13/08/2026
تورغر عوام کی جانب سے سابق ضلع ناظم دلروز خان اور آل پارٹی جرگہ کو خراجِ تحسین
ہم، تورغر کے عوام، سابق ضلع ناظم دلروز خان اور ان کی پوری ٹیم، جو آل پارٹی جرگہ کے قائدین پر مشتمل ہے، کو تورغر کے حقوق اور ترقی کے لیے آواز بلند کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
سابق ضلع ناظم دلروز خان نے اپنے دورِ نظامت میں تورغر میں نیشنل بینک کے قیام کے لیے کردار ادا کیا۔ اسی طرح جدباء میں پی ٹی سی ایل لائن کی فراہمی بھی ان کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ ان کا مؤقف رہا کہ تورغر کی ترقی اور انتظامی خودمختاری کے لیے سرکاری اداروں اور محکموں کا ضلع کے اندر موجود ہونا ضروری ہے۔
ان کی نظامت کی مدت ختم ہونے کے بعد تورغر سے نیشنل بینک کا خاتمہ ہوا اور خزانہ/اکاؤنٹس سے متعلق امور بھی مانسہرہ سے چلائے جانے لگے۔ تاہم دلروز خان نے اس معاملے پر اپنی آواز بلند کرنا جاری رکھی اور متعلقہ حکام کو خطوط ارسال کیے۔
اسی سلسلے میں 24 مئی 2026 کو سابق ضلع ناظم دلروز خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو خط ارسال کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ تورغر کی حقیقی ترقی محکمہ خزانہ، یعنی اکاؤنٹس آفس، کے ضلع میں قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اکاؤنٹس آفس ضلع سے باہر ہونے کی وجہ سے کئی محکموں کے انتظامی امور بھی دوسرے اضلاع سے چلائے جا رہے ہیں۔
بالآخر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم کی کوششوں سے اکاؤنٹس آفس تورغر منتقل کرنے کا فیصلہ عملی شکل اختیار کر گیا۔ ہنگامی بنیادوں پر عمارت کا ٹینڈر ہوا اور بعد ازاں کمشنر ہزارہ نے عمارت کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر بھی سابق ضلع ناظم دلروز خان نے اپنا مؤقف واضح رکھا کہ صرف عمارت نہیں بلکہ مکمل عملے کے ساتھ اکاؤنٹس آفس تورغر میں فعال ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو اس حوالے سے مسلسل آگاہ کیا۔
پھر 10 اگست 2026 کو دلروز خان کو یہ خوشخبری ملی کہ اکاؤنٹس آفس کا عملہ تورغر منتقل ہو رہا ہے اور مانسہرہ میں متعلقہ دفتر کا کام بند کیا جا رہا ہے۔ 11 اگست کو جب دلروز خان اپنی آل پارٹی جرگہ ٹیم کے ہمراہ جدباء پہنچے تو ڈپٹی کمشنر تورغر نے بھی انہیں اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی کہ خزانہ تورغر آ گیا اور مانسہرہ سے اس کا خاتمہ ہوا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس کامیابی کا علم ہونے کے بعد مبارکباد دینے کے لیے آگے آئے، جبکہ عوام جانتے ہیں کہ اس معاملے کو کس نے مسلسل اٹھایا اور کس نے عملی جدوجہد کی۔
تورغر کے عوام اب باشعور ہیں۔ یہ 2026 ہے، 2009 نہیں۔ عوام اپنے علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں اور سرکاری فنڈز کے استعمال کے بارے میں سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اگر کسی سڑک یا ترقیاتی منصوبے کے نام پر فنڈز جاری ہوئے ہوں اور زمینی سطح پر کام نہ ہوا ہو تو اس معاملے کو بھی قانون اور متعلقہ اداروں کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، ان شاء اللہ۔
ہم تورغر کے عوام، دلروز خان اور آل پارٹی جرگہ کی پوری ٹیم کے ساتھ ہیں۔ ہمارے لیے سیاسی جماعت سے بڑھ کر ہمارا علاقہ اور اس کے عوام ہیں۔ ہم تورغر کے اجتماعی مفاد، بنیادی حقوق اور ترقیاتی کاموں پر کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
پارٹیاں اپنی جگہ، تورغر سب سے پہلے۔
منجانب: تورغر عوام