Kasher

Kasher Al Mahdi TV, Asr News page .

Excited to have you onboard! Farmaan Ansari, Aqib Ch Aqib Ch, Muhammad Rafique.Welcome.
23/08/2024

Excited to have you onboard! Farmaan Ansari, Aqib Ch Aqib Ch, Muhammad Rafique.
Welcome.

18/04/2022

سردار تنویر الیاس ۳۳ ووٹس لیکر وزیراعظم آزادکشمیر منتخب۔

08/04/2021

اقوام متحدہ کی قراردادیں اور فوجوں کے انخلاء کا معاملہ - کیا کشمیر میں رائے شماری نا ہونے کا زمہ دار پاکستان ہے؟

یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تمام مسائل کی اصل وجہ کشمیر ہے.اسی وجہ سے کشمیر کے مسلے کے تقریبآ ہر پہلو کو اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ حقیقت اور مفروضات میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، ایسا ہی ایک مفروضہ جو کہ بھارت کی طرف سے گھڑا گیا ہے اور اب جموں و کشمیر اور پاکستان کے کچھ حلقوں میں بھی شدومد دہرایا جاتا ہے، کہ پاکستان نے آزاد کشمیر سے اپنی افواج کا انخلاء نا کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جس کی وجہ سے آج تک مسلہ کشمیر حل نہ ہو سکا ۔

مثال کے طور پر کشمیر کی ایک قوم پرست جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ جناب امان اللہ خان اس حوالے سے کچھ یوں لکھتے ہیں،

"13 اگست 1948 کو پاس ہونے والی اقوام متحدہ کی قرارداد میں پاکستان پر یہ لازم قرار دیا گیا کہ وہ پہل کرتے ہوئے آزاد کشمیر سے اپنی افواج اور قبائیلیوں کا مکمل انخلاء یقینی بنائے۔ اسکے بعد بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج کا انخلاء شروع کرے گا اور اپنی فوج کا پیشتر حصہ کشمیر سے واپس لے جائے گا۔ پاکستان سے شروع میں اس قرارداد کی تائید کرتے ہوئے اس پر دستخط کیے اور بعد میں اس سے انحراف کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان اپنی افواج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے واپس بلاتا ہے تو بھارت ان علاقوں میں عسکری مہم جوئی کا آغاز کر سکتا ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ علاقے بھی بھارت کے زیر تسلط جا سکتے ہیں۔ کشمیر پر ہونے والے تمام مذاکرات پاکستانی افواج کے انخلاء کے معاملے پر ہی مرکوز رہے جس میں نا پاکستان انخلاء پر راضی ہوا اور نا ہی بھارت پاکستانی افواج انخلاء کے بغیر رائے شماری کی بقیہ شرائط پوری کرنے پر رضامند ہوا۔

لہذا، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نا ہو سکا جن کی بنیاد پر کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس طرح پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک غلط بیان نے کشمیریوں کو انکے حق خودارادیت سے محروم کر دیا۔" [1[

اسی طرح خودمختار کشمیر کی حامی ایک اور جماعت محاذ آزادی سربراہ جناب اعظم انقلابی کہتے ہیں:

"مسئلہ کشمیر جب اقوامِ متحدہ میں گیا تو وہاں 1948 اور 1949 میں مسئلہ کشمیر پر دو قراردادیں پاس ہوئیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت پر زور دیا اور ساتھ ہی پاکستان کو اپنے زیر انتظام کشمیر سے افواج کے انخلاء کا کہا گیا۔ نا پاکستان انخلاء پر راضی ہوا اور نا ہی کشمیریوں کو حق خودارادیت مل سکا۔ یہ نکتہ مسئلہ کشمیر کی بنیاد بن کر رہ گیا۔" [2]

اس سے پہلے کہ ہم اس پر بات کریں کہ آیا پاکستان نے رائے شماری سے متعلق بنیادی شرائط پر عملدرآمد سے انکار کیا یا کیا یہی نکتہ راے شماری نہ ہونے کی وجہ بنا، ہم آپ کو لیے چلتے ہیں اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 کی قرارداد پر۔ یہ مذکورہ قرارداد تین حصوں پر مشتمل ہے جس کا پہلا حصہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی سے مطلق ہے۔ دوسرا حصہ جنگ بندی کے ماہدے اور فوجوں کے انخلا کے بارے میں بات کرتا ہے جبکے تیسرے حصے میں اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کو کہا۔

اس قرارداد کا دوسرا حصہ جو کہ افواج کے انخلاء سے متعلق ہے، اس میں کہا گیا کہ؛
"...the Government of Pakistan will use its best endeavor to secure the withdrawal from the State of Jammu and Kashmir of tribesmen and Pakistani nationals not normally resident therein who have entered the State for the purpose of fighting."

