09/09/2026
نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو عموماً سیاسی نعروں، لسانی حساسیتوں اور اقتدار کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس سوال کا اصل تعلق پاکستان کے مستقبل، معاشی ترقی، انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور اختیارات و وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہے۔ ہمیں جذبات سے ہٹ کر یہ سوچنا ہوگا کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ، جس کے تحت چند بڑے صوبائی دارالحکومت کروڑوں انسانوں کے مسائل کا فیصلہ کرتے ہیں، اکیسویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ جب شعور کی منزل پر قدم رکھا تو شہر رسول نگر کا معاشرتی اور معاشی منظر آج کے پاکستان سے بہت مختلف تھا۔ بے روزگار افراد بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ چند لوگ شاید اپنی مرضی سے کام سے دور رہتے ہوں، مگر عمومی طور پر محلے ہنرمند لوگوں، کاریگروں، تاجروں، کسانوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ خاندانوں سے آباد تھے۔ اردگرد کھیت، کھلیان اور زرعی زمینیں تھیں۔ شہر کی اپنی منڈیاں تھیں، اپنی تجارت تھی اور اپنے ہنر تھے۔
یہ ایک چھوٹی مگر متحرک شہری معیشت تھی۔
شہر رسول نگر اور اس جیسے پنجاب کے بے شمار چھوٹے شہر اپنے گردونواح کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دیہی معیشت اور شہری تجارت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ کسان فصل پیدا کرتا تھا، مقامی تاجر اسے بازار تک پہنچاتا تھا، کاریگر اپنی خدمات دیتا تھا اور مقامی منڈی علاقے کی معاشی سرگرمی کا مرکز ہوتی تھی۔ نمک کے کاروبار سے لے کر دیگر اشیائے ضرورت تک، چھوٹے شہروں کی اپنی تجارتی شناخت تھی۔ شہر رسول نگر میں نمک منڈی کا وجود بھی اس حقیقت کی علامت تھا کہ ہر شہر اپنے جغرافیہ، تجارت اور مقامی ضرورتوں کے مطابق ایک معاشی کردار رکھتا تھا۔
یہی خود انحصاری کسی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔
آج ہم ایک ایسے پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں معاشی مواقع چند بڑے شہروں میں غیر معمولی طور پر مرتکز ہو چکے ہیں۔ نوجوان روزگار کے لیے اپنے آبائی شہروں اور دیہات کو چھوڑ کر لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر بڑے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بڑے شہر آبادی کے بے قابو دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ چھوٹے شہر سرمایہ، صنعت، تعلیم، صحت اور جدید روزگار کے مواقع سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
کراچی اور لاہور کی طرف بڑھتی ہوئی ہجرت محض آبادی کی نقل و حرکت نہیں بلکہ ہمارے ناقص ترقیاتی ماڈل کی علامت ہے۔
اگر کسی نوجوان کو اچھی یونیورسٹی، معیاری اسپتال، صنعتی ملازمت، کاروباری سہولت یا بہتر سرکاری خدمات کے لیے سینکڑوں میل سفر کرکے کسی بڑے شہر میں منتقل ہونا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست نے ترقی کو متوازن انداز میں تقسیم نہیں کیا۔ یہی عدم توازن پھر بڑے شہروں میں ٹریفک، کچی آبادیوں، مہنگی رہائش، پانی کی قلت، آلودگی، جرائم اور شہری انفراسٹرکچر کے بحران کو جنم دیتا ہے۔
اس مسئلے کا ایک اہم حل نئے انتظامی اور سیاسی مراکز کی تشکیل ہے۔
نئے صوبے محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نام نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا مقصد اقتدار کو عوام کے قریب لانا، ترقیاتی وسائل کو مقامی ضرورتوں کے مطابق استعمال کرنا اور انتظامی فیصلوں کو تیز اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
جب ایک صوبہ جغرافیائی طور پر بہت بڑا، آبادی کے لحاظ سے بہت وسیع اور انتظامی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے تو اس کے دور دراز علاقوں کو دارالحکومت تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایک کسان، ایک استاد، ایک چھوٹا صنعت کار یا ایک عام شہری اگر اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت کی بیوروکریسی اور سیاسی مرکز کے گرد چکر لگانے پر مجبور ہو تو یہ نظام کی ناکامی ہے۔
