Azmat Khan

Azmat Khan Welcome to my Official Page. Social Activists, Social worker , Humanitarian, Politician
Chairman Tehreek-e-Dastak Pakistan(TDP). CEO Dastak Welfare Org

Hailing from Keshgi, Nowshera, and having an MBA degree from Anglia Ruskin University London, Mr. Azmat Ullah khan is a passionate Youth, Peace, Civil Society and Political Activist, Social Worker and Philanthropist from Khyber Pakhtunkhwa. He is also member of National Youth Assembly and Federal Youth Parliament. He laid the foundation of "Dastak Welfare & Development organisation" The organisati

on's main agenda is the welfare and development of poor people in Pakistan,
He is also involved in activism in London and started a movement from London with the name of "Tehreek-e-Dastak Pakistan" for free education, health and justice to the people of Pakistan.

07/07/2026

*برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا*
*ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا*
*یہ جناح یونیورسٹی فار وومین (JUW), ناظم آباد، کراچی کی حالیہ کانووکیشن کی وڈیو ہے۔ ساری دنیا کی دانشگاہوں کے اس طرح کے فنکشن میں مہمان خصوصی کیلئے کسی ایسے دانشور کو دعوت دی جاتی ہے جو تعلیم سے فارغ التحصیل طلبا کو اپنی زندگی کے نچوڑ دانشمندی کے کچھ ایسے متاثر کن خیالات سے نوازے جو طلبا کی عملی زندگی کو سہل بنانے میں انکے معاون ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے ہر شعبے کی طرح تعلیمی میدان میں بھی پاکستان کی گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ مہمان خصوصی گورنر سندھ نہال ہاشمی موقع کی مناسبت سے، بجائے اسکے کہ کوئی سنجیدہ بات کرتے، اتنی ساری خواتین کو دیکھ کر انکی حس ظرافت کچھ زیادہ ہی پھڑپھڑانے لگی۔ موصوف نے طالبات سے پوچھا جو جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی وہ ہاتھ کھڑا کریں- کسی نے ہاتھ کھڑا نہ کیا- اصرار پر اکا دکا ہاتھ کھڑے ہوگئے-*
*پھر سب سے پوچھا کیا آپ مجھے اپنی شادی میں بلاو گے، زور سے آواز آئی، نہیں- یہ عوام کی اس سسٹم سے نفرت کا کھلا اظہار ہے-*
*جس طرح بے وقت کی ہنسی کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی، اسی طرح بے موقع، بے وقت ظرافت کا شمار بھی بیوقوفی یا بھانڈ پن میں ہی کیا جا سکتا ہے- انکی باتیں سن کر مجھے شرم محسوس ہو رہی تھی لیکن موصوف بھانڈ گیری میں اتنے محو تھے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا ہو گا کہ وہ کیا چولیں مار رہے ہیں جو اس عہدے کے منافی ہے*
*بہت دفعہ �

