Digital Pakistan

Digital Pakistan Digital Pakistan is a platform which shows content about Pakistan digitally.
(6)

پتوکی میں ایک نوجوان نے پولیس کو ایسی واردات کی اطلاع دی کہ سب حیران رہ گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ ماموں کے علاج کے لیے جمع ...
05/09/2026

پتوکی میں ایک نوجوان نے پولیس کو ایسی واردات کی اطلاع دی کہ سب حیران رہ گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ ماموں کے علاج کے لیے جمع کی گئی رقم راستے میں ڈکیتی کے دوران چھین لی گئی ہے۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں، لیکن تفتیش آگے بڑھی تو کہانی میں کچھ ایسا سامنے آیا جس نے پورا کیس ہی بدل دیا۔

پولیس کے مطابق نوجوان کے بیان میں تضادات محسوس ہوئے، جس کے بعد اس سے مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ آخرکار مبینہ طور پر حقیقت سامنے آ گئی کہ رقم کسی ڈاکو نے نہیں چھینی تھی بلکہ نوجوان خود وہ رقم جوئے میں ہار چکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اپنی اس غلطی کو چھپانے کے لیے نوجوان نے فرضی ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا اور 15 پر جھوٹی کال کرکے واردات کی اطلاع دے دی۔ یوں جس ڈکیتی کی تفتیش شروع ہوئی تھی، وہ دراصل ایک نوجوان کی اپنی غلطی چھپانے کی کوشش نکلی۔

05/09/2026

کوڑا پھینکنے پر 5 لاکھ جرمانہ 7 سال قید پنجاب میں نئی فورس آ گئی کہاں کوڑا پھینکنے پر کتنی سزا ہو گئی؟

05/09/2026

بیٹی کی یاد میں لاکھوں درخت

یہ ایک ایسے پاکستانی بزرگ کی حیران کن داستان ہے جنہوں نے صرف گیارہ سال کی عمر میں پیدل حج کا سفر شروع کیا اور پاکستان سے...
05/09/2026

یہ ایک ایسے پاکستانی بزرگ کی حیران کن داستان ہے جنہوں نے صرف گیارہ سال کی عمر میں پیدل حج کا سفر شروع کیا اور پاکستان سے سعودی عرب پہنچنے میں اڑھائی سال لگا دیے۔ اس زمانے میں نہ آج جیسی جدید سفری سہولیات تھیں، نہ گاڑیاں عام تھیں اور نہ ہی ہوائی جہاز کے ذریعے سفر ہر شخص کے لیے ممکن تھا۔ مگر اس کم عمر بچے کے دل میں ایسا جذبۂ ایمان اور عشقِ رسول ﷺ تھا کہ وہ 25 افراد پر مشتمل ایک قافلے کے ساتھ پاکستان سے پیدل حج کے لیے روانہ ہوگئے۔

یہ سفر کراچی سے شروع ہوا، جہاں سے یہ قافلہ پیدل گوادر پہنچا۔ گوادر سے ایران میں داخل ہوا اور پھر ایران کے مختلف شہروں سے گزرتا ہوا عراق پہنچا۔ ایران میں چابہار، کنارک، بندر عباس، آبادان، تہران، قزوین، ہمدان اور آخر میں قصرِ شیرین جیسے مقامات سے گزر کر قافلہ عراق کی سرحد میں داخل ہوا۔ عراق میں بھی کئی شہروں سے گزرتے ہوئے یہ قافلہ بغداد پہنچا، جہاں مقدس مقامات کی زیارت کی، پھر کربلا پہنچا اور وہاں حضرت امام حسینؓ کے روضے کی زیارت کے بعد سعودی عرب کی طرف سفر جاری رکھا۔

سوچیے، آج ہم چند گھنٹوں کا سفر بھی گاڑی، بس یا جہاز کے بغیر تصور نہیں کر سکتے، لیکن اس وقت یہ سفر پیدل طے کیا جا رہا تھا۔ اس قافلے میں شامل سب سے کم عمر فرد صرف گیارہ سال کا بچہ تھا۔ جب اس نے پاکستان سے سفر شروع کیا تو اس کی عمر گیارہ سال تھی اور جب تقریباً اڑھائی سال بعد سعودی عرب پہنچا تو وہ ساڑھے تیرہ سال کا ہو چکا تھا۔

