Arz-e-Pak News

Arz-e-Pak News Pakistan Studies and Information

09/09/2026

نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو عموماً سیاسی نعروں، لسانی حساسیتوں اور اقتدار کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس سوال کا اصل تعلق پاکستان کے مستقبل، معاشی ترقی، انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور اختیارات و وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہے۔ ہمیں جذبات سے ہٹ کر یہ سوچنا ہوگا کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ، جس کے تحت چند بڑے صوبائی دارالحکومت کروڑوں انسانوں کے مسائل کا فیصلہ کرتے ہیں، اکیسویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ جب شعور کی منزل پر قدم رکھا تو شہر رسول نگر کا معاشرتی اور معاشی منظر آج کے پاکستان سے بہت مختلف تھا۔ بے روزگار افراد بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ چند لوگ شاید اپنی مرضی سے کام سے دور رہتے ہوں، مگر عمومی طور پر محلے ہنرمند لوگوں، کاریگروں، تاجروں، کسانوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ خاندانوں سے آباد تھے۔ اردگرد کھیت، کھلیان اور زرعی زمینیں تھیں۔ شہر کی اپنی منڈیاں تھیں، اپنی تجارت تھی اور اپنے ہنر تھے۔
یہ ایک چھوٹی مگر متحرک شہری معیشت تھی۔

شہر رسول نگر اور اس جیسے پنجاب کے بے شمار چھوٹے شہر اپنے گردونواح کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دیہی معیشت اور شہری تجارت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ کسان فصل پیدا کرتا تھا، مقامی تاجر اسے بازار تک پہنچاتا تھا، کاریگر اپنی خدمات دیتا تھا اور مقامی منڈی علاقے کی معاشی سرگرمی کا مرکز ہوتی تھی۔ نمک کے کاروبار سے لے کر دیگر اشیائے ضرورت تک، چھوٹے شہروں کی اپنی تجارتی شناخت تھی۔ شہر رسول نگر میں نمک منڈی کا وجود بھی اس حقیقت کی علامت تھا کہ ہر شہر اپنے جغرافیہ، تجارت اور مقامی ضرورتوں کے مطابق ایک معاشی کردار رکھتا تھا۔
یہی خود انحصاری کسی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔

آج ہم ایک ایسے پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں معاشی مواقع چند بڑے شہروں میں غیر معمولی طور پر مرتکز ہو چکے ہیں۔ نوجوان روزگار کے لیے اپنے آبائی شہروں اور دیہات کو چھوڑ کر لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر بڑے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بڑے شہر آبادی کے بے قابو دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ چھوٹے شہر سرمایہ، صنعت، تعلیم، صحت اور جدید روزگار کے مواقع سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

کراچی اور لاہور کی طرف بڑھتی ہوئی ہجرت محض آبادی کی نقل و حرکت نہیں بلکہ ہمارے ناقص ترقیاتی ماڈل کی علامت ہے۔

اگر کسی نوجوان کو اچھی یونیورسٹی، معیاری اسپتال، صنعتی ملازمت، کاروباری سہولت یا بہتر سرکاری خدمات کے لیے سینکڑوں میل سفر کرکے کسی بڑے شہر میں منتقل ہونا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست نے ترقی کو متوازن انداز میں تقسیم نہیں کیا۔ یہی عدم توازن پھر بڑے شہروں میں ٹریفک، کچی آبادیوں، مہنگی رہائش، پانی کی قلت، آلودگی، جرائم اور شہری انفراسٹرکچر کے بحران کو جنم دیتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک اہم حل نئے انتظامی اور سیاسی مراکز کی تشکیل ہے۔

نئے صوبے محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نام نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا مقصد اقتدار کو عوام کے قریب لانا، ترقیاتی وسائل کو مقامی ضرورتوں کے مطابق استعمال کرنا اور انتظامی فیصلوں کو تیز اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔

جب ایک صوبہ جغرافیائی طور پر بہت بڑا، آبادی کے لحاظ سے بہت وسیع اور انتظامی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے تو اس کے دور دراز علاقوں کو دارالحکومت تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایک کسان، ایک استاد، ایک چھوٹا صنعت کار یا ایک عام شہری اگر اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت کی بیوروکریسی اور سیاسی مرکز کے گرد چکر لگانے پر مجبور ہو تو یہ نظام کی ناکامی ہے۔
نئے صوبائی دارالحکومت اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں۔

ہر نیا صوبائی مرکز ایک نئی انتظامی، تعلیمی، طبی، تجارتی اور صنعتی سرگرمی کو جنم دے سکتا ہے۔ جہاں سیکریٹریٹ ہوگا، وہاں دفاتر ہوں گے؛ جہاں یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے ہوں گے، وہاں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے؛ جہاں جدید اسپتال ہوں گے، وہاں صحت کی سہولتیں بڑھیں گی؛ اور جہاں حکومت موجود ہوگی، وہاں سڑک، مواصلات، رہائش، کاروبار اور خدمات کا ایک نیا معاشی نظام بھی تشکیل پائے گا۔

لیکن نئے صوبوں کا تصور اس وقت ہی کامیاب ہوگا جب اسے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے ساتھ جوڑا جائے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہوں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں ہوگا؟

اگر ہم دس نئے صوبے بنا دیں مگر تمام اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع رہیں تو مسئلہ اپنی شکل بدل لے گا، حل نہیں ہوگا۔ آج جس طرح کئی معاملات میں اسلام آباد سے صوبوں تک اختیارات کی مرکزیت موجود ہے، کل یہی مرکزیت نئے صوبائی دارالحکومتوں سے اضلاع اور تحصیلوں پر مسلط ہوسکتی ہے۔