07/07/2026

*یہ جناح یونیورسٹی فار وومین (JUW), ناظم آباد، کراچی کی حالیہ کانووکیشن کی وڈیو ہے۔ ساری دنیا کی دانشگاہوں کے اس طرح کے فنکشن میں مہمان خصوصی کیلئے کسی ایسے دانشور کو دعوت دی جاتی ہے جو تعلیم سے فارغ التحصیل طلبا کو اپنی زندگی کے نچوڑ دانشمندی کے کچھ ایسے متاثر کن خیالات سے نوازے جو طلبا کی عملی زندگی کو سہل بنانے میں انکے معاون ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے ہر شعبے کی طرح تعلیمی میدان میں بھی پاکستان کی گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ مہمان خصوصی گورنر سندھ نہال ہاشمی موقع کی مناسبت سے، بجائے اسکے کہ کوئی سنجیدہ بات کرتے، اتنی ساری خواتین کو دیکھ کر انکی حس ظرافت کچھ زیادہ ہی پھڑپھڑانے لگی۔ موصوف نے طالبات سے پوچھا جو جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی وہ ہاتھ کھڑا کریں- کسی نے ہاتھ کھڑا نہ کیا- اصرار پر اکا دکا ہاتھ کھڑے ہوگئے-*
*پھر سب سے پوچھا کیا آپ مجھے اپنی شادی میں بلاو گے، زور سے آواز آئی، نہیں- یہ عوام کی اس سسٹم سے نفرت کا کھلا اظہار ہے-*
*جس طرح بے وقت کی ہنسی کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی، اسی طرح بے موقع، بے وقت ظرافت کا شمار بھی بیوقوفی یا بھانڈ پن میں ہی کیا جا سکتا ہے- انکی باتیں سن کر مجھے شرم محسوس ہو رہی تھی لیکن موصوف بھانڈ گیری میں اتنے محو تھے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا ہو گا کہ وہ کیا چولیں مار رہے ہیں جو اس عہدے کے منافی ہے*
*بہت دفعہ سوچ آتی ہے کہ ہمارا ملک مرکزی اور صوبائی سطح پر اپنی قابلیت کی بھڑکیں مارنے والے ارسطووں اور افلاطونوں کی تعیناتی کے باوجود آگے جانے کے بجائے کیوں مسلسل پیچھے کو سرک رہا ہے تو گورنر سندھ کو دیکھ کر ساری سمجھ آ جاتی ہے۔ تمام بڑی پوسٹوں پر براجمان لوگوں کو دیکھ کر لگتا ہے پاکستان میں بڑے عہدوں پر چناو کیلئے کریمنل ریکارڈ، منی لانڈرنگ، جیل یاترا اور نیب زدہ ہونے کی خوبیاں شاید ضروری ہیں-*
*ایک بات جان کر تھوڑا اطمینان ہوتا ہے کہ جو ڈرامے اس وقت جمہوری سٹیج پر چل رہے ہیں، بالکل اسی لکھاری کے لکھے ہوئے ڈرامے آج سے ساٹھ ستر سال پہلے بھی چلتے رہے ہیں۔ جب فیلڈ مارشل ایوب خان صدرِ پاکستان تھے تو انکے چھوٹے بھائی سردار بہادر خان قومی اسبملی میں اپوزیشن کے لیڈر تھے- (ہے نا لطیفہ: صدارت اور اپوزیشن دونوں ریحانہ میں 😀- اور آج بھی وہی سکرپٹ ہے کہ بعد از ضیائی جمہوریت میں، 36 سال تک کرسی کرسی کھیلنے اور ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے والے اکھٹے مل کر حکومتیں کر رہے ہیں) - اس وقت بھی تمام عہدوں اور اسمبلیوں کی سیٹوں پر چھوٹے بڑے "نہال ہاشمی" ہی لگائے جاتے تھے۔ سردار بہادر خان نے اسمبلی میں اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے، حکومتی نااہلی پر طنز کرنے کیلئے یہ شعر پڑھا تھا:*

*برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا*
*ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا*

*فرق صرف اتنا ہے کہ آجکل کے حکومتی ارکان کی شلواروں میں فارم 47 کا الاسٹک ڈالا گیا ہے جب کہ اس وقت کے اسمبلی ممبران کو بی ڈی مارکہ الاسٹک کے کچھے پہنائے گئے تھے۔ تین نسلیں بیت گئیں، لگتا ہے کچھ نہیں بدلا۔ دنیا میں تاریخ اگر ایک دفعہ دہراتی ہے تو پاکستان میں تاریخ بار بار دہراتی ہی جاتی ہے۔ 98-1988 میں تو تاریخ کو اتنا جوش آیا کہ اس نے اپنے آپ کو چار دفعہ دہرایا-* ہیں-*

‏سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں قید ہے ؟ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں خاموش ہیں...........؟
28/06/2026

‏سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں قید ہے ؟
سوال یہ ہے کہ ہم کیوں خاموش ہیں...........؟

ڈان نیوز کی رپورٹ ‏چکوال نو سالہ بچی ہلاک اور اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے جب کریم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہ...
13/06/2026

ڈان نیوز کی رپورٹ

‏چکوال نو سالہ بچی ہلاک اور اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے جب کریم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں نے بدھ کی رات انہیں ڈاکو سمجھ کر چکوال شہر کے علاقے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی

‏پولیس ذرائع اور اہل خانہ نے ڈان کو بتایا کہ عدیل احمد، انتالیس سالہ آسٹریلوی شہری اور ڈھڈیال گاؤں کے رہائشی، حال ہی میں اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرا خان، بیٹے عفان احمد اور بیٹی ہانیہ احمد کے ساتھ پاکستان آئے تھے

‏پاکستان آنے کے بعد یہ جوڑا حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گیا اور بدھ کی صبح واپس آیا