اس سفر کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ مسافروں کے پاس ضرورت کا سامان بھی بہت محدود تھا۔ اتنے طویل سفر کے باوجود صرف دو دو جوڑے کپڑے ساتھ رکھے جاتے تھے، کیونکہ زیادہ سامان اٹھا کر پیدل سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔ موسم بدلتے رہے، کبھی شدید گرمی پڑی، کبھی سردی آئی اور کبھی بہار کا موسم آیا، لیکن قافلہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔

پیدل سفر کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے جوتے ٹوٹ گئے۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے پاؤں زخمی ہوگئے اور خون تک نکلنے لگا۔ راستے میں ایک جنگل کے علاقے میں مقامی لوگوں نے کھجور کے پتوں سے ان کے لیے جوتے تیار کیے۔ یہ عارضی جوتے بھی تقریباً پندرہ پندرہ دن چل جاتے تھے، جس کے بعد دوبارہ نئے جوتوں کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔

قافلہ زیادہ تر رات کے وقت سفر کرتا تھا۔ آسمان پر ستاروں کو دیکھ کر راستے کا اندازہ لگایا جاتا اور دن کے وقت کسی آبادی یا محفوظ مقام پر پڑاؤ کرکے آرام کیا جاتا۔ نہ موبائل فون تھے، نہ جی پی ایس، نہ نقشے کی سہولت اور نہ ہی جدید نیویگیشن سسٹم۔ سفر کا سہارا اللہ کا نام اور ایک دوسرے کا ساتھ تھا۔

کھانے پینے کا انتظام بھی اسی سفر کا ایک دلچسپ پہلو تھا۔ جب قافلہ کسی آبادی میں پہنچتا تو وہاں کے لوگ ان مسافروں کا استقبال کرتے، انہیں کھانا پینا فراہم کرتے اور کچھ دیر آرام کا موقع دیتے۔ اس زمانے میں دور دراز علاقوں سے حج کے لیے جانے والے قافلے عام تھے اور راستے میں لوگ ان کی مدد کو باعثِ سعادت سمجھتے تھے۔

صفائی ستھرائی کا انتظام بھی قافلے کے افراد خود ہی کرتے تھے۔ بال کاٹنے، داڑھی بنانے اور ناخن تراشنے کے لیے بنیادی سامان ساتھ رکھا جاتا تھا، جس میں کینچی، استرا اور بلیڈ جیسی چیزیں شامل تھیں۔ یعنی سفر چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، روزمرہ زندگی کی ضروریات کو بھی کسی نہ کسی طرح پورا کیا جاتا تھا۔

شدید سردی سے بچنے کے لیے جنگلات میں لکڑیاں جمع کرکے آگ جلائی جاتی اور اس کے ذریعے رات کے وقت سردی کا مقابلہ کیا جاتا۔ دوسری طرف شدید گرمی میں وہی محدود کپڑے اور قدرتی وسائل ان کا سہارا بنتے۔ راستے میں جنگل، پہاڑ، ریگستان اور بیابان آتے رہے، لیکن یہ طویل اور مشکل سفر ان کے جذبۂ ایمان کو کم نہ کرسکا۔

اس سفر میں کوئی خاص حفاظتی سامان یا ہتھیار بھی ساتھ نہیں تھا۔ جنگلی علاقوں سے گزرنا پڑا، مگر ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا نام ہی ان کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ جس مقصد کے لیے وہ گھر سے نکلے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں منزل تک پہنچائے گا۔

بالآخر وہ دن بھی آیا جب اڑھائی سال کا پیدل سفر مکمل ہوا اور یہ قافلہ مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ جس بچے نے گیارہ سال کی عمر میں پاکستان سے سفر شروع کیا تھا، اس نے ساڑھے تیرہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ مدینۃ المنورہ میں روضۂ رسول ﷺ اور گنبدِ خضرا کی زیارت کی۔

وہ لمحہ ان کے لیے ایسا تھا کہ سفر کی تمام تھکن جیسے ایک ہی لمحے میں ختم ہوگئی۔ جس راستے میں پاؤں زخمی ہوئے، جوتے ٹوٹے، موسم بدلے، جنگل اور بیابان آئے، وہ سب مشکلات اس وقت بھلا دی گئیں جب نگاہوں کے سامنے سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا روضۂ اقدس تھا۔