نئے صوبائی دارالحکومت اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں۔
ہر نیا صوبائی مرکز ایک نئی انتظامی، تعلیمی، طبی، تجارتی اور صنعتی سرگرمی کو جنم دے سکتا ہے۔ جہاں سیکریٹریٹ ہوگا، وہاں دفاتر ہوں گے؛ جہاں یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے ہوں گے، وہاں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے؛ جہاں جدید اسپتال ہوں گے، وہاں صحت کی سہولتیں بڑھیں گی؛ اور جہاں حکومت موجود ہوگی، وہاں سڑک، مواصلات، رہائش، کاروبار اور خدمات کا ایک نیا معاشی نظام بھی تشکیل پائے گا۔
لیکن نئے صوبوں کا تصور اس وقت ہی کامیاب ہوگا جب اسے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے ساتھ جوڑا جائے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہوں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں ہوگا؟
اگر ہم دس نئے صوبے بنا دیں مگر تمام اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع رہیں تو مسئلہ اپنی شکل بدل لے گا، حل نہیں ہوگا۔ آج جس طرح کئی معاملات میں اسلام آباد سے صوبوں تک اختیارات کی مرکزیت موجود ہے، کل یہی مرکزیت نئے صوبائی دارالحکومتوں سے اضلاع اور تحصیلوں پر مسلط ہوسکتی ہے۔
اس لیے پاکستان کو ایک ایسا نظام چاہیے جس کی بنیاد تین سطحوں پر ہو:
وفاق مضبوط ہو، صوبے بااختیار ہوں اور مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں خودمختار ہوں۔
ضلع، شہر اور ٹاؤن کو محض سرکاری انتظامی اکائی نہیں بلکہ معاشی ترقی کی اکائی سمجھنا ہوگا۔
ہر ضلع کی اپنی معاشی شناخت ہوسکتی ہے۔
کہیں زراعت بنیادی طاقت ہے، کہیں معدنیات، کہیں صنعت، کہیں سیاحت، کہیں ماہی گیری، کہیں ٹیکسٹائل، کہیں دستکاری اور کہیں تجارت۔ حکومت کا کام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پورے ملک کے لیے ایک ہی ترقیاتی ماڈل بنایا جائے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ ہر ضلع اور شہر اپنی مقامی صلاحیتوں کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بنائے۔
یہی تصور جدید اربن اکانومی کی بنیاد ہے۔
چین کی ترقی سے ہمیں یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ قومی ترقی صرف ایک یا دو بڑے شہروں کی ترقی سے نہیں آتی۔ مختلف شہروں اور علاقوں کو صنعتی، تجارتی اور معاشی کردار دے کر ایک وسیع اقتصادی نیٹ ورک تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ہر شہر اپنی جغرافیائی، صنعتی اور انسانی صلاحیت کے مطابق قومی معیشت میں حصہ ڈال سکتا ہے۔
پاکستان کو بھی یہی سوچ اپنانا ہوگی۔
کیوں نہ شہر رسول نگر جیسے تاریخی اور تجارتی شہروں کو جدید مقامی معیشتوں میں تبدیل کیا جائے؟ کیوں نہ ہر ضلع میں صنعتی زون، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، زرعی پروسیسنگ یونٹ، کاروباری مرکز اور جدید مارکیٹ قائم کی جائے؟ کیوں نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری یا کراچی اور لاہور کی ملازمتوں تک محدود رکھا جائے؟
ایک مضبوط مقامی حکومت اپنے علاقے کی ضرورت اسلام آباد یا لاہور سے بہتر جانتی ہے۔
اس لیے بلدیاتی اداروں کو مستقل آئینی اور مالی تحفظ دینا ضروری ہے۔ میئر، ضلع ناظم یا مقامی سربراہ کو محض سیاسی نمائندہ نہیں بلکہ اپنے شہر کی ترقی کا ذمہ دار انتظامی سربراہ ہونا چاہیے۔ اس کے پاس مناسب مالی وسائل، منصوبہ بندی کا اختیار اور جوابدہی کا واضح نظام ہونا چاہیے۔
مضبوط بلدیاتی نظام کے چند بڑے فوائد واضح ہیں۔
اول، فیصلے عوام کے قریب ہوں گے۔
ایک گلی، سڑک، پانی، سیوریج، اسکول یا ڈسپنسری کے مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنے کی ضرورت کم ہوگی۔
دوم، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
جب ہر شہر میں ترقیاتی منصوبے، صنعتیں، کاروباری مراکز اور مقامی خدمات بڑھیں گی تو لوگوں کو ہجرت پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔
