Speaker Newspaper

Call Directions Website Contact the business

Speaker Newspaper Bringing you the true voice of North West’s diverse community Speaker recognises that our diverse community of the North West have so much to offer.

Especially as our rapidly changing society has brought about a new generation of minorities with new experiences, ideas and attitudes. While the mainstream media fail to catch up and represent us in a dualistic way through outdated stereotypes, Speaker is the authentic platform that amplifies the real voices of our multifaceted minority groups. RECLAIMING THE NARRATIVE FOR TRUE REPRESENTATION
Speaker brings you fresh perspectives directly from the misrepresented, so that they can express themselves and tell their story without it being reduced to a negative click-bait headline and tabloid journalism. We publish solution-based articles that dig deeper and encourage critical thinking, enabling us to challenge misconceptions and enlighten society. RAISING AWARENESS ABOUT THE THINGS THAT MATTER TO US
Whether it’s your take on a global political dispute or a new TV show that you’re hooked on, we publish articles that cover a wide range of categories to capture the true essence of our diverse community. Your voices are what make Speaker what it is, so we’re always on the hunt for contributors to write with us. BUILDING A SOCIALLY AWARE COMMUNITY THAT INSPIRE ONE ANOTHER AND THRIVE TOGETHER
Speaker is made up of readers and contributors from different ages, backgrounds and regions (not just limited to the North West). Our platform provides a space for you to connect with one another through your voices and experiences, so that we can learn from each other, educate others, find solutions and succeed together. CELEBRATING OUR SUCCESS AND ORIGINALITY
We believe that the key to success lies in what makes us different. And there’s nothing we love more than seeing you make your dreams come true! From carrying out interviews to writing reviews and covering events, we shout about your talent and support you on your journey in any way that we can. We also offer tailored advertising packages for businesses to promote your products and services. PROVIDING A SPACE FOR THE PAKISTANI COMMUNITY TO CONNECT WITH SPEAKER URDU
Speaker started in 2006 as an Urdu newspaper for the Pakistani people of Manchester, from the corner of a bedroom. Over 14 years later, it’s recognised by Urdu speakers all over the world and even has its own radio station.