مدینہ منورہ میں قافلے نے کئی ماہ قیام کیا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ شریف کی زیارت کی اور وہاں بھی کئی ماہ قیام کیا۔ ان مقدس مقامات پر گزارا ہوا وقت اس طویل سفر کا سب سے خوبصورت اور یادگار حصہ بن گیا۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ حج اور مقدس مقامات کی زیارت کے بعد انہیں دوبارہ اسی طویل راستے سے پاکستان واپس آنا تھا۔ واپسی کے سفر میں بھی تقریباً اڑھائی سال لگے۔ یوں پاکستان سے سعودی عرب جانے اور واپس پاکستان پہنچنے تک تقریباً پانچ سال کا عرصہ گزر گیا۔

یہ صرف ایک پیدل سفر کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی یادگار ہے جب لوگ محدود وسائل کے باوجود اپنے دل میں موجود عقیدت اور ایمان کی طاقت سے ہزاروں میل کا سفر طے کر لیا کرتے تھے۔ ایک گیارہ سالہ بچے کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے اندر کسی مقصد کے لیے سچا جذبہ پیدا ہوجائے تو راستے کی مشکلات اس کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔

آج جب چند گھنٹوں میں ہم پاکستان سے سعودی عرب پہنچ سکتے ہیں، اس دور کا یہ سفر ناقابلِ تصور محسوس ہوتا ہے۔ مگر محمد بانی جعفری کی زندگی کی یہ داستان اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ کبھی لوگ عشقِ رسول ﷺ اور فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے پیدل ہزاروں میل کا سفر بھی طے کیا کرتے تھے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب وہ پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ کے سامنے پہنچے تو ان کے الفاظ میں سفر کی تکلیف نہیں بلکہ خوشی تھی۔ ان کے بقول، سرکارِ دو عالم ﷺ کے روضے کی زیارت نے ایسی کیفیت پیدا کی کہ پورے سفر کی تھکن اتر گئی اور راستے کی تمام مشکلات بھلا دی گئیں۔

یہ داستان آج بھی سننے والے کو ایک سوال ضرور سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس مقصد کے لیے انسان کے دل میں سچی محبت اور عقیدت پیدا ہوجائے، اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وہ کس حد تک مشکلات برداشت کرسکتا ہے؟

بھارت میں ایک ایسا عجیب مقدمہ سامنے آیا جہاں چوہے بھی ملزم کی رہائی کی وجہ بن گئے۔ جھارکھنڈ میں پولیس نے 2022 میں ایک گا...
05/09/2026

بھارت میں ایک ایسا عجیب مقدمہ سامنے آیا جہاں چوہے بھی ملزم کی رہائی کی وجہ بن گئے۔ جھارکھنڈ میں پولیس نے 2022 میں ایک گاڑی سے بڑی مقدار میں چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور ایک شخص کو گرفتار کیا، لیکن مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 200 کلو چرس گودام میں موجود چوہوں نے خراب کر دی۔

عدالت نے کیس کے شواہد اور گرفتاری کی تفصیلات میں بھی کئی تضادات کی نشاندہی کی۔ مزید یہ کہ پولیس کسی آزاد گواہ کو بھی عدالت میں پیش نہ کر سکی۔ چونکہ منشیات بطور مادی ثبوت عدالت کے سامنے موجود نہیں تھی، اس لیے عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزم کو الزامات سے بری کر دیا۔

یعنی جس کیس میں پولیس کے پاس کبھی 200 کلو چرس بطور ثبوت موجود تھی، وہی چرس آخرکار چوہوں کی وجہ سے غائب ہو گئی اور ملزم کو رہائی مل گئی۔

Disclaimer: This content is based on media reports and is shared for informational purposes only. Details may vary between sources.

اے ممبران سندھ اسمبلی! کیا بینظیربھٹو قیامت کے دن ہمیں گریبان سے نہیں پکڑے گی؟ کہ میں نے اور میرے والد نے جان دے دی لیکن...
04/09/2026

اے ممبران سندھ اسمبلی! کیا بینظیربھٹو قیامت کے دن ہمیں گریبان سے نہیں پکڑے گی؟ کہ میں نے اور میرے والد نے جان دے دی لیکن تم نے سندھ کو کیسے بیچ دیا؟ سن لو، سندھ ہماری ماں ہے، اس کا بٹوارا نہیں ہونے دیں گے، فریال تالپور کا جذباتی خطاب

باجوڑ: نوجوان نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیلی کاپٹر تیار کر لیاخیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت نوج...
04/09/2026

باجوڑ: نوجوان نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیلی کاپٹر تیار کر لیا