‏عدیل کے سسر نے اپنی دو بیٹیوں کے خاندانوں کے لیے عشائیہ دیا عشائیے کے بعد عدیل رات گیارہ بج کر چالیس منٹ پر اپنے سسر کے گھر سے روانہ ہوا

‏ان کی اہلیہ اپنے ماموں علی اعجاز سے ملنا چاہتی تھیں جن کا گھر سی سی ڈی اسٹیشن کے ساتھ واقع ہے

‏علی اعجاز نے ڈان کو بتایا کہ جب وہ اپنی کرائے کی گاڑی کے ساتھ میرے گھر کے سامنے رکے تو دو ڈاکو موٹر سائیکل پر آئے ایک ڈاکو پستول کے ساتھ گاڑی کے پاس آیا اور عدیل اور ان کی اہلیہ سے زیورات اور نقدی دینے کا مطالبہ کیا

‏انہوں نے کہا کہ ان کی بھانجی نے ڈاکو کو تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے زیورات دے دیے

‏جیسے ہی ڈاکو نے زیورات حاصل کیے وہ ایک سی سی ڈی اہلکار کی نظر میں آ گیا جو کھانا کھا کر اسٹیشن واپس جا رہا تھا

‏ایک اہلکار کے مطابق کانسٹیبل سے ایس ایم جی لے کر اہلکار اسٹیشن کی طرف بھاگا اور ڈاکوؤں پر فائرنگ کی جنہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی

‏دونوں ڈاکو موقع سے فرار ہو گئے اور اپنی موٹر سائیکل وہیں چھوڑ گئے

‏فائرنگ کے دوران عدیل بھی گاڑی چلاتے ہوئے وہاں سے نکل گئے

‏ایک پولیس اہلکار کے مطابق جب اہلکاروں نے گاڑی کو تیزی سے نکلتے دیکھا تو انہوں نے اسے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر اندھا دھند فائرنگ کر دی

‏سی سی ڈی اہلکاروں نے موٹر سائیکلوں پر گاڑی کا تعاقب بھی کیا مگر وہ اسے پکڑ نہ سکے کیونکہ عدیل گاڑی تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے اپنے سسر کے گھر کے گیٹ تک پہنچ گئے جہاں وہ گاڑی پر قابو نہ رکھ سکے اور گاڑی گیٹ سے ٹکرا گئی

‏وہ خود بھی شدید زخمی ہو گئے

‏خاندان کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ہانیہ کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ عدیل اور ان کے بیٹے عفان کو بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں دونوں کا آپریشن کیا گیا

‏عدیل کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تاہم ان کا بیٹا ابھی زیر علاج ہے جبکہ عدیل کی اہلیہ محفوظ رہیں

‫کوئی اورسیزز پاکستان نہ جائے ‬ ‏

‏اگر پاکستان میں میرٹ نام کی کوئی چیز ہو تو یقین مانیں یہ صاحب مہک ملک کے ساتھ‏ کسی ڈانس پارٹی یا سٹیج ڈرامے میں ٹھمکے ل...
06/06/2026

‏اگر پاکستان میں میرٹ نام کی کوئی چیز ہو تو یقین مانیں یہ صاحب مہک ملک کے ساتھ
‏ کسی ڈانس پارٹی یا سٹیج ڈرامے میں ٹھمکے لگا رہے ہوں🤣🙏

اے میرے رب! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے اس بزرگ کے لیے مدد کے دروازے کھول دیے۔یہ بابا خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں کے رہ...
05/06/2026

اے میرے رب! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے اس بزرگ کے لیے مدد کے دروازے کھول دیے۔

یہ بابا خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں کے رہائشی ہیں یہ ٹریفک چوک کے قریب جوڈیشل کمپلیکس، کچہری کے سامنے سخت دھوپ میں بیٹھ کر اپنی محنت کی کمائی کے لیے چھوٹی سی دکان لگاتے تھے۔ سورج کی تپش ان کے سامان پر بھی پڑتی تھی اور ان کی زندگی پر بھی، مگر وہ ہمت کے ساتھ رزقِ حلال کمانے میں مصروف رہتے تھے۔

