کے لیے زمین ہموار کی۔

پاکستان کا کردار نسبتاً زیادہ براہِ راست رہا۔ 1990 کی دہائی میں پاکستان نے طالبان کی مدد کی، جس کا مقصد افغانستان میں ایک دوست حکومت کا قیام اور مغربی سرحد پر اسٹریٹجک تحفظ تھا۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے چند ممالک میں شامل تھا۔ مگر یہ تعلق کبھی بھی مکمل اطاعت پر مبنی نہیں تھا؛ طالبان اپنی سوچ اور فیصلوں میں ہمیشہ خودمختار رہے۔
آج سوال یہ ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
اس کی بنیادی وجہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) ہے۔ افغان طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد بھی TTP کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کی۔ TTP پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، جسے پاکستان اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیورنڈ لائن پر اختلاف، سرحدی جھڑپیں اور طالبان کی بدلتی ہوئی خارجہ ترجیحات (جیسے دیگر علاقائی طاقتوں سے روابط) نے بھی تعلقات کو مزید کشیدہ کیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک نہیں ہیں، مگر نظریاتی قربت اور قبائلی رشتے انہیں جوڑے رکھتے ہیں۔ یہی حقیقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنی بھی ضروری ہے کہ صرف پختون ہی ٹی ٹی پی کا حصۂ نہیں پنجاب سے لوگ بھی ان میں شامل ہیں ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طالبان نہ مکمل طور پر امریکا کی پیداوار ہیں، نہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے ہیں۔ وہ افغانستان کی تاریخ، جنگوں اور عالمی طاقتوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ آج پاکستان اور طالبان کے درمیان تناؤ دراصل ماضی کی پالیسیوں، علاقائی سیاست اور سکیورٹی خدشات کا منطقی انجام ہے۔
پاکستان میں اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح بھی استعمال ہوئی لیکن امریکہ کے زیر اثر پالیسی نے پاکستان کے لئے مشکلات بڑھا دی ہیں ۔پاکستان کی پارلیمان میں پاک افغان تعلقات اور موجوده حالات میں خارجہ پالیسی پر بحث نہیں کروائی گئی جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

21/12/2025

Interview ...Mehraj Muhammad khan

26/11/2025

کراچی ۔سیاسی ڈائری ۔مبشر میر

سندھ میں حالیہ دنوں وکلا کی جانب سے ہونے والے مسلسل احتجاج نے صوبے کی سیاسی و عدالتی فضا کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ وکلا برادری نے مختلف مسائل پر اپنی آواز بلند کی، جن میں سب سے اہم 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج، سندھ کے پانی کے حقوق سے متعلق چھ نہری منصوبوں کی مخالفت، اور پولیس گردی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں قانونی برادری نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ معاملات بلکہ عوامی حقوق اور وفاقی فیصلوں کے اثرات پر بھی گہری نظر رکھتی ہے۔
کراچی بار اور سندھ بھر کی وکلائی تنظیموں نے 27ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مجوزہ فیڈرل آئینی کورٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے ملک کے آئینی ڈھانچے میں عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے باہر پولیس اور وکلا میں جھڑپیں بھی ہوئیں، جس سے صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی۔

دوسری طرف، سندھ کے چھ کینال منصوبے کے خلاف وکلا کی شرکت نے اس تحریک کو نئی قوت دی۔ وکلا کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ سندھ کے پانی کے حصے، ماحولیات اور کسانوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ سندھ بار کونسل نے اس سلسلے میں عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا، جب کہ مختلف شہروں میں دھرنے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
اسی طرح کراچی میں ایک قانون کے طالب علم پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف بھی وکلا سڑکوں پر نکلے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے کی روش بند کی جائے۔
مجموعی طور پر سندھ میں وکلا کے یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانونی برادری نہ صرف عدلیہ کی آزادی بلکہ صوبائی حقوق، شہری تحفظ اور آئینی توازن کے لیے بھی ایک مضبوط دباؤ گروپ کے طور پر سامنے آئی ہے۔
فراحت اللہ بابر کی کتاب “Beyond the Bomb” پاکستان کی سیاسی تاریخ، ریاستی پالیسیوں اور قومی سلامتی کے بیانیے پر ایک جرات مندانہ فکری مکالمہ ہے۔ بابر اس تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت ہی پاکستان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔ ان کے نزدیک اصل سلامتی اس وقت ممکن ہے جب ریاست اپنے شہریوں کے حقوق، ادارہ جاتی شفافیت، اور آئینی عملداری کو مقدم رکھے۔

کتاب میں ایٹمی پروگرام کے گرد قائم خفیہ پن، پارلیمانی نگرانی کی کمی اور عسکری و سویلین تعلقات میں طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ بابر دلیل دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت اگر شہری آزادیوں کو محدود کرنے یا جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے اندرونی طور پر کمزور کرتی ہے۔

“Beyond the Bomb” صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح کی دعوت بھی ہے۔ بابر قومی سلامتی کی نئی تعریف پیش کرتے ہیں—جہاں انسانی حقوق، آزادی اظہار، صوبائی خودمختاری اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ کتاب اس نکتے کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ پائیدار امن خطے کی سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور عوامی فلاح سے وابستہ ہے، نہ کہ محض عسکری برتری سے۔