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت نوجوان نے محدود وسائل کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت ہیلی کاپٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سبحان اللہ نامی نوجوان نے تقریباً 6 سال کی مسلسل محنت کے بعد یہ ہیلی کاپٹر تیار کیا۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان کو 6 ستمبر کو باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں اپنے تیار کردہ ہیلی کاپٹر کا آزمائشی مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کامیاب تجربے کی صورت میں اسے اڑان کی اجازت دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

سبحان اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن ہی سے مشینیں بنانے کا شوق تھا۔ انہوں نے ابتدائی عمر میں موٹر سائیکل مکینک کا کام سیکھا، جس کے بعد مشینری اور مختلف آلات میں ان کی دلچسپی مزید بڑھتی گئی۔

ہیلی کاپٹر کی تیاری کے لیے ضروری پرزہ جات اور دیگر سامان حاصل کرنے کی خاطر انہیں لاہور، تیمرگرہ اور پشاور سمیت مختلف شہروں کا سفر بھی کرنا پڑا۔

نوجوان کے مطابق اگر انہیں حکومتی تعاون اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ مستقبل میں اس سے بھی زیادہ جدید اور بڑے منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر تیار کرنے کے تجربے کے بعد اب وہ اسی نوعیت کا ایک اور ہیلی کاپٹر تقریباً ایک ہفتے میں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس پورے سفر میں ان کے اہلِ خانہ نے بھی ان کی حوصلہ افزائی اور مدد کی۔

رپورٹ کے مطابق سبحان اللہ کا تعلق باجوڑ کے ایک محنت کش خاندان سے ہے، جو سیزن کے دوران پنجاب میں چپل فروخت کرکے روزگار حاصل کرتا ہے۔

اب سب کی نظریں 6 ستمبر کے آزمائشی مظاہرے پر ہیں، جہاں یہ دیکھنا ہوگا کہ نوجوان کا تیار کردہ ہیلی کاپٹر عملی طور پر اڑان بھر پاتا ہے یا نہیں۔

نوٹ: یہ معلومات 3 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ ہیلی کاپٹر کی تکنیکی صلاحیت اور پرواز سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اس اسکرپٹ میں شامل نہیں ہے۔

04/09/2026

میرے بعد شاید بیٹے حصہ نہ دیں؟

کیا آپ نے کبھی ایسے لوگوں کے بارے میں سنا ہے جو خود کو انسان کے بجائے کسی جانور سے شناخت کرتے ہیں؟2023 میں جرمنی کے دارا...
04/09/2026

کیا آپ نے کبھی ایسے لوگوں کے بارے میں سنا ہے جو خود کو انسان کے بجائے کسی جانور سے شناخت کرتے ہیں؟

2023 میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک غیر معمولی اجتماع دیکھنے میں آیا، جہاں میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد پوٹسڈامر پلاٹز ریلوے اسٹیشن کے باہر جمع ہوئے۔

شرکاء میں سے کئی افراد نے کتوں جیسے ماسک اور لباس پہن رکھے تھے، جبکہ کچھ لوگ ایک دوسرے سے بھونکنے اور سیٹیوں جیسی آوازوں کے ذریعے بات چیت کرتے دکھائی دیے۔

اجتماع کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو لوگوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ کچھ نے اسے حیران کن قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے اسے خود اظہار اور ایک مخصوص ثقافتی رجحان کے طور پر دیکھا۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ **Therians** سے عام طور پر ایسے افراد مراد لیے جاتے ہیں جو اپنی شناخت کو کسی غیر انسانی مخلوق سے جوڑتے ہیں، جبکہ **Furries** عموماً انسانوں کے ایسے شوق یا کمیونٹی سے وابستہ ہوتے ہیں جس میں جانوروں جیسے خیالی کردار، لباس یا فن کا اظہار شامل ہوتا ہے۔ دونوں اصطلاحات ایک جیسی نہیں ہیں۔

اس لیے برلن کا یہ واقعہ صرف عجیب لباس یا ماسک کا معاملہ نہیں، بلکہ شناخت، ثقافت اور خود اظہار کے ایک غیر معمولی رجحان کی مثال بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

**Disclaimer:** This story is based on media reports published in 2023. Descriptions and terminology may vary by source.

04/09/2026

Australia Largest Food Exhibition| Pakistan Pavilion showcases food, trade & export opportunities|

Address

Manchester

Opening Hours

Monday 10am - 4pm
Tuesday 10am - 4pm
Wednesday 10am - 5pm
Thursday 10am - 5pm
Friday 10am - 5pm
Saturday 10am - 5pm
Sunday 10am - 5pm

Telephone

+923455508419

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Digital Pakistan:

Shortcuts

Share