ترجمہ:- " پاکستانی حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ پاکستان کے قبائلی اور پاکستانی باشندے جو کہ ریاست جموں و کشمیر میں لڑنے کی غرض سے داخل ہوئے، انکا انخلاء کیا جائے۔"

جبکہ ہندوستان کی حکومت کو کہا گیا کہ؛

“When the Commission shall have notified the Government of India that the tribesmen and Pakistani nationals have withdrawn, thereby terminating the situation which was represented by the Government of India to the Security Council as having occasioned the presence of Indian forces in the State of Jammu and Kashmir, and further, that the Pakistani forces are being withdrawn from the State of Jammu and Kashmir, the Government of India agrees to begin to withdraw the bulk of its forces from that State in stages to be agreed upon with the Commission.”

"جب اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان بھارت کی حکومت کو آگاہ کرے کہ پاکستانی باشندوں اور قبائلیوں کا جموں کشمیر سے انخلاء ہو چکا ہے اور وہ صورتحال، جس کا خدشہ ہندوستان نے کشمیر میں پاکستانی باشندوں اور قبائلیوں کی موجودگی کی وجہ سلامتی کونسل میں ظاہر کیا تھا اور جس کی بنیاد پر ہندوستان نے کشمیر میں اپنی افواج اتاریں، وہ ختم ہو چکا ہے, اور مزید یہ کہ پاکستانی فوجیں ریاست سے نکل رہی ہیں، تو اب ہندوستان اقوام متحدہ کو اس امر پر اپنی رضامندی سے آگاہ کرے کہ وہ اپنی افواج کا بڑا حصہ مرحلہ وار کشمیر سے واپس بلائے گا۔"

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ قرارداد میں صرف پاکستانی قبائلیوں اور وہ پاکستانی باشندے جو ایک غیر روایتی لڑائی کی غرض سے داخل ہوئے، پہلے صرف انکے انخلاء کی بات کی گئی۔ جبکہ پاکستان کی روایتی فوج اور بھارت کی فوج کی اکثریت کو بیک وقت کشمیر سے انخلاء کا کہا گیا۔ اس بارے میں ہندوستان کی ایک مشہور لکھاری اے جی نورانی، جنہیں مسلہ کشمیر کے متعلق ایک مستند لکھاری سمجھے جاتا ہے، کچھ اس طرح لکھتے ہیں،

" اسی دوران کئی مفروضات نے جنم لیا جو کہ آج دن تک لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ مبینہ جارحیت کی ابتداء کیوں کے پاکستان نے کی تھی اس لئے پاکستان پر لازم ہے کہ وہ جموں کشمیر سے اپنی افواج کے انخلاء میں پہل کرے۔ یہ عذر بہت عرصے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ 13 اگست 1948 کی اقوام متحدہ کی قرارداد میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے بھارت کو اس امر سے آگاہ کرنا ہے کہ قبائیلیوں کا مکمل انخلاء ہو گیا۔ اسکے برعکس ، پاکستانی فوج کے لئے ، یہ لازم تھا کے وہ بتائیں کے انخلا کا آغاز کیا جا چکا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی بھارت اپنی افواج کا انخلاء شروع کرے۔ پاکستانی اور بھارتی افواج کے انخلاء کا عمل بیک وقت ہونا ہے۔ بھارتی افواج کا انخلاء کسی بھی طرح سے پاکستانی افواج کےمکمل انخلاء سے مشروط نہیں ہے۔" [3]

سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی منظوری کے بعد ، پاکستان نے قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کا ریاست سے انخلا شروع کردیا۔ جب کمیشن نے فروری 1949 میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا تو ، پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے پہلی میٹنگ میں کمیشن کو آگاہ کیا کہ “قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کی واپسی میں پہلے ہی کافی پیشرفت ہوچکی ہے اور فروری کے وسط تک ، پاکستان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر لے گی۔ [4]

