01/11/2025
https://www.facebook.com/share/p/1AMJ7o4Kxy/
حقِ حکمرانی کی جستجو ! جمہوری اصولوں سے عوامی اختیار تک
تحریر: خواجہ کبیر احمد
(پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے تناظر میں)
دنیا کے ہر خطے میں انسانی معاشروں کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنی زندگی کے فیصلوں میں کس حد تک شریک ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے تناظر میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے میں عوامی شمولیت اور حقیقی اختیار کی بحث طویل عرصے سے جاری ہے۔ جمہوریت محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک سماجی معاہدہ ہے جس میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ اعتماد اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اظہارِ رائے کی آزادی، اداروں کی خود مختاری اور شفافیت جیسے اصولوں کو صرف دعووں کی حد تک نہیں بلکہ عملی سطح پر نافذ کیا جائے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، ان کا ووٹ معنی رکھتا ہے، اور ان کے فیصلے ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، تو جمہوریت ایک زندہ اور متحرک نظام کے طور پر ابھرتی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے سب سے پہلے انتخابی نظام کی شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ آزاد اور خود مختار انتخابی کمیشن، درست ووٹر فہرستیں، غیر جانب دار نگرانی اور عوامی آگاہی وہ عناصر ہیں جو انتخابی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ کسی مخصوص طبقے یا مفاد کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے مؤثر ہے تو وہ سیاسی عمل کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ بصورت دیگر، بے یقینی اور بدگمانی عوام کو جمہوری عمل سے دور کر دیتی ہے۔جیسا کہ حالیہ برسوں میں ہوا۔یقینأ جمہوریت کی اصل روح صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ وہ ووٹ واقعی کسی مثبت تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔
حقیقی جمہوریت صرف سیاسی نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ معاشی اختیار کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں وسائل پر مقامی کنٹرول کا سوال طویل عرصے سے اٹھایا جا رہا ہے۔ پانی، جنگلات، معدنیات اور توانائی جیسے وسائل اگر مقامی سطح پر شفاف انداز میں منظم کیے جائیں تو یہ نہ صرف معاشی انصاف کو فروغ دیتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ جب کسی خطے کے لوگ اپنی زمین اور وسائل کے بارے میں خود فیصلے کرتے ہیں تو وہ صرف ان کے مالک نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے ضامن بھی بن جاتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس کی کامیاب مثالیں موجود ہیں جہاں حکومتیں آمدنی کا ایک حصہ براہِ راست اپنی عوام کی فلاح پر خرچ کرتی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے لیے بھی یہی راستہ پائیدار ترقی اور خود انحصاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔
آئینی اور قانونی دائرہ کار میں حقِ حکمرانی کے اصولوں کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کا آئینی ڈھانچہ تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور تنازعہ کشمیر کے تناظر میں اس کی حیثیت منفرد ہے، مگر اس کا مقصد یہی ہونا چاہیے کہ یہاں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون میں عوام کی خود ارادیت کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے، مگر اس حق کا مفہوم انتشار نہیں بلکہ شمولیت ہے۔ آئینی اداروں کی خود مختاری، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ سے ہی اس خطے میں خود ارادیت کے اصول کو عملی معنوں میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
جہاں سیاسی ادارے کمزور ہوں یا عوام کا اعتماد مجروح ہو جائے، وہاں سول سوسائٹی امید کی کرن بن جاتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں سماجی تنظیمیں، تعلیمی ادارے، صحافی، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن معاشرے میں مکالمے اور مفاہمت کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ وہ قوت ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا پل بن سکتی ہے۔ امن ہمیشہ طاقت یا بندوق سے نہیں بلکہ انصاف، احترام اور بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔ اگر ریاستی ادارے عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ کھلے مکالمے کا ماحول پیدا کریں تو اختلافات کے بجائے اتفاقِ رائے اور تعاون کی فضا پروان چڑھ سکتی ہے۔
جمہوری اقدار کو سمجھنے اور مضبوط کرنے کے لیے علم اور مطالعہ کی اہمیت بنیادی ہے۔ تعلیمی ادارے اور تحقیقی مراکز اگر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دیں تو عوامی شعور میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جیسے اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے جمہوریت و انتخابی معاونت (آئی ڈی ای اے) اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں جس سے مقامی نظام استفادہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں تعلیمی اور فکری اداروں کو چاہیے کہ وہ ان تجربات سے سیکھ کر اپنی جمہوری روایت کو مضبوط بنائیں۔
بالآخر بات اسی نکتے پر آتی ہے کہ جمہوریت کوئی وقتی یا رسمی نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ عوامی شعور، ادارہ جاتی شفافیت، مساوی مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم وہ ستون ہیں جن پر حقِ حکمرانی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب لوگ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوں، اپنے وسائل پر حق جتا سکیں، اور اپنی زندگی کے تعین میں حقیقی شریک بن جائیں تو یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ اختیار کا مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنی تقدیر کے فیصلے اپنے ہاتھوں سے کرے، وقار کے ساتھ، امن کے ساتھ، اور انصاف کے ساتھ۔