اس لیے پاکستان کو ایک ایسا نظام چاہیے جس کی بنیاد تین سطحوں پر ہو:

وفاق مضبوط ہو، صوبے بااختیار ہوں اور مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں خودمختار ہوں۔

ضلع، شہر اور ٹاؤن کو محض سرکاری انتظامی اکائی نہیں بلکہ معاشی ترقی کی اکائی سمجھنا ہوگا۔
ہر ضلع کی اپنی معاشی شناخت ہوسکتی ہے۔

کہیں زراعت بنیادی طاقت ہے، کہیں معدنیات، کہیں صنعت، کہیں سیاحت، کہیں ماہی گیری، کہیں ٹیکسٹائل، کہیں دستکاری اور کہیں تجارت۔ حکومت کا کام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پورے ملک کے لیے ایک ہی ترقیاتی ماڈل بنایا جائے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ ہر ضلع اور شہر اپنی مقامی صلاحیتوں کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بنائے۔
یہی تصور جدید اربن اکانومی کی بنیاد ہے۔

چین کی ترقی سے ہمیں یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ قومی ترقی صرف ایک یا دو بڑے شہروں کی ترقی سے نہیں آتی۔ مختلف شہروں اور علاقوں کو صنعتی، تجارتی اور معاشی کردار دے کر ایک وسیع اقتصادی نیٹ ورک تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ہر شہر اپنی جغرافیائی، صنعتی اور انسانی صلاحیت کے مطابق قومی معیشت میں حصہ ڈال سکتا ہے۔
پاکستان کو بھی یہی سوچ اپنانا ہوگی۔

کیوں نہ شہر رسول نگر جیسے تاریخی اور تجارتی شہروں کو جدید مقامی معیشتوں میں تبدیل کیا جائے؟ کیوں نہ ہر ضلع میں صنعتی زون، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، زرعی پروسیسنگ یونٹ، کاروباری مرکز اور جدید مارکیٹ قائم کی جائے؟ کیوں نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری یا کراچی اور لاہور کی ملازمتوں تک محدود رکھا جائے؟

ایک مضبوط مقامی حکومت اپنے علاقے کی ضرورت اسلام آباد یا لاہور سے بہتر جانتی ہے۔

اس لیے بلدیاتی اداروں کو مستقل آئینی اور مالی تحفظ دینا ضروری ہے۔ میئر، ضلع ناظم یا مقامی سربراہ کو محض سیاسی نمائندہ نہیں بلکہ اپنے شہر کی ترقی کا ذمہ دار انتظامی سربراہ ہونا چاہیے۔ اس کے پاس مناسب مالی وسائل، منصوبہ بندی کا اختیار اور جوابدہی کا واضح نظام ہونا چاہیے۔

مضبوط بلدیاتی نظام کے چند بڑے فوائد واضح ہیں۔

اول، فیصلے عوام کے قریب ہوں گے۔
ایک گلی، سڑک، پانی، سیوریج، اسکول یا ڈسپنسری کے مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنے کی ضرورت کم ہوگی۔

دوم، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
جب ہر شہر میں ترقیاتی منصوبے، صنعتیں، کاروباری مراکز اور مقامی خدمات بڑھیں گی تو لوگوں کو ہجرت پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔

سوم، بڑے شہروں پر دباؤ کم ہوگا۔
کراچی اور لاہور کو اس لیے بھی مسائل کا سامنا ہے کہ پورے ملک کے معاشی مواقع کا ایک بڑا حصہ انہی شہروں میں جمع ہو گیا ہے۔

چہارم، وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔
دور دراز علاقوں کی آواز ان کے اپنے انتظامی مراکز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آئے گی۔

پنجم، سیاسی احتساب بہتر ہوگا۔
جب حکمران عوام کے قریب ہوں گے تو عوام ان کی کارکردگی کو زیادہ براہ راست دیکھ اور جانچ سکیں گے۔

ششم، مقامی شناخت اور ثقافت محفوظ رہے گی۔
نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد لسانی یا نسلی تقسیم نہیں بلکہ مقامی وسائل اور شناخت کو ترقی کے ساتھ جوڑنا ہونا چاہیے۔

ہفتم، قومی یکجہتی مضبوط ہوسکتی ہے۔
یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ جب دور دراز علاقوں کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ترقی، وسائل اور اختیارات میں منصفانہ حصہ مل رہا ہے تو محرومی کا احساس کم ہوتا ہے۔ مساوی ترقی دراصل قومی اتحاد کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔

نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے بجا طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان مزید حکومتوں اور بیوروکریسی کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ اگر نئے صوبے صرف گورنر ہاؤس، سیکریٹریٹ، وزراء اور نئی سرکاری گاڑیوں میں اضافے کا نام ہوں تو یقیناً یہ عوام کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔

لیکن اگر نئے صوبے انتظامی اصلاحات، مقامی معیشت، صنعتی ترقی، تعلیم، صحت، شفاف بلدیاتی نظام اور اختیارات کی حقیقی تقسیم کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ثابت ہوسکتے ہیں۔

ہمیں صرف نئے نقشے نہیں، نیا ترقیاتی فلسفہ چاہیے۔

پاکستان کا مستقبل اس سوال سے وابستہ ہے کہ کیا ہم ترقی کو چند بڑے شہروں اور چند طاقتور مراکز تک محدود رکھیں گے یا اسے ہر ضلع، ہر شہر اور ہر ٹاؤن تک لے جائیں گے؟