لیکن پھر،H.P گرانٹ فیزر کے الفاظ میں "ہندوستانی وزارت خارجہ کے سکریٹری جنرل ، گرجا باجپائی نےاپنا "بم" گرا دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی رائے شماری سے پہلے آزاد فورس (جو کہ خالصتاً آزاد کشمیر کے شہریوں پر مشتمل تھی) اسے بڑی حد تک ختم اور غیر مسلح کیا جائے اور اسے رائے شماری کی شرائط کا لازمی جزو قرار دیا۔" [5]

لہذا ، یہاں یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ پاکستان، قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کا انخلاء، رائے شماری سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے کر رہا تھا اور 1949 میں یہ انخلاء مکمل بھی ہو چکا تھا۔ [6] اب آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ہندوستان نے کیسے مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

28 اپریل 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے اس متعلق ایک نیا پروپوزل پیش کیا جسے دونوں ملکوں نے قبول نہیں کیا۔ ہندوستان نے "آزاد کشمیر افواج کو ختم اور غیر مسلح کرنے کے حوالے سے کسی بھی واضح نکتے کی عدم موجودگی" پر اعتراض کیا جب کہ پاکستان "شمالی علاقوں میں ہندوستانی فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف تھا" اور اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ کسی بھی ہندوستانی یا شیخ عبداللہ کی کشمیری حکومت کے اہلکار کو گلگت بلتستان کے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ [7] دونوں ممالک کی طرف سے 28 اپریل کی کمیشن کی تجاویز کو یکسر مسترد کرنے کے بعد ، کمیشن نے 30 اگست 1949 کو تجویز پیش کی کہ تمام اختلافی نکات کو "ثالثی کمیشن" کے سامنے پیش کیا جائے۔ ثالثی کی اس پیشکش کو پاکستان نے تو قبول کر لیا لیکن بھارت نے اسے مسترد کردیا۔ [7]

ایسے میں کمیشن نے سارا معاملہ ہی سیکورٹی کونسل کے سپرد کردیا جس پر سیکورٹی کونسل کے صدر جرنل مکناٹن (McNaughton) کو غیر رسمی ثالث بنایا گیا۔ جرنل مکناٹن نے دونوں ممالک سے رسمی گفتگو کے بعد دونوں ممالک کو بیک وقت اپنی فوجیں نکالنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ "اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند" کو ایک اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ثالث سے بدل دیا جائے۔

آزاد فورس اور گلگت بلتستان کی ایڈمنسٹریشن کے بارے میں جرنل مکناٹن کے پروپولز میں یہ نکات درج تھے؛

“the reduction, by disbanding and disarming, of local forces, including on the one side(IOK) the armed forces and militia of the State of Kashmir and on the other(AJK), the Azad forces”

“the inclusion of the Northern Area in the programme of demilitarization and its continued administration, subject to United Nations supervision and by the existing local authorities.”

یعنی کہ ایک طرف شیخ عبداللہ کی کھڑی کردہ ملیشیا، اور مہاراجہ کی ریاستی فوج، جبکہ دوسری جانب آزاد فورس کو غیر مسلح اور تحلیل کر کے کمی لائی جائے. شمالی علاقہ جات کو بھی ڈیملیٹرایزشن پروگرام میں شامل کیا جائے اور اس کی ایڈمنسٹریشن اقوام متحدہ کی زیر نگرانی موجودہ لوکل اتھاریٹیز کے ذریعے چلائی جائے۔
مگر ایک بار پھر پاکستان نے تو جرنل مکناٹن کی ان تجاویز کو قبول کیا جبکہ ہندوستان نے مسترد کر دیا ۔ مائیکل بریچر(Michael Brecher) اپنی کتاب "دی سٹرگل فار کشمیر" میں لکھنے ہیں کہ ہندوستان نے انہیں مسترد کرتے ہوئے ان میں دو بڑی تبدیلیاں تجویز کیں؛ ایک یہ کہ صرف آزاد فورس کو ہی تحلیل کیا جائے یعنی شیخ عبداللہ کی ریاستی ملیشیا کو کچھ مت کہا جائے، اور دوسری یہ شمالی علاقہ جات کی ایڈمنسٹریشن "موجودہ لوکل اتھاریٹیز" کے بجائے ہندوستان کے حوالے کر دی جائیں. [8]

