12/04/2026
زمین کی تقسیم کے کیسوں میں اب "تاریخ پہ تاریخ" کا سلسلہ ختم! حکومتِ پنجاب کا بڑا دھماکہ، دوسری اپیل کا حق ہی جڑ سے ختم کر دیا گیا۔
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشن 161 میں ایک انتہائی اہم اور بڑی قانونی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اب زمین کی تقسیم (Partition) کے مقدمات میں سائلین کو ریلیف دینے کے لیے اپیلوں کا طویل سلسلہ محدود کر دیا گیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق، تقسیمِ اراضی کے معاملے میں اب صرف ایک ہی اپیل دائر کی جا سکے گی۔ یہ اپیل اسسٹنٹ کمشنر یا متعلقہ کلکٹر کے ابتدائی فیصلے کے خلاف براہ راست "کلکٹر آف دی ڈسٹرکٹ" (DC) کے پاس ہوگی۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب ڈی سی (DC) کا فیصلہ حتمی (Final) تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے خلاف اب کمشنر یا ایڈیشنل کمشنر کے پاس دوسری اپیل دائر کرنے کا راستہ قانونی طور پر بند ہو چکا ہے۔ وہ تمام اپیلیں جو اس وقت کمشنر دفاتر میں زیرِ التوا تھیں، انہیں بھی اب واپس بورڈ آف ریونیو منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اب عوام کو کمشنر کچہریوں کے چکروں اور سالہا سال کی خواری سے نجات مل جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد زمین کے تنازعات کو ضلعی سطح پر ہی جلد از جلد نمٹانا ہے۔
پہلے سے رائج قانون کے مطابق زمین کی تقسیم کا عمل انتہائی پیچیدہ تھا جس میں تحصیلدار کے فیصلے کے خلاف ڈی سی اور پھر ڈی سی کے خلاف کمشنر کے پاس اپیل ہوتی تھی۔ اس طویل عمل کی وجہ سے تقسیم کے سادہ سے کیس بھی کئی کئی دہائیوں تک لٹکے رہتے تھے اور فریقین کا جانی و مالی نقصان ہوتا تھا۔ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کے ذریعے اب اس نظام کو بدل کر تقسیم کے عمل کو تیز ترین بنا دیا گیا ہے۔ اب کمشنر کا اپیل سننے کا اختیار ختم کر کے تمام طاقت ضلعی کلکٹر کو دے دی گئی ہے۔ یہ ترمیم 9 اپریل 2026 سے پورے پنجاب میں فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے سیکشن 161 میں قانونی ترمیم کر دی گئی ہے۔
تقسیمِ اراضی (Partition Cases) میں اب دوسری اپیل کا حق ختم ہے۔
صرف پہلی اپیل قابلِ سماعت ہوگی جو کلکٹر آف دی ڈسٹرکٹ (DC) سنے گا۔
ڈی سی کی عدالت سے ہونے والا فیصلہ اب قانوناً آخری اور حتمی (Final) ہوگا۔
کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر اب تقسیم کے معاملات میں اپیل سننے کے مجاز نہیں رہے۔
اس فیصلے سے عام آدمی کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ زمین کی تقسیم کے فیصلے اب سالوں کے بجائے مہینوں میں ہوں گے۔ وکیلوں کی بھاری فیسوں اور کچہریوں کے تھکا دینے والے سفر سے جان چھوٹے گی اور زمین کا قبضہ یا تقسیم حاصل کرنا آسان ہوگا۔ تاہم، اب سائلین کو پہلی اپیل میں ہی اپنا کیس پوری طاقت سے لڑنا ہوگا کیونکہ اوپر کا فورم اب دستیاب نہیں ہوگا۔
رفتار تو اچھی ہے لیکن کیا صرف ایک اپیل کا حق انصاف کے تقاضے پورے کر پائے گا؟