شہر رسول نگر جیسے چھوٹے شہروں کی یاد ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ایک معاشرہ اس وقت زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب اس کے لوگ اپنے علاقے میں باعزت روزگار، کاروبار اور ترقی کے مواقع حاصل کرسکیں۔ جب ایک شہر اپنی معیشت پیدا کرتا ہے تو وہ صرف روزگار نہیں دیتا بلکہ خود اعتمادی، استحکام اور سماجی وقار بھی پیدا کرتا ہے۔

پاکستان کو کراچی اور لاہور کی ضرورت ہے، مگر پاکستان صرف کراچی اور لاہور نہیں ہے۔

پاکستان کے مستقبل کا اصل خواب یہ ہونا چاہیے کہ کوئی نوجوان اپنے شہر کو اس لیے نہ چھوڑے کہ وہاں زندگی گزارنے کا کوئی موقع موجود نہیں۔ اسے اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آبائی ضلع میں رہے یا کسی دوسرے شہر جائے، مگر ہجرت اس کی مجبوری نہیں، انتخاب ہو۔

نئے صوبے، بااختیار اضلاع، مضبوط ٹاؤن حکومتیں اور خود کفیل شہری معیشتیں پاکستان کو مرکزیت سے نکل کر متوازن ترقی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔

اختیار کی تقسیم دراصل طاقت کی تقسیم نہیں بلکہ قومی طاقت میں اضافہ ہے۔

اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال صرف یہ نہ پوچھیں کہ “نئے صوبے کیوں بنائے جائیں؟”

بلکہ یہ پوچھیں:

“اگر اختیارات، وسائل اور ترقی چند شہروں اور چند مراکز میں مرتکز رہیں گے تو پاکستان کے باقی شہروں اور کروڑوں شہریوں کا مستقبل کیا ہوگا؟”

پاکستان کی ترقی کا راستہ نئے صوبوں سے ضرور گزر سکتا ہے، مگر اس کی اصل منزل ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر ضلع ترقی کا مرکز، ہر شہر معاشی اکائی اور ہر شہری ریاست کے وسائل اور اختیارات میں برابر کا شریک ہو۔
یہی حقیقی خود انحصاری ہے۔
یہی متوازن ترقی ہے۔

اور شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کی بنیادیں ہمیں اپنے بچپن کے ان خود کفیل شہروں میں دکھائی دیتی تھیں۔

مبشر میر

09/09/2026

کراچی ۔سیاسی ڈائری ۔مبشر میر

سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ہونے والی حالیہ بحث نے ایک بار پھر ملک کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور بہتر طرزِ حکمرانی کے سوال کو سیاسی مرکزیت دے دی ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک قرارداد، نعرے بازی یا سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ سندھ کے تاریخی تشخص، آئینی اختیارات اور عوام کے مستقبل سے وابستہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ ایسے موضوعات پر جذبات ضرور اہم ہوتے ہیں، مگر فیصلوں کی بنیاد آئین، عوامی رائے اور پارلیمانی مکالمے پر ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا یہ موقف کہ سندھ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوگا، پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی اصول کے عین مطابق ہے۔ سندھ اسمبلی نے مختلف ادوار میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کی ہیں اور موجودہ بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی ، اپنی تاریخی اور جغرافیائی وحدت کے تحفظ کو بنیادی سیاسی مسئلہ سمجھتی ہے۔ نثار احمد کھوڑو نے بھی سندھ کی تاریخ، اس کے تشخص اور بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دے کر اس معاملے کو محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اور تاریخی مسئلہ قرار دیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس یا بہتر مقامی حکمرانی کی بحث کو لازماً سندھ کی تقسیم یا سندھ دشمنی قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بڑے شہری مراکز کو موثر انتظامی نظام، اختیارات اور وسائل کس طرح فراہم کیے جائیں۔ تاہم انتظامی اصلاحات اور جغرافیائی تقسیم دو مختلف معاملات ہیں۔ ان دونوں کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایک دوسرے میں خلط ملط کرنا سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں بحث کا سب سے اہم پہلو شور شرابے، نعرے بازی اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات نہیں بلکہ ایک واضح آئینی اور سیاسی مکالمہ ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے ’’سندھو دیش نامنظور‘‘ اور تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف قرارداد لانے کا مطالبہ بھی اپنی جگہ قابلِ بحث ہے۔ پاکستان کی سالمیت اور وفاقی وحدت پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سندھ کی وحدت کے تحفظ کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس کے سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق محفوظ ہیں۔

سندھ اسمبلی کو اس موقع کو محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کو اپنی اکثریت کے باوجود اپوزیشن کے سوالات اور خدشات سننے چاہئیں، جبکہ ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو بھی انتظامی اصلاحات کے مطالبے کو اشتعال انگیز نعروں سے الگ رکھنا ہوگا۔ سندھ ایک تاریخی حقیقت، تہذیبی اکائی اور پاکستان کا بنیادی ستون ہے۔ اس کی وحدت کا تحفظ ضروری ہے، مگر وحدت کا اصل استحکام صرف قراردادوں سے نہیں بلکہ انصاف، بہتر حکمرانی، مساوی وسائل اور موثر مقامی نظام سے ہوگا۔