اس وقت تک تمام دنیا ہندوستان کے حیلے بہانوں کو سمجھ چکی تھی۔ ہندوستان کے جرنل مکناٹن کی تجاویز کو مسترد کرنے پر برطانوی اخبار "دی لندن اکانومسٹ" نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا؛ "ساری دنیا دیکھ سکتی ہے کہ ہندوستان جو کہ کشمیر میں اکثریت کا ہندوستان کے حامی ہونے کا دعوی کرتا ہے، کیسے ایک عالمی نگرانی میں ہونے والی رائے شماری میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ اس سے ، عالمی رائے صرف یہ نتیجہ اخذ کرسکتی ہے کہ بھارت کو واقعی میں اعتماد نہیں ہے کہ کشمیر کے لوگ ہندوستان کے حق میں ووٹ دیں گے۔"[9]

اسکے بعد ، 14 مارچ 1950ء کو ایک اور قرارداد پاس کی گئی جس میں دونوں ممالک سے کہا گیا کہ وہ اس قرارداد کے پانچ ماہ کے اندر جرنل مکناٹن کی تجاویز پر مبنی ایک ڈیملیٹرایزشن پروگرام ترتیب دیں اور اس پر عمل کریں. اس قرارداد کو دونوں ممالک نے تسلیم کیا اور یوں 12 اپریل 1950ء کو ایک آسٹریلین جیورسٹ سر اوون ڈکسن (Sir Owen Dixon) کو یو این میڈئیٹر (UN Mediator) مقرر کیا گیا جن پر یہ زمہ داری تھی کہ وہ 14 مارچ 1950ء کی قرارداد پر عمل درآمد کروائیں۔

سر اوون ڈکسن 27 مئی کوبرصغیر پہنچے اور دونوں ممالک کے دارلحکومت سمیت کشمیر کا بھی دورہ کیا۔ چونکہ، ہندوستان نے پہلے ہی جرنل مکناٹن کی تجاویز کو مسترد کر رکھا تھا، اور بار بار ایک ہی چیز دوہرائے جا رہا تھا کہ پاکستان کو ایگریسر (Aggressor) یا جارح قرار دیا جائے۔ یوں سر اوون ڈکسن نے ہندوستان کے اس مطالبے کو مانتے ہووے تجویز کیا کہ پہلے پاکستان اپنی فوجیں نکالے، پھر ہندوستان، پھر آزاد فورس اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیر سٹیٹ فورسز کو تحلیل کیا جائے۔ [10] اگرچہ ڈیڈ لاک توڑنے کے لئے سر ڈکسن کی یہ تجویز سیکورٹی کونسل کی پچھلی تمام قراردادیں جو 13 اگست 1948ء, 5 جنوری 1949ء اور 14 مارچ 1950ء کو پاس ہوئیں جن میں دونوں ممالک کو بیک وقت اپنی فوجیں نکالنے کے لئے کہا گیا تھا، کے بلکل مخالف تھیں، لیکن پھر بھی حکومت پاکستان نے سر ڈکسن کی اس تجویز کو تسلیم کیا اور اپنی فوجیں پہلے نکالنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ جموں و کشمیر میں کسی بھی طرح رائے شماری ممکن ہو سکے۔ سر ڈکسن کی اس تجویز پر دونوں ممالک کی جانب سے رد عمل پر جوزف کوربل لکھتے ہیں:
“the Prime Minister of Pakistan agreed to take the first step to withdraw the Pakistan army. But Sir Owen’s gratification was short-lived. The plan for demilitarization was rejected by India.”

