20/10/2026
کیا جواٸٸنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنا مقدمہ ہار گٸ۔
لینن نے کچھ یوں کہا تھا کہ "خود بخود ابھرنے والی تحریک صرف ٹریڈ یونین شعور تک جا سکتی ہے" - یعنی وہ مہنگائی کم کرا لے گی، بل کم کرا لے گی، لیکن نظام نہیں بدل سکے گی۔
شاید جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی ایک اسی طرح کی جدوجہد تھی
2023 میں راولاکوٹ میں تاجروں، وکلا، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ایک غیر جماعتی اتحاد کے طور پر بنی تھی۔ اس کا ڈھانچہ کسی ایک انقلابی نظریے یا جماعت کے بجائے مختلف مقامی کمیٹیاں اور انکے خود ساختہ لیڈر تھے ۔
نتیجہ کیا نکلا؟
اس نے بجلی کے نرخوں اور آٹے کی سبسڈی جیسے عوامی مطالبات پر حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، اس لیے عوام نے شروع میں اسے بڑے پیمانے پر قبول کیا۔ چونکہ اس کے پیچھے کوئی واضح سیاسی پروگرام، نظم اور تربیت یافتہ کیڈر نہیں تھا، اس لیے جیسے ہی تحریک آگے بڑھی، اس پر مختلف دباؤ آئے۔ حکومت کی طرف سے مذاکرات، کالعدم قرار دینے جیسے اقدامات، اندرونی اختلافات ظاہر ہوٸے جیسے 8 ارکان نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا اس کے ساتھ بیرون ملک سے ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے نادان دوستوں نے اس جدوجہد یا تحریک کو پاکستان دشمن بنا کر پیش کیا جس کی وجہ سے مذاکرات کے تمام رستے محدود ہو گٸے۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب قیادت نظریاتی طور پر یکجا نہ ہو تو: مقامی اشرافیہ یا اپوزیشن جماعتیں اس تحریک کے کندھے پر سوار ہو کر اپنا سیاسی قد بڑھانے لگتی ہیں۔ریاست کیلٸے بھی سنہری موقع تھا کہ وہ اسے امن و امان کے مسئلے کے طور پر پیش کر کے اس کی طاقت اور یکجہتی کو محدود کر دے جیسے کہ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ کوٹلی میرپور اور مظفرآباد کے شہری اس تحریک سے لاتعلقی کا اظہارکر رہے ہیں اب اس میں باغ بھی شامل ہو گیا ہے اطلاعات کے مطابق میرپور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نامی گرامی رہنما جان بخشی کے پیغامات بھیج رہے ہیں یہ وہی عناصر ہیں جن کا مقصد اصل عوامی مطالبے سے ہٹ کر انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ آج عوامی ایکشن کمیٹی کو مختلف دشواریوں کا سامنا ہے موسمی شدت بڑا مسلہ ہے دھرنا جاری رکھنا شاید اب ممکن نہ رہے آخری بات مجھے نہیں لگتا حکومت مذاکرات کرنے کے موڈ میں ہے ۔