آج سندھ اسمبلی کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ جذبات کو تصادم میں بدلنے کے بجائے انہیں ایک جامع سیاسی اتفاق رائے میں تبدیل کرے۔ سندھ ایک رہے، پاکستان مضبوط رہے اور اس کے عوام کو بہتر حکمرانی ملے—یہ تینوں مقاصد ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
فریال تالپور اور مراد علی شاہ نے دلائل کی بجاۓ جذباتی انداز اپنانے کو ترجیح دی جو غیر ضروری تھا ،صدر مملكت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری لندن میں موجود ہیں جبکہ میاں نواز شریف اور مریم نواز بھی وہی ہیں ، یہ صورت حال پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ ملک کے اہم فیصلے سمندر پار بیٹھ کر کئے جا رہے ہیں جو غیر مناسب ہے ۔سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی نظام کو بے اثر کر کے نئے صوبوں کے مطالبے کا جواز مہیا کیا ہے ، عوامی سطح پر لوگ نئے صوبوں کے حق میں بھی ہیں ، بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں کیا کچھ سامنے آتا ہے اور پارلیمان اس پر کیا رد عمل دیتی ہے ۔

گورنر سندھ نہال ہاشمی کا چینی قونصلیٹ کا دورہ پاک چین دوستی کی گہرائی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں یہ امر خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان اور چین امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف پر یکساں سوچ رکھتے ہیں۔

جنگ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، جبکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں۔ پاکستان کو چین کی جدید ٹیکنالوجی، تجارت اور صنعتی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معیشت اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کرنے چاہییں۔ پاک چین دوستی صرف سفارتی تعلق نہیں بلکہ خطے میں امن، ترقی اور باہمی اعتماد کی ایک مضبوط بنیاد بھی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دورۂ سندھ اور خصوصاً کراچی آمد محض ایک سیاسی رہنما کا دورہ نہیں بلکہ پاکستان کی بین الصوبائی سیاست اور جمہوری آزادیوں کے حوالے سے ایک اہم سیاسی واقعہ ہے۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس وفاق کی اصل روح یہی ہے کہ ملک کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والا سیاسی رہنما بلا خوف و رکاوٹ ملک کے دوسرے صوبوں میں جا کر عوام سے رابطہ کر سکے، اپنے خیالات پیش کر سکے اور سیاسی سرگرمی انجام دے سکے۔

کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، ہمیشہ سے قومی سیاست کا اہم میدان رہا ہے۔ یہاں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں صرف سندھ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات قومی سیاست پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے دورے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سیاست اب صرف صوبائی حدود میں مقید نہیں رہ سکتی۔ سیاسی جماعتوں کو ملک گیر سوچ، عوامی رابطے اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔

تاہم اس موقع پر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اختلافِ رائے کو انتظامی رکاوٹوں، جلسوں کی بندش یا سیاسی کشیدگی میں تبدیل کرنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ حکومتوں کو امن و امان برقرار رکھنے کا حق اور ذمہ داری ضرور حاصل ہے، لیکن سیاسی آزادی بھی آئینی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے کارکنوں کو قانون، امن اور شہری نظم و ضبط کی پابندی کا پابند بنانا چاہیے۔

سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ کا اصل سیاسی امتحان جلسوں کی تعداد یا نعروں کی گونج نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ دورہ مختلف صوبوں کے عوام کے درمیان سیاسی فاصلے کم کرتا ہے یا مزید تقسیم پیدا کرتا ہے۔

پاکستان کو آج نفرت انگیز سیاست نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان ایک دوسرے کے سیاسی میدان نہیں بلکہ ایک ہی وفاق کے مضبوط ستون ہیں۔ سیاسی قیادت اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو اختلاف بھی جمہوریت کی طاقت بن سکتا ہے۔

02/09/2026

کراچی ۔سیاسی ڈائری ۔مبشر میر

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی اور پارلیمانی سطح پر نمایاں ہو رہی ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس موضوع پر تحریکِ التوا کی منظوری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا یہ دوٹوک مؤقف کہ ’’سندھ کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا‘‘، اس بحث کی حساسیت اور اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ سندھ اسمبلی کا اس معاملے پر باقاعدہ بحث شروع کرنے کا فیصلہ جمہوری اعتبار سے ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ ایسے بنیادی قومی معاملات کا فیصلہ بند کمروں، سیاسی نعروں یا وقتی مفادات کے تحت نہیں بلکہ پارلیمانی مکالمے، آئینی تقاضوں اور عوامی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

نئے صوبوں کا سوال بنیادی طور پر دو مختلف زاویوں سے دیکھا جانا چاہیے۔ ایک زاویہ انتظامی ضرورت کا ہے اور دوسرا سیاسی شناخت اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کا۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیہ اور پیچیدہ انتظامی مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکمرانی کے موجودہ ڈھانچے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ بعض علاقوں میں عوام کو صوبائی دارالحکومت سے دوری، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور انتظامی محرومیوں کی شکایت ہے۔ ان مسائل کا حل نئے صوبے ہوسکتے ہیں، مگر یہ واحد حل نہیں۔

سندھ کے معاملے میں یہ بحث مزید حساس ہے کیونکہ یہاں شہری و دیہی تقسیم، لسانی شناخت، وسائل کی تقسیم اور اختیارات کے سوالات پہلے ہی سیاسی تنازعات کا حصہ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا یہ کہنا درست ہے کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور صوبے کے مستقبل کے بارے میں عوامی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ تاہم صرف قراردادوں کے ذریعے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اصل ضرورت ان محرومیوں اور انتظامی ناکامیوں کو دور کرنے کی ہے جنہیں بنیاد بنا کر نئے انتظامی یونٹس کی بحث جنم لیتی ہے۔