"یعنی وزیراعظم پاکستان نے پہلے قدم کے طور پر پاکستانی فوج کو نکالنے کے لئے رضامندی ظاہر کی لیکن سر اوون ڈکسن کی خوشی چند لمحات کی تھی کیوں کہ ان کے ڈیملیٹرایزشن پلان کو بھارت نے مسترد کر دیا۔"[11]

اس کے علاؤہ آزاد کشمیر کی ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے سر ڈکسن نے تجویز دی کہ ہر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عہدے پر اقوام متحدہ کے افسروں کو تعینات کیا جائے۔ جبکہ شمالی علاقوں (گلگت بلتستان) کے بارے میں ان کی تجویز یہ تھی کہ اقوام متحدہ کے نمائندہ پولیٹیکل ایجنٹس کو مقرر کر کے اتھارٹی ان کے حوالے کی جائے۔ بھارتی حکومت نے ان تجاویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کے بھارت اپنے دفاع کے لیے ہر حال میں اپنی فوجیں گلگت بلتستان میں تعینات کرے گا۔[12]

پھر، اوون ڈکسن نے چند نئی تجویز پیش کیں کہ "رائے شماری کی مدت کے لئے پوری ریاست کے لئے ایک ہی حکومت ہو، یا ہندوستان نواز نیشنل کانفرنس اور پاکستان کی حامی مسلم کانفرنس پر مشتمل مخلوط حکومت قائم کی جائے، یا چند غیر سیاسی اور بااعتماد افراد پر مشتمل ایک غیر جانبدار حکومت تشکیل دی جائے، یا اقوام متحدہ کے نمائندوں پر مشتمل حکومت تشکیل دی جائے۔ " لیکن ایک بار پھر ، جوزف کوربل کے الفاظ میں، "ہندوستانی جواب نفی میں تھا۔"[13]

اس سب سے مایوس ہونے کے بعد سر اوون ڈکسن اس تنازعے کے حل کے لئے ایک بالکل مختلف اور نئی تجویز سامنے لے کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایک کر کے ریاست کی مختلف اکائیوں میں ریفرینڈم کروایا جائے اور پھر وہ علاقہ ریفرنڈم کے نتیجے کے مطابق ہندوستان یا پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ یا ایسے علاقے جو بلا شبہ ہندوستان یا پاکستان کو ووٹ دیں، مثال کے طور پر لداخ اور جموں کی غیر مسلم اکثریت ہندوستان کے حق میں ووٹ دیتی، جبکہ پونچھ، میرپور اور گلگت بلتستان کی اکثریت پاکستان سے الحاق کے حق میں ووٹ ڈالتی، انہیں بالترتیب ہندوستان اور پاکستان کے حوالے کر کے رائے شماری کو وادی کشمیر اور اس سے ملحق چند مسلم اکثریتی علاقوں تک محدود کر دیا جائے۔ [14] یہاں پر پاکستان نے سر ڈکسن کی مخالفت کی جبکہ بھارت ایسے حل کے لئے تیار تھا مگر اس حل کے تحت جو علاقے ہندوستان یا پاکستان میں جانے تھے ان سے متعلق بھارت کی تجاویز سر ڈکسن کے مطابق کسی بھی طور پر "reasonable" نہیں تھیں۔ [14] جوزف کوربل لکھتے ہیں کہ "پاکستان نے اپنے موقف سے ہٹنے سے منع کر دیا البتہ یہ رضا مندی ضرور ظاہر کی ریاست کی سیدھی سیدھی تقسیم کرکے کشمیر کی وادی کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ بھارت کو منظور نہیں تھا۔" اسی ضمن میں جوزف کوربل مزید لکھتے ہیں کہ
"آخری کوشش کے طور پر، سر اوون ڈکسن نے دونوں حکومتوں کو ایک اور تجویز پیش کی کہ ریاست کی تقسیم کر دی جائے اور کشمیر وادی سے فوجوں کے انخلاء کے بعد اقوام متحدہ کی زیر نگرانی وہاں رائے شماری کرائی جائے۔ پاکستان نے اس تجویز کو قبول کرلیا لیکن ہندوستان کے وزیر اعظم نے ٹیلیگرام کے ذریعہ اس طرح کی کسی بھی تجویز سے اتفاق کرنےسے منع کر دیا۔"[14]

جب سب کوششیں بے نتیجہ نکلیں تو سر اوون ڈکسن نے واپس جا کر اپنی رپورٹ میں لکھا؛

"آخر میں مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ ہندوستان کو فوجوں کے انخلاء اور ریاست کی ایڈمنسٹریشن کے معاملے پر کسی طور پر بھی قائل نہیں کیا جا سکتا۔"[13]

