Pen Power

Pen Power Pen Power brings you the latest discussions and opinions in the matters that affect us most daily in

New collection
06/04/2024

New collection

Check out AApexStore’s video.

17/09/2023
13/06/2023

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آواز خلق نقارہ خدا ہوتی ہے

پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو مناظر نظر آرہے ہیں وہ کوئی زیادہ خوشگوار معلوم نہیں ہوتے

اس وقت قوم اور ملک کے مسائل کی بجائے سیاسی انجینئرنگ اور ایک دوسرے کو ننگا کرنے کا جو رواج پروان چڑھ رہا ہے وہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہا ایک دوسرے کی کردار کشی کی جارہی ہے ایک دوسرے کی چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے جس سے نہ کوئی مرد بچا ہے اور نہ ہی کوئی عورت محفوظ ہے یہ سب باتیں ہر دوسرےشخص سے سننے کو ملتی ہیں

پاکستان کی سیاست کے ہمیشہ سے تین ستون رہے ہیں

سیاسی جماعتیں

عدلیہ و انتظامیہ

ہماری افواج

ان تینوں کے باہمی تعاون سے ہمارے ملک کی سیاسی اقتصادی اور معاشی انتظام چلتے اور پنپتے رہے ہیں

اگر ان میں سے ایک بھی ادارہ کسی وجہ سے غیر فعال ہو جائے تو پورے ملک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتیں جواقتدار کے ایوانوں میں بیٹھیں ہوئیں ہیں وہ بھیگی بلی بن کر بیٹھی ہویئں ہیں جو اقتدار سے باہر ہیں وہ سیاسی انجینرنگ کا شکار ہیں جو ان دونوں کے بیچ والی ہیں وہ اپنے ہی چکروں میں ہیں

عدلیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس کے عدل و انصاف کی کوئی وقعت نہیں وہ جو بھی فیصلہ کرتی ہے یا جو فیصلے کرنے کی پابند ہے ان سے وہ فیصلے نہیں ہو رہے یا ان فیصلوں کی کوئی حثیت ہی نہی اس وقت جنگل کا قانون جنگل میں نہیں چل رہا مگر پاکستان میں چل رہا ہے یہاں طاقتور زیادہ طاقتور ہو رہا ہے اور غریب غریب تر ہورہا ہے اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہماری افواج ہمیشہ سے طاقتور رہی ہے اور رہیں گی

موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کھلے الفاظ میں سیاسی جماعتیں اور عدلیہ دونوں خاموشی میں ہی اپنی خیریت سمجھتی ہیں انہوں نے اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیے ہیں یا کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں جو صرف اور صرف موٹا بھائی کے کہنے پر سنتی ہیں یا دیکھتی ہیں

حال ہی میں ایک نئی سیاسی جماعت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے جو استحکام پاکستان کے نام سے منظر عام پر آئی ہے اس کے ممران یا تو نااہل ہین کرپٹشن کی بنیا پر یا پھر مجبور ہو کر اپنی پریس کانفرانس کرکے دودھ کے دھلے بن کر آئے ہیں جو آدمی پہلے ہی کرپشن کا بے تاج بادشاہ ہو اور کرپشن کا عادی ہواور اسے کسی ادارے کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ اپنی کرپشن کی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں سے پورے کے پورے ادارے کو کرپشن کا ایسا نشان بنا دے گا جس کے شر سے کوئی بھی نہی بچ سکے گا اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہو گا کیونکہ اسے کرپشن کی عادت لگ گی ہوتی ہے اور وہ کرپشن سے باز کبھی نہیں آئے گا اس کا زمہ دار وہ آدمی ہو گا یا ادارہ ہو گا جس کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچا ہے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ بھی عوام کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو ایک چھت کی حیثیت حاصل ہے باالفاظ دیگرے یہ چوتھا بڑا ستون ہے جو بیک وقت ستون بھی ہے اور چھت بھی یہ ہمیشہ سے دوسرے تینوں ستونوں کو پالتی آ رہی ہےاور وہ ستون کیسے اسکو سہانے خوابوں کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور انہیں سہانے خواب دکھاتے رہتے ہیں
مگر اب کچھ ایسا نہیں اب عوام جاگ چکے ہیں اس کا شعور بیدار ہوچکا ہے جس نے عوام کی زبان سے ابلنا شروع کر دیا ہے اور عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے عوام کی آواز کو نقارہ خدا کہا جاتا ہے
آیۓ اپنی آواز کو بھی اس آواز میں شامل کریں

13/06/2023

پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو مناظر نظر آرہے ہیں وہ کوئی زیادہ خوشگوار معلوم نہیں ہوتے

20/05/2020

کہاوت ہے کہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور بندوق سے نکلی ہوئی گولی کبھی واپس نہیں آتی اسی کہاوت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اپنے بہن بھائیوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں جو میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اپنی صحافی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں خدارا اپنے ہاتھوں سے وہی کچھ لکھو جو سچ ہے زبان سے وہی کچھ بولو جو سچ ہے اور سچ کے علاوہ کچھ نہ بولو اور نہ لکھو کیوں کہ آپ کی لکھی ہوئی تحریر یا کہی ہوئی بات آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے چاہے وہ ثواب کا باعث بنے یا عذاب كا
یہ ضروری نہیں کے جس کو آپ سچ مان رہے ہیں وہی سچ ہیں اختلاف رائے ہوسکتا ہے مگر آپ کو اپنی بساط اور صلاحیت کے مطابق جو بھی کینہ ہے یا تحریر کرنا ہے وہ آپ کے لحاظ سے سچ پر مبنی ہونا چاہیے وگرنہ معاشرے کے لیے ایک ایسا ناسور بن جائے گا جسے ختم کرنے کے لئے صدیاں لگ سکتی ہیں اور جب تک وه شر زندہ رہے گا آپ کے نامہ اعمال میں اضافہ کرتا رہے گا تحریر کندہ کو تحریر کرتے وقت اپنی پسند اور ناپسند کا خیال نہیں کرنا چاہیے بلکہ حقیقت کو کھوج کر لکھنا چاہیے تاکہ آپ کی تحریر معاشرے میں تعمیری اثرات مرتب کرے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اپنی پسندوناپسند میں ایسے ایسے جملے بولتے یا تحریر کر جاتے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے اور نہ ہی پاؤں اگر ان سے پوچھا جائے کہ اس بات کااپ کے پاس کیا ثبوت ہے تو وہ ادھر ادھر کی پھینکنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے مزید جھوٹ کا سہارا لیتے لیتے اپنے حقیقی انجام کو پہنچ جاتے ہیں

یوں تو اس آدمی کی زندگی کا باب تو بند ہو جاتا ہے مگر اس کے حساب و کتاب کا رجسٹر کھلا ہی رہ جاتا ہے جس کا حوالہ حدیث میں یوں ملتا ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا نامہ اعمال بند ہو جاتا ہے مگر صدقہ جاریہ کا اجر وثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے لہذا ایسا صدقہ جاریہ چھوڑو جو آپ کے لیےاپ کے نامہ اعمال کو نیکیوں سے بھر د

Address

Brackenwood Close
Manchester
OL81BA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pen Power posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pen Power:

Share