اس تناظر میں وزیراعلیٰ کا بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کا مؤقف خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اختیارات، وسائل اور انتظامی ذمہ داریاں واقعی ضلعی اور شہری سطح تک منتقل ہوں تو نئے صوبوں کے مطالبات کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ لیکن محض منتخب بلدیاتی اداروں کی موجودگی کافی نہیں؛ انہیں مالی خودمختاری، مؤثر اختیارات، انتظامی صلاحیت اور جواب دہی بھی درکار ہے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر شہروں کے مسائل اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ مرکزیت خواہ وفاقی سطح پر ہو یا صوبائی، دونوں صورتوں میں مقامی حکومت کمزور پڑتی ہے۔
2002 میں جو بلدیاتی نظام رائج کیا گیا تھا اس میں پی پی پی نے بھرپور حصہ لیا تھا ۔فریال تالپور نواب شاہ اور نفسیہ شا ہ خیر پور کی ضلعی ناظم منتخب ہوئی تھیں ۔اگر پی پی پی 2008 میں برسر اقتدار آنے کے بعد اس نظام کو بے اثر نہ کرتی تو یہ اب بہتر پرفارم کر رہا ہوتا ۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے توانائی کے وسائل، گیس فیلڈز اور کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ جیسے منصوبوں پر زور ایک اہم پیغام دیتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا اصل مقصد صرف جغرافیائی حدود کا دفاع نہیں بلکہ عوام کے وسائل کو عوامی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ سندھ اگر ملک کی توانائی اور معاشی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے وسائل کے مؤثر استعمال، شفاف حکمرانی اور صنعتی ترقی کا قابلِ عمل ماڈل بھی پیش کرنا ہوگا۔

نئے صوبوں کی بحث کو جذباتی نعروں یا سیاسی تقسیم کے بجائے قومی انتظامی اصلاحات کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک قومی کمیشن یا پارلیمانی فورم قائم کیا جانا چاہیے جو آبادی، جغرافیہ، وسائل، انتظامی کارکردگی اور عوامی خواہشات کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ سفارشات مرتب کرے۔

پاکستان کو اس وقت مزید سیاسی سرحدوں سے زیادہ بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ ریاستی اور انتظامی ڈھانچہ عام شہری تک انصاف، ترقی اور بنیادی سہولتیں کیوں نہیں پہنچا پا رہا۔ اگر اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش کرلیا جائے تو نئے صوبوں کی بحث بھی زیادہ سنجیدہ، آئینی اور قومی مفاد کے مطابق سمت اختیار کرسکے گی۔
کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا یہ مؤقف کہ نئے صوبوں یا انتظامی تقسیم کا فیصلہ جلسوں اور سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ آئینی اور پارلیمانی طریقۂ کار کے تحت ہوگا، اصولی طور پر درست ہے۔ سندھ کی تقسیم جیسے حساس معاملے کو سیاسی بیان بازی، لسانی جذبات یا وقتی انتخابی ضرورتوں کے تابع کرنا قومی مفاد میں نہیں۔

کراچی کی ترقی، بلدیاتی اختیارات اور شہری مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن انہیں صوبوں کی تقسیم کے سیاسی مطالبے کے ساتھ خلط ملط کرنا مسئلے کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ کراچی کو اختیارات، وسائل اور مؤثر شہری حکومت کی ضرورت ضرور ہے، مگر اس کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں قابلِ عمل سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

مرتضیٰ وہاب نے ضلع وسطی میں تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات کی بحالی کا حوالہ دے کر شہری ترقی کا مثبت پہلو بھی اجاگر کیا ہے۔ اگر واقعی قبضوں، کچرے اور جرائم سے متاثرہ مقامات کو نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے تو یہ قابلِ تحسین اقدام ہے۔

تاہم سیاسی قیادت کو شخصیات پر تنقید کے بجائے کراچی کے بنیادی مسائل—پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، تجاوزات اور اختیارات—کے مستقل حل پر توجہ دینی چاہیے۔ سندھ اور کراچی دونوں کا مستقبل سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ قانون، آئین اور عوامی مفاد کے تحت فیصلوں میں ہے۔
گل پلازہ کے سانحے پر جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ محض ایک حادثے کی تحقیقات نہیں بلکہ کراچی کے انتظامی، حفاظتی اور شہری نظام کے لیے ایک سنگین فردِ جرم ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے رپورٹ کے دیباچے میں مصطفیٰ زیدی کا جو شعر شامل کیا ہے، وہ اس اجتماعی ناکامی کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

رپورٹ کا سب سے اہم اور المناک نتیجہ یہ ہے کہ گل پلازہ میں لوگ صرف آگ سے نہیں مرے۔ انہیں تاخیر نے مارا، اندھیرے نے مارا، بند راستوں اور رکاوٹ بننے والی کھڑکیوں نے مارا، غیر فعال حفاظتی نظام نے مارا اور ان اداروں کی غفلت نے مارا جنہیں قانون نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی تھی۔

سول ڈیفنس کے 2024 اور 2025 کے معائنے پہلے ہی فائر سیفٹی کے سنگین نقائص کی نشاندہی کرچکے تھے، مگر معلوم خطرے کے باوجود مؤثر قانونی کارروائی نہ ہونا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری سے انحراف ہے۔ ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور برقی معائنے کے ذمہ دار اداروں کے درمیان اختیارات تو موجود تھے، مگر ان اختیارات کو شہری جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت استعمال نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کو اطلاع میں تاخیر، بجلی منقطع ہونے سے پھیلنے والا اندھیرا، اسپیکر سسٹم کا استعمال نہ ہونا، پانی اور آلات کی بروقت عدم دستیابی اور ریسکیو کے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ نہ اٹھانا ایسے سوالات ہیں جن کے جواب محض وضاحتوں سے نہیں دیے جاسکتے۔