ان تمام جگہوں پر ناکامی کے بعد یہ معاملہ کامن ویلتھ کے وزراء اعظم کی جنوری 1951ء کی میٹینگ میں لیاقت علی خان کی درخواست پر زیر بحث لایا گیا جہاں آسٹریلوی وزیراعظم نے فوجوں کے انخلاء کے متعلق تین متبادل پلان دئے؛
1. کامن ویلتھ ٹروپس (troops) کو ریاست میں بھجوا دیا جائے.
2. ہندوستان اور پاکستان کی جوائنٹ فوج ریاست میں رہے۔
3. یا پھر پلیبیسائیٹ ایڈمنسٹریٹر (plebiscite administrator) کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ خود لوکل فوج کھڑی کرے۔
پاکستان نے تینوں پلان پر رضامندی ظاہر کی لیکن بھارت نے یہاں بھی تینوں کو مسترد کر دیا۔[15]

اس کے بعد ایک اور قرارداد 21 فروری 1951 کو امریکی اور برطانوی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں پیش کی گئی۔ اس قرار داد میں فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ" وہ کسی اختلاف کی صورت میں ، ثالث کے ذریعہ ثالثی یا فریقین سے مشاورت کے بعد انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے صدر کے ذریعہ مقرر کردہ ثالثین کے پینل کی ثالثی کو قبول کریں۔" یہاں ایک بار پھر پاکستان نے اس قرارداد کو قبول کرلیا۔ ہندوستان نے اسے مسترد کردیا۔[16]

اس کے بعد، ڈاکٹر فرینک پی گراہم (Dr. Frank Graham) کو اقوام متحدہ کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ جوزف کوربل لکھتے ہیں کہ گراہم نے ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ، "تجویز کیا کہ 12،000 سے 18،000 فوجی اوراس کے علاوہ 6،000 افراد پر مشتمل مقامی ریاستی ملیشیا ہندوستان کی طرف سے رکھے جائیں؛ اور پاکستانی سائیڈ سے 1،000 سے 6،000 آزاد افراد پر مشتمل آزاد فورس ، اور شمالی علاقہ میں 3،500 اسکائوٹس۔ رکھے جائیں. پھر اس نے اس تجویز میں ترمیم کر کے بالترتیب 18،000(ہندوستان کی طرف سے) اور 6،000(پاکستان کی طرف سے) فوجیوں کی تجویز پیش کی ۔ لیکن ایک بار پھر ، ان کی کوئی بھی تجویز بھارت کو قبول نہیں تھی۔

بھارت نے اصرار کیا کہ کم سے کم 21،000 فوجی ہماری طرف سے تو لازمی ہوں گے اور انہوں نے اس تعداد میں ریاستی ملیشیا کو شامل کرنے سے انکار کردیا۔ ساتھ ہی ، انہوں نے آزادکشمیر میں سے مکمل فوجی انخلاء اور وہاں موجودہ مسلح افواج کی جگہ 4،000 آدمیوں ( آدھے مسلح اور آدھے غیر مسلح) پر مشتمل ایک سول فورس کے قیام کا مطالبہ کیا، بھارت نے مزید مطالبہ کیا کہ اس فورس کے 2,000 افراد آزاد کشمیر کی حکومت کو مانے والے ہوں اور 2,000 ایسے ہوں جو آزاد کشمیر کی حکومت پیروکارنا ہوں یعنی کہ شیخ عبداللہ کہ حامی ہوں۔

جعزف کوربل کے مطابق بھارت کا یہ مطالبہ بھی بلکل نیا تھا جس کا پہلے کبھی بھی ذکر نہیں ہوا.
وہ مزید لکھتے ہیں: "بھارت کے مطالبے کا خلاصہ یہ ہوتا کہ مجوزہ رائے شماری شیخ عبداللہ کی سرزمین(مقبوضہ کشمیر) پر ہندوستان اور عبداللہ کے حامی 27،000 فوجیوں کی موجودگی میں انجام دی جائے گی۔ اور آزاد سرزمین پر ، ایک سول فورس کے 4000 جوانوں کی موجودگی میں ، جو صرف جزوی طور پر مسلح ہوں گے ، اور ان میں سے بھی آدھے افراد کو شاید عبد اللہ کے زیر انتظام رہنے والے مہاجرین سے بھرتی کیا جائے گا۔

