26/01/2026
برتن ٹوٹنے کی وجہ سے 13 سالہ زرناب نور کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورسر کے بال زبردستی کاٹ دیے گئے۔
واقعہ کی تاریخ: جمعہ، 23 جنوری 2026
زرناب نور 13 سالہ مسیحی بیٹی ہے، جو تھامس مسیح اور سُریا بی بی کی بیٹی ہے۔ باپ تھامس ایک غریب پھیری والا ہےجو گلیوں میں سامان بیچ کر اپنے خاندان کے لیے روزی کماتا ہے۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی ۱۶ سال کی ہے، اس کے بعد زرناب ۱۳ سال کی، ستائش ۵ سال کی اور سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے۔
انتہائی غربت کی وجہ سے تھامس اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیج سکا۔ اس کے بجائے انہیں مختلف گھروں میں کام کرنے کے لیا بھیجنا پڑا تاکہ خاندان کا گزارہ ہو سکے۔ یہ بچیاں کتابیں پکڑنے کے بجائے جھاڑو پکڑنے پر مجبور تھیں۔
زرناب نور صرف 13 سال کی ہے اور وہ ایف بلاک، جوہر ٹاؤن، لاہور میں ایک گھر میں کام کر رہی تھی، 15,000 روپے ماہانہ تنخواہ ہے۔ کئی مہینوں تک انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی، خاموشی سے ظلم سہتی رہی۔ اس گھر کے مالک اسے مارا پیٹا کرتے اور اذیت دیتے تھے، لیکن وہ اپنے والدین کو نہیں بتاتی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کے والد روزانہ کس مُشکل کے ساتھ خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔
جنوری بروز جمعہ جب زرناب برتن دھو رہی تھی، کچھ برتن غلطی سے اِس معصوم بچی سے دھوتے ہوئے ٹوٹ جاتے ہیں، اس چھوٹی سی غلطی پر، گھر کے مالک نے بے دردی اور بڑی بےرحمی سے اس چھوٹی بچی کو مار مار کر ظلم کی انتہا کی اور زبردستی سے سر کے بال بھی کاٹ دئے۔
زرناب نے اپنے وکیل اور ایک لائیو انٹرویو میں اور بھی زیادہ خوفناک تفصیلات بتائیں ہیں۔
آج، تھامس مسیح ، اُن کی بیوی سُریا اپنے چاروں بیٹیوں کے ساتھ چھپ رہے ہیں اور انصاف کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ زرناب نور اپنی آواز بلند کر رہی ہے اور حکومت پاکستان سے انصاف کی بیک مانگ رہی ہے۔