اب اصل امتحان رپورٹ جاری کرنے کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔ ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی، فائر سیفٹی آڈٹ کا مستقل اور شفاف نظام، خطرناک تجارتی عمارتوں کی فوری جانچ اور ایمرجنسی اداروں کی عملی استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔

گل پلازہ کے متاثرین کو صرف ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اور انصاف کا مطلب یہ ہے کہ اس رپورٹ کو بھی ماضی کی بے شمار رپورٹوں کی طرح فائلوں اور دستانوں کے پیچھے دفن نہ ہونے دیا جائے۔وفاقی وزیر داخلہ کے بیان میں بہت وزن تھا کہ نظام ناکام ہو چکا ہے ۔

13/08/2026

سندھ ہائیکورٹ میں ایڈہاک ازم: انصاف کب ملے گا؟

سندھ ہائیکورٹ میں تین مزید ایڈیشنل ججز کی حلف برداری بظاہر عدالتی نظام میں افرادی قوت بڑھانے کی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی جڑ جاتا ہے: کیا پاکستان کا عدالتی نظام مستقل اصلاحات کے بجائے عارضی اور ایڈہاک انتظامات پر چلتا رہے گا؟

تین نئے ایڈیشنل ججز، جسٹس محمد ہمایوں خان، جسٹس سریش کمار اور جسٹس ڈاکٹر شاہ نواز میمن نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت سے حلف لیا۔ اس سے قبل 20 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے تین اضافی ججز کی ایک سال کے لیے سفارش کی تھی، جبکہ جسٹس خالد حسین شاہانی کی بطور ایڈیشنل جج مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اگست کو چار ہائیکورٹس کے 19 ایڈیشنل ججز کی تقرریوں کی منظوری دی۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں منظور شدہ 40 ججوں کے مقابلے میں اس وقت 34 ججز کام کر رہے ہیں۔ یعنی چھ نشستیں تاحال خالی ہیں۔ ایسے میں نئے ججز کی تعیناتی ناگزیر ضرور تھی، مگر سوال یہ ہے کہ انہیں مستقل عدالتی ضرورت کے بجائے ایڈیشنل بنیاد پر کیوں رکھا جائے؟

مسئلہ صرف ججوں کی تعداد کا نہیں، مقدمات کے بوجھ کا بھی ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 31 دسمبر 2025 کو سندھ ہائیکورٹ میں 55,383 مقدمات زیرِ التوا تھے۔ جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 36,291 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ 36,278 مقدمات نمٹائے گئے؛ یعنی تقریباً اتنے ہی مقدمات نمٹائے گئے جتنے نئے داخل ہوئے، مگر پرانا بیک لاگ اپنی جگہ موجود رہا۔

یہ اعداد ایک نہایت بنیادی حقیقت سامنے لاتے ہیں: اگر عدالت صرف نئے آنے والے مقدمات ہی نمٹاتی رہے اور پرانے مقدمات کا اضافی بوجھ کم نہ ہو تو انصاف کا نظام کبھی تیز نہیں ہوسکتا۔

جنوری تا جون 2025 کے اعداد بھی یہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس عرصے کے اختتام پر سندھ ہائیکورٹ میں مجموعی زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 57,289 تھی، جن میں 12,313 فوجداری اور 44,976 دیوانی نوعیت کے مقدمات شامل تھے۔

اس پس منظر میں ایڈیشنل ججز کی تقرری خوش آئند ہے، لیکن اسے مستقل حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ایڈہاک ازم کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک مستقل مسئلے کا عارضی حل تلاش کیا جائے۔ اگر ہر چند ماہ بعد خالی نشستیں ایڈیشنل ججز کے ذریعے پُر کی جائیں، مدت مکمل ہونے پر توسیع دی جائے یا دوبارہ تقرری کی جائے، تو عدالتی ادارہ ایک مستقل انسانی وسائل کی پالیسی سے محروم رہتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایڈیشنل ججز کی تقرری بذاتِ خود کوئی منفی قدم نہیں۔ موجودہ عدالتی بوجھ کے پیش نظر فوری طور پر ججز کی تعداد بڑھانا ضروری ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عارضی تقرریاں مستقل پالیسی کا متبادل بن جائیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے معاملے میں ایک اور حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ مقدمات میں تاخیر صرف ججوں کی کمی کا نتیجہ نہیں۔ بار بار التوا، وکلا کی عدم دستیابی، سرکاری محکموں کی سست روی، پولیس اور پراسیکیوشن کی کمزور تیاری، ریکارڈ کی عدم دستیابی، عبوری احکامات، پیچیدہ عدالتی طریقۂ کار اور مقدمات کی غیر مؤثر مینجمنٹ بھی تاخیر کی بڑی وجوہات ہیں۔

لہٰذا صرف مزید ججز مقرر کرنے سے انصاف تیز نہیں ہوگا۔ Case Management کو عدالتی نظام کا مرکزی ستون بنانا ہوگا۔ ہر مقدمے کے لیے قابلِ عمل ٹائم لائن، غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی، پرانے مقدمات کے لیے خصوصی بنچ، روزانہ کی بنیاد پر کیس مانیٹرنگ اور عدالتی اعدادوشمار کی باقاعدہ عوامی اشاعت ضروری ہے۔

سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی ڈیجیٹل نظام، کیس فلو مینجمنٹ، ای-کاز لسٹ، آن لائن کیس ٹریکنگ، ای-ججمنٹس اور دیگر ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔ عدالت کے مطابق ای-کورٹس منصوبے کا بنیادی مقصد بھی شہریوں کو مؤثر، شفاف اور time-bound عدالتی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی کو محض سہولت نہیں بلکہ جوابدہی کا نظام بنایا جائے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی مقدمے میں کتنی سماعتیں ہوئیں، کتنی بار التوا ہوا، التوا کس فریق کی درخواست پر ہوا اور مقدمہ کتنے عرصے سے زیرِ سماعت ہے۔