جب ان کی تصویر سوشل میڈیا پر پہنچی تو بہت سے حساس دل جاگ اٹھے۔ مقامی لوگوں نے آگے بڑھ کر ان کے لیے چھتری کا انتظام کیا، بیٹھنے کی مناسب جگہ بنائی، ان کی خیریت دریافت کی اور محبت کے ساتھ ان کی دلجوئی بھی کی۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں ابھی بھی انسانیت زندہ ہے۔ جب کوئی بے بس نظر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے دلوں میں رحم ڈال دیتا ہے اور مدد کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔

سلام ہے ان نوجوانوں اور اہلِ بنوں کو جنہوں نے ایک بزرگ محنت کش کی عزت اور آسانی کا خیال رکھا۔ ایسے لوگ ہی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہوتے ہیں۔

دنیا خوبصورت عمارتوں، گاڑیوں اور دولت سے نہیں بنتی۔ دنیا خوبصورت ان دلوں سے بنتی ہے جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس بزرگ کی روزی میں برکت عطا فرمائے اور ان تمام لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے ان کی مدد کی۔ آمین۔ ❤️


media

اے میرے رب! رحم فرما ان بزرگوں پر جو اس تپتی دھوپ میں اپنے بچوں کے لیے حلال رزق کمانے نکلتے ہیں۔ ان کے چہروں پر تھکن ہے،...
03/06/2026

اے میرے رب! رحم فرما ان بزرگوں پر جو اس تپتی دھوپ میں اپنے بچوں کے لیے حلال رزق کمانے نکلتے ہیں۔ ان کے چہروں پر تھکن ہے، جسم پسینے سے شرابور ہیں، مگر پھر بھی وہ عزت اور دیانت کے ساتھ اپنی روزی تلاش کر رہے ہیں۔

اے پروردگار! میرا دل یہ منظر دیکھ کر سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا نظام ہے جہاں ایک غریب شخص سخت گرمی، بھوک اور مشکلات میں زندگی گزارتا ہے، جبکہ دولت مند لوگ ٹھنڈے کمروں اور آسائشوں میں رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے پالتو جانور بھی وہ سہولتیں حاصل کرتے ہیں جن کا ایک محنت کش انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اے اللہ! تو سب سے بڑا منصف ہے، تو ہی عدل کرنے والا ہے۔ پھر یہ کیسا امتحان ہے کہ ایک سچا اور محنتی انسان ذلت، غربت اور محرومی کا سامنا کرے، جبکہ کرپٹ حکمران، طاقتور جرنیل اور ان کے خاندان آرام اور عیش کی زندگی گزاریں؟

اے میرے مولا! ہماری عقل تیری حکمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتی، مگر ہمارے دل دکھتے ہیں جب ہم مظلوم کو روتا اور ظالم کو ہنستا دیکھتے ہیں۔ ہمیں صبر عطا فرما، مظلوموں کی مدد فرما، محنت کشوں کی حفاظت فرما، اور اس دنیا میں انصاف اور رحم کے دروازے کھول دے۔

بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اور تیرے ہاں کسی مظلوم کی آہ ضائع نہیں جاتی۔

انسانیت اب بھی زندہ ہے۔ کسی نے مہنگی سولر پلیٹس تپتی دھوپ میں جلنے کے لیے چھوڑ دی تھیں۔ ایک ہمدرد بھائی نے ان کے لئے سائ...
01/06/2026

انسانیت اب بھی زندہ ہے۔ کسی نے مہنگی سولر پلیٹس تپتی دھوپ میں جلنے کے لیے چھوڑ دی تھیں۔ ایک ہمدرد بھائی نے ان کے لئے سائے کا انتظام کر دیا ہے۔ جزاک اللہ۔🤣😜

میر جعفر کا خاندان، جنرل ایوب اور بھٹوجو لوگ سمجھتے ہیں کہ بھٹو کو ایوب نے لانچ کیا وہ غلطی پر ہیں۔بھٹو کی سیاسی لانچنگ ...
31/05/2026