AURAT FOUNDATION Pakistan held an event in Manchester
10/10/2026

AURAT FOUNDATION Pakistan held an event in Manchester

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

08/10/2026

اداریہ نذرآتش

قونصلیٹ کے عملے کو عزت دو


گذشتہ دنوں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر کے باہرکشمیری کمیونٹی کے لوگوں نے ایک احتجاجی مظاہرے کیا ۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔ اس حوالے سے ان میں بڑا جوش وخروش تھا۔ یقینا ان میں سے کچھ نعرے پاکستانی حکومت کے خلاف بھی تھے جبکہ مظاہرین آزادریاست جموں کوکشمیر کی موجودہ حکومت کے ساتھ بھی ناراض دکھائی دیتے تھے ۔ مظاہرین کے احتجاج میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر کے سٹاف کے خلاف مبینہ طورپر اس قدرشدت اورنفرت پائی جارہی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ وہ مظاہرہ کرنے نہیں آئے بلکہ قونصلیٹ جنرل کے سٹاف کے ساتھ لڑنے کیلئے آئے ہوئے ہیں ۔ ان مظاہرین کے رویے میں نفرت کا اظہار اس قدر زیادہ تھا کہ ہر شخص اس پر حیران ہو رہا تھا ۔ہم یہاں یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی بھی ملک کے کسی بھی شہری کے احتجاج کو اس کا بنیادی جمہوری حق سمجھتے ہیں۔ خواہ ہم ان کے مطالبات سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو اوران کے کچھ بھی مطالبات ہوں ۔ہم اس بات کو بھی درست سمجھتے ہیں کہ د نیاکا کوئی بھی شخص اپنے مطالبات کے حق میں جہاں جی چاہے اورجب جی چاہے مظاہرہ کرسکتا ہے ۔ مگر کوئی بھی کام کرتے ہوئے ’ اس کام کے قانونی اور اخلاقی پہلوﺅں کومدنظر رکھنا ضروری ہے ۔مظاہرین خواہ ریاست جموں وکشمیر کی آزادی اورخودمختاری کیلئے مظاہرہ کریں یا عمران خان کی رہائی کیلئے انہیں ہر حال میں ان قانونی اوراخلاقی پہلوﺅں کوملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے ۔
بات کو آگے بڑھانے سے قبل ہم اپنا مﺅقف بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ جب تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا’ اس وقت تک ریاست بھی ایک متنازعہ علاقے رہے گی ً یہی حکومت پاکستان کی سرکاری پالیسی بھی ہے کہ جب تک ریاست کے عوام اس کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کردیتے ’اس وقت تک ریاست ایک متنازعہ علاقہ ہی رہے گی ۔ یہ نہ ہی پاکستان کی شہ رگ ہے اور نہ ہی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اورنہ ہی یہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے ۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں اس کو مسئلے کو مزید تقویت دیتی ہیں ۔ہر کشمیری کا اپنا ایک مﺅقف ہے ۔ کچھ ریاست کے پاکستان سے الحاق کے حق میں ہیں تو کچھ بھارت کے ساتھ۔ جبکہ ایک غالب اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کو وہی حیثیت ملنی چاہئیے جو اکتوبر 1947 ءتک تھی ۔ یعنی ریاست آزاد اور خودمختار تھی اور اس کانظام بہت اچھا چل رہا تھا۔ ہم تمام آراءرکھنے والوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ ان کا جمہوری مﺅقف ہے ۔دوسری طرف خود مختار نظریے کے دوست یہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ابہام پایا جاتا ہے ۔کیونکہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں یہی بات کہی ہے کہ ریاست کے عوام پاکستان یا بھارت کے بارے میں فیصلہ کریں کہ انہوں نے کس کے ساتھ الحاق کرنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیر پر تیسرے چوتھے یا پانچویں آپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے سب سے بڑے پرچاک مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم نے واضح کیاتھا کہ کشمیریوں کو اپنے آپشن کھلے رکھنے چاہئیں۔ تیسرے آپشن کے بعد اگر کوئی چوتھا ’ پانچواں یا چھٹا آپشن بھی کشمیریوں کے حق میں جائے تواسے قبول کر لیا جائے گا۔
اب ہم آتے ہیں قونصلیٹ جنرل میں کام کرنے والے سٹاف کی طرف ۔ کسی کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئیے کہ یہاں کا سٹاف بھی پاکستانی ہے اور سٹاف کے ارکان سرکاری ملازم ہیں ۔ وہ نہ ہی تو کشمیر کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی یہ ان کے ذمہ داری ہے ۔ان کا کام محض بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کےلئے سہولتیں فراہم کرنا ہے ۔ اگر وہ یہ کام درست طور پر کر رہے ہیں تو پھر ان کے ساتھ کسی کوکوئی اختلاف نہیں ہوناچاہئیے ۔ ہاں اگر وہ اپنا یہ کام درست طور پر نہیں کرتے تو ہم یقینا اس بارے میں اپنی تحریروں میں ضرور تنقید کریں گے ۔ تاہم ہم نہیں سمجھتے کہ مانچسٹر اور نارتھ ویسٹ کے پاکستان جو قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر کی حدود میں آتے ہیں ’ انہیں قونصلیٹ کے عملے سے ایسی کوئی شکایت ہے ۔مظاہرین کو یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا حکومت پاکستان کا کام ہے ۔ عملے کے ارکان تو بیچارے سرکاری ملازم ہیں ۔ وہ بھی میری اور آپ کی طرح گوشت پوست کے انسان ہیں ۔ کوئی بھی مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔ اگر کوئی مظاہرہ کرنے والا ان کی عزت نہیں کرے گا تو ہم اس پر سخت احتجاج کریں گے اور ان کے مطالبات کے حق میں لکھنے سے پہلے ان سے یہی کہیں گے کہ پہلے اپنا رویہ درست کریں۔قونصل خانے کے ملازمین کو حکومت پاکستان نے عوام کی سہولت کیلئے رکھا ہوئے ہیں اوران کا کام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کرنا ہے ۔ ان ملازمین کا نہ کوئی سیاست سے تعلق ہے اور نہ ہی ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی لینا دینا ۔ پاکستان کے قانون کے مطابق وہ چونکہ ریاست پاکستان کے سرکاری ملازم ہیں اورپاکستان کے قانون کے مطابق وہ کوئی سیاسی وابستگی نہیں رکھ سکتے ۔ ان کاکام صرف یہ ہے کہ انہیں حکومت جو فرائض سونپے ’ انہوں نے اس پر ہی عملدرآمد کرنا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر مظاہرین میں سے کسی نے قونصلیٹ کے کسی رکن سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ کیا ان کی صرف اس لئے بے عزتی کی گئی کہ وہ حکومت کے ملازم ہیں ؟ وہ تو یہاں تمام سیاسی نظریات رکھنے والوں کیلئے سانجھارشتہ رکھتے ہیں ۔
ہم یہاں ایسے مظاہرین کو انتباہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں اور قونصل خانے کے ملازمین کوعزت دیں ۔ اگر مظاہرین کے حکومت پاکستان یا حکومت آزادکشمیر سے اختلافات ہیں تو یہ اختلاف ان ملازمین تک نہیں پھیلنے چاہئیں جو محض ملازمت کرتے ہیں ۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اختلاف اس وقت شروع ہوئے جب کشمیری مظاہرین نے قونصلیٹ کے عملے کو ایک تحریری پٹیشن پیش کرنے کی کوشش میں قونصل خانے کے اندر جانے کی کوشش کی ۔ اس پر مظاہرین کو یہ اصول بتایاگیا کہ اس کیلئے مخصوص تعداد میں ہی مظاہرین قونصل جنرل کو پیٹیشن پیش کرنے کیلئے قونصلیٹ کے اندر جا سکتے ہیں ۔ جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ مظاہرین کسی تنظیم کے بغیر تھے اور ہر کوئی قونصل جنرل کے ساتھ فوٹو کھچوانے کیلئے بے تاب تھا ۔ اگر یہی ان کی سوچ تھی تو ہم ان کو ”فٹے منہ “ ہی کہہ سکتے ہیں ۔ کم از کم ان میں تنظیم ہونی چاہئیے اور یہ پہلے سے طے ہونا چاہئیے کہ کتنے افراد پیٹیشن پیش کرنے جائیں گے اور ان میں کون کون شامل ہو گا۔اگر کوئی بھی مظاہرہ کرنے والا اس اصول کی پاسداری نہیں کرے گا تو اسے چاہئیے کہ پہلے اپنا اخلاق درست کریںا وران اصولوں کی پاسداری کرنا سیکھیں ۔ ہم ایسی تمام حرکات کی شدید مذمت کرتے ہیں اورقونصل خانے کے ملازمین کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ۔
نوٹ: قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر کے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس حوالے سے اپنا مﺅقف بیان کریں گے مگر آخری خبریں آنے تک ان کا مﺅقف ہم تک نہیں پہنچ سکا ۔ جونہی ان کا موقف پہنچا ہم اس کو بھی آپ تک پہنچائیں گے ۔