پاکستان نے کشمیر میں موجود فوجیوں کی تعداد کو اب بھی بہت زیادہ سمجھا لیکن اس نے پھر بھی بتایا کہ وہ ڈاکٹر گراہم کی تجویز کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔

اس کے بعد سلامتی کونسل نے 23 دسمبر 1952ء کو ایک قرار داد منظور کی اور اس میں "ڈاکٹر گراہم کی تجویز کی بنیاد پر کشمیر سے فوجی انخلا کے بارے میں تیس دن کے اندر ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے متفق ہونے پر زور دیا گیا" لیکن ہمیشہ ہی طرح ہندوستان نے ایک بار پھر انکار کردیا اور ایک بار پھر پاکستان نے اس قرارداد کو قبول کیا۔ [17]

ثالثی کی تمام کوششیں ناکام ہو جانے پر دونوں ممالک سے کہا گیا کہ معاملے کو باہمی بات چیت سے حل کریں۔ یوں ہندوستانی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کے پاکستانی ہم منصب محمد علی بوگرہ اگست 1953ء میں ملے اور ملاقات کے دوران Plebiscite Administrator کے چارج لینے کے لئے اپریل 1954ء کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔ نہرو اور محمد علی بوگرہ کی اس دو طرفہ بات چیت کے دوران اگست 1953ء سے لے کر ستمبر 1954ء تک کل 27 خطوط لکھے گئے۔ اس دوران پہلے نہرو نے plebiscite administrator ایڈمرل سی ڈبلیو نمیٹز (C.W. Nimitz) کو تبدیل کرنے پر اصرار کیا لیکن جب محمد علی بوگرہ نے نہرو کو لکھے اپنے 4 فروری 1954ء کے خط میں نہرو کی یہ ڈیمانڈ بھی مان لی [18] تو نہرو نے پاکستان سے امریکی امداد لینے پر سوالات اٹھانا شروع کر دئے اور مئی 1954ء کو clear cut انداز میں رائے شماری کروانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان مسلہ کشمیر کو ایک بار پھر سن 1957ء میں سیکورٹی کونسل کے پاس لے گیا جہاں آئیرلینڈ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو اس وقت کی سوویت یونین نے ویٹو کر کے مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔

یوں دیکھا جا سکتا ہے پاکستان نے ڈیملیٹرایزشن کے تمام پلان تسلیم کئے اور رائے شماری کروانے کی خاطر ہر حد تک گیا، مگر یہ ہندوستان ہی تھا جو اپنے وعدے سے پیچھے ہٹا۔ در اصل ہندوستان کبھی رائے شماری چاہتا ہی نہیں تھا۔ مشہور ہندوستانی تاریخ دان اور محقق اے جی نورانی نے اس بارے میں لکھا؛

"نہرو منصوبے متضاد تھے ، وہ نجی محفلوں میں 1947ء سے ہی رائے شماری کی سخت مخالفت کرتا رہا لیکن پبلک میں وہ 1954ء تک واضح طور پر رائے شماری کروانے کے وعدے کرتا رہا۔ 1996ء میں نہرو کی کشمیر پالیسی تب کھل کر سامنے آئی جب " Selected Works of Jawaharlal Nehru" کا بائیسواں والیم شایع ہوا۔ اس میں ایک ایسا ڈاکیومنٹ شامل تھا جو کہ امریکہ کے مشہور ڈاکیومنٹ NSC-68، جس سے امریکہ کی سرد جنگ کے دوران پالیسی واضح ہوتی یے، جیسا ہی تھا۔

نہرو نے 22 اگست 1952ء کو شیخ عبداللہ کو خط لکھا جس کا لب لباب یہ تھا؛
1. کشمیر کے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں
2. اقوام متحدہ power less ہے
3. یہی حال پاکستان کا بھی ہے
4. کشمیر کا بھارت سے الحاق ہمیشہ کے لئے ہے
5. کشمیری لیڈران کو شکوک و شبہات دور کر دینے چاہئے کیونکہ پھر یہ شک اُن سے ہوتا ہوا اُن کے فالورز میں پہنچتا ہے اور وہاں سے عام عوام میں۔ الحاق پر مزید کوئی بحث نہیں ہونی چاہئے۔ الحاق ایک حقیقت ہے اور فائنل ہے۔ کوئی بھی چیز اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ [19]

