17/05/2026
*الیگزینڈر ڈوبرِنٹ یورپی یونین کی اندرونی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے حمایت برقرار*
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے یورپی یونین کی اندرونی سرحدوں پر کنٹرول جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موجودہ لائحہ عمل مہاجرتی پالیسی کا اہم حصہ رہنا چاہیے، حالانکہ عدالتیں اور محققین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے، جو اپنی وزارت کا ایک سال مکمل کرنے والے ہیں، مہاجرتی تبدیلی پر سخت موقف اپنائے بیٹھے ہیں۔ تاہم عدالتوں نے ان کی پالیسی کے مرکزی نکتے یعنی سرحدی کنٹرولز کو غیر قانونی قرار دینا شروع کر دیا ہے، جبکہ مہاجرتی امور کے ماہرین نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان کے پیش کردہ اعداد و شمار واقعی کسی کامیابی کو ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔
مرکزِ دائیں بازو کی جماعت CSU سے تعلق رکھنے والے ڈوبرِنٹ نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن سرحدی نگرانی سخت کرنے کا اعلان کیا تھا، جو CDU/CSU اتحاد کے ایک اہم انتخابی وعدے کی تکمیل تھی۔
اس کے بعد سے وفاقی پولیس نے سرحدوں پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس بھیجنا شروع کیا۔ ٹیگس شاؤ کے مطابق ڈوبرِنٹ کی تقرری سے اپریل 2026 تک تقریباً 1,340 افراد کو سرحد سے واپس لوٹایا گیا۔
ماہانہ بنیادوں پر مسترد کیے جانے والوں کی تعداد تقریباً 2,000 سے 3,000 کے درمیان برقرار رہی، جو ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کے اعداد و شمار سے زیادہ مختلف نہیں۔
دوسری جانب پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ تعداد 2023 میں 3 لاکھ 50 ہزار سے کم ہو کر گزشتہ برس 1 لاکھ 70 ہزار رہ گئی۔
ڈوبرِنٹ نے اس کمی کو اپنی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا: ہم اب تک سرحدوں پر 8,000 گرفتاری کے وارنٹس پر عمل درآمد کر چکے ہیں
تاہم مہاجرتی امور کی محقق وکٹوریہ ریٹیگ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے ٹیگس شاؤ سے گفتگو میں کہا: اگر اعداد و شمار بڑھ جائیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم پوشیدہ معاملات کو سامنے لا رہے ہیں۔ اگر تعداد کم ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں، اور اگر تعداد وہی رہے تو کہا جاتا ہے کہ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سائنسی اعتبار سے یہ مکمل فضول بات ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ نہایت مؤثر ہے۔
متعدد عدالتیں بھی ان کنٹرولز کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں۔ حال ہی میں کوبلنز کی انتظامی عدالت نے مارچ سے ستمبر 2025 کے دوران لکسمبرگ اور جرمنی کی سرحد پر نافذ داخلی سرحدی کنٹرولز کو غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت کے مطابق وفاقی حکومت ان اقدامات کی ضرورت کو مناسب انداز میں ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
اس کے باوجود ڈوبرِنٹ نے کہا ہے کہ وہ یہ کنٹرولز برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کے سیاستدان اولی گریوچ نے کہا کہ قانون کے مطابق سرحدی کنٹرولز کو منظم کرنے کے طریقے تلاش کرنا فوری ضرورت ہے۔
ڈوبرِنٹ نے ان کنٹرولز کو عارضی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب یورپی مہاجرتی نظام مؤثر انداز میں کام کرنے لگے گا تو جرمنی دوبارہ سرحدی کنٹرولز سے دور جا سکے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسا کب ممکن ہوگا۔
*طالبان سے مذاکرات پر تنقید!!!*
افغانستان میں بے دخلیوں کے انتظام کے لیے طالبان سے براہِ راست رابطوں کے فیصلے پر ڈوبرِنٹ کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
گرین پارٹی کے رکنِ پارلیمان مارسل ایمرش نے اسے سرحدی پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے ڈوبرِنٹ پر طالبان کے لیے دروازہ کھولنے کا الزام لگایا۔
ZDF کے پروگرام میگزین روئیال کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ طالبان کے نمائندے جرمن سرکاری عمل میں شامل رہے تاکہ ان بے دخلیوں کو ممکن بنایا جا سکے۔
ایمرش نے کہا: یہ حقیقت مکمل طور پر نظر انداز کی جا رہی ہے کہ یہ حکومت دہشت گردی کی نمائندہ ہے، انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی کرتی ہے اور خواتین پر شدید ظلم ڈھاتی ہے۔
دریں اثنا، زارلینڈ کی SPD وزیرِ اعلیٰ آنکے رہ لنگر نے خبردار کیا کہ سرحدی کنٹرولز کو مستقل شکل نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا: میں اب بھی سمجھتی ہوں کہ یورپ میں مستقل سرحدی کنٹرولز کوئی مناسب حل نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدت میں ایسے اقدامات فائدے سے زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