Fresh issue (08/10/2026) of Daily Speaker Manchester/ Gujrat and Daily Christian Times Manchester. For Fresh news always...
08/10/2026

Fresh issue (08/10/2026) of Daily Speaker Manchester/ Gujrat and Daily Christian Times Manchester. For Fresh news always see our website 24/7

Pakistan Muslim League N Uk held and award event in honour of Journalists of Greater Manchester
07/10/2026

Pakistan Muslim League N Uk held and award event in honour of Journalists of Greater Manchester

Altaf Shahid Sidu, President MQM۔UK UK and Euorope in programme MULAQAAT with Mahboob Butt
06/10/2026

Altaf Shahid Sidu, President MQM۔UK UK and Euorope in programme MULAQAAT with Mahboob Butt

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

05/10/2026 Fresh issue of Daily Speaker Manchester / Gujrat and Daily Christian Times Manchester
05/10/2026

05/10/2026 Fresh issue of Daily Speaker Manchester / Gujrat and Daily Christian Times Manchester

Condolences for deaths of Sameer Moin Malik and mother of Rana Khalid Rauf in Bury
02/10/2026

Condolences for deaths of Sameer Moin Malik and mother of Rana Khalid Rauf in Bury

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Address

Manchester

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Speaker Newspaper posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Speaker Newspaper:

Shortcuts

Share

Category