میر جعفر کا خاندان، جنرل ایوب اور بھٹو

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بھٹو کو ایوب نے لانچ کیا وہ غلطی پر ہیں۔بھٹو کی سیاسی لانچنگ میجر جنرل اسکندر مرزا نے کی تھی میر جعفر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اسکندر مرزا نے 1958 میں جب ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ بھٹو اس وقت محض 30 سال کی عمر کے تھے اس عمر میں وفاقی وزیر بننا اس وقت ایک بہت بڑا سیاسی اعزاز تھا۔
قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا کو بھٹو کی 'انٹلیکچوئل' صلاحیتوں پر ناز تھا اور وہ انہیں اپنے ساتھ اکثر اہم ملاقاتوں میں رکھتے تھے۔
دلیپ مکھرجی اپنی کتاب Zulfikar Ali Bhutto: Quest for Power میں لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا نے بھٹو کی غیر معمولی ذہانت، انگریزی زبان پر عبور اور بین الاقوامی تعلقات پر ان کی گرفت کو بھانپ لیا تھا۔ مرزا نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کرکے دراصل ملک کے ایک ایسے نوجوان کو "لانچ" کیا جو ان کے سیاسی نظریات کو جدید ڈھانچے میں ڈھال سکتا تھا
وقت نے بھی کیا خوب چال چلی سراج الدولہ کو دھوکا دینے والے میر جعفر کی اولادوں کی اولاد اسکندر مرزا کو بھی دھوکا ملا اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنایا، جس نے بندوق کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیا پھر سب سے لاڈلے اور ہونہار شاگرد بھٹو نے اپنے مربّی کو دھوکا دیا اکتوبر 1958 میں جب جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر ملک بدر کر دیا، تو ایوب خان نے اپنی کابینہ کے اکثر وزراء کو برقرار رکھا، جن میں ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ بھٹو نے اسکندر مرزا کو چھوڑ کر جنرل ایوب خان کے ساتھ کام کرنا جاری رکھا۔ اسکندر مرزا اس پر خوش نا تھے ۔
رسول بخش پلیجو صاحب نے مجاہد بریلوی کے پروگرام میں کہا تھا سب کی لانچنگ فوج نے کی ہے ۔ بھٹو کی لانچنگ اسکندر مرزا تو نواز شریف کی ضیا الحق نے کی ۔۔
اس طرح اگر بنگال سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل اسکندر مرزا نا ہوتے تو کیا بھٹو اتنی جلدی قومی سیاسی لیڈر بن سکتے تھے۔
جب اسکندر مرزا نے ان کی سرپرستی شروع کی اسوقت بھٹو ایک نوجوان بیرسٹر تھے جو ابھی اپنی پریکٹس جما رہے تھے۔ اسکندر مرزا کے بغیر انہیں قومی سیاست میں وہ لانچنگ پیڈ نہ ملتا جو ایک وفاقی وزیر کے عہدے نے انہیں دیا۔
اگر اسکندر مرزا نا ہوتے تو بھٹو اپنے سیاسی عزائم کے تحت قومی لیڈر تو وقت کے ساتھ بن جاتے، لیکن ان کا سیاسی سفر کافی تاخیر کا شکار ہوتا شاید وہ آج کے "بھٹو" (ایک عوامی مقبول رہنما) کے بجائے ایک روایتی جاگیردار سیاستدان کے طور پر ہی پہچانے جاتے۔

‏بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب نے تقریباً 11 ارب روپے (1080 کروڑ) کا "گووندوال صاحب تھرمل پاور پلانٹ" خریدا اور تمام گھریلو صا...
25/05/2026

‏بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب نے تقریباً 11 ارب روپے (1080 کروڑ) کا "گووندوال صاحب تھرمل پاور پلانٹ" خریدا اور تمام گھریلو صارفین جو دو مہینوں میں 600 یونٹس استعمال کریں گے ان کے تک بجلی فری کردی. اور اگر گھریلو صارفین 600 یونٹس سے زیادہ استعمال کریں گے تو انہیں صرف 600 یونٹس سے اوپر والا بل ادا کرنا ہو گا. اس طرح ‏بھارتی پنجاب میں تقریبا 80 فیصد گھر بالکل مفت بجلی استعمال کر رہے ہیں جبکہ باقی صارفین کو 600 یونٹس کی سبسڈی مل رہی ہے.

جبکہ پاکستانی پنجاب میں سب کی ماں نے 11 ارب میں گلف اسٹریم جہاز خریدا. آل شرف کے تمام افراد ہنی مون تک اس جہاز میں گزارنے جا رہے ہیں. بڑی اہم اہم ملاقاتیں اور میٹنگز ہوا میں جا کر اسی جہاز میں ہو رہی ہیں. اور یہ 11 ارب بجلی کے بلوں میں ڈال کر اضافی سرچارج کے نام سے ہماری جیبوں سے نکالا جا رہا ہے.

یاد رہے کہ 2022 سے 2026 تک 22 سے 25 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو چکا ہے

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azmat Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share