عدالت میں آنے والا شخص صرف قانونی حق نہیں مانگتا؛ وہ وقت پر انصاف مانگتا ہے۔ ایک مزدور کا روزگار، ایک بیوہ کی جائیداد، ایک کاروباری شخص کا سرمایہ، ایک ملازم کی پنشن اور ایک ملزم کی آزادی—یہ سب وقت سے جڑے ہوئے حقوق ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی بھی عدالتی نظام میں ہر مقدمہ ایک ہی رفتار سے نمٹایا نہیں جاسکتا۔ پیچیدہ آئینی، تجارتی اور فوجداری مقدمات وقت لیتے ہیں۔ مگر ہر مقدمے کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنا بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

خاص طور پر فوجداری مقدمات میں تاخیر انسانی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ اپریل 2026 میں سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں 2023 تک درج 1,761 زیرِ التوا قتل کے مقدمات کو تین ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی، جن میں کراچی کے 632 مقدمات شامل تھے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بیک لاگ محض ایک انتظامی عدد نہیں، بلکہ اس کے پیچھے حقیقی انسانوں کی زندگیاں موجود ہیں۔

پاکستان کے آئین میں انصاف تک رسائی بنیادی اصول ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف عدالتیں قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام فراہم کرنا بھی ہے جہاں شہری کو فیصلہ اس وقت ملے جب وہ فیصلہ اس کے لیے معنی رکھتا ہو۔

دیر سے ملنے والا انصاف بعض اوقات انصاف نہ ملنے کے برابر ہوجاتا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے لیے ضروری ہے کہ حالیہ ججز کی تقرری کو ایک بڑے عدالتی اصلاحاتی منصوبے کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ منظور شدہ 40 نشستیں مکمل طور پر پُر کی جائیں، مستقل ججوں کی تقرری کا عمل بروقت مکمل ہو، ایڈیشنل ججز کے معاملے میں شفاف اور میرٹ پر مبنی مستقل پالیسی بنائی جائے اور مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنے کے لیے سالانہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔

عدلیہ کی آزادی اپنی جگہ ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہے، مگر عدالتی آزادی اور عدالتی کارکردگی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک مضبوط عدلیہ وہی ہے جو آزاد بھی ہو، باوقار بھی ہو اور عام شہری کو بروقت انصاف بھی فراہم کرے۔

سوال یہ نہیں کہ سندھ ہائیکورٹ میں مزید تین ججز آگئے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

55 ہزار سے زائد زیرِ التوا مقدمات میں سے کتنے شہریوں کو اب انصاف ملے گا، اور کب؟

پاکستان کو مزید ایڈہاک فیصلوں سے زیادہ ایک مستقل، شفاف، تیز رفتار اور جوابدہ نظامِ انصاف کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عدالت کی دیواروں کے باہر کھڑا سائل تاریخ نہیں مانگتا—وہ فیصلہ مانگتا ہے۔

انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، وقت پر ہونا چاہیے۔

12/08/2026

کراچی ۔سیاسی ڈائری ۔مبشر میر

کراچی میں میر علی رضا کی ہلاکت کا معاملہ اب محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہا بلکہ سندھ پولیس کی تفتیش، حکومتی جواب دہی، سیاسی اثرورسوخ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کے درمیان ایک پیچیدہ تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دستیاب بیانات کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ نے واقعے کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے متضاد مؤقف نے معاملے کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے میڈیکل رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ یہ شواہد حادثاتی موت کے بجائے ایک ممکنہ ٹارگٹڈ قتل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جماعت نے سندھ پولیس اور صوبائی وزارتِ داخلہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے آئی جی سندھ اور وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم یہاں ایک بنیادی قانونی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: میڈیکل رپورٹ اہم شہادت ضرور ہے، لیکن حتمی طور پر قتل کی سازش، ملزمان، محرکات یا سہولت کاری ثابت نہیں کرتی۔ ان نکات کا تعین پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، جائے وقوعہ کی تفتیش، بیلسٹک رپورٹ، سی سی ٹی وی، موبائل ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور دیگر قابلِ قبول شہادتوں سے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے این سی سی آئی اے سے رجوع کیا ہے۔ ان کی شکایت کے مطابق مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کے اور ان کے صاحبزادے راول میمن کے خلاف ایک مبینہ منظم کردار کشی مہم چلائی گئی۔ شکایت میں گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کی ملکیت، راول میمن کے لندن روانہ ہونے، باڈی گارڈ کے ہمراہ نقل و حرکت، میڈیکل بورڈ میں مبینہ تبدیلی اور سیاسی پشت پناہی جیسے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

یہاں معاملے کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: قتل کی تفتیش اور سوشل میڈیا پر الزامات کی تفتیش دو الگ مگر باہم مربوط قانونی راستے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر کسی سیاسی شخصیت یا اس کے خاندان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلائی گئی ہیں تو ان کی فرانزک تحقیقات ہونی چاہئیں؛ لیکن اگر ان پوسٹس میں کسی حقیقی جرم سے متعلق قابلِ تحقیق معلومات موجود ہیں تو محض انہیں ’کردار کشی‘ قرار دے کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے الزامات کو بھی حتمی حقیقت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی بیانات تحقیقات کا متبادل نہیں ہوتے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاستی ادارے شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر یہ طے کریں کہ میر رضا کی موت کیسے ہوئی، کون ذمہ دار تھا اور کیا کسی نے ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی۔

