23/08/2026
ون ڈالر( One Dollar) کے نام پر چترال میں دھوکا؟
آج اتوار کے دن فیملی کے ساتھ کچھ چیزیں لینے کے لیے ایک دکان پر گیا۔ باہر واضح طور پر ONE DOLLAR لکھا ہوا تھا لیکن کاؤنٹر پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہر چیز کے 300 روپے لیے جا رہے ہیں۔
میں نے دکاندار سے مؤدبانہ طور پر پوچھا
جب باہر One Dollar لکھا ہے تو اندر ہر چیز کے 300 روپے کیوں لیے جا رہے ہیں؟
جو جواب ملا وہ مزید حیران کن تھا
ینا ہے تو لو، نہیں لینا تو مت لو
بات صرف 300 روپے کی نہیں اصول اور صارف کے حق کی ہے۔
پاکستان میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً280/277 روپے کے آس پاس بنتی ہے لہٰذا اگر دکان کے باہر One Dollar لکھ کر ہر چھوٹی بڑی چیز کے 300 روپے لیے جا رہے ہیں تو کم از کم قیمت اور طریقۂ فروخت بالکل واضح ہونا چاہیے۔
ہم دکاندار سے یہ نہیں کہتے کہ 300 روپے کیوں لیتے ہو
آپ 400 روپے بھی قیمت لکھیں، ہمیں اعتراض نہیں لیکن باہر One Dollar لکھ کر اندر اپنی مرضی کی قیمت وصول کرنا مناسب نہیں۔
چترال میں مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے۔ بازار میں اگر ہر شعبے میں صارف کو مقررہ یا واضح قیمت سے زیادہ ادا کرنا پڑے اور سوال کرنے پر جواب ملے لینا ہے تو لو نہیں تو مت لو تو پھر عام شہری کہاں جائے؟
اور اگر روزانہ سینکڑوں گاہک اسی طریقے سے خریداری کریں تو اندازہ لگائیں کہ اضافی رقم کی روزانہ کتنی وصولی ہو سکتی ہے۔
ہم کسی فرد کی تضحیک نہیں چاہتے، نہ کسی دکاندار کی روزی کے خلاف ہیں۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قیمت واضح ہو، اشتہار حقیقت کے مطابق ہو اور صارف کے ساتھ عزت سے بات کی جائے۔
One Dollar کے نام پر اگر 300 روپے لینے ہیں تو قیمت صاف صاف 300 روپے لکھیں۔
عام آدمی کو الجھن میں ڈالنے کے بجائے شفاف کاروبار کریں۔
چترال کے عوام باشعور ہیں انہیں صرف مناسب قیمت نہیں مناسب رویہ بھی چاہیے۔
#مہنگائی #چترال