سوم، بڑے شہروں پر دباؤ کم ہوگا۔
کراچی اور لاہور کو اس لیے بھی مسائل کا سامنا ہے کہ پورے ملک کے معاشی مواقع کا ایک بڑا حصہ انہی شہروں میں جمع ہو گیا ہے۔
چہارم، وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔
دور دراز علاقوں کی آواز ان کے اپنے انتظامی مراکز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آئے گی۔
پنجم، سیاسی احتساب بہتر ہوگا۔
جب حکمران عوام کے قریب ہوں گے تو عوام ان کی کارکردگی کو زیادہ براہ راست دیکھ اور جانچ سکیں گے۔
ششم، مقامی شناخت اور ثقافت محفوظ رہے گی۔
نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد لسانی یا نسلی تقسیم نہیں بلکہ مقامی وسائل اور شناخت کو ترقی کے ساتھ جوڑنا ہونا چاہیے۔
ہفتم، قومی یکجہتی مضبوط ہوسکتی ہے۔
یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ جب دور دراز علاقوں کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ترقی، وسائل اور اختیارات میں منصفانہ حصہ مل رہا ہے تو محرومی کا احساس کم ہوتا ہے۔ مساوی ترقی دراصل قومی اتحاد کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے بجا طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان مزید حکومتوں اور بیوروکریسی کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ اگر نئے صوبے صرف گورنر ہاؤس، سیکریٹریٹ، وزراء اور نئی سرکاری گاڑیوں میں اضافے کا نام ہوں تو یقیناً یہ عوام کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔
لیکن اگر نئے صوبے انتظامی اصلاحات، مقامی معیشت، صنعتی ترقی، تعلیم، صحت، شفاف بلدیاتی نظام اور اختیارات کی حقیقی تقسیم کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ثابت ہوسکتے ہیں۔
ہمیں صرف نئے نقشے نہیں، نیا ترقیاتی فلسفہ چاہیے۔
پاکستان کا مستقبل اس سوال سے وابستہ ہے کہ کیا ہم ترقی کو چند بڑے شہروں اور چند طاقتور مراکز تک محدود رکھیں گے یا اسے ہر ضلع، ہر شہر اور ہر ٹاؤن تک لے جائیں گے؟
شہر رسول نگر جیسے چھوٹے شہروں کی یاد ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ایک معاشرہ اس وقت زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب اس کے لوگ اپنے علاقے میں باعزت روزگار، کاروبار اور ترقی کے مواقع حاصل کرسکیں۔ جب ایک شہر اپنی معیشت پیدا کرتا ہے تو وہ صرف روزگار نہیں دیتا بلکہ خود اعتمادی، استحکام اور سماجی وقار بھی پیدا کرتا ہے۔
پاکستان کو کراچی اور لاہور کی ضرورت ہے، مگر پاکستان صرف کراچی اور لاہور نہیں ہے۔
پاکستان کے مستقبل کا اصل خواب یہ ہونا چاہیے کہ کوئی نوجوان اپنے شہر کو اس لیے نہ چھوڑے کہ وہاں زندگی گزارنے کا کوئی موقع موجود نہیں۔ اسے اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آبائی ضلع میں رہے یا کسی دوسرے شہر جائے، مگر ہجرت اس کی مجبوری نہیں، انتخاب ہو۔
نئے صوبے، بااختیار اضلاع، مضبوط ٹاؤن حکومتیں اور خود کفیل شہری معیشتیں پاکستان کو مرکزیت سے نکل کر متوازن ترقی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔
اختیار کی تقسیم دراصل طاقت کی تقسیم نہیں بلکہ قومی طاقت میں اضافہ ہے۔
اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال صرف یہ نہ پوچھیں کہ “نئے صوبے کیوں بنائے جائیں؟”
بلکہ یہ پوچھیں:
“اگر اختیارات، وسائل اور ترقی چند شہروں اور چند مراکز میں مرتکز رہیں گے تو پاکستان کے باقی شہروں اور کروڑوں شہریوں کا مستقبل کیا ہوگا؟”
پاکستان کی ترقی کا راستہ نئے صوبوں سے ضرور گزر سکتا ہے، مگر اس کی اصل منزل ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر ضلع ترقی کا مرکز، ہر شہر معاشی اکائی اور ہر شہری ریاست کے وسائل اور اختیارات میں برابر کا شریک ہو۔
یہی حقیقی خود انحصاری ہے۔
یہی متوازن ترقی ہے۔
اور شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کی بنیادیں ہمیں اپنے بچپن کے ان خود کفیل شہروں میں دکھائی دیتی تھیں۔
مبشر میر