اسی طرح ایچ پی گرانٹ فریسر لکھتے ہیں کہ "سابق ہندوستانی وزیر دفاع ، کرشنا مینن نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر میں رائےشماری کروانے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ "ہم جانتے تھے کہ ہم اس طرح کشمیر کو کھو دیں گے، کشمیر پاکستان کو ووٹ دے دے گا اور رائے شماری کروانے والی کوئی ہندوستانی حکومت اپنا آپ نہیں بچا پاے گی ۔ کشمیر میں ہندوستان کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا لیکن سوال یہ نہیں تھا کہ کیا صحیح تھا بلکہ ہمارے لئے کیا مناسب تھا۔" [20]

اسی طرح 1964ء میں ہندوستان کی طرف سے تقسیم ہند میں کلیدی کردار ادا کر نے والے جناب وی پی مینن نے "The Great Divide" کے لکھاری ایچ ڈی ہوڈسن (H.D. Hodson) کو انٹرویو میں تسلیم کیا کے ،
"As for plebiscite, we were absolutely, absolutely dishonest." [21]

لہذا کشمیر میں رائے شماری نا ہونے کا زمہ دار پاکستان کو ٹہرانا، یا پاکستان سے یہ کہنا کہ وہ کشمیر سے اپنی فوجیں پہلے نکالے، یا پاکستان اور ہندوستان برابری کی سطح پر لانا سراسر غلط ہوگا کیوں کہ پاکستان تو رائے شماری کے لئے اپنی زمہ داریاں پوری کرنے کے لئے ہمیشہ سے تیار تھا اور ہے۔ در اصل یہ بھارت ہے جو کشمیر کو اپنا لازمی جز کہتا ہے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس لئے اگر کسی کو خواہش ہے کہ ریاست میں رائے شماری ہو اور اس کے لئے فوجوں کا انخلاء کیا جائے تو وہ یہ مطالبہ صرف اور صرف ہندوستان سے کرے۔ اگر بھارت میز پر آتا ہے اور رائے شماری کے لئے کشمیر سے اپنی فوج نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتا ہے تب ہی پاکستان کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی رائے شماری کے لیے اپنی فوج نکالے لیکن ہندوستانی فوج سے پہلے ہرگز نہیں۔

حوالہ جات:-

1. امان اللہ خان، پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی، صحفہ 9.
2. Azam Inquilabi, interview ‘Banking on Pakistan not sound’ The Milli Gazette (http://www.milligazette.com/Archives/01-4-20)
3. A.G.Noorani, The Kashmir Dispute 1947-2012, Volume. 1, pp. 34-35
4. H.P. Grant Fraser, The History of the Kashmir Dispute: An Aspect of India Pakistan Relations, University of British Columbia, (1963) p. 61.
5. ibid.
6. Joseph Korbel, Danger in Kashmir, p. 199
7. Michael Brecher, The Struggle for Kashmir, p. 101.
8. op. cit. 105-106
9. Korbel, op. cit. 169-170
10. H.P. Grant Fraser, op. cit. 76
11. Korbel, op. cit. 171-172
12. Brecher, op. cit. 109
13. Korbel, op. cit. 172
14. ibid. 173
15. ibid. 177
16. ibid. 178
17. ibid. 186-187
18. Lord Birdwood, Two Nations and Kashmir, p. 142
19. A.G. Noorani, op. cit. 37
20. H.P. Grant Fraser, op. cit. 210-211
21. A.G. Noorani, op. cit. 27

(غیر متعلقہ کمینٹس کا جواب نہیں دیا جائے گا لہاذا آگے پیچھے کی فضول باتیں کر کے اپنا اور ہمارا وقت ضایع مت کریں۔)

دی کشمیر ڈسکورس پر موجود ایک آرٹیکل کا اردو ترجمہ۔

24/03/2021

خوبصورت کلام

24/03/2021

آر ایس ایس کی مسلم دشمنی کا واضح ثبوت۔

Address

Rochdale
45100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kasher posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share