13/06/2023
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آواز خلق نقارہ خدا ہوتی ہے
پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو مناظر نظر آرہے ہیں وہ کوئی زیادہ خوشگوار معلوم نہیں ہوتے
اس وقت قوم اور ملک کے مسائل کی بجائے سیاسی انجینئرنگ اور ایک دوسرے کو ننگا کرنے کا جو رواج پروان چڑھ رہا ہے وہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہا ایک دوسرے کی کردار کشی کی جارہی ہے ایک دوسرے کی چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے جس سے نہ کوئی مرد بچا ہے اور نہ ہی کوئی عورت محفوظ ہے یہ سب باتیں ہر دوسرےشخص سے سننے کو ملتی ہیں
پاکستان کی سیاست کے ہمیشہ سے تین ستون رہے ہیں
سیاسی جماعتیں
عدلیہ و انتظامیہ
ہماری افواج
ان تینوں کے باہمی تعاون سے ہمارے ملک کی سیاسی اقتصادی اور معاشی انتظام چلتے اور پنپتے رہے ہیں
اگر ان میں سے ایک بھی ادارہ کسی وجہ سے غیر فعال ہو جائے تو پورے ملک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتیں جواقتدار کے ایوانوں میں بیٹھیں ہوئیں ہیں وہ بھیگی بلی بن کر بیٹھی ہویئں ہیں جو اقتدار سے باہر ہیں وہ سیاسی انجینرنگ کا شکار ہیں جو ان دونوں کے بیچ والی ہیں وہ اپنے ہی چکروں میں ہیں
عدلیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس کے عدل و انصاف کی کوئی وقعت نہیں وہ جو بھی فیصلہ کرتی ہے یا جو فیصلے کرنے کی پابند ہے ان سے وہ فیصلے نہیں ہو رہے یا ان فیصلوں کی کوئی حثیت ہی نہی اس وقت جنگل کا قانون جنگل میں نہیں چل رہا مگر پاکستان میں چل رہا ہے یہاں طاقتور زیادہ طاقتور ہو رہا ہے اور غریب غریب تر ہورہا ہے اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہماری افواج ہمیشہ سے طاقتور رہی ہے اور رہیں گی
موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کھلے الفاظ میں سیاسی جماعتیں اور عدلیہ دونوں خاموشی میں ہی اپنی خیریت سمجھتی ہیں انہوں نے اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیے ہیں یا کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں جو صرف اور صرف موٹا بھائی کے کہنے پر سنتی ہیں یا دیکھتی ہیں
حال ہی میں ایک نئی سیاسی جماعت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے جو استحکام پاکستان کے نام سے منظر عام پر آئی ہے اس کے ممران یا تو نااہل ہین کرپٹشن کی بنیا پر یا پھر مجبور ہو کر اپنی پریس کانفرانس کرکے دودھ کے دھلے بن کر آئے ہیں جو آدمی پہلے ہی کرپشن کا بے تاج بادشاہ ہو اور کرپشن کا عادی ہواور اسے کسی ادارے کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ اپنی کرپشن کی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں سے پورے کے پورے ادارے کو کرپشن کا ایسا نشان بنا دے گا جس کے شر سے کوئی بھی نہی بچ سکے گا اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہو گا کیونکہ اسے کرپشن کی عادت لگ گی ہوتی ہے اور وہ کرپشن سے باز کبھی نہیں آئے گا اس کا زمہ دار وہ آدمی ہو گا یا ادارہ ہو گا جس کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچا ہے
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ بھی عوام کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو ایک چھت کی حیثیت حاصل ہے باالفاظ دیگرے یہ چوتھا بڑا ستون ہے جو بیک وقت ستون بھی ہے اور چھت بھی یہ ہمیشہ سے دوسرے تینوں ستونوں کو پالتی آ رہی ہےاور وہ ستون کیسے اسکو سہانے خوابوں کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور انہیں سہانے خواب دکھاتے رہتے ہیں
مگر اب کچھ ایسا نہیں اب عوام جاگ چکے ہیں اس کا شعور بیدار ہوچکا ہے جس نے عوام کی زبان سے ابلنا شروع کر دیا ہے اور عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے عوام کی آواز کو نقارہ خدا کہا جاتا ہے
آیۓ اپنی آواز کو بھی اس آواز میں شامل کریں