24/03/2019
میرا جسم میری مرضی کا پہلی قسط، ایک 15 سالہ لڑکی نے اپنے باپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ میرا باپ مجھے میرے دوست سے ملنے سے روکتا تھا۔اس قتل کے وہ تمام لوگ ذمہ دار ہیں جو پاکستان میں حقوقِ نسواں کی آڑ میں بےحیائی کو فروغ دے رہے ہیں جس کی زد میں آج اک باپ اپنی ہی بیٹی کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا۔
میں اسی لیے اکثر کہتا رہتا ہوں کہ اپنی نوجوان نسل پے کڑی نظر رکھیں اور کڑی نظر رکھنے سے بہت بہتر ہے کہ انکی زہن سازی کی جائے، اچھے برے، حلال حرام،جائز و ناجائز کی تعلیم و تربیت کی جائے تو گر کوئی انہیں بھٹکائے گا بھی یا انکا نفس اگر انہیں بھٹکائے گا تو آپکی کی گئی زہن سازی کی باتیں انہیں یاد آ جائیں گی وہ غلط راستے پے بڑھائے ہوئے قدموں کو وہیں پے ہی روک لیں گے اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے ہدایت کی طرف لوٹ آئیں گے۔
اب 15 سال کی لڑکی جسے پتا ہی نہیں کہ اچھائی برائی کیا ہوتی ہے ، جسے دنیا کی شیطانیت کی باتوں کا پتا ہی نہیں مگر شیطان کے حملے کی زد میں آ کر کتنا بڑا گناہ کر بیٹھی کہ باپ جیسے رشتے کو ہی ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔
آہ افسوس صد افسوس۔ میں سوچتا ہوں کہ انسان کا کون اپنا ہے، کون دشمن ہے، انسان نہیں جانتا جس انسان کو اس نے پیدا کیا، پالا پوسا بڑا کیا وہی اسکی موت کا سبب بنے گا۔
دنیا کی یہ تلخ اور کڑوی حقیقت جاننے کے بعد مجھے خود سے، دنیا سے دنیا کی باتوں سے ،دنیاوی رشتے ناتوں سے نفرت، بیزاری اور گھٹن سی ہونے لگتی ہے۔
اور پھر میرے بیشمار سوالات کا تانتا بندھ جاتا ہے کہ مالک تُو نے کیوں یہ دنیا بنائی، کیوں تو نے مجھے بنایا وغیرہ وغیرہ۔
حیوان کا حیوان پے ، شیطان کا شیطان پے حملہ کرنا تو بخوبی سمجھ آتا ہے پر ایک انسان کا ایک انسان پے حملہ کرنا کسی طرح سے سمجھ ہی نہیں آتا،کیا یہی ہے روشن خیالی۔