اس کیس میں سب سے زیادہ نقصان دہ صورت یہ ہوگی کہ تحقیقات سیاسی صف بندی کا شکار ہوجائیں۔ کراچی پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کے بحران سے دوچار ہے۔ میر رضا کیس میں اگر شکوک دور نہ کیے گئے تو یہ معاملہ محض ایک خاندان کے انصاف کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پولیس اور ریاستی اداروں کی ساکھ کا امتحان بن جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل اور فرانزک شواہد کو مکمل طور پر محفوظ کیا جائے، تفتیشی عمل کی نگرانی کسی غیر جانب دار فورم سے کرائی جائے، تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں اور سوشل میڈیا کے دعووں کی بھی تکنیکی بنیاد پر جانچ ہو۔ حکومت، پولیس اور سیاسی جماعتیں بیانات کی جنگ کے بجائے شواہد کی روشنی میں آگے بڑھیں۔

میر رضا کو انصاف سیاسی نعرے سے نہیں، شفاف تفتیش اور قابلِ اعتماد ثبوت سے ملے گا۔
اس دوران بعض ٹی وی چینلز پر جس انداز کی رپورٹنگ کی گئی ہے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں مقتول کے والدین کے درمیان تنازعہ کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔
مقتول کے وکیل جبران ناصر کی جرات مندانہ وكالت نے عوام میں خوب پزیرائی حاصل کی ہے ۔امید ہے کہ انصاف کے حصول میں اہم پیش رفت ہو گی اس حوالے سے کراچی کے نوجوان طالب علموں کے احتجاج نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں اصل سوال صرف قیادت کا نہیں بلکہ سیاسی شناخت، تنظیمی اختیار اور کراچی کے ووٹر کی واپسی کا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے درمیان اختلافات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پارٹی کے اندر اقتدار اور تنظیمی فیصلوں کا سوال ابھی حل نہیں ہوا۔ جولائی میں دونوں رہنماؤں کی الگ الگ سرگرمیوں اور ایک دوسرے کی عدم موجودگی نے بھی اندرونی فاصلے کو نمایاں کیا۔

خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں موجود دھڑا پارٹی کی مرکزی شناخت اور موجودہ تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ مصطفیٰ کمال کھلے عام اندرونی انتخابات، مشاورت اور قیادت کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے اکتوبر میں ہونے والے تنظیمی انتخابات میں چیئرمین شپ کے لیے مقابلہ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

یہ اختلاف محض دو شخصیات کا اختلاف نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم مستقبل میں مرکزی قیادت والی جماعت رہے گی یا ایک ایسی سیاسی جماعت بنے گی جس میں داخلی جمہوریت، باقاعدہ انتخابات اور مختلف گروہوں کی نمائندگی ہو۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جولائی کے آخر میں اندرونی کشمکش اچانک نسبتاً خاموش بھی ہوئی، جس سے پسِ پردہ مفاہمت کی کوششوں کی قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ لیکن خاموشی کو اختلاف کے خاتمے سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اس منظرنامے میں آفاق احمد اور ایم کیو ایم-حقیقی کی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آفاق احمد تاریخی طور پر ایم کیو ایم کے ایک بڑے الگ دھڑے کے سربراہ رہے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں ان کے نام سے کسی نئے بڑے سیاسی اتحاد یا 14 اگست کے مخصوص جلسے کی حتمی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔

اگر نئے لوگ اور سابق کارکن مختلف گروہوں میں شامل ہونا شروع ہوتے ہیں تو یہ کراچی کی سیاست میں سیاسی خلا کی دوبارہ تشکیل کی علامت ہوگی۔ لیکن محض چند شخصیات کی واپسی یا شمولیت سے عوامی حمایت بحال نہیں ہوتی؛ اس کے لیے کراچی کے بنیادی مسائل—پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، روزگار، امن، بلدیاتی اختیار اور شہری وسائل—پر قابلِ اعتبار پروگرام درکار ہوگا۔

14 اگست کا جلسہ اس اعتبار سے اہم ہوسکتا ہے۔ اگر مختلف گروہ الگ الگ قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ تقسیم کو مزید نمایاں کرے گا، جبکہ ایک بڑا، منظم اور مشترکہ عوامی اجتماع یہ پیغام دے سکتا ہے کہ ایم کیو ایم اپنے داخلی اختلافات سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن کراچی کا ووٹر اب صرف نعروں اور جھنڈوں سے مطمئن نہیں ہوگا۔ اسے یہ جواب چاہیے کہ قیادت کس کی، تنظیم کس کی، منشور کیا اور کراچی کے مسائل کا عملی حل کیا ہے؟

ایم کیو ایم کے لیے موجودہ مرحلہ شاید آخری موقع نہیں، مگر یقیناً ایک اہم موڑ ہے۔ اگر خالد مقبول، مصطفیٰ کمال اور دیگر دھڑے ذاتی اور تنظیمی اختلافات کو جمہوری طریقے سے حل کرلیتے ہیں تو پارٹی دوبارہ ایک مؤثر شہری سیاسی قوت بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر اندرونی تقسیم کا فائدہ وہ سیاسی قوتیں اٹھائیں گی جو پہلے ہی کراچی کے ووٹ بینک پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔

**14 اگست کا اصل امتحان جلسے کا حجم نہیں، سیاسی سمت کا تعین ہوگا۔**

Address

Social Media Management Hub Ltd , AACSL, 1st Floor, North Westgate House
Harlow
CM201YS

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arz-e-Pak News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arz-e-Pak News:

Shortcuts

Share