مجموعی طور پر یہ کتاب پاکستانی پالیسی کی وضاحت میں ایک اہم فکری اضافہ ہے، جو ریاست کو آئین کی طرف واپس لانے اور سلامتی کے بیانیے کو انسانی مرکزیت کی طرف مائل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہے۔سندھ حکومت نے ایک ہی ہفتے میں تعلیم، صحت، گورننس اور عوامی فلاح کے متعدد اہم فیصلوں کے ذریعے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ صوبے کی ترجیحات اب انتظامی اصلاحات سے بڑھ کر سماجی ترقی کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں لیے گئے فیصلے نہ صرف صوبے کی حکمرانی کے ڈھانچے میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں بلکہ تعلیم، صحت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور انصاف کے نظام کے حوالے سے بھی ایک نئی سمت کا اعلان کرتے ہیں۔

کابینہ اجلاس کے اگلے ہی دن وزیراعلیٰ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایکسیلیریٹڈ ڈیجیٹل لرننگ پروگرام (ADLP) کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں 2 کروڑ 26 لاکھ اور صرف سندھ میں 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، یہ پروگرام صوبے کے لیے ایک امید بن کر سامنے آیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنا روایتی اسکول ماڈل کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تیز رفتار تکمیل ہے۔

پائلٹ مرحلے میں 100 مائیکرو اسکولز اور 25 ڈیجیٹل کلاس رومز کے نتائج حوصلہ افزا رہے—11 ہزار سے زائد بچوں کا اندراج، روزانہ چار شفٹیں، ٹیبلٹ پر مبنی سیکھنے کے ماڈیول، اور کارکردگی میں نمایاں بہتری، خصوصاً لڑکیوں میں۔ دوسرے مرحلے میں مزید 100 اسکولوں کا آغاز سندھ حکومت کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف اسکول تعمیر نہیں کرنا چاہتی بلکہ تعلیم کے متبادل راستے بھی کھول رہی ہے ۔

سندھ کابینہ نے کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جے پی ایم سی میں 12 منزلہ ایمرجنسی ٹاور کی تعمیر کے لیے 15 ملین ڈالر گرانٹ کی منظوری دے کر صوبے کے صحت کے نظام میں ایک تاریخی قدم اٹھایا۔ نئے ٹاور میں 722 بیڈز اور 17 آپریٹنگ تھیٹرز ہوں گے۔ موجودہ ایمرجنسی کے صرف 224 بیڈز اور 3 تھیٹرز کے مقابلے میں یہ اضافہ شہر کی 2 کروڑ آبادی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اس بات کی علامت ہے کہ حکومت بڑے اسپتالوں کو صرف سرکاری بیوروکریسی کے بھروسے پر نہیں چھوڑنا چاہتی بلکہ جدید مینجمنٹ اور فنڈنگ کے ماڈلز کو تیزی سے اپنا رہی ہے۔

صوبائی کابینہ نے سندھ میں پہلی مرتبہ "حکومت کی ملکیت محفوظ پرائیویٹ کلاوڈ" کے قیام کی منظوری دی ہے۔ یہ قدم ڈیجیٹل گورننس کی جانب پیش رفت ہے اور سندھ کو ان صوبوں میں شامل کرے گا جو اپنی ای گورننس سروسز کو مکمل ڈیجیٹل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اسی طرح 14 انسداد دہشتگردی عدالتوں کو نارکوٹکس عدالتوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ منشیات کے بڑھتے ہوئے مقدمات کے پیش نظر ایک عملی قدم ہے۔ دہشتگردی کے مقدمات کم اور نارکوٹکس کے مقدمات مسلسل بڑھ رہے تھے، لہٰذا عدالتوں کا یہ ری الائنمنٹ عدالتی ڈھانچے کو حقیقی ضرورتوں کے مطابق ڈھالتا ہے۔

کفایت شعاری کے لیے سرکاری گاڑیوں کی واپسی، غیر مجاز استعمال پر پابندی، اور محکمہ جاتی اصلاحات حکومت کی پالیسی سمت کو واضح کرتی ہیں۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی جگہ ایک جدید "پیپلز کمیونٹی ہیلتھ سروسز کمپنی" کی منظوری بنیادی صحت کے نظام میں ایک نئی توانائی بھر سکتی ہے،

کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کی تشکیلِ نو، سندھ چیریٹی کمیشن، پی پی پی منصوبوں میں بھرتیاں، ایجوکیشن سٹی کے ضوابط، پریس کلب کے اراکین کے لیے رہائشی پلاٹس—یہ تمام فیصلے انتظامی، سماجی اور معاشی سطح پر صوبے کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کے یہ فیصلے ایک طرف ڈیجیٹل مستقبل کا راستہ کھول رہے ہیں، دوسری طرف تعلیم و صحت کے بحران سے نمٹنے کی کوشش بھی ہیں۔ اگر ان فیصلوں پر عملدرآمد شفاف، تیز اور مؤثر ہوا تو سندھ نہ صرف اپنی گورننس کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ تعلیم، صحت اور انصاف کے شعبوں میں حقیقی تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔

پاک بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہاسلام آباد، 25 نومبر 25: پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ بحری جہا...
26/11/2025

پاک بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

اسلام آباد، 25 نومبر 25: پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ بحری جہاز سے اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ میزائل انتہائی درستگی کے ساتھ سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام جدید ترین گائیڈنس سے لیس ہے اور اس میں نقل و حرکت کی خصوصیات موجود ہیں۔

چیف آف دی نیول اسٹاف نے سینئر سائنسدانوں اور انجینئرز کے ہمراہ فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا۔

یہ کامیاب تجربہ پاکستان کی تکنیکی مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے اس سنگ میل کی کامیابی پر حصہ لینے والے یونٹس اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

26/11/2025

Address

Social Media Management Hub Ltd , AACSL, 1st Floor, North Westgate House
Harlow
CM201YS

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arz-e-Pak News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arz-e-Pak News:

Share